منظور الہٰی
ترال، کشمیر
وسطی کشمیر کے خوبصورت مگر آج سوگوار ضلع بڈگام کے گالوان پورہ علاقے میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا سانحہ صرف ایک خبر نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو شاید مدتوں نہیں بھر سکے گا۔ ایک معصوم بچی، جس کی آنکھوں میں خواب تھے، ہاتھوں میں مقدس کتاب تھی، دل میں اللہ کا نور تھا، اپنے گھر سے قرآنِ پاک پڑھنے کے لئے درسگاہ کی جانب نکلی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ راستے میں انسان کے روپ میں چھپے وحشی درندے اس کی معصوم زندگی کو ہمیشہ کے لئے تاریکی میں دھکیل دیں گے۔
وہ ننھی کلی، جس کے نرم ہاتھوں میں قرآنِ پاک تھا، جس کی زبان پر شاید ابھی بھی “بسم اللہ” کے الفاظ تھے، جو اپنی ماں سے یہ کہہ کر نکلی ہوگی کہ “میں جلد واپس آؤں گی”، آج خاموش ہے۔ اس کی ہنسی خاموش ہو گئی، اس کی معصوم باتیں خاموش ہو گئیں، اور اس کے خواب بھی خاموش ہو گئے۔ مگر ایک سوال پوری وادی میں گونج رہا ہے، آخر کب تک؟
کشمیر، جسے ہمیشہ اولیاء اللہ، صوفیوں اور بزرگانِ دین کی سرزمین کہا جاتا ہے، جہاں اذانوں کی آوازوں کے ساتھ روحانیت کی خوشبو پھیلی رہتی ہے، آج اسی دھرتی پر معصوم بچیاں محفوظ نہیں رہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ہر ماں کی آنکھ اشکبار ہے، ہر باپ خوفزدہ ہے، ہر بھائی بے چین ہے، اور ہر دل میں ایک ہی درد ہے کہ آخر ہماری بیٹیوں کا قصور کیا ہے؟
وہ بچی شاید اپنے والدین کی آنکھوں کا نور تھی۔ اس کے والد نے یقیناً بڑے ارمانوں سے اسے درسگاہ بھیجا ہوگا کہ میری بیٹی قرآن سیکھے گی، دین سیکھے گی، علم حاصل کرے گی۔ اس کی ماں نے شاید اس کے بال سنوارے ہوں گے، پیشانی چومی ہوگی، اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا ہوگا۔ لیکن کون جانتا تھا کہ یہ رخصتی آخری ہوگی۔ کتنا دل چیر دینے والا منظر ہوگا جب اس معصوم کی لاش گھر پہنچی ہوگی۔ ماں نے جب اپنی بیٹی کو دیکھا ہوگا تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ باپ نے جب اپنی پھول جیسی بیٹی کو خاموش پایا ہوگا تو اس کے خواب کس طرح بکھرے ہوں گے؟ یہ وہ درد ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات پر چند دن تک غم، دکھ، احتجاج اور بیانات تو سامنے آتے ہیں، مگر پھر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ تصویریں بدل جاتی ہیں، خبریں بدل جاتی ہیں، مگر اُن خاندانوں کا دکھ کبھی ختم نہیں ہوتا جن کی گود ہمیشہ کے لئے اجڑ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف افسوس، مذمت اور چند احتجاج ہی کافی ہیں؟ کیا کشمیر کی معصوم بچیاں اسی طرح درندوں کا شکار بنتی رہیں گی؟ کیا ہر بار ایک نئی ماں اپنی بیٹی کی لاش اٹھاتی رہے گی؟
یہ سانحہ صرف ایک جرم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ، منشیات کا پھیلاؤ، بے حیائی، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، اور دینی و اخلاقی تربیت کی کمی نے نوجوان نسل کے ایک حصے کو خطرناک راستوں پر ڈال دیا ہے۔ جب معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دیتا ہے تو پھر ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف مجرموں کی گرفتاری پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ پورے معاشرے کو جگایا جائے۔ علماء کرام منبروں سے آواز بلند کریں، اساتذہ نئی نسل کی کردار سازی کریں، والدین اپنی اولاد کی نگرانی کریں، اور حکومت ایسے درندوں کے خلاف سخت ترین قانون نافذ کرے تاکہ کسی کو دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک انصاف فوری اور سخت نہیں ہوگا، تب تک ایسے درندے خوف محسوس نہیں کریں گے۔ پوری وادی کی نظریں انصاف پر لگی ہوئی ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اس معصوم بچی کے قاتلوں کو ایسی سزا دی جائے جو آنے والے وقت میں دوسروں کے لئے عبرت بن جائے۔ کیونکہ اگر آج بھی انصاف کمزور پڑ گیا تو کل شاید ایک اور معصوم کلی اسی ظلم کا شکار بنے گی۔
یہ واقعہ ہر اُس انسان کے لئے لمحۂ فکریہ ہے جو اس معاشرے کا حصہ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کیسا ماحول چھوڑ رہے ہیں۔ کیا ہماری بیٹیاں اب گھر سے قرآن پڑھنے کے لئے بھی محفوظ نہیں رہیں؟ کیا ایک معصوم بچی گھر کے دروازے پر بھی محفوظ نہیں رہی؟
وہ بچی صرف ایک جسم نہیں تھی، وہ ایک خواب تھی، ایک امید تھی، ایک ماں کی دعاؤں کا مرکز تھی۔ اس کی ہنسی میں ایک گھر کی خوشیاں بستی تھیں۔ اس کی معصوم آنکھوں میں مستقبل کے رنگ تھے، مگر درندگی نے سب کچھ چھین لیا۔
آج پورا کشمیر غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں، انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور دلوں میں ایک خوف لئے بیٹھے ہیں کہ اگر آج اس بچی کے ساتھ یہ ہوا ہے تو کل کسی اور کے گھر کا چراغ بھی بجھ سکتا ہے۔
کشمیر کی سرزمین ہمیشہ محبت، روحانیت اور انسانیت کی پہچان رہی ہے۔ یہاں کے لوگ نرم دل اور مہمان نواز مانے جاتے ہیں، مگر ایسے واقعات اس شناخت کو مجروح کر رہے ہیں۔ ہمیں مل کر اس دھرتی کو دوبارہ امن، اخلاق اور تحفظ کی مثال بنانا ہوگا۔
یہ وقت صرف آنسو بہانے کا نہیں، بلکہ جاگنے کا ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے، اگر آج بھی ہم نے اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی، تو شاید کل تاریخ ہم سب سے سوال کرے گی کہ جب معصوم بچیاں درندگی کا شکار ہو رہی تھیں، تب تم کیا کر رہے تھے؟
وہ ننھی بچی تو اب اس دنیا میں واپس نہیں آئے گی۔ اس کی آواز خاموش ہو چکی ہے، لیکن اس کا درد، اس کی خاموش چیخیں، اور اس کی معصوم آنکھوں کا سوال آج بھی پوری وادی سے پوچھ رہا ہے: “کیا کشمیر کی بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟”
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، صرف پولیس سے نہیں، بلکہ ہم سب سے ہے۔ ہر اُس فرد سے جو اس معاشرے میں زندہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ذمہ داری نہ سمجھی تو شاید کل ایک اور معصوم بچی قرآنِ پاک ہاتھ میں لئے گھر سے نکلے گی، مگر واپس نہیں لوٹے گی۔
اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کی مغفرت فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔
بڈگام وحشیت: معصوم بچی کی خاموش چیخ
بڈگام وحشیت: معصوم بچی کی خاموش چیخ
منظور الہٰی
ترال، کشمیر
وسطی کشمیر کے خوبصورت مگر آج سوگوار ضلع بڈگام کے گالوان پورہ علاقے میں پیش آنے والا دل دہلا دینے والا سانحہ صرف ایک خبر نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو شاید مدتوں نہیں بھر سکے گا۔ ایک معصوم بچی، جس کی آنکھوں میں خواب تھے، ہاتھوں میں مقدس کتاب تھی، دل میں اللہ کا نور تھا، اپنے گھر سے قرآنِ پاک پڑھنے کے لئے درسگاہ کی جانب نکلی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ راستے میں انسان کے روپ میں چھپے وحشی درندے اس کی معصوم زندگی کو ہمیشہ کے لئے تاریکی میں دھکیل دیں گے۔
وہ ننھی کلی، جس کے نرم ہاتھوں میں قرآنِ پاک تھا، جس کی زبان پر شاید ابھی بھی “بسم اللہ” کے الفاظ تھے، جو اپنی ماں سے یہ کہہ کر نکلی ہوگی کہ “میں جلد واپس آؤں گی”، آج خاموش ہے۔ اس کی ہنسی خاموش ہو گئی، اس کی معصوم باتیں خاموش ہو گئیں، اور اس کے خواب بھی خاموش ہو گئے۔ مگر ایک سوال پوری وادی میں گونج رہا ہے، آخر کب تک؟
کشمیر، جسے ہمیشہ اولیاء اللہ، صوفیوں اور بزرگانِ دین کی سرزمین کہا جاتا ہے، جہاں اذانوں کی آوازوں کے ساتھ روحانیت کی خوشبو پھیلی رہتی ہے، آج اسی دھرتی پر معصوم بچیاں محفوظ نہیں رہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کا غم نہیں، بلکہ پوری قوم کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ہر ماں کی آنکھ اشکبار ہے، ہر باپ خوفزدہ ہے، ہر بھائی بے چین ہے، اور ہر دل میں ایک ہی درد ہے کہ آخر ہماری بیٹیوں کا قصور کیا ہے؟
وہ بچی شاید اپنے والدین کی آنکھوں کا نور تھی۔ اس کے والد نے یقیناً بڑے ارمانوں سے اسے درسگاہ بھیجا ہوگا کہ میری بیٹی قرآن سیکھے گی، دین سیکھے گی، علم حاصل کرے گی۔ اس کی ماں نے شاید اس کے بال سنوارے ہوں گے، پیشانی چومی ہوگی، اور دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا ہوگا۔ لیکن کون جانتا تھا کہ یہ رخصتی آخری ہوگی۔ کتنا دل چیر دینے والا منظر ہوگا جب اس معصوم کی لاش گھر پہنچی ہوگی۔ ماں نے جب اپنی بیٹی کو دیکھا ہوگا تو اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟ باپ نے جب اپنی پھول جیسی بیٹی کو خاموش پایا ہوگا تو اس کے خواب کس طرح بکھرے ہوں گے؟ یہ وہ درد ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے واقعات پر چند دن تک غم، دکھ، احتجاج اور بیانات تو سامنے آتے ہیں، مگر پھر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔ تصویریں بدل جاتی ہیں، خبریں بدل جاتی ہیں، مگر اُن خاندانوں کا دکھ کبھی ختم نہیں ہوتا جن کی گود ہمیشہ کے لئے اجڑ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا صرف افسوس، مذمت اور چند احتجاج ہی کافی ہیں؟ کیا کشمیر کی معصوم بچیاں اسی طرح درندوں کا شکار بنتی رہیں گی؟ کیا ہر بار ایک نئی ماں اپنی بیٹی کی لاش اٹھاتی رہے گی؟
یہ سانحہ صرف ایک جرم نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی اخلاقی گراوٹ، منشیات کا پھیلاؤ، بے حیائی، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، اور دینی و اخلاقی تربیت کی کمی نے نوجوان نسل کے ایک حصے کو خطرناک راستوں پر ڈال دیا ہے۔ جب معاشرہ اپنی اخلاقی بنیادیں کھو دیتا ہے تو پھر ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف مجرموں کی گرفتاری پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ پورے معاشرے کو جگایا جائے۔ علماء کرام منبروں سے آواز بلند کریں، اساتذہ نئی نسل کی کردار سازی کریں، والدین اپنی اولاد کی نگرانی کریں، اور حکومت ایسے درندوں کے خلاف سخت ترین قانون نافذ کرے تاکہ کسی کو دوبارہ ایسی حرکت کرنے کی ہمت نہ ہو۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ جب تک انصاف فوری اور سخت نہیں ہوگا، تب تک ایسے درندے خوف محسوس نہیں کریں گے۔ پوری وادی کی نظریں انصاف پر لگی ہوئی ہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ اس معصوم بچی کے قاتلوں کو ایسی سزا دی جائے جو آنے والے وقت میں دوسروں کے لئے عبرت بن جائے۔ کیونکہ اگر آج بھی انصاف کمزور پڑ گیا تو کل شاید ایک اور معصوم کلی اسی ظلم کا شکار بنے گی۔
یہ واقعہ ہر اُس انسان کے لئے لمحۂ فکریہ ہے جو اس معاشرے کا حصہ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کیسا ماحول چھوڑ رہے ہیں۔ کیا ہماری بیٹیاں اب گھر سے قرآن پڑھنے کے لئے بھی محفوظ نہیں رہیں؟ کیا ایک معصوم بچی گھر کے دروازے پر بھی محفوظ نہیں رہی؟
وہ بچی صرف ایک جسم نہیں تھی، وہ ایک خواب تھی، ایک امید تھی، ایک ماں کی دعاؤں کا مرکز تھی۔ اس کی ہنسی میں ایک گھر کی خوشیاں بستی تھیں۔ اس کی معصوم آنکھوں میں مستقبل کے رنگ تھے، مگر درندگی نے سب کچھ چھین لیا۔
آج پورا کشمیر غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں، انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، اور دلوں میں ایک خوف لئے بیٹھے ہیں کہ اگر آج اس بچی کے ساتھ یہ ہوا ہے تو کل کسی اور کے گھر کا چراغ بھی بجھ سکتا ہے۔
کشمیر کی سرزمین ہمیشہ محبت، روحانیت اور انسانیت کی پہچان رہی ہے۔ یہاں کے لوگ نرم دل اور مہمان نواز مانے جاتے ہیں، مگر ایسے واقعات اس شناخت کو مجروح کر رہے ہیں۔ ہمیں مل کر اس دھرتی کو دوبارہ امن، اخلاق اور تحفظ کی مثال بنانا ہوگا۔
یہ وقت صرف آنسو بہانے کا نہیں، بلکہ جاگنے کا ہے۔ اگر آج بھی ہم خاموش رہے، اگر آج بھی ہم نے اپنی ذمہ داری محسوس نہ کی، تو شاید کل تاریخ ہم سب سے سوال کرے گی کہ جب معصوم بچیاں درندگی کا شکار ہو رہی تھیں، تب تم کیا کر رہے تھے؟
وہ ننھی بچی تو اب اس دنیا میں واپس نہیں آئے گی۔ اس کی آواز خاموش ہو چکی ہے، لیکن اس کا درد، اس کی خاموش چیخیں، اور اس کی معصوم آنکھوں کا سوال آج بھی پوری وادی سے پوچھ رہا ہے: “کیا کشمیر کی بیٹیاں واقعی محفوظ ہیں؟”
یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، صرف پولیس سے نہیں، بلکہ ہم سب سے ہے۔ ہر اُس فرد سے جو اس معاشرے میں زندہ ہے۔ اگر ہم نے اب بھی اپنی ذمہ داری نہ سمجھی تو شاید کل ایک اور معصوم بچی قرآنِ پاک ہاتھ میں لئے گھر سے نکلے گی، مگر واپس نہیں لوٹے گی۔
اللہ تعالیٰ اس معصوم بچی کی مغفرت فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔


