عظیم قربانی

تحریر: ذوالفقار علی بخاری

’’ہم نے سوچا ہے کہ اِس بار قربانی کے لیے اونٹ خریدیں ۔‘‘عبدالہادی نے اپنے تین دوستوں کے سامنے لب کشائی کی۔
’’ہم تو بھئی دنبہ لیں گے۔ ‘‘
عبدالباسط نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میرے ابو تو خوبصورت سا بکرا لینے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘عبدالقوی کہا ں چپ رہنے والا تھا، اُس نے بھی لب کشائی کی۔
’’بھیڑ لیں گے ہم، اگر چچا نے مل کر قربانی کا سوچا تو پھر ہم بیل لیں گے ۔‘‘عبدالستار نے کہا۔
عبدالستار، عبدالقوی، عبدالباسط اور عبدالہادی گلی میں کھڑے ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ اُن کے پاس ایک بزرگ رکے۔
بزرگ نے اُن کی باتیں سن لی تھیں۔
’’ کچھ پتا بھی ہے کہ قربانی کے لیے جانور کیسا ہونا چاہیے؟‘‘بزرگ نے دریافت کیا۔
’’ جی محترم بزرگوار!قربانی کے جانور کے لیے ایک شرط بے حد ضروری ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کے جسمانی عیب سے پاک ہو۔اِسی وجہ سے سب کی تلاش یہی ہوتی ہے کہ صحت مند اورخوب صورت جانورقربانی کے لیے منتخب کیا جائے۔‘‘عبدالہادی نے جواب دیا تو بزرگ بڑے خوش ہوئے۔پھر اُنھوں نے چاروں کو دیکھتے ہوئے ایک اور سوال کیا۔
’’ قربانی کا گوشت کتنے حصوں میں بانٹا جاتا ہے؟‘‘
’’اِس سوال کا جواب میں دوں گا۔‘‘
عبدالباسط تیزی سے بولا اور پھر سوال کا جواب دینا شروع کر دیا۔
’’ قربانی کا گوشت تین حصو ں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا حصہ رشتے داروں کے لیے اور تیسرا حصہ غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔‘‘
عبدالباسط نے جواب دیتے ہی بزرگ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تاکہ شاباشی حاصل کرسکے۔بزرگ نے مسکراتے ہوئے عبدالباسط کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر شاباشی دی۔
عبدالباسط کو ملنے والی داد نے عبدالقوی کے دل کو مچل دیا کہ وہ بھی کچھ معلومات بزرگ کو بتا کر شاباشی حاصل کرے۔
’’ جناب۔۔۔میں بھی کچھ بتانا چاہتا ہوں۔‘‘
عبدالقوی نے مسکراتے ہوئے کہا توبزرگ نے اجازت دے دی۔
’’جناب! عیدا لالضحیٰ دس ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے۔ اِس عید پر جانوروں کی قربانی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اِس عید کو ’’ عید قربان‘‘ کہا جاتا ہے۔حجاج کرام قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس ،احرام کو اتار دیتے ہیں۔یہ عید ایک عظیم واقعے کی یاد میں منائی جاتی ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضر ت اسمعیل علیہ السلام کی فرماں برداری ظاہر کرتی ہے کہ اُنھوں نے کس طرح سے رب کے حکم کی تکمیل کرنا چاہی تھی۔‘‘
’’ ارے واہ بیٹا! آپ تو بہت کچھ جانتے ہیں۔‘‘بزرگ نے چاروں دوستوںکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھااوربولے۔
’’ایک بات پوچھوں تو کیا آپ ناراض تو نہیں ہوںگے۔‘‘
’’ جی نہیں۔‘‘ چاروں نے یک زبان ہو کر کہا۔
’’ آپ اپنے والدین کے کتنے فرماں بردار ہیں۔‘‘
بزرگ نے سوا ل کیا تو عبدالستار، عبدالقوی، عبدالباسط اور عبدالہادی کے سر جھک گئے۔اُنھوں نے آج تک اِس پر سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی اِس طرح کا کوئی سوال بھی کیا جا سکتا ہے۔
بزرگ کافی دیر تک اُن کو خاموش دیکھتے رہے۔پھر اُنھوں نے بولنا شروع کیا تو چاروں دوستوں کے چہروں کے رنگ بدلتے چلے گئے۔
’’دیکھو بیٹا! حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضر ت اسمعیل علیہ السلام کی فرماں برداری اللہ تعالیٰ کو اِس قدر بھا گئی تھی کہ تاقیامت اُن کے عمل کی پیروی ہوتی رہے گی۔حضر ت اسمعیل علیہ السلام اپنے والدین کے فرماں بردار بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہی گئی بات پر فرماں بردار بیٹے کی مانند عمل کیا ۔اِس لیے آپ کو عید قربان کے لیے جانور ضرور خریدنے چاہئیں مگر اپنے والدین اوررب کائنات کا تابعدار بننا چاہیے اورعبادت پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔کیوں کہ یہی اِس عید کا حقیقی مقصد اور عظیم قربانی کے واقعے کاسبق آموز نکتہ ہے ۔‘‘
بزرگ نے اپنی بات مکمل کی تو چاروں دوستوںنے تہیہ کرلیا کہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کریں گے۔
مغرب کی اذان ہوتے ہی بزرگ اورچاروں دوستوں نے مسجد کا رخ کرلیا۔
عبدالستار، عبدالقوی، عبدالباسط اور عبدالہادی کے دل بدل چکے تھے۔ اُنھوں نے سوچ لیا تھا کہ اِس بار عید کی خوشی پہلے سے زیادہ ہوگی کیوں کہ عید الالضحیٰ کا حقیقی مطلب سمجھ آچکا تھا۔
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

عظیم قربانی

تحریر: ذوالفقار علی بخاری

’’ہم نے سوچا ہے کہ اِس بار قربانی کے لیے اونٹ خریدیں ۔‘‘عبدالہادی نے اپنے تین دوستوں کے سامنے لب کشائی کی۔
’’ہم تو بھئی دنبہ لیں گے۔ ‘‘
عبدالباسط نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’میرے ابو تو خوبصورت سا بکرا لینے کا سوچ رہے ہیں۔‘‘عبدالقوی کہا ں چپ رہنے والا تھا، اُس نے بھی لب کشائی کی۔
’’بھیڑ لیں گے ہم، اگر چچا نے مل کر قربانی کا سوچا تو پھر ہم بیل لیں گے ۔‘‘عبدالستار نے کہا۔
عبدالستار، عبدالقوی، عبدالباسط اور عبدالہادی گلی میں کھڑے ہوکر باتیں کر رہے تھے کہ اُن کے پاس ایک بزرگ رکے۔
بزرگ نے اُن کی باتیں سن لی تھیں۔
’’ کچھ پتا بھی ہے کہ قربانی کے لیے جانور کیسا ہونا چاہیے؟‘‘بزرگ نے دریافت کیا۔
’’ جی محترم بزرگوار!قربانی کے جانور کے لیے ایک شرط بے حد ضروری ہوتی ہے کہ وہ ہر طرح کے جسمانی عیب سے پاک ہو۔اِسی وجہ سے سب کی تلاش یہی ہوتی ہے کہ صحت مند اورخوب صورت جانورقربانی کے لیے منتخب کیا جائے۔‘‘عبدالہادی نے جواب دیا تو بزرگ بڑے خوش ہوئے۔پھر اُنھوں نے چاروں کو دیکھتے ہوئے ایک اور سوال کیا۔
’’ قربانی کا گوشت کتنے حصوں میں بانٹا جاتا ہے؟‘‘
’’اِس سوال کا جواب میں دوں گا۔‘‘
عبدالباسط تیزی سے بولا اور پھر سوال کا جواب دینا شروع کر دیا۔
’’ قربانی کا گوشت تین حصو ں میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا حصہ رشتے داروں کے لیے اور تیسرا حصہ غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔‘‘
عبدالباسط نے جواب دیتے ہی بزرگ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا تاکہ شاباشی حاصل کرسکے۔بزرگ نے مسکراتے ہوئے عبدالباسط کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر شاباشی دی۔
عبدالباسط کو ملنے والی داد نے عبدالقوی کے دل کو مچل دیا کہ وہ بھی کچھ معلومات بزرگ کو بتا کر شاباشی حاصل کرے۔
’’ جناب۔۔۔میں بھی کچھ بتانا چاہتا ہوں۔‘‘
عبدالقوی نے مسکراتے ہوئے کہا توبزرگ نے اجازت دے دی۔
’’جناب! عیدا لالضحیٰ دس ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے۔ اِس عید پر جانوروں کی قربانی ہوتی ہے جس کی وجہ سے اِس عید کو ’’ عید قربان‘‘ کہا جاتا ہے۔حجاج کرام قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس ،احرام کو اتار دیتے ہیں۔یہ عید ایک عظیم واقعے کی یاد میں منائی جاتی ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضر ت اسمعیل علیہ السلام کی فرماں برداری ظاہر کرتی ہے کہ اُنھوں نے کس طرح سے رب کے حکم کی تکمیل کرنا چاہی تھی۔‘‘
’’ ارے واہ بیٹا! آپ تو بہت کچھ جانتے ہیں۔‘‘بزرگ نے چاروں دوستوںکی طرف مسکراتے ہوئے دیکھااوربولے۔
’’ایک بات پوچھوں تو کیا آپ ناراض تو نہیں ہوںگے۔‘‘
’’ جی نہیں۔‘‘ چاروں نے یک زبان ہو کر کہا۔
’’ آپ اپنے والدین کے کتنے فرماں بردار ہیں۔‘‘
بزرگ نے سوا ل کیا تو عبدالستار، عبدالقوی، عبدالباسط اور عبدالہادی کے سر جھک گئے۔اُنھوں نے آج تک اِس پر سوچا ہی نہیں تھا کہ کبھی اِس طرح کا کوئی سوال بھی کیا جا سکتا ہے۔
بزرگ کافی دیر تک اُن کو خاموش دیکھتے رہے۔پھر اُنھوں نے بولنا شروع کیا تو چاروں دوستوں کے چہروں کے رنگ بدلتے چلے گئے۔
’’دیکھو بیٹا! حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضر ت اسمعیل علیہ السلام کی فرماں برداری اللہ تعالیٰ کو اِس قدر بھا گئی تھی کہ تاقیامت اُن کے عمل کی پیروی ہوتی رہے گی۔حضر ت اسمعیل علیہ السلام اپنے والدین کے فرماں بردار بیٹے تھے۔ انھوں نے اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہی گئی بات پر فرماں بردار بیٹے کی مانند عمل کیا ۔اِس لیے آپ کو عید قربان کے لیے جانور ضرور خریدنے چاہئیں مگر اپنے والدین اوررب کائنات کا تابعدار بننا چاہیے اورعبادت پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔کیوں کہ یہی اِس عید کا حقیقی مقصد اور عظیم قربانی کے واقعے کاسبق آموز نکتہ ہے ۔‘‘
بزرگ نے اپنی بات مکمل کی تو چاروں دوستوںنے تہیہ کرلیا کہ وہ اپنے والدین کی نافرمانی نہیں کریں گے۔
مغرب کی اذان ہوتے ہی بزرگ اورچاروں دوستوں نے مسجد کا رخ کرلیا۔
عبدالستار، عبدالقوی، عبدالباسط اور عبدالہادی کے دل بدل چکے تھے۔ اُنھوں نے سوچ لیا تھا کہ اِس بار عید کی خوشی پہلے سے زیادہ ہوگی کیوں کہ عید الالضحیٰ کا حقیقی مطلب سمجھ آچکا تھا۔
۔ختم شد۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں