توہینِ عدالت کے قوانین کا مقصد عدلیہ کے وقار اور نظامِ انصاف کا تحفظ ہے، لیکن ایک جمہوری معاشرے میں عدالتیں تنقید سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری عدلیہ اکثر تعمیری تنقید، سیاسی حملوں اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے والی گفتگو کے درمیان واضح حد بندی قائم نہیں کر پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ صحافیوں، وکلا، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی تنقید بعض اوقات غیر ضروری عدالتی حساسیت کی زد میں آ جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے بعض رویّوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ عدلیہ بیرونی نگرانی اور اختلافِ رائے کے معاملے میں زیادہ عدم برداشت کا شکار ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس سریا کانت کی جانب سے بعض وکلا اور آر ٹی آئی کارکنوں کے لیے “پرجیوی” اور “کاکروچ” جیسے الفاظ کا استعمال منصبِ قضا کے شایانِ شان نہیں تھا، چاہے بعد میں اس کی وضاحت ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ عدالت کی طاقت صرف آئینی اختیار میں نہیں بلکہ زبان اور رویّے کے وقار میں بھی ہوتی ہے۔
اسی طرح نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے نصابی تنازع اور علی خان محمودآباد کے معاملے میں بھی عدالت کے رویّے نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا عدالت صرف قانونی حدود طے کر رہی ہے یا عوامی اظہار اور اختلاف کے دائرے کو بھی منظم کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں عدلیہ شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر منظم مہمات، جھوٹی معلومات، سیاسی پولرائزیشن اور ذاتی حملوں نے اداروں کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ مگر ایسے حالات میں عدالتوں سے سب سے زیادہ جس وصف کی توقع کی جاتی ہے وہ تحمل اور آئینی بردباری ہے۔ اگر عدالتیں ہر سخت تنقید کو ادارے کے وقار کے خلاف تصور کرنے لگیں تو اس سے اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
جمہوریت میں عدلیہ کی اصل طاقت اس کے فیصلوں کی معروضیت، شفافیت اور اخلاقی وقار میں ہوتی ہے، نہ کہ خوف یا خاموشی پیدا کرنے میں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ہی ایک مضبوط ادارے کی پہچان ہے۔ عدالتیں اگر تنقید سننے اور خود احتسابی کی روایت کو فروغ دیں تو نہ صرف عوامی اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ عدلیہ کا وقار بھی مزید مستحکم ہوگا۔
بلاشبہ عدلیہ کو سوشل میڈیا کی بدزبانی، سیاسی دباؤ اور غلط معلومات جیسے چیلنجز درپیش ہیں، لیکن ادارہ جاتی وقار تنقید کو دبانے سے نہیں بلکہ تحمل، شفافیت اور منصفانہ فیصلوں سے قائم رہتا ہے۔ ایک مضبوط عدلیہ وہی ہوتی ہے جو اختلافِ رائے کو برداشت کرے، نہ کہ ہر تنقید کو اپنی توہین سمجھے۔
عدلیہ، تنقید اور برداشت کا سوال
عدلیہ، تنقید اور برداشت کا سوال
توہینِ عدالت کے قوانین کا مقصد عدلیہ کے وقار اور نظامِ انصاف کا تحفظ ہے، لیکن ایک جمہوری معاشرے میں عدالتیں تنقید سے بالاتر نہیں ہو سکتیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری عدلیہ اکثر تعمیری تنقید، سیاسی حملوں اور انصاف میں رکاوٹ ڈالنے والی گفتگو کے درمیان واضح حد بندی قائم نہیں کر پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ صحافیوں، وکلا، دانشوروں اور سماجی کارکنوں کی تنقید بعض اوقات غیر ضروری عدالتی حساسیت کی زد میں آ جاتی ہے۔
حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ کے بعض رویّوں نے یہ تاثر مضبوط کیا ہے کہ عدلیہ بیرونی نگرانی اور اختلافِ رائے کے معاملے میں زیادہ عدم برداشت کا شکار ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس سریا کانت کی جانب سے بعض وکلا اور آر ٹی آئی کارکنوں کے لیے “پرجیوی” اور “کاکروچ” جیسے الفاظ کا استعمال منصبِ قضا کے شایانِ شان نہیں تھا، چاہے بعد میں اس کی وضاحت ہی کیوں نہ دی گئی ہو۔ عدالت کی طاقت صرف آئینی اختیار میں نہیں بلکہ زبان اور رویّے کے وقار میں بھی ہوتی ہے۔
اسی طرح نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کے نصابی تنازع اور علی خان محمودآباد کے معاملے میں بھی عدالت کے رویّے نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا عدالت صرف قانونی حدود طے کر رہی ہے یا عوامی اظہار اور اختلاف کے دائرے کو بھی منظم کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں عدلیہ شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر منظم مہمات، جھوٹی معلومات، سیاسی پولرائزیشن اور ذاتی حملوں نے اداروں کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ مگر ایسے حالات میں عدالتوں سے سب سے زیادہ جس وصف کی توقع کی جاتی ہے وہ تحمل اور آئینی بردباری ہے۔ اگر عدالتیں ہر سخت تنقید کو ادارے کے وقار کے خلاف تصور کرنے لگیں تو اس سے اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
جمہوریت میں عدلیہ کی اصل طاقت اس کے فیصلوں کی معروضیت، شفافیت اور اخلاقی وقار میں ہوتی ہے، نہ کہ خوف یا خاموشی پیدا کرنے میں۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ہی ایک مضبوط ادارے کی پہچان ہے۔ عدالتیں اگر تنقید سننے اور خود احتسابی کی روایت کو فروغ دیں تو نہ صرف عوامی اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ عدلیہ کا وقار بھی مزید مستحکم ہوگا۔
بلاشبہ عدلیہ کو سوشل میڈیا کی بدزبانی، سیاسی دباؤ اور غلط معلومات جیسے چیلنجز درپیش ہیں، لیکن ادارہ جاتی وقار تنقید کو دبانے سے نہیں بلکہ تحمل، شفافیت اور منصفانہ فیصلوں سے قائم رہتا ہے۔ ایک مضبوط عدلیہ وہی ہوتی ہے جو اختلافِ رائے کو برداشت کرے، نہ کہ ہر تنقید کو اپنی توہین سمجھے۔


