محمد شاہد الاعظمی
اردو زبان اپنی شیرینی و لطافت اور تہذیبی وقار کے اعتبار سے برصغیر کی ایک اعلی ،ممتاز اور نمایاں زبان اور روشن و تابندہ پہچان رہی ہے، اس کے دامن میں میر و غالب کی نغمگی، سرسید کی فکری بصیرت اور شبلی و حالی کی ادبی حلاوت جلوہ فگن ہے، جس سے نہ صرف یہ کہ زبان و ادب کے میدان میں اسے بلند مقام و مرتبہ حاصل ہوا بلکہ اہل علم و ادب کے درمیان اسے کافی فروغ حاصل ہوا، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج یہی زبان اپنے بعض خود ساختہ علمبرداروں کی من مانی اور زعم برتری کی وجہ سے ادبی زبوں حالی کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔
اصل مسئلہ وہاں جنم لیتا ہے جہاں کوئی شخص یا طبقہ اردو پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی بیجا کوشش کرتا ہے اور اپنی محدود فہم کو معیار قرار دے کر دوسروں کی ادبی و لسانی کاوشوں کو کمتر ٹھہراتا ہے، نئی سوچ اور جدید رجحانات کو رد کرتا ہے اور زبان کو ایک جامد سانچے میں قید کرنے پر تل جاتا ہے۔ جس کے زیر اثر اردو، جو ایک زندہ اور ارتقائی زبان ہے، اس کی فطری روانی متاثر ہوتی ہے اور تخلیقی آزادی کا گلا گھٹنے لگتا ہے۔
یہ برتری کا زعم نہ صرف نئے لکھنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے بلکہ زبان کے دائرے کو بھی محدود کرنے میں بہت حد تک معاون ہوتا ہے۔ جب چند افراد خود کو "اردو کا محافظ” سمجھ کر اپنی پسند و ناپسند کو معیار بنا لیتے ہیں تو نتیجتاً اختلاف رائے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں ادب کی نشوونما کے بجائے جمود پیدا ہوتا ہے اور زبان اپنی وسعت و ہمہ گیری کھو بیٹھتی ہے۔
مزید برآں، اس من مانی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اردو کو عام فہم بنانے کے بجائے اسے غیر ضروری پیچیدگیوں میں الجھا دیا جاتا ہے۔ ثقیل الفاظ اور فرسودہ تراکیب کو زبردستی مسلط کر کے زبان کو عوام سے دور کیا جاتا ہے، حالانکہ کسی بھی زبان کی بقا اسی میں ہے کہ وہ عوام کے گھر آنگن میں پلتی پھولتی رہے اور زمانے کے تقاضوں کے ساتھ پورے طور پر ہم آہنگ ہو۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان کو کسی فرد یا گروہ کی ملکیت سمجھنے کے بجائے ایک اجتماعی ورثہ تسلیم کیا جائے۔ اس کی ترقی کے لئے کشادہ دلی، وسعت ظرفی اور نئے رجحانات کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔ زبان کو جمود نہیں بلکہ ہر لمحہ حرکت و ارتقا کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہی اس کی زندگی کی واضح اور ناقابل انکار علامت ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اردو کی زبوں حالی کا سبب بیرونی عوامل سے زیادہ اندرونی رویے ہیں، جب تک ہم برتری کے زعم اور اجارہ داری کی سطحی سوچ سے باہر نہیں نکلیں گے، تب تک اردو اپنی حقیقی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل نہیں کر سکتی۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس زبان کو اختلاف کے بجائے اتفاق، اور تنگ نظری کے بجائے وسعتِ نظر کے ساتھ فروغ دیں، تاکہ دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح اس کا بھی دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے ۔
آج ضرورت تو یہ ہے کہ اردو کے تمام لسانی پہلوؤں کو ادبی اور علمی انداز سے عوام وخواص کے درمیان اجا گر کیا جائے، اس کی لغات و تعبیرات کے محاسن کو جدید اسلوب نگارش میں اس طرح بیان کیا جائے کہ اس سے اس کی اہمیت کا پورا اندازہ لگا یا جا سکے۔
اس تعلق سے اگر ایک طرف اپنے قدیم سرمائے کی حفاظت کی ضرورت ہے تو دوسری طرف جدید اصحاب قلم کی تربیت و حوصلہ افزائی کی بھی شدید ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل میں بھی ایسے باکمال افراد تیار ہوسکیں جو اساطین ادب کے نقش قدم پر چل کر زبان و ادب کی نمایاں خدمت انجام دے سکیں اور چراغ سے چراغ جلتا رہے۔
تنقید بلاشبہ بہت اہم اور قابل قدر شئ ہے، جس سے فن میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور آئندہ کے لئے اس سے واضح رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔
بقول فضا ابن فیضی:
تنقید سے فن اور نکھر جاتا ہے
بزدل ہے جو تنقید سے ڈر جاتا ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس کے ذریعے تنقیص کی جہتیں عام کی جائیں اور صاحب قلم کی اس درجہ حوصلہ شکنی کی جائے کہ اس پر منفی اثرات مرتب ہوں اور ہمت ہار کے جو کچھ آگے بڑھنے کا حوصلہ ہو اسے کھو بیٹھے، اگر ایسا ہے تو یہ زبان و ادب کا عظیم خسارہ ہو گا جس کی تلافی مشکل ہو جائے گی ۔
لہذا نہایت فکرمندی کے ساتھ اس پہلو پر غور وفکر کی ضرورت ہے جو اکابر اصحاب قلم، مستند ادباء اور معتبر اہل فکر و نظر کے حسن توسط سے صحیح ڈھنگ سے پوری ہوسکتی ہے ۔


