پتھرائو سے پدیاترا تک: جنوبی کشمیر کا بدلا ہوا منظرنامہ

سہیل خان

کئی برسوں تک جنوبی کشمیر کے اضلاع کا نام سنتے ہی تشدد، خوف اور غیر یقینی کی تصویریں ذہن میں ابھرتی تھیں۔ کشمیر کے جنوبی حصے میں واقع شوپیان، پلوامہ، کولگام اور اننت ناگ کے بعض علاقے اکثر خبروں کی زینت مسلح جھڑپوں، عسکری سرگرمیوں، ہڑتالوں اور جانی نقصانات کے حوالے سے بنتے رہے۔
اس پُرآشوب دور کے زخم آج بھی یہاں کے لوگوں کی یادوں میں تازہ ہیں۔ پوری پوری نسلیں تلاشی کارروائیوں، سیاسی اتھل پتھل اور عسکریت کے مسلسل سائے تلے پروان چڑھیں۔ حالیہ برسوں میں بھی کولگام کے جنگلات اور دور دراز علاقوں میں عسکریت مخالف کارروائیاں جاری رہیں، جو اس خطے کو درپیش پیچیدہ سلامتی چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
تاہم تاریخ کبھی ساکت نہیں رہتی۔ معاشرے ارتقا پذیر ہوتے ہیں، برادریاں اپنے زخموں پر مرہم رکھتی ہیں اور تنازعات سے وابستہ خطے بھی ایک دن نئی داستانیں رقم کرنے لگتے ہیں۔ رواں ہفتے کولگام میں دیکھے گئے مناظر اسی تبدیلی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں منعقدہ ’’منشیات سے پاک جموں و کشمیر پد یاترا‘‘ محض ایک سرکاری تقریب نہیں تھی بلکہ اپنے اندر گہری علامتی معنویت رکھتی تھی۔ طلبہ، اساتذہ، سماجی رہنما، رضاکاروں اور عام شہریوں سمیت ہزاروں افراد نے کولگام کی سڑکوں پر ایک ساتھ چلتے ہوئے عوامی صحت، نوجوانوں کے استحکام اور سماجی ذمہ داری کا پیغام عام کیا۔
اس موقع کی اہمیت صرف منشیات مخالف مہم تک محدود نہیں بلکہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ وسیع عوامی اجتماع ایک ایسے ضلع میں منعقد ہوا جو کبھی بدامنی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وہ سڑکیں جو برسوں تک کشیدگی کی گواہ رہی تھیں، ایک پُرامن عوامی مارچ کا راستہ بن گئیں۔ یہاں لگنے والے نعرے تصادم یا نفرت کے نہیں بلکہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے اور ایک صحت مند مستقبل کی تعمیر کے تھے۔
وقت کے ساتھ جنوبی کشمیر کے مسائل کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ہے۔ اگرچہ طویل عرصے تک عسکریت پسندی عوامی مباحث کا مرکزی موضوع رہی، لیکن اب منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال پورے خطے کے خاندانوں اور معاشرتی ڈھانچے کے لئے ایک سنگین خطرے کے طور پر ابھرا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس مہم کو براہ راست عوام تک پہنچانے کا فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پائیدار امن صرف سلامتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ سماجی اصلاح، عوامی بیداری، تعلیم اور عوامی شمولیت بھی استحکام کے ناگزیر ستون ہیں۔
یہ پد یاترا حکمرانی کے ایسے انداز کی بھی عکاسی کرتی ہے جو عوامی رابطے اور براہ راست شمولیت کو اہمیت دیتا ہے۔ منشیات مخالف پیغام کو سرکاری دفاتر اور رسمی اجلاسوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قصبوں، تعلیمی اداروں اور محلوں تک پہنچایا گیا۔ کولگام میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اس اجتماعی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔
سلامتی سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ انتظامیہ کی منشیات مخالف مہم میں بیداری پروگراموں، قانون کے نفاذ اور بحالی کے اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے لئے بحالی مراکز کے قیام سے متعلق حالیہ اعلانات اس متوازن حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی بحالی اور مدد کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یقیناً یہ سمجھ لینا درست نہیں ہوگا کہ کشمیر کے تمام مسائل ختم ہو چکے ہیں۔ خطہ آج بھی معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ پائیدار تبدیلی کے لئے برسوں پر محیط مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ تاہم علامتوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، اور عوامی اجتماعات معاشرے میں رونما ہونے والی گہری تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
کولگام کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اس کی تاریخ دکھ، قربانیوں اور طویل اضطراب سے عبارت ہے، لیکن اب اس میں استقامت، احیا اور امید کے نئے ابواب بھی شامل ہو رہے ہیں۔ جب ہزاروں لوگ احتجاج، خوف یا سوگ کے لئے نہیں بلکہ ایک مشترکہ سماجی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک مختلف اور بہتر مستقبل کا تصور کرنے لگا ہے۔
کولگام کی گلیوں میں رواں یہ پد یاترا شاید ماضی کے تمام تلخ مناظر کو محو نہ کر سکے، لیکن یہ ایک ایسی چیز ضرور عطا کرتی ہے جو کسی بھی معاشرے کے لئے بے حد قیمتی ہوتی ہے: امید۔ یہ امید کہ جنوبی کشمیر کو مستقبل میں تنازعات اور تشدد کے بجائے اپنے عزم، اجتماعی شعور اور پرانے مسائل پر قابو پا کر نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے یاد کیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

پتھرائو سے پدیاترا تک: جنوبی کشمیر کا بدلا ہوا منظرنامہ

سہیل خان

کئی برسوں تک جنوبی کشمیر کے اضلاع کا نام سنتے ہی تشدد، خوف اور غیر یقینی کی تصویریں ذہن میں ابھرتی تھیں۔ کشمیر کے جنوبی حصے میں واقع شوپیان، پلوامہ، کولگام اور اننت ناگ کے بعض علاقے اکثر خبروں کی زینت مسلح جھڑپوں، عسکری سرگرمیوں، ہڑتالوں اور جانی نقصانات کے حوالے سے بنتے رہے۔
اس پُرآشوب دور کے زخم آج بھی یہاں کے لوگوں کی یادوں میں تازہ ہیں۔ پوری پوری نسلیں تلاشی کارروائیوں، سیاسی اتھل پتھل اور عسکریت کے مسلسل سائے تلے پروان چڑھیں۔ حالیہ برسوں میں بھی کولگام کے جنگلات اور دور دراز علاقوں میں عسکریت مخالف کارروائیاں جاری رہیں، جو اس خطے کو درپیش پیچیدہ سلامتی چیلنجوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
تاہم تاریخ کبھی ساکت نہیں رہتی۔ معاشرے ارتقا پذیر ہوتے ہیں، برادریاں اپنے زخموں پر مرہم رکھتی ہیں اور تنازعات سے وابستہ خطے بھی ایک دن نئی داستانیں رقم کرنے لگتے ہیں۔ رواں ہفتے کولگام میں دیکھے گئے مناظر اسی تبدیلی کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں منعقدہ ’’منشیات سے پاک جموں و کشمیر پد یاترا‘‘ محض ایک سرکاری تقریب نہیں تھی بلکہ اپنے اندر گہری علامتی معنویت رکھتی تھی۔ طلبہ، اساتذہ، سماجی رہنما، رضاکاروں اور عام شہریوں سمیت ہزاروں افراد نے کولگام کی سڑکوں پر ایک ساتھ چلتے ہوئے عوامی صحت، نوجوانوں کے استحکام اور سماجی ذمہ داری کا پیغام عام کیا۔
اس موقع کی اہمیت صرف منشیات مخالف مہم تک محدود نہیں بلکہ اس حقیقت میں مضمر ہے کہ یہ وسیع عوامی اجتماع ایک ایسے ضلع میں منعقد ہوا جو کبھی بدامنی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ وہ سڑکیں جو برسوں تک کشیدگی کی گواہ رہی تھیں، ایک پُرامن عوامی مارچ کا راستہ بن گئیں۔ یہاں لگنے والے نعرے تصادم یا نفرت کے نہیں بلکہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے اور ایک صحت مند مستقبل کی تعمیر کے تھے۔
وقت کے ساتھ جنوبی کشمیر کے مسائل کی نوعیت بھی تبدیل ہوئی ہے۔ اگرچہ طویل عرصے تک عسکریت پسندی عوامی مباحث کا مرکزی موضوع رہی، لیکن اب منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال پورے خطے کے خاندانوں اور معاشرتی ڈھانچے کے لئے ایک سنگین خطرے کے طور پر ابھرا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس مہم کو براہ راست عوام تک پہنچانے کا فیصلہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ پائیدار امن صرف سلامتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ سماجی اصلاح، عوامی بیداری، تعلیم اور عوامی شمولیت بھی استحکام کے ناگزیر ستون ہیں۔
یہ پد یاترا حکمرانی کے ایسے انداز کی بھی عکاسی کرتی ہے جو عوامی رابطے اور براہ راست شمولیت کو اہمیت دیتا ہے۔ منشیات مخالف پیغام کو سرکاری دفاتر اور رسمی اجلاسوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قصبوں، تعلیمی اداروں اور محلوں تک پہنچایا گیا۔ کولگام میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ اس اجتماعی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔
سلامتی سے متعلق امور کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر مسلسل توجہ مرکوز رکھنے کے لئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ انتظامیہ کی منشیات مخالف مہم میں بیداری پروگراموں، قانون کے نفاذ اور بحالی کے اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے لئے بحالی مراکز کے قیام سے متعلق حالیہ اعلانات اس متوازن حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی بحالی اور مدد کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔
یقیناً یہ سمجھ لینا درست نہیں ہوگا کہ کشمیر کے تمام مسائل ختم ہو چکے ہیں۔ خطہ آج بھی معاشی، سیاسی اور سماجی چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ پائیدار تبدیلی کے لئے برسوں پر محیط مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ تاہم علامتوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے، اور عوامی اجتماعات معاشرے میں رونما ہونے والی گہری تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
کولگام کی کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اس کی تاریخ دکھ، قربانیوں اور طویل اضطراب سے عبارت ہے، لیکن اب اس میں استقامت، احیا اور امید کے نئے ابواب بھی شامل ہو رہے ہیں۔ جب ہزاروں لوگ احتجاج، خوف یا سوگ کے لئے نہیں بلکہ ایک مشترکہ سماجی مقصد کے لئے جمع ہوتے ہیں تو یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ معاشرہ ایک مختلف اور بہتر مستقبل کا تصور کرنے لگا ہے۔
کولگام کی گلیوں میں رواں یہ پد یاترا شاید ماضی کے تمام تلخ مناظر کو محو نہ کر سکے، لیکن یہ ایک ایسی چیز ضرور عطا کرتی ہے جو کسی بھی معاشرے کے لئے بے حد قیمتی ہوتی ہے: امید۔ یہ امید کہ جنوبی کشمیر کو مستقبل میں تنازعات اور تشدد کے بجائے اپنے عزم، اجتماعی شعور اور پرانے مسائل پر قابو پا کر نئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے یاد کیا جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں