ہندوستان کی معاشی آزمائش

ہندوستانی معیشت ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے عوام سے پیٹرولیم مصنوعات کے کم استعمال اور زرمبادلہ کے تحفظ کی اپیل کے چند ہی دن بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت عالمی توانائی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی معاشی ایڈجسٹمنٹ کی راہ پر گامزن ہے۔ سونے اور چاندی پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔
دنیا اس وقت شدید توانائی عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، روس یوکرین جنگ کے اثرات اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا ہوا ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والا ہر اتار چڑھاؤ براہِ راست یہاں کی معیشت، مہنگائی اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ وقتی طور پر سرکاری تیل کمپنیوں پر دباؤ کم کر سکتا ہے، مگر یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اطلاعات کے مطابق آئل کمپنیاں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی پر ہر ماہ بھاری نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت نے غالباً مرحلہ وار قیمت بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ عوام پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کمزور ہوتی قوتِ خرید کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تھوک مہنگائی کی شرح پہلے ہی خطرناک سطح کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے ریزرو بینک آف انڈیا کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے تو معاشی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو مہنگائی اور روپے کی کمزوری مزید بڑھ سکتی ہے۔
سونے پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ بھی حکومت کی اسی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر ضروری درآمدات کو کم کر کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹایا جائے۔ گزشتہ مالی سال میں ہندوستان کی سونے کی درآمدات ستر ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سونا اب بھی ہندوستانی معیشت اور سماجی نفسیات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم خدشہ یہ بھی ہے کہ زیادہ ڈیوٹی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کو فروغ دے سکتی ہے۔
اصل تشویش یہ ہے کہ اس وقت ہندوستانی معیشت بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف درآمدی بل بڑھ رہا ہے، دوسری طرف غیر ملکی سرمایہ باہر جا رہا ہے، جبکہ روپے کی قدر بھی دباؤ میں ہے۔ ایسے حالات میں چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن کا یہ بیان کہ مالی سال 2027 کی سب سے بڑی معاشی ترجیحات کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سنبھالنا اور روپے کی مزید گراوٹ کو روکنا ہوں گی، صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
تاہم صرف قیمتیں بڑھانا اور عوام سے بچت کی اپیل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ملک کو ایک وسیع اور دیرپا معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے اور مقامی پیداوار کو مضبوط کرنے کے بغیر یہ بحران بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔
ساتھ ہی حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام قربانی اسی وقت قبول کرتے ہیں جب انہیں حکمرانوں میں بھی سادگی اور مالی نظم و ضبط نظر آئے۔ اگر ایک طرف عوام سے اخراجات محدود کرنے کو کہا جائے جبکہ دوسری طرف سیاسی نمائش اور سرکاری فضول خرچی جاری رہے تو عوامی اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

ہندوستان کی معاشی آزمائش

ہندوستانی معیشت ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے عوام سے پیٹرولیم مصنوعات کے کم استعمال اور زرمبادلہ کے تحفظ کی اپیل کے چند ہی دن بعد پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ حکومت عالمی توانائی بحران کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی معاشی ایڈجسٹمنٹ کی راہ پر گامزن ہے۔ سونے اور چاندی پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دن آسان نہیں ہوں گے۔
دنیا اس وقت شدید توانائی عدم استحکام کے دور سے گزر رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، روس یوکرین جنگ کے اثرات اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں نے خام تیل کی قیمتوں کو بلند رکھا ہوا ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں ہونے والا ہر اتار چڑھاؤ براہِ راست یہاں کی معیشت، مہنگائی اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
حکومت کی جانب سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ وقتی طور پر سرکاری تیل کمپنیوں پر دباؤ کم کر سکتا ہے، مگر یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اطلاعات کے مطابق آئل کمپنیاں پیٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی پر ہر ماہ بھاری نقصان برداشت کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت نے غالباً مرحلہ وار قیمت بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ عوام پر اچانک بوجھ نہ پڑے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور کمزور ہوتی قوتِ خرید کے باعث شدید دباؤ میں ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پوری معیشت میں پھیل جاتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور صنعتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تھوک مہنگائی کی شرح پہلے ہی خطرناک سطح کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے ریزرو بینک آف انڈیا کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگر شرح سود میں اضافہ کیا جاتا ہے تو معاشی سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں، اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو مہنگائی اور روپے کی کمزوری مزید بڑھ سکتی ہے۔
سونے پر کسٹم ڈیوٹی میں اضافہ بھی حکومت کی اسی تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ غیر ضروری درآمدات کو کم کر کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ گھٹایا جائے۔ گزشتہ مالی سال میں ہندوستان کی سونے کی درآمدات ستر ارب ڈالر سے تجاوز کر جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ سونا اب بھی ہندوستانی معیشت اور سماجی نفسیات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم خدشہ یہ بھی ہے کہ زیادہ ڈیوٹی اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کو فروغ دے سکتی ہے۔
اصل تشویش یہ ہے کہ اس وقت ہندوستانی معیشت بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف درآمدی بل بڑھ رہا ہے، دوسری طرف غیر ملکی سرمایہ باہر جا رہا ہے، جبکہ روپے کی قدر بھی دباؤ میں ہے۔ ایسے حالات میں چیف اکنامک ایڈوائزر وی اننتھا ناگیشورن کا یہ بیان کہ مالی سال 2027 کی سب سے بڑی معاشی ترجیحات کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سنبھالنا اور روپے کی مزید گراوٹ کو روکنا ہوں گی، صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
تاہم صرف قیمتیں بڑھانا اور عوام سے بچت کی اپیل کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ملک کو ایک وسیع اور دیرپا معاشی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے، متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینے اور مقامی پیداوار کو مضبوط کرنے کے بغیر یہ بحران بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔
ساتھ ہی حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام قربانی اسی وقت قبول کرتے ہیں جب انہیں حکمرانوں میں بھی سادگی اور مالی نظم و ضبط نظر آئے۔ اگر ایک طرف عوام سے اخراجات محدود کرنے کو کہا جائے جبکہ دوسری طرف سیاسی نمائش اور سرکاری فضول خرچی جاری رہے تو عوامی اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں