پہلی جنگ عظیم سے پہلے دنیا میں تین مسلم سلطنتیں قائم تھیں۔

ریاض فردوسی                                                          

صفوی سلطنت کا خاتمہ1736ء میں ہوا،اور مغلیہ خاندان1857ء میں سپاہی بغاوت کے بعد زوال پذیر ہوا،اور سلطنت عثمانیہ 1922ء میں زوال پذیر ہوئی۔ اس طرح دنیا پر حکومت کرنے کی سیاسی طاقت مسلمانوں کے ہاتھ سے چلی گئی۔اس کے بعد دنیا پر حکمرانی کی طاقت پہلی جنگ عظیم کے دوران تین بڑی طاقتوں یعنی برطانیہ،فرانس اور روس کے پاس چلی گئی اور بعد ازاں دوسری جنگ عظیم میں امریکا چوتھی سپر پاور کے طور پر برطانیہ،فرانس اور روس کے ساتھ شامل ہوا۔تب سےیہ چار طاقتیں چین کے ساتھ دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس طاقت ہوتی ہے فیصلے وہی کرتا ہے اور تصرف کا اختیار اسی کو حاصل ہوتا ہے۔دو عظیم جنگوں کے بعد ان بڑی طاقتوں کو دنیا کے معاملات کا فیصلہ کرنے اور تصرف کا اختیار حاصل ہو گیا۔مسلمان جو کل تک ایک فاتح قوم کی حیثیت سے دنیا میں جانی جاتی تھی اب وہ ایک مفتوح اور محکوم‌ قوم بن کر رہ گئی لیکن مسلمانوں نے مجموعی طور پر اس حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔مسلمانوں کو تسلیم کر لینا چاہیے تھا کہ ان کے غلبہ کا دور ختم ہو گیا ہے اور اب ایک نئے دور کا اغاز ہوا جہاں دنیا کے پانچ ممالک تمام ملکوں پر غالب ہے۔مسلمانوں نے تین براعظموں پر کم و بیش ایک ہزار سال تک حکومت کی اور یہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں تھا اس دوران ان کو جو کرنا تھا کر چکے،جو حاصل کرنا تھا حاصل کر چکے۔

اس نیا دور میں عالمی طاقتوں نے دنیا میں ایک نیا نظام اور ایک نیا world order قائم کیا۔

تاریخی شہادتیں موجود ہیں کہ سیاسی اقتدار کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی،کبھی یہ ایک قوم کے پاس رہتی ہے پھر اس قوم سے کسی دوسری قوم کو منتقل ہو جاتی ہے اور یہ اقتدار کا انتقال خدایی فیصلے کے مطابق ہوتا ہے،خدا اقتدار دیکر کسی قوم کی آزمائش کرتا ہے اور یہ آزمائشیں چلتی رہتی ہیں۔قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کے بعد قوم عاد نمودار ہویی، قوم عاد کے بعد قوم ثمود وجود پزیر ہویی،قوم ثمود کے بعد قوم مدین قایم مقام‌ہویی،اسی طرح بنی اسرائیل فرعون کے زمانہ میں محکوم تھی لیکن پیغمبر داؤد علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو دنیا میں غلبہ عطا کیا گیا اور پھر بعد میں دو ہزار سال تک مغلوب رہی۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ نے بالفور اعلانیہ جاری کیا،جس کے ذریعے اس نے فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک وطن کے قیام کی تجویز پیش کی۔بیسویں صدی میں بڑی طاقتوں کے لئے یہودیوں کی بحالی ایک بڑا مسئلہ تھا۔یہودیوں کو دو ہزار سال تک ایک مظلوم قوم سمجھا جاتا رہا۔لہذا قومی ریاست کے اصول کی بنیاد پر برطانیہ نے یہودیوں کو ان کے قدیم وطن فلسطین میں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کیا،جہاں اس وقت زیادہ تر فلسطینی مسلمان آباد تھے۔برطانیہ کے اس فیصلے نے اس خطے میں یہودی مسلم کشمکش کو جنم دیا۔یہ تجویز فلسطینی عربوں کے لئے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں تھا،چنانچہ یہودیوں اور فلسطینی عربوں کے درمیان احتجاج،ہنگامے اور بغاوتیں شروع ہو گئیں۔1936ءسے 1939ءتک فلسطین میں برطانوی حکمرانی سے آزادی اور یہودیوں کی امیگریشن اور یہودیوں کو زمینوں کی فروخت کے خاتمے کے لئے عرب بغاوت جاری رہی۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود اقوام متحدہ (United Nations) نے فلسطین کے لئے تقسیم کا منصوبہ (Partition plan ) 29 نومبر 1947ء کو جاری کیا۔اس میں الگ الگ یہودی اور عرب ریاستوں کے قیام کا ذکر کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ 15 مئی 1948ءکو برطانوی مینڈیٹ (British Mandate) ختم ہو جائے گا اور اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہوگا۔

اقوام متحدہ کایہ فیصلہ اس وقت کی عالمی طاقتوں کا فیصلہ تھا،عرب ممالک نے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔اقوام متحدہ کے فیصلےکو تسلیم کرنے سے انکار کرنا دراصل دو عظیم جنگوں کی فاتح قوموں کی طاقت کو قبول کرنے سے انکار کرنااورفاتح اقوام کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کے مانند تھا۔

اسرائیل کی ریاست کے قیام کی وجہ سے چار مرتبہ عرب اسرائیل جنگیں ہوئی اور ہر مرتبہ اسرائیل نے عربوں کو شکست دیں،اپنی سرحدوں کو وسیع کیا جسکے باعث فلسطین کی سرحد بتدریج چھوٹاہوتاگیا۔اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی رہی۔ یہودی مسلم دشمنی اور نفرت کا آغاز ہوا اور یہ دشمنی اور نفرت بڑھتی گئ۔

یو این او مسلم دنیا کے لئے ایک غیرمنصفانہ ادارہ بن کر رہ گیا۔شروع میں فلسطین کامسئلہ ایک مقامی مسئلہ تھا۔یہود اور فلسطین کے مابین کا مسئلہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پوری مسلم دنیا کا مسئلہ بن گیا۔اسرائیل فلسطین تنازعہ ایک خطہ ارض کا مسئلہ تھا لیکن یہ ایک مذہبی مسئلہ بھی بن گیا،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا مسلمانوں کے کمزور ایمان یا عدم ایمان کی علامت سمجھا جانے لگا۔تاہم اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑنے اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔اگر عرب دنیا نہ چاہتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کے فیصلے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیتی تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ نہ دیکھ پاتے۔فلسطین ایک الگ اور خودمختار ریاست کے طور پر اسرائیل کےشانہ بشانہ موجود ہوتا،جس کا ہم اب مطالبہ کر رہے ہیں،لیکن مسلم دنیا ابھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اپنے پرانے فیصلے پر قائم ہےجبکہ دوسری طرف سپر پاورز بھی فلسطین کے مسلہ کےحل کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے،حالانکہ پچھلے دو سالوں میں اسرائیل لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کو شہید ‌کر چکا ہےاور ان کے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ آج بھی مسلہ وہیں ہے،جہاں پہلے تھا۔

اس موقع سے صلح حدیبیہ کا واقعہ یاد آرہا ہے،جنگ بدر جنگ احد اور جنگ احزاب کے بعد صحابہ کرام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ایک فاتح قوم بن‌چکی تھی اور قریش مکہ ایک مفتوح قوم ہو چکی تھی لیکن باوجود اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر دس سال کے لئے التواء جنگ اور قریش کے دیگر شرائط پر دستخط کر دیے تھے۔اس موقع پر اگر قریش کے ساتھ جنگ بھی ہوتی تو قریش کی شکست یقینی تھی لیکن مکہ میں کچھ ایسے مسلمان تھے جن کی جانوں کی حفاظت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ پر دستخط کیے اگر جنگ ہوتی تو اسے بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں صحابہ کرام کے ہاتھوں ہی مکہ کے مسلمان شہید نہ ہو جایں۔

اس واقعہ سے یہ سبق ملا کہ ایک یقینی جیت کے امکان کے باوجود مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت کو جنگ پر ترجیح دی جانی چاہیےاور جب مسئلہ قومی ہوجائے توقوم کی جان ومال کی حفاظت کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

دوعظیم جنگوں کے بعد مسلمان مفتوح ہو چکے تھےاور اسرائیل کے خلاف اقدام کرکے اس کے نتیجے بھی دیکھ چکے تھے۔ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسرائیل کو فلسطین میں عالمی طاقتوں نے بٹھایا تھا اس لئے اسرائیل کے خلاف جنگ دراصل عالمی طاقتوں کے خلاف تھی،اس لئے اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد مصر اور اردن نے اسرائیل فلسطین تنازعہ سے خود کو الگ کر لیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان مشرق بعید میں ایک مضبوط ملک تھااور اس نے بہت سے جزیرے فتح کر لئے تھے لیکن جاپان کے دو شہروں پر امریکا نے ایٹم بم برسائے تو جاپان کو امریکا کی طاقت کا اندازہ ہو گیا۔بدلہ لینے کے بجائے جاپان نے اپنی توانائی اور وقت اپنی قوم کی تعمیر نو میں صرف کیا۔آج جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔اسرائیل کے خلاف چار بار شکست کھانےکے بعد مسلم ممالک کا اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہی۔1979ءکےایران کے انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل اور امریکہ کےخلاف دشمنی کا اعلان کیا۔ انقلاب کے پہلے شاہ کے دور میں ایران کا اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں تھا۔ایران اور امریکہ کا تعلقات دوستانہ تھا،لیکن انقلاب کے بعد ایران نےحزب اللہ اور حماس کے ذریعے اسرائیل کے خلاف پراکسی وار (بلاواسطہ جنگ)چھیڑ دی اور ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا خطہ جنگی علاقہ بن گیا۔

پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد ترکی 29 اکتوبر 1923ء کو جمہوریہ ترکی بنا اور 3 مارچ 1924ءکو خلافت کا خاتمہ کر دیا،جنگ کے بعد ترکی اسرائیل فلسطین تنازعہ سے دور رہا اور سپر پاورز کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کیا۔

عالمی طاقتوں کے ہاتھوں سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کا بدلہ لینے کے بجائے ترکی کمال اتاترک کی قیادت میں قوم کی تعمیر نو میں مصروف ہو گیا۔

مشرق وسطیٰ کے بعد برصغیر پاک و ہند کشیدگی اور تناؤ کا مرکز بنا اور اسے پاکستان نے خود بنایا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں 1947ءمیں آزاد ہوئے لیکن اپنی قوم کو مضبوط کرنے اور ملک کی تعمیر کرنے کے بجائے پاکستان نے کشمیر میں انتہا پسندی کو ہوا دی اور کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کے لئے ہندوستان کے ساتھ جنگیں لڑیں جس میں اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔پاکستان نے ہمارے ملک میں دہشت گردی کے بہت سے واقعات کو انجام دیا،جن میں پاکستان کی لشکر طیبہ کی طرف سے کیا گیا26/11 ممبئی حملہ کوئی نہیں بھلا سکتا،اور اپنے مجاہدین کو غزوۂ ہند کے لئے اکسایا۔پاکستان کی ان گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے،بہت کچھ سننا پڑتا ہے۔

خلاصۃ یہ ہے کہ مسلمانوں کے غلبہ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ہماری جگہ سپر پاورز نے لے لی ہے۔ہم دوسروں کو اپنی شرائط پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ہماری فلاح جنگ سے بچنے میں ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم دشمن قوموں کے خلاف اقدام کریں، ہمیں ان کے خلاف اقدام کے نتائج کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔اگر سپر پاورز کے خلاف فتح یقینی ہے،یا فتح کا غالب امکان ہے،تو ہمیں ان کے ظلم‌ و عدوان کے خلاف جنگ کرنا چاہیے،لیکن اگر فتح کا امکان نہیں ہے،تو بہتر ہے کہ صلح کر لیں۔جب ہم کمزور ہیں تو ہمیں اپنی حفاظت کرنی ہے،ہمیں مہلت طلب کرنا ہے،ہمیں امن کا وقفہ لینا ہے اور ہمیں تعمیر کرنا ہے۔امریکہ 3 ستمبر 1783ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔آزادی کے بعد امریکہ ایک سوسال سے زائد عرصے تک بین الاقوامی سیاست سے دور رہا۔یورپی طاقتیں آپس میں جنگ لڑ رہی تھیں،لیکن امریکہ کسی متحارب قوم کا نہ دوست تھا نہ دشمن۔یورپ کی جنگوں سے خود کو الگ رکھ کر امریکہ خود کو تعمیر کرتا رہا اور اسے تمام پہلوؤں سے مضبوط کرتا رہا۔پھر دو عظیم جنگوں کے دوران امریکہ ایک مضبوط اور طاقتور ملک کے طور پر ابھرا،اور اپنی اہلیت اور قابلیت کے بل بوتے ایک سپر پاورملک بن گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

پہلی جنگ عظیم سے پہلے دنیا میں تین مسلم سلطنتیں قائم تھیں۔

ریاض فردوسی                                                          

صفوی سلطنت کا خاتمہ1736ء میں ہوا،اور مغلیہ خاندان1857ء میں سپاہی بغاوت کے بعد زوال پذیر ہوا،اور سلطنت عثمانیہ 1922ء میں زوال پذیر ہوئی۔ اس طرح دنیا پر حکومت کرنے کی سیاسی طاقت مسلمانوں کے ہاتھ سے چلی گئی۔اس کے بعد دنیا پر حکمرانی کی طاقت پہلی جنگ عظیم کے دوران تین بڑی طاقتوں یعنی برطانیہ،فرانس اور روس کے پاس چلی گئی اور بعد ازاں دوسری جنگ عظیم میں امریکا چوتھی سپر پاور کے طور پر برطانیہ،فرانس اور روس کے ساتھ شامل ہوا۔تب سےیہ چار طاقتیں چین کے ساتھ دنیا پر حکومت کر رہی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس طاقت ہوتی ہے فیصلے وہی کرتا ہے اور تصرف کا اختیار اسی کو حاصل ہوتا ہے۔دو عظیم جنگوں کے بعد ان بڑی طاقتوں کو دنیا کے معاملات کا فیصلہ کرنے اور تصرف کا اختیار حاصل ہو گیا۔مسلمان جو کل تک ایک فاتح قوم کی حیثیت سے دنیا میں جانی جاتی تھی اب وہ ایک مفتوح اور محکوم‌ قوم بن کر رہ گئی لیکن مسلمانوں نے مجموعی طور پر اس حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔مسلمانوں کو تسلیم کر لینا چاہیے تھا کہ ان کے غلبہ کا دور ختم ہو گیا ہے اور اب ایک نئے دور کا اغاز ہوا جہاں دنیا کے پانچ ممالک تمام ملکوں پر غالب ہے۔مسلمانوں نے تین براعظموں پر کم و بیش ایک ہزار سال تک حکومت کی اور یہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں تھا اس دوران ان کو جو کرنا تھا کر چکے،جو حاصل کرنا تھا حاصل کر چکے۔

اس نیا دور میں عالمی طاقتوں نے دنیا میں ایک نیا نظام اور ایک نیا world order قائم کیا۔

تاریخی شہادتیں موجود ہیں کہ سیاسی اقتدار کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی،کبھی یہ ایک قوم کے پاس رہتی ہے پھر اس قوم سے کسی دوسری قوم کو منتقل ہو جاتی ہے اور یہ اقتدار کا انتقال خدایی فیصلے کے مطابق ہوتا ہے،خدا اقتدار دیکر کسی قوم کی آزمائش کرتا ہے اور یہ آزمائشیں چلتی رہتی ہیں۔قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح کے بعد قوم عاد نمودار ہویی، قوم عاد کے بعد قوم ثمود وجود پزیر ہویی،قوم ثمود کے بعد قوم مدین قایم مقام‌ہویی،اسی طرح بنی اسرائیل فرعون کے زمانہ میں محکوم تھی لیکن پیغمبر داؤد علیہ السلام اور ان کے صاحبزادے سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل کو دنیا میں غلبہ عطا کیا گیا اور پھر بعد میں دو ہزار سال تک مغلوب رہی۔

پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ نے بالفور اعلانیہ جاری کیا،جس کے ذریعے اس نے فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک وطن کے قیام کی تجویز پیش کی۔بیسویں صدی میں بڑی طاقتوں کے لئے یہودیوں کی بحالی ایک بڑا مسئلہ تھا۔یہودیوں کو دو ہزار سال تک ایک مظلوم قوم سمجھا جاتا رہا۔لہذا قومی ریاست کے اصول کی بنیاد پر برطانیہ نے یہودیوں کو ان کے قدیم وطن فلسطین میں دوبارہ آباد کرنے کا فیصلہ کیا،جہاں اس وقت زیادہ تر فلسطینی مسلمان آباد تھے۔برطانیہ کے اس فیصلے نے اس خطے میں یہودی مسلم کشمکش کو جنم دیا۔یہ تجویز فلسطینی عربوں کے لئے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں تھا،چنانچہ یہودیوں اور فلسطینی عربوں کے درمیان احتجاج،ہنگامے اور بغاوتیں شروع ہو گئیں۔1936ءسے 1939ءتک فلسطین میں برطانوی حکمرانی سے آزادی اور یہودیوں کی امیگریشن اور یہودیوں کو زمینوں کی فروخت کے خاتمے کے لئے عرب بغاوت جاری رہی۔اتنا کچھ ہونے کے باوجود اقوام متحدہ (United Nations) نے فلسطین کے لئے تقسیم کا منصوبہ (Partition plan ) 29 نومبر 1947ء کو جاری کیا۔اس میں الگ الگ یہودی اور عرب ریاستوں کے قیام کا ذکر کیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ 15 مئی 1948ءکو برطانوی مینڈیٹ (British Mandate) ختم ہو جائے گا اور اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہوگا۔

اقوام متحدہ کایہ فیصلہ اس وقت کی عالمی طاقتوں کا فیصلہ تھا،عرب ممالک نے اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔اقوام متحدہ کے فیصلےکو تسلیم کرنے سے انکار کرنا دراصل دو عظیم جنگوں کی فاتح قوموں کی طاقت کو قبول کرنے سے انکار کرنااورفاتح اقوام کے فیصلہ کو چیلنج کرنے کے مانند تھا۔

اسرائیل کی ریاست کے قیام کی وجہ سے چار مرتبہ عرب اسرائیل جنگیں ہوئی اور ہر مرتبہ اسرائیل نے عربوں کو شکست دیں،اپنی سرحدوں کو وسیع کیا جسکے باعث فلسطین کی سرحد بتدریج چھوٹاہوتاگیا۔اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی رہی۔ یہودی مسلم دشمنی اور نفرت کا آغاز ہوا اور یہ دشمنی اور نفرت بڑھتی گئ۔

یو این او مسلم دنیا کے لئے ایک غیرمنصفانہ ادارہ بن کر رہ گیا۔شروع میں فلسطین کامسئلہ ایک مقامی مسئلہ تھا۔یہود اور فلسطین کے مابین کا مسئلہ تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ پوری مسلم دنیا کا مسئلہ بن گیا۔اسرائیل فلسطین تنازعہ ایک خطہ ارض کا مسئلہ تھا لیکن یہ ایک مذہبی مسئلہ بھی بن گیا،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کرنا مسلمانوں کے کمزور ایمان یا عدم ایمان کی علامت سمجھا جانے لگا۔تاہم اسرائیل کے ساتھ جنگ چھیڑنے اور اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔اگر عرب دنیا نہ چاہتے ہوئے بھی اقوام متحدہ کے فیصلے اور اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیتی تو آج جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ نہ دیکھ پاتے۔فلسطین ایک الگ اور خودمختار ریاست کے طور پر اسرائیل کےشانہ بشانہ موجود ہوتا،جس کا ہم اب مطالبہ کر رہے ہیں،لیکن مسلم دنیا ابھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے اپنے پرانے فیصلے پر قائم ہےجبکہ دوسری طرف سپر پاورز بھی فلسطین کے مسلہ کےحل کو لیکر سنجیدہ نہیں ہے،حالانکہ پچھلے دو سالوں میں اسرائیل لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کو شہید ‌کر چکا ہےاور ان کے ملک کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ آج بھی مسلہ وہیں ہے،جہاں پہلے تھا۔

اس موقع سے صلح حدیبیہ کا واقعہ یاد آرہا ہے،جنگ بدر جنگ احد اور جنگ احزاب کے بعد صحابہ کرام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ایک فاتح قوم بن‌چکی تھی اور قریش مکہ ایک مفتوح قوم ہو چکی تھی لیکن باوجود اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر دس سال کے لئے التواء جنگ اور قریش کے دیگر شرائط پر دستخط کر دیے تھے۔اس موقع پر اگر قریش کے ساتھ جنگ بھی ہوتی تو قریش کی شکست یقینی تھی لیکن مکہ میں کچھ ایسے مسلمان تھے جن کی جانوں کی حفاظت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ پر دستخط کیے اگر جنگ ہوتی تو اسے بات کا اندیشہ تھا کہ کہیں صحابہ کرام کے ہاتھوں ہی مکہ کے مسلمان شہید نہ ہو جایں۔

اس واقعہ سے یہ سبق ملا کہ ایک یقینی جیت کے امکان کے باوجود مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت کو جنگ پر ترجیح دی جانی چاہیےاور جب مسئلہ قومی ہوجائے توقوم کی جان ومال کی حفاظت کو سامنے رکھ کر کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔

دوعظیم جنگوں کے بعد مسلمان مفتوح ہو چکے تھےاور اسرائیل کے خلاف اقدام کرکے اس کے نتیجے بھی دیکھ چکے تھے۔ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسرائیل کو فلسطین میں عالمی طاقتوں نے بٹھایا تھا اس لئے اسرائیل کے خلاف جنگ دراصل عالمی طاقتوں کے خلاف تھی،اس لئے اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔اس حقیقت کو سمجھنے کے بعد مصر اور اردن نے اسرائیل فلسطین تنازعہ سے خود کو الگ کر لیا۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپان مشرق بعید میں ایک مضبوط ملک تھااور اس نے بہت سے جزیرے فتح کر لئے تھے لیکن جاپان کے دو شہروں پر امریکا نے ایٹم بم برسائے تو جاپان کو امریکا کی طاقت کا اندازہ ہو گیا۔بدلہ لینے کے بجائے جاپان نے اپنی توانائی اور وقت اپنی قوم کی تعمیر نو میں صرف کیا۔آج جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔اسرائیل کے خلاف چار بار شکست کھانےکے بعد مسلم ممالک کا اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہی۔1979ءکےایران کے انقلاب کے بعد ایران نے اسرائیل اور امریکہ کےخلاف دشمنی کا اعلان کیا۔ انقلاب کے پہلے شاہ کے دور میں ایران کا اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں تھا۔ایران اور امریکہ کا تعلقات دوستانہ تھا،لیکن انقلاب کے بعد ایران نےحزب اللہ اور حماس کے ذریعے اسرائیل کے خلاف پراکسی وار (بلاواسطہ جنگ)چھیڑ دی اور ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کا خطہ جنگی علاقہ بن گیا۔

پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد ترکی 29 اکتوبر 1923ء کو جمہوریہ ترکی بنا اور 3 مارچ 1924ءکو خلافت کا خاتمہ کر دیا،جنگ کے بعد ترکی اسرائیل فلسطین تنازعہ سے دور رہا اور سپر پاورز کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کیا۔

عالمی طاقتوں کے ہاتھوں سلطنت عثمانیہ کی تقسیم کا بدلہ لینے کے بجائے ترکی کمال اتاترک کی قیادت میں قوم کی تعمیر نو میں مصروف ہو گیا۔

مشرق وسطیٰ کے بعد برصغیر پاک و ہند کشیدگی اور تناؤ کا مرکز بنا اور اسے پاکستان نے خود بنایا۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں 1947ءمیں آزاد ہوئے لیکن اپنی قوم کو مضبوط کرنے اور ملک کی تعمیر کرنے کے بجائے پاکستان نے کشمیر میں انتہا پسندی کو ہوا دی اور کشمیر کو ہندوستان سے الگ کرنے کے لئے ہندوستان کے ساتھ جنگیں لڑیں جس میں اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔پاکستان نے ہمارے ملک میں دہشت گردی کے بہت سے واقعات کو انجام دیا،جن میں پاکستان کی لشکر طیبہ کی طرف سے کیا گیا26/11 ممبئی حملہ کوئی نہیں بھلا سکتا،اور اپنے مجاہدین کو غزوۂ ہند کے لئے اکسایا۔پاکستان کی ان گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے،بہت کچھ سننا پڑتا ہے۔

خلاصۃ یہ ہے کہ مسلمانوں کے غلبہ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ہماری جگہ سپر پاورز نے لے لی ہے۔ہم دوسروں کو اپنی شرائط پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ہماری فلاح جنگ سے بچنے میں ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم دشمن قوموں کے خلاف اقدام کریں، ہمیں ان کے خلاف اقدام کے نتائج کا اندازہ لگا لینا چاہیے۔اگر سپر پاورز کے خلاف فتح یقینی ہے،یا فتح کا غالب امکان ہے،تو ہمیں ان کے ظلم‌ و عدوان کے خلاف جنگ کرنا چاہیے،لیکن اگر فتح کا امکان نہیں ہے،تو بہتر ہے کہ صلح کر لیں۔جب ہم کمزور ہیں تو ہمیں اپنی حفاظت کرنی ہے،ہمیں مہلت طلب کرنا ہے،ہمیں امن کا وقفہ لینا ہے اور ہمیں تعمیر کرنا ہے۔امریکہ 3 ستمبر 1783ء کو برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔آزادی کے بعد امریکہ ایک سوسال سے زائد عرصے تک بین الاقوامی سیاست سے دور رہا۔یورپی طاقتیں آپس میں جنگ لڑ رہی تھیں،لیکن امریکہ کسی متحارب قوم کا نہ دوست تھا نہ دشمن۔یورپ کی جنگوں سے خود کو الگ رکھ کر امریکہ خود کو تعمیر کرتا رہا اور اسے تمام پہلوؤں سے مضبوط کرتا رہا۔پھر دو عظیم جنگوں کے دوران امریکہ ایک مضبوط اور طاقتور ملک کے طور پر ابھرا،اور اپنی اہلیت اور قابلیت کے بل بوتے ایک سپر پاورملک بن گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں