انصاف کی مضبوطی کیلئے اقدامات لازمی

مرکزی کابینہ کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا کے ججوں کی تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، کیونکہ سپریم کورٹ اس وقت ہزاروں زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ تاہم صرف چار نئے ججوں کی تقرری سے عدالتی بحران مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔
اصل مسئلہ صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں بلکہ ملک کی ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس میں کروڑوں مقدمات برسوں سے زیرِ سماعت ہیں۔ حکومت خود سب سے بڑی مقدمہ باز فریق بن چکی ہے، جس سے عدالتی بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔ جسٹس بی وی ناگارتھنا نے بھی حکومت کو غیر ضروری مقدمہ بازی سے گریز کی تلقین کی تھی۔
بھارت میں ججوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے اب بھی نہایت کم ہے۔ عدالتوں میں عملے کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، اور پیچیدہ قانونی طریقہ کار انصاف کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر وہ عام شہری اور زیرِ سماعت قیدی ہوتے ہیں جو برسوں انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔
عدالتی تاخیر صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کئی خاندان برسوں مقدمات کی پیروی کرتے کرتے مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر عوام کے اندر قانون اور اداروں پر اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لئے تشویشناک امر ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی اصلاحات کو صرف اعلیٰ عدالتوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ نچلی سطح پر بھی مضبوط اقدامات کیے جائیں۔ ضلعی عدالتوں میں جدید سہولیات، ڈیجیٹل نظام، فوری سماعت کے مؤثر طریقے، اور ججوں و عدالتی عملے کی تعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کو بھی غیر ضروری اپیلوں اور مقدمات سے گریز کرنا ہوگا تاکہ عدالتوں پر بوجھ کم ہوسکے۔
لہٰذا سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر حقیقی اصلاحات کے لئے نچلی عدالتوں کو مضبوط بنانا، خالی اسامیاں پُر کرنا، جدید ٹیکنالوجی اپنانا، اور غیر ضروری مقدمہ بازی کم کرنا ناگزیر ہے۔ بروقت انصاف ہی عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں...

قرآن کی قدیم رہنمائی اور آج کی جدید تحقیق

  پرویز عالم اللہ رب العزت نے دنیا میں انسانوں کے...

تازہ ترین خبریں

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

  ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں...

قرآن کی قدیم رہنمائی اور آج کی جدید تحقیق

  پرویز عالم اللہ رب العزت نے دنیا میں انسانوں کے...

انصاف کی مضبوطی کیلئے اقدامات لازمی

مرکزی کابینہ کی جانب سے سپریم کورٹ آف انڈیا کے ججوں کی تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، کیونکہ سپریم کورٹ اس وقت ہزاروں زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ تاہم صرف چار نئے ججوں کی تقرری سے عدالتی بحران مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔
اصل مسئلہ صرف سپریم کورٹ تک محدود نہیں بلکہ ملک کی ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس میں کروڑوں مقدمات برسوں سے زیرِ سماعت ہیں۔ حکومت خود سب سے بڑی مقدمہ باز فریق بن چکی ہے، جس سے عدالتی بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔ جسٹس بی وی ناگارتھنا نے بھی حکومت کو غیر ضروری مقدمہ بازی سے گریز کی تلقین کی تھی۔
بھارت میں ججوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے اب بھی نہایت کم ہے۔ عدالتوں میں عملے کی کمی، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، اور پیچیدہ قانونی طریقہ کار انصاف کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر وہ عام شہری اور زیرِ سماعت قیدی ہوتے ہیں جو برسوں انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔
عدالتی تاخیر صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ یہ سماجی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کئی خاندان برسوں مقدمات کی پیروی کرتے کرتے مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انصاف میں تاخیر عوام کے اندر قانون اور اداروں پر اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لئے تشویشناک امر ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی اصلاحات کو صرف اعلیٰ عدالتوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ نچلی سطح پر بھی مضبوط اقدامات کیے جائیں۔ ضلعی عدالتوں میں جدید سہولیات، ڈیجیٹل نظام، فوری سماعت کے مؤثر طریقے، اور ججوں و عدالتی عملے کی تعداد میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ حکومت کو بھی غیر ضروری اپیلوں اور مقدمات سے گریز کرنا ہوگا تاکہ عدالتوں پر بوجھ کم ہوسکے۔
لہٰذا سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافہ ایک مثبت قدم ضرور ہے، مگر حقیقی اصلاحات کے لئے نچلی عدالتوں کو مضبوط بنانا، خالی اسامیاں پُر کرنا، جدید ٹیکنالوجی اپنانا، اور غیر ضروری مقدمہ بازی کم کرنا ناگزیر ہے۔ بروقت انصاف ہی عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں