عوامی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں

جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جانب سے امول برانڈ سے وابستہ مبینہ غیر محفوظ دودھ کے معاملے میں فوجداری کارروائی ختم کرنے سے انکار ایک اہم عدالتی پیغام ہے۔ عدالت نے درست طور پر کہا کہ “عوامی صحت نجی تجارتی مفادات پر فوقیت رکھتی ہے۔”
آج بازار میں بے شمار اشیائے خوردونوش معیار اور صفائی کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں۔ ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص تیل، جعلی مشروبات اور مضر صحت خوراک انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ کئی کمپنیاں منافع کی خاطر عوامی صحت سے کھیل رہی ہیں۔
ایسے میں عدلیہ کا سخت مؤقف قابل ستائش ہے۔ صرف جرمانے نہیں بلکہ انسانی صحت کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ فوڈ سیفٹی اداروں کو بھی فعال اور جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام تک محفوظ اور معیاری خوراک پہنچ سکے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خوراک سے متعلق جرائم کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، مگر وقت کے ساتھ یہ بیماریاں، جسمانی کمزوری اور دیگر طبی مسائل کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے غیر معیاری خوراک کو معمولی خلاف ورزی سمجھنا خطرناک رویہ ہے۔
حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام تینوں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ اگر قانون سختی سے نافذ ہو اور عوام بھی بیدار رہیں تو بازار میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیا کی فروخت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ انسانی جان اور صحت کسی بھی کاروباری مفاد سے زیادہ اہم ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ...

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

تازہ ترین خبریں

آغا روح اللہ کی نیشنل کانفرنس سےکنارہ کشی ، لوک سبھا نشست چھوڑنے کا اعلان

جنگ نیوز سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ...

امریکی وسط مدتی انتخابات اور ٹرمپ کی آزمائش

امریکہ میںآج یعنی 4 نومبر کو ہونے والے وسط...

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

عوامی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں

جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جانب سے امول برانڈ سے وابستہ مبینہ غیر محفوظ دودھ کے معاملے میں فوجداری کارروائی ختم کرنے سے انکار ایک اہم عدالتی پیغام ہے۔ عدالت نے درست طور پر کہا کہ “عوامی صحت نجی تجارتی مفادات پر فوقیت رکھتی ہے۔”
آج بازار میں بے شمار اشیائے خوردونوش معیار اور صفائی کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتیں۔ ملاوٹ شدہ دودھ، ناقص تیل، جعلی مشروبات اور مضر صحت خوراک انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ کئی کمپنیاں منافع کی خاطر عوامی صحت سے کھیل رہی ہیں۔
ایسے میں عدلیہ کا سخت مؤقف قابل ستائش ہے۔ صرف جرمانے نہیں بلکہ انسانی صحت کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ فوڈ سیفٹی اداروں کو بھی فعال اور جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ عوام تک محفوظ اور معیاری خوراک پہنچ سکے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خوراک سے متعلق جرائم کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے، مگر وقت کے ساتھ یہ بیماریاں، جسمانی کمزوری اور دیگر طبی مسائل کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اس لیے غیر معیاری خوراک کو معمولی خلاف ورزی سمجھنا خطرناک رویہ ہے۔
حکومت، متعلقہ اداروں اور عوام تینوں کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ اگر قانون سختی سے نافذ ہو اور عوام بھی بیدار رہیں تو بازار میں غیر معیاری اور مضر صحت اشیا کی فروخت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ انسانی جان اور صحت کسی بھی کاروباری مفاد سے زیادہ اہم ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں