خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی ﷺ

مسلم بن الیاس

خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔
۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔
حضرت عثما ن کا شمار اہل مکہ کے رئیس خاندان میں ہوتا ہے آپ کو خاندانی وجاہت کے علاوہ مال ودولت کے لحاظ سے بھی برتری حاصل تھی، طلوع اسلام کے بعد اوراعلانیہ دعوت الی اللّٰہ سے پہلے خفیہ طور پر جب آقادوجہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تبلیغ کا آغاز کیا تو آپ کی دعوت الی اللّٰہ سے متاثرین ہونے والوں میں سیدناصدیق اکبر مَردوں میں پہلے مشرف بالاسلام ہونے والے خوش نصیب صحابی بنے ۔چنانچہ حضرت صدیق اکبر نے ایمان لاتے ہی تبلیغ شروع کردی اور عشرہ مبشرہ میں سے پانچ حضرات آپ ہی کی تبلیغی کوششوں سے اسلام کی دولت سے مالامال ہوئےانہی میں سے ایک حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے جواسلام سے مشرف ہوئے ۔آپ کے اسلام لانے کی خبر جب آپ کے خاندان والوں کو پتاچلی تو پورا خاندان ناراض ہوگیا حتی کہ آپ کے چچا حکم بن العاص نے آ پ کو رسی سے باندھ دیااور آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تم کو اسی طرح باندھ کر رکھیں گے ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے چچا کے جواب میں ایک تاریخی جملہ کہا :
” وَاﷲلَا اَدَعُہ اَبدًا وَلَا اُفَارِقُہ “
یعنی خدائے ذوالجلال کی قسم !مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ کبھی اس دولت سے دست بردار ہوسکتا ہوں۔
میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالو یہ ہوسکتا ہے مگر دل سے دین ِاسلام نکل جائے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، حکم بن ابی العاص نے جب اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا استقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کردیا ۔
سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ ؑا کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ ؑ حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہؑا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم ؑ کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔
’’حضرت عثمانؓ جنگ ِبدر میں حاضر نہ ہوئے تھے (اس کی وجہ یہ تھی کہ ) آپؓ کے عقد میں حضور نبی اکرم (ﷺ)کی صاحبزادی تھی اور وہ اس وقت بیمار تھیں، آقا کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا: اے عثمان بے شک تیرے لیے ہر ا س آدمی کے برابر اجر اور اس کے برابر (مالِ غنیمت کا ) حصہ ہے جو جنگ بدر میں شریک ہوا ہے‘‘-
مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ ﷺنے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺنے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔
قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا ۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔
جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنھم حملے میں شدیدزخمی ہوگئے اور ان کے انتقال کا وقت قریب آنے لگا تولوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے آپ سے درخواست کی کہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔ پہلے تو آپ تیار نہ ہوئے مگر لوگوں کے زور دینے پر آپ نے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی، جس کے ارکان میں حضرت عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت علیؑ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ نے ان تمام حضرات کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے) شامل تھے، اور فرمایا کہ ان میں کسی ایک شخص کو منتخب کرکے امیر بنا لو۔اس کے بعد حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود کو حکم دیا کہ جب مجھے دفن کرکے فارغ ہو جائیں تو ان چھ آدمیوں کو ایک مکان میں جمع کرنا تاکہ یہ اپنے آپ میں سے کسی کو امیر منتخب کرلیں۔اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) کے بارے میں بطور خاص وصیت فرمائی کہ دوسروں کی طرح انھیں بھی رائے دینے کے لیے بلا لینا لیکن امارت سے ان کو کوئی سروکار نہ ہوگا، فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔ چنانچہ ان حضرات نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ جسے چاہیں خلیفہ مقرر کردیں، انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتدا یکم محرم 24ھ مطابق 7 نومبر 644ء سے ہوئی۔ آپ کو عوام نے کھلے طور پر بھی منتخب کیا، اور نامزد کمیٹی کے فیصلہ کی تائید کی۔
عشق و وفا کے پیکر نے عشق و وفا کی ایسی داستانیں رقم کیں جن کی آج تک نظیر نہیں ملتی- یہی حضرت عثمان غنیؓ ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ (ﷺ)کے حکم پر کفر کے گڑھ میں اپنے آپ کو بطور ایلچی پیشں کردیا اور ان کی شہادت کی افواہ پھیلنےپر آپ (ﷺ) نے ان کی خاطر اپنے تمام صحابہ کرام سے بیعت لی اور اپنے ہاتھ کو حضرت عثمان کا ہاتھ قراردیا-یہی حضرت عثمان غنیؓ ہیں جو کہ جنگ بدر کے موقع پر اپنی زوجہ محترمہ جو کہ بنتِ رسول تھیں ان کی عیادت کی خاطر جب پیچھے رہ گئے تو پھر بھی مال غنیمت میں سے حصہ اور جہاد کے اجرکے مستحق قرارپائے -یہی عثمان غنی ہیں کہ جن سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں اوریہی حضرت عثمان غنیؓ کی ذات ہے کہ شہادت کے وقت قرآن سامنے ہوتا ہے اور خون کے قطرے قرآن پاک پر گرتے ہیں-
سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا۔
82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعۃ المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔
نوٹ : مذہبی و علمی آراء کو قارئین کے سامنے رکھنے کے تعلق سےـ’ ادارہ روزنامہ سرینگر جنگ ‘محض ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس لئے کسی بھی منفی بحث اور تنقیدسے احتراز کیجئے !اس مضمون کے حوالے سے مضمون نگار سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
ززؕ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی ﷺ

مسلم بن الیاس

خلیفۂ سوم سیدنا عثمان غنی کا تعلق قریش کے معزز قبیلے سے تھا۔ سلسلہ نسب عبد المناف پر رسول اللہ ﷺ سے جا ملتا ہے ۔ سیدنا عثمان ذوالنورین کی نانی نبی ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ آپ کا نام عثمان اور لقب ” ذوالنورین “ ہے۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ ” السابقون الاولون “ کی فہرست میں شامل تھے، آپ نے خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی دعوت پر اسلام قبول کیا تھا۔
۔ حضور ﷺ پر ایمان لانے اور کلمہ حق پڑھنے کے جرم میں سیدنا عثمان غنی کو ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے لوہے کی زنجیروں سے باندھ کر دھوپ میں ڈال دیا، کئی روز تک علیحدہ مکان میں بند رکھا گیا، چچا نے آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب (اسلام ) کو نہیں چھوڑو گے آزاد نہیں کروں گا۔ یہ سن کر آپ نے جواب میں فرمایا کہ چچا ! اللہ کی قسم میں مذہب اسلام کو کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور اس ایمان کی دولت سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گا۔ سیدناعثمان غنی اعلیٰ سیرت و کردار کے ساتھ ثروت و سخاوت میں بھی مشہور تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ہرنبی کا ساتھی و رفیق ہوتاہے میرا ساتھی ”عثمان “ ہوگا۔
حضرت عثما ن کا شمار اہل مکہ کے رئیس خاندان میں ہوتا ہے آپ کو خاندانی وجاہت کے علاوہ مال ودولت کے لحاظ سے بھی برتری حاصل تھی، طلوع اسلام کے بعد اوراعلانیہ دعوت الی اللّٰہ سے پہلے خفیہ طور پر جب آقادوجہاں صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تبلیغ کا آغاز کیا تو آپ کی دعوت الی اللّٰہ سے متاثرین ہونے والوں میں سیدناصدیق اکبر مَردوں میں پہلے مشرف بالاسلام ہونے والے خوش نصیب صحابی بنے ۔چنانچہ حضرت صدیق اکبر نے ایمان لاتے ہی تبلیغ شروع کردی اور عشرہ مبشرہ میں سے پانچ حضرات آپ ہی کی تبلیغی کوششوں سے اسلام کی دولت سے مالامال ہوئےانہی میں سے ایک حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تھے جواسلام سے مشرف ہوئے ۔آپ کے اسلام لانے کی خبر جب آپ کے خاندان والوں کو پتاچلی تو پورا خاندان ناراض ہوگیا حتی کہ آپ کے چچا حکم بن العاص نے آ پ کو رسی سے باندھ دیااور آپ سے کہا کہ جب تک تم نئے مذہب کو نہیں چھوڑو گے ہم تم کو اسی طرح باندھ کر رکھیں گے ۔حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے چچا کے جواب میں ایک تاریخی جملہ کہا :
” وَاﷲلَا اَدَعُہ اَبدًا وَلَا اُفَارِقُہ “
یعنی خدائے ذوالجلال کی قسم !مذہب اسلام کو میں کبھی نہیں چھوڑ سکتا اور نہ کبھی اس دولت سے دست بردار ہوسکتا ہوں۔
میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالو یہ ہوسکتا ہے مگر دل سے دین ِاسلام نکل جائے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، حکم بن ابی العاص نے جب اس طرح آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا استقلال دیکھا تو مجبور ہو کر آپ کو رہا کردیا ۔
سیدنا عثمان کے دائرہ اسلام میں آنے کے بعد نبی اکرم نے کچھ عرصہ بعد اپنی بیٹی سیدہ رقیہ ؑا کا نکاح آپ سے کردیا۔ جب کفار مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی اجازت اور حکم الٰہی کے مطابق ہجرت حبشہ کی تو سیدنا عثمان بھی مع اپنی اہلیہ حضرت رقیہ ؑ حبشہ ہجرت فرماگئے، جب حضرت رقیہؑا کا انتقال ہوا تو نبی ﷺ نے دوسری بیٹی حضرت ام کلثوم ؑ کوآپ کی زوجیت میں دے دی۔ اس طرح آپ کا لقب ” ذوالنورین“ معروف ہوا۔
’’حضرت عثمانؓ جنگ ِبدر میں حاضر نہ ہوئے تھے (اس کی وجہ یہ تھی کہ ) آپؓ کے عقد میں حضور نبی اکرم (ﷺ)کی صاحبزادی تھی اور وہ اس وقت بیمار تھیں، آقا کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا: اے عثمان بے شک تیرے لیے ہر ا س آدمی کے برابر اجر اور اس کے برابر (مالِ غنیمت کا ) حصہ ہے جو جنگ بدر میں شریک ہوا ہے‘‘-
مدینہ منورہ میں پانی کی قلت تھی جس پر سیدنا عثمان نے نبی پاک ا کی اجازت سے پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے ليے وقف فرمایا ۔اور اسی طرح غزوئہ تبوک میں جب رسول اللہ ﷺنے مالی اعانت کی اپیل فرمائی تو سیدنا عثمان غنی نے تیس ہزار فوج کے ایک تہائی اخراجات کی ذمہ داری لے لی ۔جب رسول اکرم ﷺنے زیارت خانہ کعبہ کا ارادہ فرمایا تو حدیبیہ کے مقام پر یہ علم ہواکہ قریش مکہ آمادہ جنگ ہیں ۔ اس پر آپ ﷺنے سیدنا عثمان غنی کو سفیر بنا کر مکہ بھیجا۔ قریش مکہ نےآپ کو روکے رکھا تو افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمان کو شہید کردیا گیا ہے ۔ اس موقع پر چودہ سو صحابہ سے نبی ﷺنے بیعت لی کہ سیدنا عثمان غنی کا قصاص لیا جائے گا ۔ یہ بیعت تاریخ اسلام میں ” بیعت رضوان “ کے نام سے معروف ہے ۔
قریش مکہ کو جب صحیح صورت حال کا علم ہوا تو آمادۂ صلح ہوگئے اور سیدنا عثمان غنی واپس آگئے۔خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیق کی مجلس مشاورت کے آپ اہم رکن تھے ۔ امیر المومنین سیدنا عمر کی خلافت کا وصیت نامہ آپ نے ہی تحریر فرمایا ۔ دینی معاملات پر آپ کی رہنمائی کو پوری اہمیت دی جاتی ۔
جب حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنھم حملے میں شدیدزخمی ہوگئے اور ان کے انتقال کا وقت قریب آنے لگا تولوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے پہلے آپ سے درخواست کی کہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ مقرر کر دیں۔ پہلے تو آپ تیار نہ ہوئے مگر لوگوں کے زور دینے پر آپ نے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنادی، جس کے ارکان میں حضرت عبدالرحمن بن عو ف رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، حضرت علیؑ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ نے ان تمام حضرات کے جنتی ہونے کی بشارت دی ہے) شامل تھے، اور فرمایا کہ ان میں کسی ایک شخص کو منتخب کرکے امیر بنا لو۔اس کے بعد حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود کو حکم دیا کہ جب مجھے دفن کرکے فارغ ہو جائیں تو ان چھ آدمیوں کو ایک مکان میں جمع کرنا تاکہ یہ اپنے آپ میں سے کسی کو امیر منتخب کرلیں۔اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہما) کے بارے میں بطور خاص وصیت فرمائی کہ دوسروں کی طرح انھیں بھی رائے دینے کے لیے بلا لینا لیکن امارت سے ان کو کوئی سروکار نہ ہوگا، فیصلہ کثرت رائے سے ہوگا۔ چنانچہ ان حضرات نے حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو یہ اختیار دیا کہ وہ جسے چاہیں خلیفہ مقرر کردیں، انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کی ابتدا یکم محرم 24ھ مطابق 7 نومبر 644ء سے ہوئی۔ آپ کو عوام نے کھلے طور پر بھی منتخب کیا، اور نامزد کمیٹی کے فیصلہ کی تائید کی۔
عشق و وفا کے پیکر نے عشق و وفا کی ایسی داستانیں رقم کیں جن کی آج تک نظیر نہیں ملتی- یہی حضرت عثمان غنیؓ ہیں کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ (ﷺ)کے حکم پر کفر کے گڑھ میں اپنے آپ کو بطور ایلچی پیشں کردیا اور ان کی شہادت کی افواہ پھیلنےپر آپ (ﷺ) نے ان کی خاطر اپنے تمام صحابہ کرام سے بیعت لی اور اپنے ہاتھ کو حضرت عثمان کا ہاتھ قراردیا-یہی حضرت عثمان غنیؓ ہیں جو کہ جنگ بدر کے موقع پر اپنی زوجہ محترمہ جو کہ بنتِ رسول تھیں ان کی عیادت کی خاطر جب پیچھے رہ گئے تو پھر بھی مال غنیمت میں سے حصہ اور جہاد کے اجرکے مستحق قرارپائے -یہی عثمان غنی ہیں کہ جن سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں اوریہی حضرت عثمان غنیؓ کی ذات ہے کہ شہادت کے وقت قرآن سامنے ہوتا ہے اور خون کے قطرے قرآن پاک پر گرتے ہیں-
سیدنا عثمان غنی صرف کاتب وحی ہی نہیں تھے بلکہ قرآن مجید آپ کے سینے میں محفوظ تھا۔ آیات قرآنی کے شان نزول سے خوب واقف تھے ۔ بطور تاجر دیانت و امانت آپ کا طرۂ امتیاز تھا۔ نرم خو تھے اور فکر آخرت ہر دم پیش نظر رکھتے تھے ۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے عثمان کی حیا سے فرشتے بھی شرماتے ہیں ، تبلیغ و اشاعت اسلام کے ليے فراخ دلی سے دولت صرف فرماتے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ اے عثمان اللہ تعالٰی تجھے خلافت کی قمیص پہنائیں گے ، جب منافق اسے اتارنے کی کوشش کریں تو اسے مت اتارنا یہاں تک کہ تم مجھے آملو۔ چنانچہ جس روز آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھ سے حضور نے عہد لیا تھا ( کہ منافق خلافت کی قمیص اتارنے کی کوشش کریں گے تم نہ اتارنا ) اس ليے میں اس پر قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں ۔ 35ھ میں ذی قعدہ کے پہلے عشرہ میں باغیوں نے سیدنا عثمان ذوالنورین کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ نے صبر اوراستقامت کا دامن نہیں چھوڑا، محاصرہ کے دوران آپ کا کھانا اور پانی بند کردیاگیا۔
82سالہ مظلوم مدینہ سیدنا عثمان کو جمعۃ المبارک 18ذو الحجہ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوے شہید کردیا گیا۔سیدنا عمر فاروق کے بعد امت کی زمامِ اقتدار سنبھالی اور خلیفۂ ثالث مقرر ہوئے ۔
نوٹ : مذہبی و علمی آراء کو قارئین کے سامنے رکھنے کے تعلق سےـ’ ادارہ روزنامہ سرینگر جنگ ‘محض ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس لئے کسی بھی منفی بحث اور تنقیدسے احتراز کیجئے !اس مضمون کے حوالے سے مضمون نگار سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
ززؕ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں