غفلت کی قیمت انسانی جانیں

سرینگر کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز پیش آئے تین الگ الگ کرنٹ لگنے کے حادثات میں ایک مزدور کی موت اور دو افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ ایک بار پھر ہمارے نظام کی سنگین غفلت کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں، بلکہ تقریباً روزانہ اخبارات میں کہیں نہ کہیں بجلی کے کرنٹ، خستہ حال تاروں، خراب ٹرانسفارمروں اور غیر محفوظ برقی ڈھانچے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان مسلسل حادثات کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔
ہر قیمتی جان کے ضیاع کے بعد رسمی بیانات اور افسوس کا اظہار تو کیا جاتا ہے، مگر اصل سوالات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ آخر کیوں بجلی کے کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کی بروقت مرمت نہیں کی جاتی؟ کیوں آبادی والے علاقوں میں لٹکتی ہوئی خطرناک تاریں عوام کی جانوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ مزدوروں اور محکمہ بجلی کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مناسب حفاظتی سازوسامان کے بغیر موت کے منہ میں کیوں دھکیلا جاتا ہے؟
محکمہ بجلی کے ڈیلی ویجرز کی حالت خاص طور پر تشویشناک ہے۔ یہ لوگ معمولی اجرت پر انتہائی خطرناک حالات میں بجلی کی لائنوں کی مرمت کرتے ہیں۔ اکثر ان کے پاس نہ معیاری دستانے ہوتے ہیں، نہ حفاظتی ہیلمٹ، نہ جدید آلات اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مناسب سہولت۔ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام کو بجلی فراہم کرتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں نہ تحفظ ملتا ہے اور نہ ہی مستقل روزگار کی ضمانت۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض تعزیتی بیانات کافی نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ زمینی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ بجلی کے نظام کا مکمل حفاظتی جائزہ لیا جائے، خستہ حال تاروں اور ٹرانسفارمروں کی فوری مرمت کی جائے، مزدوروں کو جدید حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور ہنگامی امدادی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیلی ویجرز کو مستقل کیا جائے اور ان کے لئے انشورنس و دیگر حفاظتی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
اگر مسلسل پیش آنے والے ایسے حادثات کے باوجود بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ ناانصافی تصور ہوگی۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو ہر انسانی جان کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

بادل پھٹنے سے متعدد مکانات زیرِ آب، سامان کو نقصان

  جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے...

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

تازہ ترین خبریں

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

بادل پھٹنے سے متعدد مکانات زیرِ آب، سامان کو نقصان

  جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے...

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

غفلت کی قیمت انسانی جانیں

سرینگر کے مختلف علاقوں میں بدھ کے روز پیش آئے تین الگ الگ کرنٹ لگنے کے حادثات میں ایک مزدور کی موت اور دو افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ ایک بار پھر ہمارے نظام کی سنگین غفلت کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں، بلکہ تقریباً روزانہ اخبارات میں کہیں نہ کہیں بجلی کے کرنٹ، خستہ حال تاروں، خراب ٹرانسفارمروں اور غیر محفوظ برقی ڈھانچے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان مسلسل حادثات کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر اقدامات دیکھنے کو نہیں ملتے۔
ہر قیمتی جان کے ضیاع کے بعد رسمی بیانات اور افسوس کا اظہار تو کیا جاتا ہے، مگر اصل سوالات اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔ آخر کیوں بجلی کے کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کی بروقت مرمت نہیں کی جاتی؟ کیوں آبادی والے علاقوں میں لٹکتی ہوئی خطرناک تاریں عوام کی جانوں کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہیں؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ مزدوروں اور محکمہ بجلی کے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کو مناسب حفاظتی سازوسامان کے بغیر موت کے منہ میں کیوں دھکیلا جاتا ہے؟
محکمہ بجلی کے ڈیلی ویجرز کی حالت خاص طور پر تشویشناک ہے۔ یہ لوگ معمولی اجرت پر انتہائی خطرناک حالات میں بجلی کی لائنوں کی مرمت کرتے ہیں۔ اکثر ان کے پاس نہ معیاری دستانے ہوتے ہیں، نہ حفاظتی ہیلمٹ، نہ جدید آلات اور نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مناسب سہولت۔ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام کو بجلی فراہم کرتے ہیں، مگر بدلے میں انہیں نہ تحفظ ملتا ہے اور نہ ہی مستقل روزگار کی ضمانت۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض تعزیتی بیانات کافی نہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ زمینی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ بجلی کے نظام کا مکمل حفاظتی جائزہ لیا جائے، خستہ حال تاروں اور ٹرانسفارمروں کی فوری مرمت کی جائے، مزدوروں کو جدید حفاظتی سامان فراہم کیا جائے اور ہنگامی امدادی نظام کو مضبوط بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیلی ویجرز کو مستقل کیا جائے اور ان کے لئے انشورنس و دیگر حفاظتی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
اگر مسلسل پیش آنے والے ایسے حادثات کے باوجود بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے ساتھ ناانصافی تصور ہوگی۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو ہر انسانی جان کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں