بڈگام میں 12 سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اور قتل کا لرزہ خیز واقعہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ پوری کشمیری سماج کے ضمیر پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔ ایسی سرزمین جسے صدیوں سے اولیاء کی وادی کہا جاتا ہے، وہاں اس نوعیت کے انسانیت سوز جرائم کا رونما ہونا انتہائی تشویشناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسے درندہ صفت عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں اور قانون کو چاہیے کہ انہیں سخت ترین سزا دے تاکہ معاشرے میں ایک واضح پیغام جائے کہ معصوم جانوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کیلئے کوئی نرمی نہیں ہوگی۔
تاہم اس واقعے کو صرف ایک پولیس کیس یا عدالتی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کرنا خود فریبی ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر کس سمت میں جا رہا ہے؟ ہماری مساجد، جو اصلاحِ معاشرہ، کردار سازی اور انسانیت کی تعلیم کا مرکز ہونی چاہیے، آج اکثر فرقہ واریت کے مباحث میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اسلام نے انسانیت، حیا، احترامِ عورت اور معاشرتی ذمہ داری کا درس دیا، مگر افسوس کہ ہم نے دین کی اصل روح کے بجائے فرقوں کی دیواریں بلند کرنے کو ترجیح دی۔ منبروں سے اگر نوجوان نسل کو اخلاق، تربیت اور انسان دوستی کا پیغام ملتا تو شاید سماج اس حد تک بے حس نہ بنتا۔
یہ سوال ہمارے نام نہاد دانشوروں اور سماجی مبصرین سے بھی ہے، جو ہر سیاسی معاملے پر فوری تبصرہ کرتے ہیں، مگر معاشرتی زوال، اخلاقی بحران، موسمی صوتحال اور بڑھتے جرائم پر ان کی زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ کیا دانشوری صرف سیاسی مباحث تک محدود ہو چکی ہے؟ کیا بچوں کے تحفظ، خواتین کی عزت اور سماجی تربیت جیسے موضوعات اب ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے؟
یہ وقت صرف مذمت کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، سماجی ادارے اور حکومت، سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ایسے سانحات صرف خبریں نہیں رہیں گے بلکہ ہمارے سماج کی مستقل شناخت بن جائیں گے۔
معصومیت کا قتل اور ہماری اجتماعی بے حسی
معصومیت کا قتل اور ہماری اجتماعی بے حسی
بڈگام میں 12 سالہ معصوم بچی کی عصمت دری اور قتل کا لرزہ خیز واقعہ صرف ایک مجرمانہ کارروائی نہیں بلکہ پوری کشمیری سماج کے ضمیر پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس سے نظریں چرانا ممکن نہیں۔ ایسی سرزمین جسے صدیوں سے اولیاء کی وادی کہا جاتا ہے، وہاں اس نوعیت کے انسانیت سوز جرائم کا رونما ہونا انتہائی تشویشناک اور لمحۂ فکریہ ہے۔ ایسے درندہ صفت عناصر کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں اور قانون کو چاہیے کہ انہیں سخت ترین سزا دے تاکہ معاشرے میں ایک واضح پیغام جائے کہ معصوم جانوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کیلئے کوئی نرمی نہیں ہوگی۔
تاہم اس واقعے کو صرف ایک پولیس کیس یا عدالتی معاملہ سمجھ کر نظر انداز کرنا خود فریبی ہوگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اخلاقی طور پر کس سمت میں جا رہا ہے؟ ہماری مساجد، جو اصلاحِ معاشرہ، کردار سازی اور انسانیت کی تعلیم کا مرکز ہونی چاہیے، آج اکثر فرقہ واریت کے مباحث میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اسلام نے انسانیت، حیا، احترامِ عورت اور معاشرتی ذمہ داری کا درس دیا، مگر افسوس کہ ہم نے دین کی اصل روح کے بجائے فرقوں کی دیواریں بلند کرنے کو ترجیح دی۔ منبروں سے اگر نوجوان نسل کو اخلاق، تربیت اور انسان دوستی کا پیغام ملتا تو شاید سماج اس حد تک بے حس نہ بنتا۔
یہ سوال ہمارے نام نہاد دانشوروں اور سماجی مبصرین سے بھی ہے، جو ہر سیاسی معاملے پر فوری تبصرہ کرتے ہیں، مگر معاشرتی زوال، اخلاقی بحران، موسمی صوتحال اور بڑھتے جرائم پر ان کی زبانیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ کیا دانشوری صرف سیاسی مباحث تک محدود ہو چکی ہے؟ کیا بچوں کے تحفظ، خواتین کی عزت اور سماجی تربیت جیسے موضوعات اب ہماری ترجیحات میں شامل نہیں رہے؟
یہ وقت صرف مذمت کا نہیں بلکہ اجتماعی احتساب کا ہے۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما، سماجی ادارے اور حکومت، سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو ایسے سانحات صرف خبریں نہیں رہیں گے بلکہ ہمارے سماج کی مستقل شناخت بن جائیں گے۔


