نشے کے شکنجے میں جکڑی وادی کشمیر

 

 

ہارون ابنِ رشید
ہندوارہ ، کشمیر

ریاست جموں و کشمیر ملک کا وہ منفرد خطہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے قیمتی اثاثہ یہاں کے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ یہی نوجوان اپنی قابلیت اور محنت کے ذریعے دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں نام اور مقام حاصل کر رہے ہیں۔
تاہم، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران وادی میں سماجی مسائل اور برائیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان مسائل میں منشیات کا استعمال، خودکشی، گھریلو تشدد، تیزاب گردی، ڈکیتی اور چوری جیسے جرائم شامل ہیں۔ ان سب میں سب سے خطرناک اور تباہ کن مسئلہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، جس نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں اور بے شمار خاندانوں کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ہر سال 26 جون کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا اور اس مہلک لعنت سے نجات حاصل کرنا ہے۔ مگر افسوس کہ وادی کشمیر میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یہ انتہائی تشویشناک حقیقت ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باوجود وادی کشمیر نشے کی لت میں دیگر ریاستوں سے آگے نکل چکی ہے۔ خاص طور پر 13 سے 30 سال کے نوجوان مختلف نشہ آور اشیاء جیسے شراب، چرس، گانجہ، ہیروئن، براؤن شوگر، کوکین، اوپیئڈز اور درد کش ادویات کے استعمال میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس لعنت سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
وادی کشمیر، جسے کبھی "جنت نظیر” کہا جاتا تھا، آج منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے باعث اپنی شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ ہر گاؤں میں نوجوانوں کا نشے میں مبتلا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ منشیات تک رسائی انتہائی آسان ہو چکی ہے۔
منشیات کے عادی افراد کے لئے اس لت کو چھوڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ وہ اس کے بغیر ذہنی و جسمانی بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنی لت پوری کرنے کے لئے خطرناک اقدامات تک کر گزرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ حکومت، سماجی اداروں اور معاشرے کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کشمیر ڈویژن میں ہزاروں افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں خواتین کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔ اس رجحان کی وجوہات میں بے روزگاری، خاندانی مسائل، ذہنی دباؤ، تعلیمی ناکامی، دوستوں کا دباؤ اور تجسس شامل ہیں۔
منشیات کے استعمال کے سنگین نتائج نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ذہنی بیماریوں، ڈپریشن، جگر اور گردوں کی خرابی، بے خوابی، اور دیگر مہلک امراض کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی تعلقات، خاندانی نظام اور پیشہ ورانہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف متحد ہوں۔ والدین، اساتذہ، سماجی کارکن، مذہبی رہنما اور حکومتی ادارے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ منشیات کے عادی افراد کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کی بحالی، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی مہمات، کھیلوں کا فروغ، اور مثبت سرگرمیوں کا انعقاد نوجوانوں کو اس برائی سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنی ہوگی۔
اگر ہم نے بروقت اور سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو وہ دن دور نہیں جب یہ لعنت ہمارے ہر گھر تک پہنچ جائے گی۔
آئیے ہم سب مل کر ایک صحت مند، محفوظ اور منشیات سے پاک کشمیر کے لئے جدوجہد کریں۔
اَللّٰهُمَّ احْفَظْ شَبَابَ كَشْمِيرَ مِنْ آفَةِ الْمُخَدِّرَاتِ، وَاهْدِهِمْ إِلَى طَرِيقِ الْخَيْرِ وَالصَّلَاحِ۔
اے اللہ! کشمیر کے نوجوانوں کو منشیات جیسی مہلک لعنت سے محفوظ فرما، ان کے دلوں کو ایمان، علم اور اچھے اخلاق سے منور فرما، اور انہیں نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ! جو لوگ اس نشے کی لت میں مبتلا ہیں، انہیں کامل شفا، ہمت اور نئی زندگی عطا فرما۔ ان کے والدین اور خاندانوں کو صبر اور سکون نصیب فرما۔
اے ربِّ کریم! ہمارے معاشرے کو ہر قسم کی برائی، بے راہ روی اور جرائم سے پاک فرما، اور کشمیر کو امن، خوشحالی اور صحت مند نسلوں کا گہوارہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

نشے کے شکنجے میں جکڑی وادی کشمیر

 

 

ہارون ابنِ رشید
ہندوارہ ، کشمیر

ریاست جموں و کشمیر ملک کا وہ منفرد خطہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے قیمتی اثاثہ یہاں کے باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوان ہیں۔ یہی نوجوان اپنی قابلیت اور محنت کے ذریعے دنیا بھر میں مختلف شعبوں میں نام اور مقام حاصل کر رہے ہیں۔
تاہم، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران وادی میں سماجی مسائل اور برائیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان مسائل میں منشیات کا استعمال، خودکشی، گھریلو تشدد، تیزاب گردی، ڈکیتی اور چوری جیسے جرائم شامل ہیں۔ ان سب میں سب سے خطرناک اور تباہ کن مسئلہ منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال ہے، جس نے ہزاروں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کر دی ہیں اور بے شمار خاندانوں کو بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ہر سال 26 جون کو منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عوام میں شعور بیدار کرنا اور اس مہلک لعنت سے نجات حاصل کرنا ہے۔ مگر افسوس کہ وادی کشمیر میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
یہ انتہائی تشویشناک حقیقت ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کے باوجود وادی کشمیر نشے کی لت میں دیگر ریاستوں سے آگے نکل چکی ہے۔ خاص طور پر 13 سے 30 سال کے نوجوان مختلف نشہ آور اشیاء جیسے شراب، چرس، گانجہ، ہیروئن، براؤن شوگر، کوکین، اوپیئڈز اور درد کش ادویات کے استعمال میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ اس لعنت سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
وادی کشمیر، جسے کبھی "جنت نظیر” کہا جاتا تھا، آج منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے باعث اپنی شناخت کھوتی جا رہی ہے۔ ہر گاؤں میں نوجوانوں کا نشے میں مبتلا ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ منشیات تک رسائی انتہائی آسان ہو چکی ہے۔
منشیات کے عادی افراد کے لئے اس لت کو چھوڑنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ وہ اس کے بغیر ذہنی و جسمانی بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنی لت پوری کرنے کے لئے خطرناک اقدامات تک کر گزرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ حکومت، سماجی اداروں اور معاشرے کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کشمیر ڈویژن میں ہزاروں افراد منشیات کے عادی ہیں، جن میں خواتین کی بھی خاصی تعداد شامل ہے۔ اس رجحان کی وجوہات میں بے روزگاری، خاندانی مسائل، ذہنی دباؤ، تعلیمی ناکامی، دوستوں کا دباؤ اور تجسس شامل ہیں۔
منشیات کے استعمال کے سنگین نتائج نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ ذہنی بیماریوں، ڈپریشن، جگر اور گردوں کی خرابی، بے خوابی، اور دیگر مہلک امراض کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی تعلقات، خاندانی نظام اور پیشہ ورانہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
یہ وقت ہے کہ ہم سب مل کر اس ناسور کے خلاف متحد ہوں۔ والدین، اساتذہ، سماجی کارکن، مذہبی رہنما اور حکومتی ادارے سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ منشیات کے عادی افراد کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے بجائے ان کی بحالی، رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔
اسکولوں اور کالجوں میں آگاہی مہمات، کھیلوں کا فروغ، اور مثبت سرگرمیوں کا انعقاد نوجوانوں کو اس برائی سے دور رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کو منشیات فروشوں اور اسمگلروں کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنی ہوگی۔
اگر ہم نے بروقت اور سنجیدگی سے اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو وہ دن دور نہیں جب یہ لعنت ہمارے ہر گھر تک پہنچ جائے گی۔
آئیے ہم سب مل کر ایک صحت مند، محفوظ اور منشیات سے پاک کشمیر کے لئے جدوجہد کریں۔
اَللّٰهُمَّ احْفَظْ شَبَابَ كَشْمِيرَ مِنْ آفَةِ الْمُخَدِّرَاتِ، وَاهْدِهِمْ إِلَى طَرِيقِ الْخَيْرِ وَالصَّلَاحِ۔
اے اللہ! کشمیر کے نوجوانوں کو منشیات جیسی مہلک لعنت سے محفوظ فرما، ان کے دلوں کو ایمان، علم اور اچھے اخلاق سے منور فرما، اور انہیں نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔
یا اللہ! جو لوگ اس نشے کی لت میں مبتلا ہیں، انہیں کامل شفا، ہمت اور نئی زندگی عطا فرما۔ ان کے والدین اور خاندانوں کو صبر اور سکون نصیب فرما۔
اے ربِّ کریم! ہمارے معاشرے کو ہر قسم کی برائی، بے راہ روی اور جرائم سے پاک فرما، اور کشمیر کو امن، خوشحالی اور صحت مند نسلوں کا گہوارہ بنا دے۔
آمین یا رب العالمین۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں