تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی عالمی یومِ ماحولیات منایا گیا۔ مختلف سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے شجرکاری مہمات میں حصہ لیا۔ تصاویر بنیں، تقاریر ہوئیں اور ماحولیات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ بلاشبہ ایسے دنوں کی اپنی اہمیت ہے۔ یہ عوامی بیداری پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کا احساس دلاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ماحولیات سے تعلق صرف ایک دن کی تقریبات اور علامتی شجرکاری تک محدود رہنا چاہیے؟
کشمیرآج ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ موسموں کا نظام بدل چکا ہے۔ برف باری کے اوقات اور مقدار میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، بارشوں کا انداز غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے اور قدرتی آفات کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ہمارے جنگلات مسلسل سکڑ رہے ہیں، آبی ذخائر آلودگی اور تجاوزات کا شکار ہیں اور زرعی زمینیں تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ترقی کے نام پر درختوں کی کٹائی، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ماحولیات کا تحفظ محض پودا لگانے سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس پودے کی نگہداشت، جنگلات کی حفاظت، آبی وسائل کے تحفظ، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور پائیدار ترقی کی پالیسیوں کے نفاذ سے ممکن ہوتا ہے۔ ایک دن کی سرگرمیوں سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سال کے باقی 364 دن ہم ماحول کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔
کشمیر کو آج نمائشی مہمات سے زیادہ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت، اداروں، ماہرین اور عام شہریوں کو مشترکہ ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی قدرتی وسائل کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کیا تو وہ کشمیر، جسے کبھی جنتِ ارضی کہا جاتا تھا، ماحولیاتی بحران کی ایک افسوسناک مثال بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی عالمی یومِ ماحولیات منایا گیا۔ مختلف سرکاری محکموں، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور عوامی نمائندوں نے شجرکاری مہمات میں حصہ لیا۔ تصاویر بنیں، تقاریر ہوئیں اور ماحولیات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ بلاشبہ ایسے دنوں کی اپنی اہمیت ہے۔ یہ عوامی بیداری پیدا کرتے ہیں اور لوگوں کو فطرت کے ساتھ اپنے تعلق کا احساس دلاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ماحولیات سے تعلق صرف ایک دن کی تقریبات اور علامتی شجرکاری تک محدود رہنا چاہیے؟
کشمیرآج ماحولیاتی تبدیلیوں کے سنگین اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ موسموں کا نظام بدل چکا ہے۔ برف باری کے اوقات اور مقدار میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، بارشوں کا انداز غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے اور قدرتی آفات کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ہمارے جنگلات مسلسل سکڑ رہے ہیں، آبی ذخائر آلودگی اور تجاوزات کا شکار ہیں اور زرعی زمینیں تیزی سے کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ ترقی کے نام پر درختوں کی کٹائی، بے ہنگم تعمیرات اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ماحولیات کا تحفظ محض پودا لگانے سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس پودے کی نگہداشت، جنگلات کی حفاظت، آبی وسائل کے تحفظ، پلاسٹک کے استعمال میں کمی اور پائیدار ترقی کی پالیسیوں کے نفاذ سے ممکن ہوتا ہے۔ ایک دن کی سرگرمیوں سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سال کے باقی 364 دن ہم ماحول کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔
کشمیر کو آج نمائشی مہمات سے زیادہ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت، اداروں، ماہرین اور عام شہریوں کو مشترکہ ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی قدرتی وسائل کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کیا تو وہ کشمیر، جسے کبھی جنتِ ارضی کہا جاتا تھا، ماحولیاتی بحران کی ایک افسوسناک مثال بن سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں