اعلان جنگ : گاڑی ایکسپریس ہوگی یا ہر اسٹاپ پر رکے گی؟

بلال بشیر بٹ

سات گھنٹے طویل مشاورت اور متعدد کپ چائے کے بعد نیشنل کانفرنس نے اپنی سیاسی گاڑی کا نیا روٹ جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گاڑی جو گزشتہ کئی ماہ سے ’’ریاستی درجہ اسٹاپ‘‘ پر کھڑی تھی، اب ’’آئینی حقوق ٹرمینل‘‘ کی جانب روانہہوگی۔
پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاستی درجہ اپنی جگہ، لیکن اصل سفر ان حقوق کی بازیابی کا ہے جو راستے میں کہیں گم ہو گئے تھے۔‘‘
دوسری جانب عوام ابھی تک پچھلے روٹ میپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نیا نقشہ جاری کر دیا گیا۔ بعض مسافروں نے پوچھا کہ گاڑی آخر جائے گی کہاں؟ جس پر کنڈکٹر نے جواب دیا: ’’فی الحال دِلی، آگے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔‘‘
کنڈکٹر کے مطابق جنگل کا اجلاس سیاسی تاریخ کا طویل ترین ’’روٹ پلاننگ سیشن‘‘ تھا البتہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گاڑی ایکسپریس ہوگی یا حسب معمول ہر اسٹاپ پر رکے گی۔ عوام نے مشورہ دیا ہے کہ گاڑی میں ایک مستقل روٹ چارٹ بھی آویزاں کیا جائے تاکہ مسافروں کو معلوم رہے کہ اگلا اسٹاپ ’’ریاستی درجہ‘‘ ہے، ’’آئینی حقوق‘‘ ہیں یا پھر سیدھا ’’دِلی چلو‘‘۔
خبر ختم ہوئی، سفر جاری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

اعلان جنگ : گاڑی ایکسپریس ہوگی یا ہر اسٹاپ پر رکے گی؟

بلال بشیر بٹ

سات گھنٹے طویل مشاورت اور متعدد کپ چائے کے بعد نیشنل کانفرنس نے اپنی سیاسی گاڑی کا نیا روٹ جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گاڑی جو گزشتہ کئی ماہ سے ’’ریاستی درجہ اسٹاپ‘‘ پر کھڑی تھی، اب ’’آئینی حقوق ٹرمینل‘‘ کی جانب روانہہوگی۔
پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ریاستی درجہ اپنی جگہ، لیکن اصل سفر ان حقوق کی بازیابی کا ہے جو راستے میں کہیں گم ہو گئے تھے۔‘‘
دوسری جانب عوام ابھی تک پچھلے روٹ میپ کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ نیا نقشہ جاری کر دیا گیا۔ بعض مسافروں نے پوچھا کہ گاڑی آخر جائے گی کہاں؟ جس پر کنڈکٹر نے جواب دیا: ’’فی الحال دِلی، آگے کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔‘‘
کنڈکٹر کے مطابق جنگل کا اجلاس سیاسی تاریخ کا طویل ترین ’’روٹ پلاننگ سیشن‘‘ تھا البتہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ گاڑی ایکسپریس ہوگی یا حسب معمول ہر اسٹاپ پر رکے گی۔ عوام نے مشورہ دیا ہے کہ گاڑی میں ایک مستقل روٹ چارٹ بھی آویزاں کیا جائے تاکہ مسافروں کو معلوم رہے کہ اگلا اسٹاپ ’’ریاستی درجہ‘‘ ہے، ’’آئینی حقوق‘‘ ہیں یا پھر سیدھا ’’دِلی چلو‘‘۔
خبر ختم ہوئی، سفر جاری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں