بھارت نے مزدوروں، کسانوں اور چھوٹے درجے کے کاروباری اداروں کیلئے خلیج کا نیا راستہ کھولا

جناب پیوش گوئل
 مرکزی وزیر
تجارت و صنعت
یکم جون سے نافذ ہونے والا بھارت-عْمان آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)وزیر اعظم نریندر مودی کے اْس وڑن میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد بھارتی طلبہ، دستکاروں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور بہت چھوٹے، چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لئے عالمی خوشحالی کی نئی راہیں کھولنا، نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا اور روزگار کے مواقع میں تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔
بھارت اور عْمان کے درمیان گہرے اقتصادی اور عوامی روابط موجود ہیں۔ عْمان میں تقریباً سات لاکھ بھارتی باشندے مقیم ہیں، جن میں ایسے تاجر خاندان بھی شامل ہیں جن کی وہاں موجودگی کی تاریخ دو سے تین صدیوں پر محیط ہے۔ عْمان سے بھارت آنے والی ترسیلات زر کا حجم سالانہ تقریباً دو ارب امریکی ڈالر ہے، جبکہ چھ ہزار سے زائد بھارتی کمپنیاں وہاں سرگرم عمل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو نئی وسعت دیتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی برآمدات کے 99.38 فیصد حصے پر مشتمل 98 فیصد ٹیرف لائنز کو عْمان کی منڈی میں فوری طور پر سو فیصد ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو جائے گی۔
یہ معاہدہ قبل ازیں رائج نظام کے مقابلے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے، کیونکہ سی ای پی اے سے پہلے بھارت کی صرف 15.3 فیصد برآمدات ہی عْمان میں بغیر کسٹم ڈیوٹی کے داخل ہو سکتی تھیں۔ اب بھارت سے برآمد ہونے والی وہ مصنوعات، جن پر عْمان میں اس وقت 5 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہے اور جن کی برآمدی مالیت تقریباً 3.64 ارب امریکی ڈالر ہے، عْمانی منڈی میں کہیں زیادہ مسابقتی بن جائیں گی۔
بھارت کے بہت چھوٹے، چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لئے یہ معاہدہ انقلابی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سی ای پی اے سے فائدہ اٹھانے والے کئی شعبوں میں انہی اداروں کا غلبہ ہے۔ فولاد و لوہا، ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، آٹو پرزہ جات اور صنعتی آلات ایسے شعبے ہیں جہاں ایم ایس ایم ایز کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی آرڈرز ملنے کی توقع ہے، جس سے پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور معاشی نشیب وفراز کے اس دور میں سی ای پی اے بھارتی برآمد کنندگان کو اپنی منڈیوں کو متنوع بنانے اور اْن روایتی تجارتی منازل پر انحصار کم کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے، جو اس وقت معاشی سست روی اور بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
روزگار کے مواقع میں اضافہ-یہ تجارتی معاہدہ ایسے محنت طلب شعبوں کے لئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتا سازی، غذائی اشیا کی پروسیسنگ، سمندری مصنوعات، جواہرات و زیورات اور انجینئرنگ کے بعض شعبے شامل ہیں۔ یہ تمام شعبے بھارت میں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتے ہیں۔
عْمان کو ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے سے تروپور، سورت، لدھیانہ، پانی پت، کوئمبٹور، کرور، بھدوہی، مراد آباد، جے پور اور احمد آباد جیسے اہم صنعتی مراکز میں پیداوار بڑھے گی اور نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے دستکاروں اور بنکروں کو بھی اپنی مصنوعات کی بین الاقوامی مانگ میں اضافے کا فائدہ حاصل ہوگا۔
اسی طرح چمڑے اور جوتا سازی کی صنعت میں بھی بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، خصوصاً تمل ناڈو، اتر پردیش اور مغربی بنگال کے اہم مراکز میں، جبکہ مہاراشٹر، پنجاب، کرناٹک اور مدھیہ پردیش سمیت دیگر ریاستوں کے اس شعبے سے وابستہ کارکن بھی مستفید ہوں گے۔
جواہرات اور زیورات کا شعبہ بھی اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ سی ای پی اے کس طرح روزگار کے مواقع میں تیزی سے اضافہ کر سکتا ہے۔ بھارت پہلے ہی تراشے اور پالش کیے گئے ہیروں، سونے اور چاندی کے زیورات اور دست ساز زیورات کی تیاری میں مضبوط مہارت رکھتا ہے۔ ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے کے بعد بھارتی برآمد کنندگان کو یورپی اور ایشیائی حریفوں کے مقابلے میں نمایاں مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔صنعتی حلقوں کے مطابق آئندہ تین برسوں میں عْمان کو جواہرات و زیورات کی بھارتی برآمدات میں تقریباً 15 کروڑ امریکی ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے مغربی بنگال، تمل ناڈو، مہاراشٹر، راجستھان اور گجرات کے زیورات سازی کے مراکز میں روزگار کے قابل ذکر مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
کسانوں اور ماہی گیروں کے لئے نئے مواقع-ملکی کسانوں اور زرعی شعبے کے حساس مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھارت نے گندم، چاول، مکئی، باجرہ اور دیگر موٹے اناج، دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات، پھل، سبزیاں، خوردنی تیل، تلہن، چائے، کافی اور شہد جیسی اہم زرعی مصنوعات پر کسی قسم کی ٹیرف رعایت نہیں دی ہے۔
تاہم اس معاہدے کے تحت بھارت کو مکھن، شہد، میٹھے بسکٹ، انڈے اور بعض کنفیکشنری مصنوعات کی برآمدات میں اپنے حریف ممالک پر مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔ اس سے بھارتی زرعی پیداوار کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور دیہی معیشت کو تقویت ملے گی، جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔
معاہدے میں بھارت کینیشنل پروگرام فار آرگینک پروڈکشن (این پی او پی) کے سرٹیفکیشن کو قبولیت اور تسلیم کیے جانے کی بھی شق شامل ہے۔ اس پیش رفت سے بھارتی کسانوں کو اپنی نامیاتی (آرگینک) زرعی مصنوعات عْمان کی منڈی میں برآمد کرنے کے وسیع مواقع حاصل ہوں گے، کیونکہ عْمان خوراک درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
سمندری مصنوعات کے شعبے میں بھی بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ 2022 سے 2024 کے دوران عْمان نے تقریباً 11.9 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کی سمندری مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کا حصہ صرف 77.5 لاکھ امریکی ڈالر رہا۔ اس سے جھینگے، منجمد کٹل فش اور دیگر سمندری خوراک کی بھارتی برآمدات کے لئے بڑے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔محنت پر مبنی سمندری مصنوعات کی صنعت میں اس توسیع کے نتیجے میں ماہی گیری، پراسیسنگ، پیکجنگ، کولڈ چین لاجسٹکس اور برآمدی سرگرمیوں کے شعبوں میں اضافی روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے ساحلی علاقوں کی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
دواسازی اور روایتی ادویات -بھارتی دواسازی کی صنعت کے لئے یہ معاہدہ ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔ اس کے تحت وہ بھارتی ادویات جو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس ایف ڈی ا ے)، یورپی میڈیسنز ایجنسی(ای ایم اے)،برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (ایم ایچ ا?ر اے) یا تھراپیوٹک گڈز ایڈمنسٹریشن (ٹی جی اے)جیسے معتبر عالمی اداروں سے منظوری حاصل کر چکی ہوں، انہیں عْمان میں 90 دن کے اندر خودکار مارکیٹنگ منظوری مل جائے گی۔ اس سے بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے لئے عْمانی منڈی تک رسائی مزید آسان اور تیز ہو جائے گی۔
اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس سے بھارت کی روایتی طب اور علاج معالجے کی خدمات کو فروغ ملے گا۔ سی ای پی اے روایتی طب کے شعبے میں مشترکہ تحقیق اور تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے، جس سے اس میدان میں علم اور مہارت کے تبادلے کو تقویت ملے گی۔
خدمات اور نقل و حرکت-معاہدے کا ایک اور اہم پہلو خدمات کے شعبے اور نقل و حرکت سے متعلق ہے۔ عْمان نے ایسے متعدد شعبوں میں بامعنی اور تجارتی اعتبار سے اہم سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے جن میں بھارت کو برآمدی برتری حاصل ہے۔ ان شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت، سیاحت، تحقیق و ترقی اور ماحولیاتی خدمات شامل ہیں۔اس کے نتیجے میں اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، طب، تعمیرات، تعلیم اور مشاورتی خدمات جیسے شعبوں سے وابستہ بھارتی پیشہ ور افراد کو عْمانی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے ان کے لئے روزگار اور کاروباری مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
خاص طور پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ عْمان نے بھارتی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لئے نقل و حرکت سے متعلق مزید سازگار شرائط پر اتفاق کیا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کے اندر تبادلے پر آنے والے ملازمین اور معاہداتی بنیادوں پر خدمات فراہم کرنے والے پیشہ ور افراد کو عْمان میں چار سال تک قیام کی اجازت حاصل ہوگی، جبکہ کاروباری مقاصد کے لئے آنے والے افراد اور آزاد پیشہ ور ماہرین کے لئے عارضی داخلے کے ضوابط کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ اسی طرح بین الاقوامی کمپنیوں کے اندر تبادلے پر آنے والے ملازمین کی حد کو 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے قیام کے لئے مودی حکومت کی کوششیں وزیر اعظم کے اْس وسیع تر وڑن کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہر بھارتی شہری کی زندگی میں بہتری لانا اور معاشی مواقع کو وسعت دینا ہے۔
عمان کے ساتھ یہ معاہدہ اس حقیقت کی ایک مضبوط یاد دہانی ہے کہ تجارت اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں تحفظ پسند پالیسیوں اور معاشی تقسیم کا رجحان بڑھ رہا ہے، وزیر اعظم مودی ایک واضح پیغام دے رہے ہیں کہ نیا اور پْراعتماد بھارت خود کو رکاوٹوں اور بند دروازوں تک محدود نہیں کرے گا، بلکہ شراکت داری، مسابقتی صلاحیت اور عالمی روابط کے ذریعے ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

بھارت نے مزدوروں، کسانوں اور چھوٹے درجے کے کاروباری اداروں کیلئے خلیج کا نیا راستہ کھولا

جناب پیوش گوئل
 مرکزی وزیر
تجارت و صنعت
یکم جون سے نافذ ہونے والا بھارت-عْمان آزاد تجارتی معاہدہ(ایف ٹی اے)وزیر اعظم نریندر مودی کے اْس وڑن میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد بھارتی طلبہ، دستکاروں، خواتین، کسانوں، ماہی گیروں اور بہت چھوٹے، چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لئے عالمی خوشحالی کی نئی راہیں کھولنا، نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا اور روزگار کے مواقع میں تیزی سے اضافہ کرنا ہے۔
بھارت اور عْمان کے درمیان گہرے اقتصادی اور عوامی روابط موجود ہیں۔ عْمان میں تقریباً سات لاکھ بھارتی باشندے مقیم ہیں، جن میں ایسے تاجر خاندان بھی شامل ہیں جن کی وہاں موجودگی کی تاریخ دو سے تین صدیوں پر محیط ہے۔ عْمان سے بھارت آنے والی ترسیلات زر کا حجم سالانہ تقریباً دو ارب امریکی ڈالر ہے، جبکہ چھ ہزار سے زائد بھارتی کمپنیاں وہاں سرگرم عمل ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو نئی وسعت دیتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی برآمدات کے 99.38 فیصد حصے پر مشتمل 98 فیصد ٹیرف لائنز کو عْمان کی منڈی میں فوری طور پر سو فیصد ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہو جائے گی۔
یہ معاہدہ قبل ازیں رائج نظام کے مقابلے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے، کیونکہ سی ای پی اے سے پہلے بھارت کی صرف 15.3 فیصد برآمدات ہی عْمان میں بغیر کسٹم ڈیوٹی کے داخل ہو سکتی تھیں۔ اب بھارت سے برآمد ہونے والی وہ مصنوعات، جن پر عْمان میں اس وقت 5 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد ہے اور جن کی برآمدی مالیت تقریباً 3.64 ارب امریکی ڈالر ہے، عْمانی منڈی میں کہیں زیادہ مسابقتی بن جائیں گی۔
بھارت کے بہت چھوٹے، چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز) کے لئے یہ معاہدہ انقلابی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سی ای پی اے سے فائدہ اٹھانے والے کئی شعبوں میں انہی اداروں کا غلبہ ہے۔ فولاد و لوہا، ٹیکسٹائل، چمڑے کی مصنوعات، آٹو پرزہ جات اور صنعتی آلات ایسے شعبے ہیں جہاں ایم ایس ایم ایز کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی آرڈرز ملنے کی توقع ہے، جس سے پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور معاشی نشیب وفراز کے اس دور میں سی ای پی اے بھارتی برآمد کنندگان کو اپنی منڈیوں کو متنوع بنانے اور اْن روایتی تجارتی منازل پر انحصار کم کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے، جو اس وقت معاشی سست روی اور بڑھتی ہوئی تجارتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
روزگار کے مواقع میں اضافہ-یہ تجارتی معاہدہ ایسے محنت طلب شعبوں کے لئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا جن میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑا اور جوتا سازی، غذائی اشیا کی پروسیسنگ، سمندری مصنوعات، جواہرات و زیورات اور انجینئرنگ کے بعض شعبے شامل ہیں۔ یہ تمام شعبے بھارت میں بڑے پیمانے پر روزگار فراہم کرتے ہیں۔
عْمان کو ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے سے تروپور، سورت، لدھیانہ، پانی پت، کوئمبٹور، کرور، بھدوہی، مراد آباد، جے پور اور احمد آباد جیسے اہم صنعتی مراکز میں پیداوار بڑھے گی اور نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے دستکاروں اور بنکروں کو بھی اپنی مصنوعات کی بین الاقوامی مانگ میں اضافے کا فائدہ حاصل ہوگا۔
اسی طرح چمڑے اور جوتا سازی کی صنعت میں بھی بڑی تعداد میں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے، خصوصاً تمل ناڈو، اتر پردیش اور مغربی بنگال کے اہم مراکز میں، جبکہ مہاراشٹر، پنجاب، کرناٹک اور مدھیہ پردیش سمیت دیگر ریاستوں کے اس شعبے سے وابستہ کارکن بھی مستفید ہوں گے۔
جواہرات اور زیورات کا شعبہ بھی اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ سی ای پی اے کس طرح روزگار کے مواقع میں تیزی سے اضافہ کر سکتا ہے۔ بھارت پہلے ہی تراشے اور پالش کیے گئے ہیروں، سونے اور چاندی کے زیورات اور دست ساز زیورات کی تیاری میں مضبوط مہارت رکھتا ہے۔ ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے کے بعد بھارتی برآمد کنندگان کو یورپی اور ایشیائی حریفوں کے مقابلے میں نمایاں مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔صنعتی حلقوں کے مطابق آئندہ تین برسوں میں عْمان کو جواہرات و زیورات کی بھارتی برآمدات میں تقریباً 15 کروڑ امریکی ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے مغربی بنگال، تمل ناڈو، مہاراشٹر، راجستھان اور گجرات کے زیورات سازی کے مراکز میں روزگار کے قابل ذکر مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
کسانوں اور ماہی گیروں کے لئے نئے مواقع-ملکی کسانوں اور زرعی شعبے کے حساس مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے بھارت نے گندم، چاول، مکئی، باجرہ اور دیگر موٹے اناج، دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات، پھل، سبزیاں، خوردنی تیل، تلہن، چائے، کافی اور شہد جیسی اہم زرعی مصنوعات پر کسی قسم کی ٹیرف رعایت نہیں دی ہے۔
تاہم اس معاہدے کے تحت بھارت کو مکھن، شہد، میٹھے بسکٹ، انڈے اور بعض کنفیکشنری مصنوعات کی برآمدات میں اپنے حریف ممالک پر مسابقتی برتری حاصل ہوگی۔ اس سے بھارتی زرعی پیداوار کی مانگ میں اضافہ ہوگا اور دیہی معیشت کو تقویت ملے گی، جس کے نتیجے میں کسانوں کی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔
معاہدے میں بھارت کینیشنل پروگرام فار آرگینک پروڈکشن (این پی او پی) کے سرٹیفکیشن کو قبولیت اور تسلیم کیے جانے کی بھی شق شامل ہے۔ اس پیش رفت سے بھارتی کسانوں کو اپنی نامیاتی (آرگینک) زرعی مصنوعات عْمان کی منڈی میں برآمد کرنے کے وسیع مواقع حاصل ہوں گے، کیونکہ عْمان خوراک درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
سمندری مصنوعات کے شعبے میں بھی بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ 2022 سے 2024 کے دوران عْمان نے تقریباً 11.9 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کی سمندری مصنوعات درآمد کیں، جبکہ بھارت کا حصہ صرف 77.5 لاکھ امریکی ڈالر رہا۔ اس سے جھینگے، منجمد کٹل فش اور دیگر سمندری خوراک کی بھارتی برآمدات کے لئے بڑے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔محنت پر مبنی سمندری مصنوعات کی صنعت میں اس توسیع کے نتیجے میں ماہی گیری، پراسیسنگ، پیکجنگ، کولڈ چین لاجسٹکس اور برآمدی سرگرمیوں کے شعبوں میں اضافی روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے، جس سے ساحلی علاقوں کی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچے گا۔
دواسازی اور روایتی ادویات -بھارتی دواسازی کی صنعت کے لئے یہ معاہدہ ایک بڑی کامیابی ثابت ہوگا۔ اس کے تحت وہ بھارتی ادویات جو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (یو ایس ایف ڈی ا ے)، یورپی میڈیسنز ایجنسی(ای ایم اے)،برطانیہ کی میڈیسنز اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (ایم ایچ ا?ر اے) یا تھراپیوٹک گڈز ایڈمنسٹریشن (ٹی جی اے)جیسے معتبر عالمی اداروں سے منظوری حاصل کر چکی ہوں، انہیں عْمان میں 90 دن کے اندر خودکار مارکیٹنگ منظوری مل جائے گی۔ اس سے بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے لئے عْمانی منڈی تک رسائی مزید آسان اور تیز ہو جائے گی۔
اس معاہدے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس سے بھارت کی روایتی طب اور علاج معالجے کی خدمات کو فروغ ملے گا۔ سی ای پی اے روایتی طب کے شعبے میں مشترکہ تحقیق اور تعاون کی راہ ہموار کرتا ہے، جس سے اس میدان میں علم اور مہارت کے تبادلے کو تقویت ملے گی۔
خدمات اور نقل و حرکت-معاہدے کا ایک اور اہم پہلو خدمات کے شعبے اور نقل و حرکت سے متعلق ہے۔ عْمان نے ایسے متعدد شعبوں میں بامعنی اور تجارتی اعتبار سے اہم سہولتیں فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے جن میں بھارت کو برآمدی برتری حاصل ہے۔ ان شعبوں میں پیشہ ورانہ خدمات، کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعلیم، صحت، سیاحت، تحقیق و ترقی اور ماحولیاتی خدمات شامل ہیں۔اس کے نتیجے میں اکاؤنٹنگ، انجینئرنگ، طب، تعمیرات، تعلیم اور مشاورتی خدمات جیسے شعبوں سے وابستہ بھارتی پیشہ ور افراد کو عْمانی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے ان کے لئے روزگار اور کاروباری مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
خاص طور پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ عْمان نے بھارتی پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لئے نقل و حرکت سے متعلق مزید سازگار شرائط پر اتفاق کیا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کے اندر تبادلے پر آنے والے ملازمین اور معاہداتی بنیادوں پر خدمات فراہم کرنے والے پیشہ ور افراد کو عْمان میں چار سال تک قیام کی اجازت حاصل ہوگی، جبکہ کاروباری مقاصد کے لئے آنے والے افراد اور آزاد پیشہ ور ماہرین کے لئے عارضی داخلے کے ضوابط کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ اسی طرح بین الاقوامی کمپنیوں کے اندر تبادلے پر آنے والے ملازمین کی حد کو 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔
ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدوں کے قیام کے لئے مودی حکومت کی کوششیں وزیر اعظم کے اْس وسیع تر وڑن کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہر بھارتی شہری کی زندگی میں بہتری لانا اور معاشی مواقع کو وسعت دینا ہے۔
عمان کے ساتھ یہ معاہدہ اس حقیقت کی ایک مضبوط یاد دہانی ہے کہ تجارت اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف حصوں میں تحفظ پسند پالیسیوں اور معاشی تقسیم کا رجحان بڑھ رہا ہے، وزیر اعظم مودی ایک واضح پیغام دے رہے ہیں کہ نیا اور پْراعتماد بھارت خود کو رکاوٹوں اور بند دروازوں تک محدود نہیں کرے گا، بلکہ شراکت داری، مسابقتی صلاحیت اور عالمی روابط کے ذریعے ترقی کی نئی منزلیں طے کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں