چار برس بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ہندوستان کی توانائیاتی پالیسی کی کمزوریوں کی علامت ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، روپے کی گرتی قدر اور مہنگائی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک آج بھی توانائی کے معاملے میں شدید بیرونی انحصار کا شکار ہے۔
یہ متوقع تھا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی، کیونکہ سرکاری آئل کمپنیاں طویل عرصے سے خسارے کی شکایت کر رہی تھیں۔ مگر اصل مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ اس حقیقت کا ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، جس کے باعث ہر عالمی بحران کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور عوام پر پڑتا ہے۔
1991 کے معاشی بحران کے بعد ہندوستان نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو بنانے کا منصوبہ شروع کیا تھا، مگر آج بھی ملک کے ذخائر صرف چند دنوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری کمپنیوں کے ذخائر کو شامل کیا جائے تو مجموعی تحفظ بہتر دکھائی دیتا ہے، لیکن دنیا کی تیسری بڑی آٹو موبائل مارکیٹ کے لئے یہ ناکافی ہے۔ امریکہ اور چین جیسے ممالک نے اپنی توانائیاتی سلامتی کو مضبوط بنایا، جبکہ ہندوستان اس معاملے میں مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
مہنگا ایندھن صرف گاڑی چلانے والوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں پورے معاشی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان وقتی سیاسی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی توانائیاتی حکمت عملی اپنائے۔ اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ، متبادل توانائی کے فروغ اور درآمدی انحصار میں کمی کے بغیر ایسے بحران بار بار سامنے آتے رہیں گے۔ تیل کی حالیہ مہنگائی دراصل ایک انتباہ ہے کہ توانائیاتی سلامتی اب صرف معاشی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، روس یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے معاشی تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تیل اب صرف تجارت نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کا ہتھیار بھی بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں وہی ممالک نسبتاً محفوظ رہ سکتے ہیں جن کے پاس مضبوط ذخائر، متبادل توانائی کے ذرائع اور واضح طویل المدتی پالیسیاں موجود ہوں۔ ہندوستان جیسے بڑے اور تیزی سے ترقی کرتے ملک کے لئے توانائیاتی عدم تحفظ مستقبل میں مزید بڑے معاشی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
تیل کی قیمتیں اور ملک کی جد و جہد
تیل کی قیمتیں اور ملک کی جد و جہد
چار برس بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں بلکہ ہندوستان کی توانائیاتی پالیسی کی کمزوریوں کی علامت ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں، روپے کی گرتی قدر اور مہنگائی نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک آج بھی توانائی کے معاملے میں شدید بیرونی انحصار کا شکار ہے۔
یہ متوقع تھا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی، کیونکہ سرکاری آئل کمپنیاں طویل عرصے سے خسارے کی شکایت کر رہی تھیں۔ مگر اصل مسئلہ صرف قیمتوں کا نہیں بلکہ اس حقیقت کا ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، جس کے باعث ہر عالمی بحران کا براہ راست اثر ملکی معیشت اور عوام پر پڑتا ہے۔
1991 کے معاشی بحران کے بعد ہندوستان نے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو بنانے کا منصوبہ شروع کیا تھا، مگر آج بھی ملک کے ذخائر صرف چند دنوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری کمپنیوں کے ذخائر کو شامل کیا جائے تو مجموعی تحفظ بہتر دکھائی دیتا ہے، لیکن دنیا کی تیسری بڑی آٹو موبائل مارکیٹ کے لئے یہ ناکافی ہے۔ امریکہ اور چین جیسے ممالک نے اپنی توانائیاتی سلامتی کو مضبوط بنایا، جبکہ ہندوستان اس معاملے میں مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکا۔
مہنگا ایندھن صرف گاڑی چلانے والوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ ٹرانسپورٹ، زراعت، صنعت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں پورے معاشی نظام کو متاثر کرتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان وقتی سیاسی فیصلوں کے بجائے طویل المدتی توانائیاتی حکمت عملی اپنائے۔ اسٹریٹجک ذخائر میں اضافہ، متبادل توانائی کے فروغ اور درآمدی انحصار میں کمی کے بغیر ایسے بحران بار بار سامنے آتے رہیں گے۔ تیل کی حالیہ مہنگائی دراصل ایک انتباہ ہے کہ توانائیاتی سلامتی اب صرف معاشی نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی سیاست تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، روس یوکرین جنگ اور بڑی طاقتوں کے معاشی تنازعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تیل اب صرف تجارت نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کا ہتھیار بھی بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں وہی ممالک نسبتاً محفوظ رہ سکتے ہیں جن کے پاس مضبوط ذخائر، متبادل توانائی کے ذرائع اور واضح طویل المدتی پالیسیاں موجود ہوں۔ ہندوستان جیسے بڑے اور تیزی سے ترقی کرتے ملک کے لئے توانائیاتی عدم تحفظ مستقبل میں مزید بڑے معاشی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔


