صحت کا بحران اور دنیا کی بے حسی

دنیا ابھی کورونا وبا کے زخموں سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ افریقہ میں ایبولا وائرس نے ایک بار پھر خطرناک انداز میں سر اٹھا لیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے یوگنڈا اور جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والے ایبولا کے حالیہ بحران کو “بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال” قرار دے دیا ہے۔ صرف دو ہفتوں میں پانچ سو سے زائد افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ کم از کم ایک سو تیس جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس بار وائرس کی “بُنڈی بُگیو” قسم سامنے آئی ہے جس کے لئے نہ کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج۔
یہ صورتحال صرف افریقہ کے چند ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کورونا وبا نے انسانیت کو یہ سبق دیا تھا کہ متعدی امراض سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ ایک خطے میں جنم لینے والا وائرس چند ہفتوں میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا نے اس سبق کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عالمی ادارۂ صحت اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ امریکہ کی جانب سے تنظیم سے علیحدگی اور مالی امداد کی بندش نے ادارے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جرمنی، فرانس، نیدرلینڈز اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھی اپنی امداد میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ادارے کو اپنے 2026-27 کے بجٹ میں تقریباً آٹھ فیصد کمی کرنا پڑی۔ سب سے زیادہ نقصان ان شورش زدہ علاقوں میں ہوا ہے جہاں بیماریوں کی نگرانی کا نظام پہلے ہی کمزور تھا، خصوصاً جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں۔
کورونا کے بعد دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا کہ عالمی سطح پر ایک مضبوط اور لازمی صحتی ڈھانچے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی وبا کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ گزشتہ برس “گلوبل پینڈیمک ٹریٹی” کی منظوری نے امید پیدا کی تھی کہ ممالک باہمی تعاون کے ذریعے صحت کے عالمی تحفظ کا مؤثر نظام قائم کریں گے۔ لیکن یہ معاہدہ اپنی توثیق سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ ترقی یافتہ ممالک اب بھی ٹیکنالوجی کی لازمی منتقلی اور ہنگامی حالات میں طبی وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کو اس عالمی نظام پر اعتماد نہیں، کیونکہ کورونا کے دوران ویکسین کی تقسیم میں بدترین عدم مساوات دیکھی گئی تھی۔
یہ سچ ہے کہ کورونا کے بعد طبی تحقیق اور ویکسین سازی کے میدان میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ خاص طور پر mRNA ٹیکنالوجی نے نئی ویکسینز کی تیاری کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز بنا دیا ہے۔ مگر صرف سائنسی ترقی کافی نہیں۔ عالمی تیاری کی نگرانی کرنے والے ادارے “گلوبل پریپیئرڈنیس مانیٹرنگ بورڈ” کی حالیہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دنیا اب بھی اگلی وبا کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں۔
ایبولا کا حالیہ بحران انسانیت کے لئے ایک واضح تنبیہ ہے کہ صحت کا تحفظ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی ترجیحات، عالمی انصاف اور بین الاقوامی تعاون کا امتحان بھی ہے۔ اگر طاقتور ممالک مالی مفادات اور قومی سیاست کو عالمی انسانی ذمہ داریوں پر ترجیح دیتے رہے تو مستقبل کی وبائیں صرف غریب ممالک تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وباؤں کے خلاف جنگ کسی ایک ملک یا ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ اس کے لئے مسلسل سرمایہ کاری، مضبوط صحتی نظام، سائنسی اشتراک اور عالمی یکجہتی ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر انسانیت ایک بار پھر ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی ہو سکتی ہے جس کی قیمت لاکھوں جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

صحت کا بحران اور دنیا کی بے حسی

دنیا ابھی کورونا وبا کے زخموں سے پوری طرح سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ افریقہ میں ایبولا وائرس نے ایک بار پھر خطرناک انداز میں سر اٹھا لیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت نے یوگنڈا اور جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والے ایبولا کے حالیہ بحران کو “بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال” قرار دے دیا ہے۔ صرف دو ہفتوں میں پانچ سو سے زائد افراد اس مہلک وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ کم از کم ایک سو تیس جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس بار وائرس کی “بُنڈی بُگیو” قسم سامنے آئی ہے جس کے لئے نہ کوئی مؤثر ویکسین موجود ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج۔
یہ صورتحال صرف افریقہ کے چند ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کورونا وبا نے انسانیت کو یہ سبق دیا تھا کہ متعدی امراض سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ ایک خطے میں جنم لینے والا وائرس چند ہفتوں میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ مگر افسوس کہ دنیا نے اس سبق کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عالمی ادارۂ صحت اس وقت شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ امریکہ کی جانب سے تنظیم سے علیحدگی اور مالی امداد کی بندش نے ادارے کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جرمنی، فرانس، نیدرلینڈز اور برطانیہ جیسے ممالک نے بھی اپنی امداد میں نمایاں کمی کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ادارے کو اپنے 2026-27 کے بجٹ میں تقریباً آٹھ فیصد کمی کرنا پڑی۔ سب سے زیادہ نقصان ان شورش زدہ علاقوں میں ہوا ہے جہاں بیماریوں کی نگرانی کا نظام پہلے ہی کمزور تھا، خصوصاً جمہوریہ کانگو جیسے ممالک میں۔
کورونا کے بعد دنیا بھر میں اس بات پر اتفاق رائے پیدا ہوا تھا کہ عالمی سطح پر ایک مضبوط اور لازمی صحتی ڈھانچے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی وبا کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔ گزشتہ برس “گلوبل پینڈیمک ٹریٹی” کی منظوری نے امید پیدا کی تھی کہ ممالک باہمی تعاون کے ذریعے صحت کے عالمی تحفظ کا مؤثر نظام قائم کریں گے۔ لیکن یہ معاہدہ اپنی توثیق سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ ترقی یافتہ ممالک اب بھی ٹیکنالوجی کی لازمی منتقلی اور ہنگامی حالات میں طبی وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کو اس عالمی نظام پر اعتماد نہیں، کیونکہ کورونا کے دوران ویکسین کی تقسیم میں بدترین عدم مساوات دیکھی گئی تھی۔
یہ سچ ہے کہ کورونا کے بعد طبی تحقیق اور ویکسین سازی کے میدان میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ خاص طور پر mRNA ٹیکنالوجی نے نئی ویکسینز کی تیاری کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز بنا دیا ہے۔ مگر صرف سائنسی ترقی کافی نہیں۔ عالمی تیاری کی نگرانی کرنے والے ادارے “گلوبل پریپیئرڈنیس مانیٹرنگ بورڈ” کی حالیہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ دنیا اب بھی اگلی وبا کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں۔
ایبولا کا حالیہ بحران انسانیت کے لئے ایک واضح تنبیہ ہے کہ صحت کا تحفظ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ سیاسی ترجیحات، عالمی انصاف اور بین الاقوامی تعاون کا امتحان بھی ہے۔ اگر طاقتور ممالک مالی مفادات اور قومی سیاست کو عالمی انسانی ذمہ داریوں پر ترجیح دیتے رہے تو مستقبل کی وبائیں صرف غریب ممالک تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وباؤں کے خلاف جنگ کسی ایک ملک یا ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ اس کے لئے مسلسل سرمایہ کاری، مضبوط صحتی نظام، سائنسی اشتراک اور عالمی یکجہتی ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر انسانیت ایک بار پھر ایسے بحران کے دہانے پر کھڑی ہو سکتی ہے جس کی قیمت لاکھوں جانوں کی صورت میں ادا کرنی پڑے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں