مہنگائی کا خاموش طوفان

بھارت میں اپریل 2026 کے دوران ریٹیل افراطِ زر (Retail Inflation) اگرچہ48.3فیصد کی سطح پر نسبتاً قابو میں دکھائی دیتی ہے، مگر یہ سکون بظاہر ایک خطرناک خاموشی سے زیادہ کچھ نہیں۔ بظاہر معمولی اضافے کے باوجود معیشت کے اندر ایک ایسا دباؤ پنپ رہا ہے جو آنے والے مہینوں میں عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ اصل خطرے کی گھنٹی تھوک افراطِ زر (Wholesale Inflation) نے بجائی ہے، جو مارچ کے88.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں3.8فیصد تک جا پہنچی، یعنی 42 ماہ کی بلند ترین سطح۔ یہ اشارہ ہے کہ مہنگائی کا اصل طوفان ابھی صارفین تک پوری شدت سے نہیں پہنچا۔
اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اپریل میں فیول اور پاور کی قیمتیں71.24فیصد بڑھ گئیں جبکہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں 2.67فیصد کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ تیل کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والا بحران اب براہِ راست بھارت کی داخلی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا حالیہ بیان اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس شاید اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، کیونکہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے ماہانہ کے “انڈر ریکوری” بوجھ کو برداشت کر رہی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، اور اس کے اثرات بھارت جیسے بڑے درآمدی ممالک پر فوری طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔
حکومت کی مشکل یہ ہے کہ وہ ایک طرف عوامی غصے سے بچنا چاہتی ہے اور دوسری طرف تیل کمپنیوں کے مسلسل خسارے کو مزید برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں معاشی استحکام اور سیاسی مجبوریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اس ممکنہ معاشی طوفان کے لئے تیار ہے؟ کیونکہ اگر عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو آنے والے مہینوں میں ریٹیل مہنگائی بھی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس وقت جو افراطِ زر “قابو میں” دکھائی دے رہی ہے، وہ دراصل ایک خاموش لاوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر حکومت نے بروقت، شفاف اور عوام دوست پالیسیاں اختیار نہ کیں تو مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ سماجی بے چینی اور سیاسی اضطراب کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ خاموش اعداد و شمار کے پیچھے چھپا یہ بحران اب دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

تازہ ترین خبریں

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

مہنگائی کا خاموش طوفان

بھارت میں اپریل 2026 کے دوران ریٹیل افراطِ زر (Retail Inflation) اگرچہ48.3فیصد کی سطح پر نسبتاً قابو میں دکھائی دیتی ہے، مگر یہ سکون بظاہر ایک خطرناک خاموشی سے زیادہ کچھ نہیں۔ بظاہر معمولی اضافے کے باوجود معیشت کے اندر ایک ایسا دباؤ پنپ رہا ہے جو آنے والے مہینوں میں عام شہری کی زندگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ اصل خطرے کی گھنٹی تھوک افراطِ زر (Wholesale Inflation) نے بجائی ہے، جو مارچ کے88.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں3.8فیصد تک جا پہنچی، یعنی 42 ماہ کی بلند ترین سطح۔ یہ اشارہ ہے کہ مہنگائی کا اصل طوفان ابھی صارفین تک پوری شدت سے نہیں پہنچا۔
اس بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اپریل میں فیول اور پاور کی قیمتیں71.24فیصد بڑھ گئیں جبکہ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں 2.67فیصد کا خوفناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ تیل کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والا بحران اب براہِ راست بھارت کی داخلی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔
مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کا حالیہ بیان اس خطرے کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس شاید اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا، کیونکہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے ماہانہ کے “انڈر ریکوری” بوجھ کو برداشت کر رہی ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے عالمی تیل منڈی کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، اور اس کے اثرات بھارت جیسے بڑے درآمدی ممالک پر فوری طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔
حکومت کی مشکل یہ ہے کہ وہ ایک طرف عوامی غصے سے بچنا چاہتی ہے اور دوسری طرف تیل کمپنیوں کے مسلسل خسارے کو مزید برداشت کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حالات میں معاشی استحکام اور سیاسی مجبوریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اس ممکنہ معاشی طوفان کے لئے تیار ہے؟ کیونکہ اگر عالمی توانائی بحران مزید شدت اختیار کرتا ہے تو آنے والے مہینوں میں ریٹیل مہنگائی بھی خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے۔ اس وقت جو افراطِ زر “قابو میں” دکھائی دے رہی ہے، وہ دراصل ایک خاموش لاوا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت آج ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر حکومت نے بروقت، شفاف اور عوام دوست پالیسیاں اختیار نہ کیں تو مہنگائی صرف معاشی مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ سماجی بے چینی اور سیاسی اضطراب کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ خاموش اعداد و شمار کے پیچھے چھپا یہ بحران اب دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں