دوست سے شکوہ

ماجد مجید 
کشمیر یونیورسٹی 
اعتماد دوست پر اتنا زیادہ بڑھا کہ معمولی لغزشوں، آزمائشوں سے دل بھر آیا کہ وسوسے دل میں سکونت پذیر ہونے لگے اطمینان قلب حاصل کرنےکے لئے بہت سارے حربے آزمائے لیکن کامیاب نہ ہوسکے بالآخر شکایات کی فہرست لے کے دوست کے در کو گئے اور بلا روک ٹوک ایک ایک سنانے لگے اور یوں عرض کی ” اے دوست تم نے میرے لئے مشکلات پیدا کئے قرب و اقارب سے اگر چہ پر خلوص رہا دل و جان سے ان کے لئے رات دن ایک کرتا رہا زمین جائیداد بنائی تاہم وہ رفتہ رفتہ مجھ سے بد ظن ہوگئے محنت بھی رائیگاں ہوگئی میرے خلاف ایسی چال چلے کہ آس پڑوس آدم زاد بھی بھڑکے دانہ پانی روکا مارنے پر تلے اور آخر میں عزل قرار دے کر وراثت پر قابض ہوگئے۔کسی کو میری بے بسی پر عار آیا برتن دھونے صاف صفائی پر رکھا یومیہ پندرہ روپے پر مزدور رکھا پھر بھی جائے پناہ نہ ملی قرب واقارب کا میرے لئے دروازہ بند رہنے لگا رات رات بھر کبھی مسافر خانہ تو کبھی سڑک کنارے تارے گنتا رہا پھر شب برات کسی گلی کے نکڑ پر آنسو میں گزرگئی قرب واقارب کو عار نہیں آیا ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی پھر بھی دن بھر کی تکان کے بعد ہزار وسوسے دل میں لئے اپنا محاسبہ کرکے ان کو گیا مبادا انصاف آئے اور دروازہ کھولیں لیکن ہر بار مایوسی ہوئی اور اب اے دوست کیا تم نے بھی خوب یاری نبھائی کہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور تو میری پریشانیوں سے لطف اٹھا رہا ہے کبھی ہمدردی کے دو بول کہہ دیتے کہ "میں ہوں نا میرے ہوتے ہوئے کیوں نا امید ہوتے ہو ” لیکن نہیں ” دوست نے میرا شکوہ سنا اور اس کی طرف سے میرے شکوہ کا جواب اس طرح آیا۔
 دوست کا جواب شکوہ 
(او یارا ! تو کیوں بھول گیا تیری زندگی کے ہر مشکل موڑ اور ہر نکڑ پر میں نے تیری مدد کی تو کمزور تھا میں نے تیرے دست و بازو مضبوط کئے تیرے قرب واقارب کو ان کی بد ظنی پر ایسی لاٹھی ماری کہ زخم تا حیات مندمل نہ ہوئے یعنی زخم بھر آنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی ،تیری پڑھائی کا بندوبست کیا اس سے پہلے تو جاہل گنوار تھا ،روزگار دلایا ، تو یتیمی کی زندگی بسر کررہا تھا تو کسی عالم کے گھر میں پناہ دی علم جتنا چاہا عالم سے حاصل کیا ، تیرے پاس کچھ نہیں تھا تو مفلس تھا تو تیرے لئے ایک امیر زادی سے ازدواجی زندگی کا رشتہ جوڑا تو غنی بنا وہ امیر زادی بھی تیری طرح لاچار مجبور تھی تیری اولاد ہوئی پھر تم سب کو اپنے گھر دعوت دی تو اور تیرا اہل و عیال میرے گھر مہمان بن کے آئے میں نے خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ کی واپس آنے پر تو نے اپنی امیر زادی کی وراثت سنبھالی خوب نفع کمایا دلالوں کی نظر میں تم سب کی وراثت رہی تو دلالوں کے جال میں پھنسا وہ تیری جان کے دشمن ہوگئے انہوں نے تیری زندگی کا دائرہ تنگ کر ڈالا ۔میں نے خضر کو تیری مدد کے لئے بھیجا وہ دلالوں سے خوب نپٹا اور میری مدد سے خضر نے تجھے دلالوں کے چنگل سے باہر نکالا پھر خضر نےتیری ساری پریشانی اپنے سر لے لی میرے حکم سے خضر نے تیرے گھر اور تیری اولاد کی آبادی کے ساتھ ساتھ تیری ساری وراثت صحیح اور محفوظ جگہ منتقل کی پھر خضر کو تیرے گھر اور تیری وراثت کی دیکھ بھال کے لئے منتخب کیا یہ تو ہے کہ میٹھی نیند سورہا ہے اور یہ میں ہوں کہ خضر کو تیرے لئے آرام کا وسیلہ بنایا پھر بھی تو شکوہ پر شکوہ کرتا رہا ہے ” دوست کی طرف سے جواب شکوہ پاکر آبدیدہ ہوا اور دل کی بات زبان پر خود بخود آگئی اور التجا کی "اے دوست میں یہاں خود کو زندان میں اپنی زندگی گزارنا محسوس کرتا ہوں آپ کے پاس آنے کے لئے آپ کے بلاوے کا منتظر ہوں ” ضرور ،لیکن مناسب وقت پر تجھ کو بلایا جائے گا ” جواب پاکر اطمینان قلب حاصل ہوا اور دوست کی ہمدردیاں یاد آنے پر خوش و خرم زندگی کے ایام گزارنے لگا ۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

دوست سے شکوہ

ماجد مجید 
کشمیر یونیورسٹی 
اعتماد دوست پر اتنا زیادہ بڑھا کہ معمولی لغزشوں، آزمائشوں سے دل بھر آیا کہ وسوسے دل میں سکونت پذیر ہونے لگے اطمینان قلب حاصل کرنےکے لئے بہت سارے حربے آزمائے لیکن کامیاب نہ ہوسکے بالآخر شکایات کی فہرست لے کے دوست کے در کو گئے اور بلا روک ٹوک ایک ایک سنانے لگے اور یوں عرض کی ” اے دوست تم نے میرے لئے مشکلات پیدا کئے قرب و اقارب سے اگر چہ پر خلوص رہا دل و جان سے ان کے لئے رات دن ایک کرتا رہا زمین جائیداد بنائی تاہم وہ رفتہ رفتہ مجھ سے بد ظن ہوگئے محنت بھی رائیگاں ہوگئی میرے خلاف ایسی چال چلے کہ آس پڑوس آدم زاد بھی بھڑکے دانہ پانی روکا مارنے پر تلے اور آخر میں عزل قرار دے کر وراثت پر قابض ہوگئے۔کسی کو میری بے بسی پر عار آیا برتن دھونے صاف صفائی پر رکھا یومیہ پندرہ روپے پر مزدور رکھا پھر بھی جائے پناہ نہ ملی قرب واقارب کا میرے لئے دروازہ بند رہنے لگا رات رات بھر کبھی مسافر خانہ تو کبھی سڑک کنارے تارے گنتا رہا پھر شب برات کسی گلی کے نکڑ پر آنسو میں گزرگئی قرب واقارب کو عار نہیں آیا ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگی پھر بھی دن بھر کی تکان کے بعد ہزار وسوسے دل میں لئے اپنا محاسبہ کرکے ان کو گیا مبادا انصاف آئے اور دروازہ کھولیں لیکن ہر بار مایوسی ہوئی اور اب اے دوست کیا تم نے بھی خوب یاری نبھائی کہ دربدر کی ٹھوکریں کھاتا رہا اور تو میری پریشانیوں سے لطف اٹھا رہا ہے کبھی ہمدردی کے دو بول کہہ دیتے کہ "میں ہوں نا میرے ہوتے ہوئے کیوں نا امید ہوتے ہو ” لیکن نہیں ” دوست نے میرا شکوہ سنا اور اس کی طرف سے میرے شکوہ کا جواب اس طرح آیا۔
 دوست کا جواب شکوہ 
(او یارا ! تو کیوں بھول گیا تیری زندگی کے ہر مشکل موڑ اور ہر نکڑ پر میں نے تیری مدد کی تو کمزور تھا میں نے تیرے دست و بازو مضبوط کئے تیرے قرب واقارب کو ان کی بد ظنی پر ایسی لاٹھی ماری کہ زخم تا حیات مندمل نہ ہوئے یعنی زخم بھر آنے کی کوئی گنجائش نہیں رکھی ،تیری پڑھائی کا بندوبست کیا اس سے پہلے تو جاہل گنوار تھا ،روزگار دلایا ، تو یتیمی کی زندگی بسر کررہا تھا تو کسی عالم کے گھر میں پناہ دی علم جتنا چاہا عالم سے حاصل کیا ، تیرے پاس کچھ نہیں تھا تو مفلس تھا تو تیرے لئے ایک امیر زادی سے ازدواجی زندگی کا رشتہ جوڑا تو غنی بنا وہ امیر زادی بھی تیری طرح لاچار مجبور تھی تیری اولاد ہوئی پھر تم سب کو اپنے گھر دعوت دی تو اور تیرا اہل و عیال میرے گھر مہمان بن کے آئے میں نے خاطر تواضع میں کوئی کمی نہ کی واپس آنے پر تو نے اپنی امیر زادی کی وراثت سنبھالی خوب نفع کمایا دلالوں کی نظر میں تم سب کی وراثت رہی تو دلالوں کے جال میں پھنسا وہ تیری جان کے دشمن ہوگئے انہوں نے تیری زندگی کا دائرہ تنگ کر ڈالا ۔میں نے خضر کو تیری مدد کے لئے بھیجا وہ دلالوں سے خوب نپٹا اور میری مدد سے خضر نے تجھے دلالوں کے چنگل سے باہر نکالا پھر خضر نےتیری ساری پریشانی اپنے سر لے لی میرے حکم سے خضر نے تیرے گھر اور تیری اولاد کی آبادی کے ساتھ ساتھ تیری ساری وراثت صحیح اور محفوظ جگہ منتقل کی پھر خضر کو تیرے گھر اور تیری وراثت کی دیکھ بھال کے لئے منتخب کیا یہ تو ہے کہ میٹھی نیند سورہا ہے اور یہ میں ہوں کہ خضر کو تیرے لئے آرام کا وسیلہ بنایا پھر بھی تو شکوہ پر شکوہ کرتا رہا ہے ” دوست کی طرف سے جواب شکوہ پاکر آبدیدہ ہوا اور دل کی بات زبان پر خود بخود آگئی اور التجا کی "اے دوست میں یہاں خود کو زندان میں اپنی زندگی گزارنا محسوس کرتا ہوں آپ کے پاس آنے کے لئے آپ کے بلاوے کا منتظر ہوں ” ضرور ،لیکن مناسب وقت پر تجھ کو بلایا جائے گا ” جواب پاکر اطمینان قلب حاصل ہوا اور دوست کی ہمدردیاں یاد آنے پر خوش و خرم زندگی کے ایام گزارنے لگا ۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں