مثبت سوچ: بحرانوں سے نجات کا واحد راستہ

ابراہیم آتشؔ

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف وسائل، تعداد یا طاقت کے بل پر ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان کی اصل قوت ان کی فکری سمت اور ذہنی رویّے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب قومیں مثبت سوچ، حکمت اور دور اندیشی کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی ان کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ آج مسلمان جن سیاسی، سماجی اور فکری چیلنجوں سے دوچار ہیں، ان سے نکلنے کے لئے بھی سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ "مثبت سوچ” ہے۔

مثبت سوچ کا مطلب حقیقت سے فرار یا مشکلات سے آنکھیں بند کر لینا نہیں، بلکہ ہر آزمائش میں خیر کا پہلو تلاش کرنا، ناکامی کو کامیابی کا زینہ بنانا اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ وقتی جذبات اور اشتعال کے بجائے صبر، حکمت اور تحمل کو اختیار کرنا ہی دراصل مثبت سوچ کی علامت ہے۔

یہ سوچ بازاروں میں فروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی ادارے سے سند حاصل کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لئے قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ، سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی اور ان مفکرین کی تحریروں سے استفادہ ضروری ہے جنہوں نے اسلام کی دعوت کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ پیش کیا۔ عصر حاضر میں مولانا وحید الدین خان کا نام اسی حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

ایک موقع پر مکہ مکرمہ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں، جہاں مسجد الحرام کے امام شیخ عبدالرحمن السدیس بھی موجود تھے، ان سے مولانا وحید الدین خان کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ جواب میں انہوں نے کہا:

"روئے زمین پر مولانا وحید الدین خان ان معدودے چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے مثبت سوچ کو اپنی زندگی کا عنوان بنایا۔”

یہ جملہ محض ایک فرد کی تعریف نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ فکر کی توثیق ہے جو آج پوری امت کو درکار ہے۔

مثبت سوچ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تصادم کے امکانات کو مفاہمت میں بدل دیتی ہے۔ ایک معروف واقعہ ہے کہ ممبئی میں ایک مسلم شخص سے غیر ارادی طور پر ایک راہ گیر کے کپڑوں پر پان کا داغ لگ گیا۔ اس وقت شہر فرقہ وارانہ کشیدگی کی لپیٹ میں تھا اور معمولی جھگڑا بھی بڑے فساد کا سبب بن سکتا تھا۔ مگر اس شخص نے بحث یا ضد کے بجائے فوراً پانی لا کر داغ صاف کرنے کی کوشش کی اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اس رویّے نے دوسرے شخص کے غصے کو ٹھنڈا کر دیا اور ایک ممکنہ تصادم ٹل گیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات ایک مثبت ردعمل سینکڑوں لوگوں کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینا آسان ہے، مگر محبت، عاجزی اور حکمت کے ذریعے دل جیتنا ہی اصل کامیابی ہے۔

اسی طرح کئی شہروں میں مذہبی جلوسوں اور مساجد کے درمیان کشیدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر مسلم قیادت نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ جلوس کے شرکاء کا استقبال کیا گیا، انہیں پھول پیش کیے گئے اور احترام کا مظاہرہ کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کشیدگی کی جگہ خوشگوار ماحول نے لے لی اور وہ لوگ جو ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، محبت اور احترام کے رشتے میں بندھ گئے۔

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں محبت نفرت پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ کوئی پہل کرنے والا موجود ہو۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پر اتنی گفتگو نہیں ہوتی جتنی جذباتی نعروں اور اشتعال انگیز تقاریر پر ہوتی ہے۔ جذبات وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر قوموں کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ قوموں کی تعمیر علم، حکمت، صبر اور مثبت فیصلوں سے ہوتی ہے۔

اسلام صرف جان قربان کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کے سامنے اسلام کی اعلیٰ اقدار کو زندہ رکھنے اور انہیں دنیا تک پہنچانے کا نام ہے۔ جو قوم زندہ رہ کر دعوت، اصلاح اور خدمت کا کام کرتی ہے، وہی تاریخ میں دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔

مسلم نوجوانوں کو بالخصوص اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل جذباتی ردعمل سے نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمتِ عملی سے تشکیل پاتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے پر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جو فرد اور قوم دونوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اگر یہ فیصلے مثبت سوچ اور دور اندیشی کے ساتھ کیے جائیں تو ناموافق حالات بھی مواقع میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

آج ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے، ان کا جواب محض احتجاج یا ردعمل نہیں بلکہ مثبت حکمتِ عملی، تعمیری کردار اور اعلیٰ اخلاق ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہتیں بلکہ اپنے طرزِ فکر کو بدل کر حالات کا رخ موڑ دیتی ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان منفی سوچ، احساسِ محرومی اور ردعمل کی سیاست سے نکل کر مثبت سوچ، علم، حکمت اور کردار کی سیاست کو اپنائیں۔ جب مثبت سوچ انفرادی سطح سے نکل کر اجتماعی شعور کا حصہ بن جائے گی تو نہ صرف مسلمانوں کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ معاشرے میں امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کی نئی فضا بھی قائم ہوگی۔

مثبت سوچ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک عظیم قوت ہے۔ یہی قوت انسان کو شکست کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی روشنی تک پہنچاتی ہے۔ اگر مسلمان اس قوت کو اپنا لیں تو موجودہ بحران یقیناً ان کے لئے نئے عروج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

مثبت سوچ: بحرانوں سے نجات کا واحد راستہ

ابراہیم آتشؔ

دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف وسائل، تعداد یا طاقت کے بل پر ترقی نہیں کرتیں بلکہ ان کی اصل قوت ان کی فکری سمت اور ذہنی رویّے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب قومیں مثبت سوچ، حکمت اور دور اندیشی کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں تو بڑے سے بڑا بحران بھی ان کے لئے نئے امکانات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ آج مسلمان جن سیاسی، سماجی اور فکری چیلنجوں سے دوچار ہیں، ان سے نکلنے کے لئے بھی سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ "مثبت سوچ” ہے۔

مثبت سوچ کا مطلب حقیقت سے فرار یا مشکلات سے آنکھیں بند کر لینا نہیں، بلکہ ہر آزمائش میں خیر کا پہلو تلاش کرنا، ناکامی کو کامیابی کا زینہ بنانا اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ کرنا ہے۔ وقتی جذبات اور اشتعال کے بجائے صبر، حکمت اور تحمل کو اختیار کرنا ہی دراصل مثبت سوچ کی علامت ہے۔

یہ سوچ بازاروں میں فروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی ادارے سے سند حاصل کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لئے قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ، سیرتِ نبوی ﷺ سے رہنمائی اور ان مفکرین کی تحریروں سے استفادہ ضروری ہے جنہوں نے اسلام کی دعوت کو حکمت اور بصیرت کے ساتھ پیش کیا۔ عصر حاضر میں مولانا وحید الدین خان کا نام اسی حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

ایک موقع پر مکہ مکرمہ میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں، جہاں مسجد الحرام کے امام شیخ عبدالرحمن السدیس بھی موجود تھے، ان سے مولانا وحید الدین خان کے بارے میں دریافت کیا گیا۔ جواب میں انہوں نے کہا:

"روئے زمین پر مولانا وحید الدین خان ان معدودے چند شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے مثبت سوچ کو اپنی زندگی کا عنوان بنایا۔”

یہ جملہ محض ایک فرد کی تعریف نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ فکر کی توثیق ہے جو آج پوری امت کو درکار ہے۔

مثبت سوچ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تصادم کے امکانات کو مفاہمت میں بدل دیتی ہے۔ ایک معروف واقعہ ہے کہ ممبئی میں ایک مسلم شخص سے غیر ارادی طور پر ایک راہ گیر کے کپڑوں پر پان کا داغ لگ گیا۔ اس وقت شہر فرقہ وارانہ کشیدگی کی لپیٹ میں تھا اور معمولی جھگڑا بھی بڑے فساد کا سبب بن سکتا تھا۔ مگر اس شخص نے بحث یا ضد کے بجائے فوراً پانی لا کر داغ صاف کرنے کی کوشش کی اور اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ اس رویّے نے دوسرے شخص کے غصے کو ٹھنڈا کر دیا اور ایک ممکنہ تصادم ٹل گیا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض اوقات ایک مثبت ردعمل سینکڑوں لوگوں کو نقصان سے بچا سکتا ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینا آسان ہے، مگر محبت، عاجزی اور حکمت کے ذریعے دل جیتنا ہی اصل کامیابی ہے۔

اسی طرح کئی شہروں میں مذہبی جلوسوں اور مساجد کے درمیان کشیدگی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن بعض مقامات پر مسلم قیادت نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ جلوس کے شرکاء کا استقبال کیا گیا، انہیں پھول پیش کیے گئے اور احترام کا مظاہرہ کیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کشیدگی کی جگہ خوشگوار ماحول نے لے لی اور وہ لوگ جو ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، محبت اور احترام کے رشتے میں بندھ گئے۔

ان واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کی فطرت میں محبت نفرت پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بشرطیکہ کوئی پہل کرنے والا موجود ہو۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مثبت سوچ پر اتنی گفتگو نہیں ہوتی جتنی جذباتی نعروں اور اشتعال انگیز تقاریر پر ہوتی ہے۔ جذبات وقتی جوش تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر قوموں کی تعمیر نہیں کر سکتے۔ قوموں کی تعمیر علم، حکمت، صبر اور مثبت فیصلوں سے ہوتی ہے۔

اسلام صرف جان قربان کرنے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کے سامنے اسلام کی اعلیٰ اقدار کو زندہ رکھنے اور انہیں دنیا تک پہنچانے کا نام ہے۔ جو قوم زندہ رہ کر دعوت، اصلاح اور خدمت کا کام کرتی ہے، وہی تاریخ میں دیرپا اثرات چھوڑتی ہے۔

مسلم نوجوانوں کو بالخصوص اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مستقبل جذباتی ردعمل سے نہیں بلکہ دانشمندانہ حکمتِ عملی سے تشکیل پاتا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے پر ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جو فرد اور قوم دونوں کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اگر یہ فیصلے مثبت سوچ اور دور اندیشی کے ساتھ کیے جائیں تو ناموافق حالات بھی مواقع میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

آج ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمانوں کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے، ان کا جواب محض احتجاج یا ردعمل نہیں بلکہ مثبت حکمتِ عملی، تعمیری کردار اور اعلیٰ اخلاق ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو حالات کے رحم و کرم پر نہیں رہتیں بلکہ اپنے طرزِ فکر کو بدل کر حالات کا رخ موڑ دیتی ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان منفی سوچ، احساسِ محرومی اور ردعمل کی سیاست سے نکل کر مثبت سوچ، علم، حکمت اور کردار کی سیاست کو اپنائیں۔ جب مثبت سوچ انفرادی سطح سے نکل کر اجتماعی شعور کا حصہ بن جائے گی تو نہ صرف مسلمانوں کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ معاشرے میں امن، ہم آہنگی اور باہمی احترام کی نئی فضا بھی قائم ہوگی۔

مثبت سوچ کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک عظیم قوت ہے۔ یہی قوت انسان کو شکست کے اندھیروں سے نکال کر کامیابی کی روشنی تک پہنچاتی ہے۔ اگر مسلمان اس قوت کو اپنا لیں تو موجودہ بحران یقیناً ان کے لئے نئے عروج کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں