عمر حکومت کا اہم فیصلہ، مگر سفر ابھی باقی ہے

جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے تمام پبلک سروس گاڑیوں میں خواتین اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لئے نشستیں مخصوص کرنے کا حالیہ فیصلہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری سخت ہدایات اور خلاف ورزی کی صورت میں پرمٹ کی معطلی یا منسوخی کی وارننگ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ محفوظ اور باوقار بنانے کے لئے سنجیدہ ہے۔
برسوں سے خواتین مسافروں، خصوصاً طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ بھیڑ بھاڑ اور غیر محفوظ ماحول نے ان کے سفر کو اکثر ایک اذیت بنا دیا۔ اسی طرح خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد بھی مسلسل نظر انداز ہوتے رہے۔ ایسے میں عمر عبداللہ حکومت کا یہ قدم یقیناً قابل ستائش ہے۔
تاہم حکومت اس سے ایک قدم آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں 2016 میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے سری نگر میں شروع کی گئی خواتین کے لئے مخصوص بس سروس کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ طالبات، اساتذہ اور ملازمت پیشہ خواتین میں کافی مقبول رہا تھا۔
لال چوک سے کشمیر یونیورسٹی تک چلنے والی پانچ بسوں پر مشتمل یہ سروس خواتین کے لئے تحفظ اور اعتماد کی علامت بن گئی تھی۔ یہ بسیں روزانہ دو چکر لگاتی تھیں اور زیادہ تر طالبات اور اساتذہ اس سے فائدہ اٹھاتی تھیں۔
آج جب طلبہ مسلسل کرایوں میں رعایت اور سستی سفری سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایسے میں خواتین کے لئے مخصوص بس سروس کی بحالی اس کمی کو کسی حد تک پورا کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف طالبات کو راحت ملے گی بلکہ حکومت کی جانب سے خواتین کی سلامتی اور تعلیم کے تئیں سنجیدگی کا بھی اظہار ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک ایسے نظام میں تبدیل کیا جائے جو خواتین، طلبہ اور خصوصی افراد کو محفوظ اور باوقار سفر فراہم کرے۔ عمر عبداللہ حکومت نے ایک مثبت آغاز کیا ہے، اب ضرورت اس وژن کو مزید وسعت دینے کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

عمر حکومت کا اہم فیصلہ، مگر سفر ابھی باقی ہے

جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے تمام پبلک سروس گاڑیوں میں خواتین اور خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد کے لئے نشستیں مخصوص کرنے کا حالیہ فیصلہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے جاری سخت ہدایات اور خلاف ورزی کی صورت میں پرمٹ کی معطلی یا منسوخی کی وارننگ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ محفوظ اور باوقار بنانے کے لئے سنجیدہ ہے۔
برسوں سے خواتین مسافروں، خصوصاً طالبات اور ملازمت پیشہ خواتین کو کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے دوران شدید مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ بھیڑ بھاڑ اور غیر محفوظ ماحول نے ان کے سفر کو اکثر ایک اذیت بنا دیا۔ اسی طرح خصوصی صلاحیتوں کے حامل افراد بھی مسلسل نظر انداز ہوتے رہے۔ ایسے میں عمر عبداللہ حکومت کا یہ قدم یقیناً قابل ستائش ہے۔
تاہم حکومت اس سے ایک قدم آگے بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں 2016 میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے سری نگر میں شروع کی گئی خواتین کے لئے مخصوص بس سروس کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔ یہ منصوبہ طالبات، اساتذہ اور ملازمت پیشہ خواتین میں کافی مقبول رہا تھا۔
لال چوک سے کشمیر یونیورسٹی تک چلنے والی پانچ بسوں پر مشتمل یہ سروس خواتین کے لئے تحفظ اور اعتماد کی علامت بن گئی تھی۔ یہ بسیں روزانہ دو چکر لگاتی تھیں اور زیادہ تر طالبات اور اساتذہ اس سے فائدہ اٹھاتی تھیں۔
آج جب طلبہ مسلسل کرایوں میں رعایت اور سستی سفری سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایسے میں خواتین کے لئے مخصوص بس سروس کی بحالی اس کمی کو کسی حد تک پورا کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف طالبات کو راحت ملے گی بلکہ حکومت کی جانب سے خواتین کی سلامتی اور تعلیم کے تئیں سنجیدگی کا بھی اظہار ہوگا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک ایسے نظام میں تبدیل کیا جائے جو خواتین، طلبہ اور خصوصی افراد کو محفوظ اور باوقار سفر فراہم کرے۔ عمر عبداللہ حکومت نے ایک مثبت آغاز کیا ہے، اب ضرورت اس وژن کو مزید وسعت دینے کی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں