سری نگرمیں ’ریشی وار ‘ بین المذاہب کانفرنس

جنگ نیوز

سری نگر/لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے آج سری نگر میں منعقدہ ’ریشی وار‘ بین المذاہب کانفرنس 2026 میں شرکت کی۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کے یکساں احترام کا نظریہ صدیوں سے ہندوستانی فلسفے اور تہذیب کا بنیادی جزو رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا، ’’آج بہت سی قومیں بقائے باہمی کے چیلنج سے نبرد آزما ہیں جبکہ تنوع ہمیشہ سے ہماری طرزِ زِندگی کا فطری حصہ رہا ہے۔ جہاں دیگر معاشروں نے اتحاد برقرار رکھنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں، وہیں ہندوستان نے بقائے باہمی کی اَقدار کو اَپنایا اور ہزاروں برسوںسے ان پر عمل کیاہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تمام نظریات اور عقائد کا احترام سناتن دھرم کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ ’’کثرت میں وحدت ‘‘ کے اصول پر زور دیاہے اور سناتن دھرم کے ہزاروں سال بعد اُبھرنے والے ہر مذہب کا احترام کیا ہے۔ ۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ رگ وید بھی یہ سکھاتاہے کہ دل اور دماغ ہم آہنگ ہوں، ہمارا مقصدایک ہو اور ہمارے خیالات متحد ہوں۔
اُنہوں نے کہا، ’’دُنیا بھر کے محققین اور دانشور اِس بات پر متفق ہیں کہ تمام مذاہب کے مساوی احترام کا فلسفہ ہمارے عظیم ملک کی قدیم روایات سے جنم لیتا ہے۔ جب میں ان نظریات اور اَقدار پر غور کرتا ہوں جو ہندوستان نے انسانیت کو عطا کی ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ہمارے ویدوں، اپنشدوں، سنتوں اور صوفیوں نے اپنے افکار اور اعمال کے ذریعے دُنیا کو امن کی راہ پر گامزن کیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو انسانیت کی فلاح کے مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہونا چاہیے۔اُنہوں نے کہا، ’’آج دُنیا کو سب سے زیادہ اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ تمام مذاہب کے احترام کا نظریہ ہندوستان کا دنیا کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ ہمیں اس کی مسلسل آبیاری کرنی چاہیے تاکہ ہم اِتحاد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور ہر طبقے کی خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔‘‘
اُنہوں نے وندے ماترم مہم کے تین مراحل کے دوران جموں و کشمیر کی شاندار کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اسے عوام کی دیرپا حب الوطنی کے جذبے کا مظہر بتایا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے لئے عوامی حمایت کو بھی سراہا اور کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کی شرکت فطری اور حوصلہ اَفزا رہی ہے۔ اُنہوں نے شہریوں، اِداروں اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو عوامی تحریک کے طور پر اَپنائیں اور منشیات سے پاک اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے مل کر کام کریں۔
کانفرنس میں جج جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ جسٹس سنجے دھر، چیئرپرسن جموں و کشمیر وقف بورڈڈاکٹر سیّد درخشاں اندرابی، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، آرگنائزر (کنوینر)پروفیسر مینا شرما، مختلف مذاہب کے رہنما، عدلیہ، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلبأ اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

تازہ ترین خبریں

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

بالسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا حملہ: 3 افراد ہلاک، ایک درجن سے زائد زخمی

  کیف، 01 اگست: مقامی حکام کے مطابق، جمعہ اور ہفتے...

SKUAST-K اور نقش رائل آرٹس کے درمیان پشمینہ مصنوعات کی جدت کے لئے معاہدہ

جنگ نیوز ڈیسک SKUAST-K نے کشمیر کی روایتی پشمینہ صنعت...

جموں و کشمیر میں عمارتوں کی اجازت نامہ فیس یکساں

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/جموں و کشمیر حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ...

سری نگرمیں ’ریشی وار ‘ بین المذاہب کانفرنس

جنگ نیوز

سری نگر/لیفٹیننٹ گورنرمنوج سِنہا نے آج سری نگر میں منعقدہ ’ریشی وار‘ بین المذاہب کانفرنس 2026 میں شرکت کی۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مذاہب کے یکساں احترام کا نظریہ صدیوں سے ہندوستانی فلسفے اور تہذیب کا بنیادی جزو رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا، ’’آج بہت سی قومیں بقائے باہمی کے چیلنج سے نبرد آزما ہیں جبکہ تنوع ہمیشہ سے ہماری طرزِ زِندگی کا فطری حصہ رہا ہے۔ جہاں دیگر معاشروں نے اتحاد برقرار رکھنے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کیں، وہیں ہندوستان نے بقائے باہمی کی اَقدار کو اَپنایا اور ہزاروں برسوںسے ان پر عمل کیاہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ تمام نظریات اور عقائد کا احترام سناتن دھرم کی روایت کا حصہ رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ ’’کثرت میں وحدت ‘‘ کے اصول پر زور دیاہے اور سناتن دھرم کے ہزاروں سال بعد اُبھرنے والے ہر مذہب کا احترام کیا ہے۔ ۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ رگ وید بھی یہ سکھاتاہے کہ دل اور دماغ ہم آہنگ ہوں، ہمارا مقصدایک ہو اور ہمارے خیالات متحد ہوں۔
اُنہوں نے کہا، ’’دُنیا بھر کے محققین اور دانشور اِس بات پر متفق ہیں کہ تمام مذاہب کے مساوی احترام کا فلسفہ ہمارے عظیم ملک کی قدیم روایات سے جنم لیتا ہے۔ جب میں ان نظریات اور اَقدار پر غور کرتا ہوں جو ہندوستان نے انسانیت کو عطا کی ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ ہمارے ویدوں، اپنشدوں، سنتوں اور صوفیوں نے اپنے افکار اور اعمال کے ذریعے دُنیا کو امن کی راہ پر گامزن کیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو انسانیت کی فلاح کے مشترکہ مقصد کے تحت متحد ہونا چاہیے۔اُنہوں نے کہا، ’’آج دُنیا کو سب سے زیادہ اسی سوچ کی ضرورت ہے۔ تمام مذاہب کے احترام کا نظریہ ہندوستان کا دنیا کے لئے سب سے قیمتی تحفہ ہے۔ ہمیں اس کی مسلسل آبیاری کرنی چاہیے تاکہ ہم اِتحاد کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور ہر طبقے کی خوشحالی کو یقینی بنا سکیں۔‘‘
اُنہوں نے وندے ماترم مہم کے تین مراحل کے دوران جموں و کشمیر کی شاندار کارکردگی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے اسے عوام کی دیرپا حب الوطنی کے جذبے کا مظہر بتایا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘ کے لئے عوامی حمایت کو بھی سراہا اور کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کی شرکت فطری اور حوصلہ اَفزا رہی ہے۔ اُنہوں نے شہریوں، اِداروں اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو عوامی تحریک کے طور پر اَپنائیں اور منشیات سے پاک اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے مل کر کام کریں۔
کانفرنس میں جج جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ جسٹس سنجے دھر، چیئرپرسن جموں و کشمیر وقف بورڈڈاکٹر سیّد درخشاں اندرابی، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، آرگنائزر (کنوینر)پروفیسر مینا شرما، مختلف مذاہب کے رہنما، عدلیہ، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلبأ اور بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں