جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل اور عمر سرکار

رشید پروین
ؔ سوپور، کشمیر

جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینئر لیڈر شری سنیل شرما نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ این سی وینٹی لیٹر پر ہے، اور وینٹی لیٹر پر ہونے کی وجہ این سی کی اندرونی بیماری قرار دی ہے۔ بظاہر این سی کے اندرونِ خانہ کوئی غیر معمولی بات اور حالات نظر نہیں آتے، لیکن سنیل شرما جی نے یہ بھی کہا تھا کہ کابینہ میں معمولی توسیع بھی اس پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گی۔ اب بدھ کے روز بھی انہوں نے ایک معنی خیز بیان دے کر سیاسی فضاؤں میں ہلچل پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے اور اسے کوئی ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا۔ ان کا یقین ہے کہ این سی کے ممبران دل بدلی کے لئے بیتاب ہیں، اور یہ کہ ’’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ سرکار اپنی مدت پوری نہیں کر سکتی بلکہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘
قائدِ حزبِ اختلاف کا یہ دعویٰ سیاسی نشانہ بازی بھی ہو سکتا ہے، اور سرکار کے ختم ہونے یا عوامی اعتماد سے محروم ہونے کی سیاسی پھلجھڑی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں، لیکن اس بات کا جائزہ بھی ضروری بنتا ہے کہ این سی، جو عوام کے بھاری مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی ہے، وہ کیا کر رہی ہے؟ اور یہ کہ کیا واقعی یہ حکومت وینٹی لیٹر پر ہے؟ اور وینٹی لیٹر پر ہونے کا مطلب بالکل واضح ہوتا ہے کہ بیمار موت و حیات کی کشمکش سے جھوجھ رہا ہوتا ہے۔ یا دوسری نوعیت یہ کہ کیا این سی میں بھی اندرونی طور پر کوئی توڑ پھوڑ جاری ہے، جس کی طرف یہ اشارہ ہو سکتا ہے؟ یا وینٹی لیٹر ہی کو ڈسکنیکٹ کرنے کے مشورے ہو چکے ہیں؟ اور اگر ہو چکا ہے تو کیسے اور کس طرح یہ بساط لپیٹ دی جائے گی؟ کیونکہ بہرحال اس بیان کا منشا یہی بتانا ہے، اور جب سیاست داں کوئی ایسی بات کرتے ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ ’’ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ‘‘۔
مرکز میں موجودہ سرکار کے اقتدار میں آنے سے اب تک ماضی گواہ ہے کہ بہت ساری ریاستی سرکاریں ان مراحل سے گزر چکی ہیں اور توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر اپنا اقتدار گنوا چکی ہیں۔ کیا یہ بات بھی کسی ایسے ہی مرحلے کی مظہر اور عکاس ہے؟
این سی پچھلے انتخابات میں اقتدار میں آنے کے بعد اور یہ پد سنبھالنے کے اب تک کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکی ہے، یا یوں کہ عوام کی توقعات کے مطابق کام نہیں کر پائی ہے۔ ان میں سب سے بڑی یہ بات کہ مینی فیسٹو میں کیے گئے وعدے پسِ پشت ڈالے جا چکے ہیں۔ ۲۰۰ واٹ بجلی فری، سٹیٹ ہڈ کی واپسی اور کئی خواب، جو مینی فیسٹو کے کاغذی پیرہن میں موجود تھے۔ یہ این سی کی امتیازی شان ہے کہ وہ کبھی اپنے عوام سے متعلق اپنے وعدوں کو وفا نہیں کرتی۔
عمر سرکار کا مختصر سا تجزیہ بھی کیا جائے تو کوئی غیر متوقع نتائج ابھر کر سامنے نہیں آتے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اب اپوزیشن سے متعلق ان کا لہجہ بھی کچھ تلخ سا ہو چکا ہے۔ وجوہات کیا ہیں؟ اس کے سوا کہ اپوزیشن سرکار کو ہر معاملے میں موردِ الزام ٹھہراتی ہے اور ہر قدم پر انہیں ناکام اور نامراد سمجھ کر ڈھول پیٹتی رہتی ہے کہ وہ پرفارم نہیں کر پا رہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ عمر سرکار اختیارات کے لحاظ سے پابہ زنجیر بھی ہے۔ عمر عبداللہ خود اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں، یہ ان کی زبان اور باڈی لینگویج سے ظاہر ہوتا ہے، اور اسی لئے وہ کئی بار واشگاف الفاظ میں کہتے سنائی دیے ہیں کہ ’’عوام نے انہیں پانچ سال کا مینڈیٹ دیا، کوئی پانچ دن یا پانچ مہینوں کا نہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ عوام اور اپوزیشن کو پانچ سال تک انتظار کرنا چاہیے اور صبر و سکون کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ وہ پانچ سال کے دوران عوام کے ساتھ کیے ہوئے کتنے وعدے پورے کرتے ہیں، اور آسمان کی وسعتوں سے کیسے کیسے ستارے توڑ کر لاتے ہیں۔
کچھ خوشنما اور دلفریب وعدے تحریری طور پر ان کے مینی فیسٹو میں درج ہیں، جنہیں پہلے ہی حالات کے تناظر میں سنجیدہ شخصیات نے احمقوں کی دنیا آباد کرنے پر محمول کیا تھا۔ یہ دوسری بحث ہوگی کہ عوام نے انہیں جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے، کیا وہ اس مینی فیسٹو کو پڑھ کر یا سمجھ کر دیا تھا؟ اس میں رائے کا اختلاف ہو سکتا ہے۔
بہرحال، پہلے یہ کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ۵ جنوری ۲۰۰۹ کو عمر عبداللہ صاحب چیف منسٹر جموں و کشمیر کی حیثیت سے تاریخ میں جگہ پا چکے ہیں، اور اب دوسری بار اکتوبر ۲۰۲۴ میں پھر ایک بار بڑی مدت کے بعد باوقار اور بہتر عوامی سپورٹ کے ساتھ پھر اس پد پر براجمان ہوئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے انتخابات سے پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اب نئے سیاسی حالات میں چیف منسٹر ایک چپراسی سے زیادہ کی حیثیت کا حامل نہیں ہوگا، جس کے بغل میں فائلیں ہوں گی اور جو ایل جی کے دروازے پر کھڑا انتظار کرتا ہوا نظر آئے گا، اور میں اس طرح کا چیف منسٹر بننا پسند نہیں کروں گا۔‘‘ لیکن پھر الیکشن بھی لڑا اور چیف منسٹر بھی ہوئے، اور ظاہر ہے کہ انہیں اپنی اوقات اور بساط کا پہلے ہی سے صحیح اندازہ تھا۔ لیکن یہ خاندان کبھی اپنی سیاسی دکان بند کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اس کے باوجود کہ اب ان کے پاس بیچنے کو ’’خواب و خیال‘‘ کے سوا کچھ بچا نہیں ہے۔
ان نئے حالات کا پہلا صفحہ اُس وقت کھلا جب جموں و کشمیر کی تعطیلات کا نیا کلینڈر برائے سال ۲۰۲۵ اجرا ہوا، اور اس میں ان دو تعطیلات کا کوئی تذکرہ نہیں تھا جن کی سفارش عمر سرکار نے کی تھی۔ آپ کو شاید یاد ہوگا کہ ۲۰۱۹ تک کے کلینڈر میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے یومِ پیدائش اور ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ کے شہدائے کشمیر کی یاد میں تعطیلات ہوا کرتی تھیں، اور ان ایام کو سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطحوں پر مختلف انداز میں منا کر ان ایام کی یاد تازہ کی جاتی تھی۔ یہ بھی شاید یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ ان دو چھٹیوں کو منسوخ کر کے ۲۳ ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب کر کے چھٹی کا دن قرار دیا گیا تھا، جو آج بھی حالیہ کلینڈر میں موجود ہے۔ جس پر وادی میں بظاہر کوئی شور شرابہ نہیں ہوا تھا، اور خود این سی نے بھی اس عمل پر کوئی بہت بڑا محاذ کھڑا نہیں کیا تھا۔
پہلے ہی قدم پر مرکز یا گورنر کے فیصلے سے عمر سرکار پر ان کی اوقات اور حیثیت واضح کر دی گئی تھی۔ عمر سرکار، یعنی عوامی سرکار اور عوام کے ووٹوں سے منتخب سرکار کی جائز اور آئینی سفارشوں اور مطالبوں پر نہ صرف غور ہونا چاہیے تھا بلکہ انہیں منظوری دینے میں کسی طرح کے خدشات اور تحفظات کا اظہار نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ قدم قدم پر عمر سرکار بے بس نظر آتی ہے، جس کا اظہار بار بار عمر عبداللہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا نقطۂ نگاہ یہی ہے کہ ریاستی درجہ نہ ہونے کی صورت میں ان کے اختیارات بہت ہی کم رہ جاتے ہیں، بلکہ کئی بار انہوں نے کہا ’’ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر نے حلف لے کر سب سے پہلے سٹیٹ ہڈ کی قرارداد پاس کی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس قرارداد کا مقدر کیا ہونا ہے؟ اس کا جواب بھی کوئی غیر متوقع نہیں تھا، جب امیت شاہ نے اپنے بیانات میں اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی سٹیٹ ہڈ کے بارے میں یہی کہا کہ ’’ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔‘‘ اب اس بیان کی کیا تشریح کی جا سکتی ہے؟ کہ وہ مناسب وقت کیا اور کیسا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سرکار ریاستی درجے کی بحالی کا کریڈٹ کسی اور کو کیوں دے گی؟ شاید وہ مناسب وقت تب پیدا ہوگا جب زمین بھی بی جے پی کی ہوگی، سرکار بھی انہی کی ہوگی اور سیاسی ماحول بھی انہی کا ہوگا۔ اس خیال کا اظہار خود عمر نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کیا ہے۔
یہ بات اس لئے بھی قرینِ قیاس لگتی ہے کہ الیکشن سے پہلے ریاستی درجے کی بحالی کا زبردست چرچا تھا، لیکن بی جے پی سرکار نہیں بنا سکی کیونکہ کشمیری عوام نے بی جے پی کے خلاف این سی کو ووٹ کیا۔ اس لئے نہیں کہ این سی نے ماضی میں کشمیری عوام سے وفا کی ہے یا ان کے ساتھ کیے ہوئے وعدے نبھائے ہیں یا ریاست جموں و کشمیر کے مفادات کی رکھوالی اور پاسبانی کی ہے۔
کشمیری عوام نے بھرپور طریقے پر انتخابات میں حصہ لے کر یہ بات صاف کی ہے کہ وہ کوئی دہشت گرد یا وطن دشمن نہیں بلکہ وہ اپنے دائرے میں امن کے متلاشی بھی ہیں اور اپنے حقوق کی پاسداری کا مطالبہ جمہوری انداز میں کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے سیاسی افق پر گہری اور کالی گھٹائیں ۱۹۴۷ سے منڈلا رہی ہیں، اور ان مہیب گھٹاؤں کے خالق بھی ہمارے یہی سیاست کار ہیں۔
عمر کے اپنے مشاہدات، جو پچھلے مہینوں سے اسے حاصل ہوئے ہیں، بڑے کرب ناک اور مایوس کن ہیں۔ عوام نے ان سے بہت ساری توقعات خوش فہمی کی وجہ سے وابستہ کی تھیں، جس کا احساس اب عوام کو ہو رہا ہے۔ یقینی طور پر عمر کو اس بات کا شدید احساس ہوگا کہ کشمیری عوام نے شاید آخری بار این سی پر بھروسہ کیا ہے، اور یہ کشمیری عوام کی ایک مجبوری بھی تھی۔ بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ کسی ایک پارٹی کو ہی مینڈیٹ دے کر شاید وہ مرکز سے کچھ پانے کے قابل ہو سکیں، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
ہم اور آپ چیف منسٹر کی بے بسی، بیکسی اور لاچاری کے عالم کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں، اور یہ انہیں پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ مرکز اسے پہلے ہی زنجیروں میں پابند کر چکی ہے، اور دوڑنے کی بات تو دور، ان بھاری زنجیروں کے ساتھ قدم اٹھانے کے بھی قابل نہیں ہوں گے۔ پھر بھی عوام کو صحراؤں میں سراب دکھانا اور بے پایوں کی گدی پر براجمان رہنا شاید ہر سیاسی پارٹی کی ضرورت اور خواہش رہتی ہے۔ ہمارے سیاسی قائد کبھی اس گھٹیا جذبے اور دائرے سے باہر نہیں آئے، نہ ’’وجے چیف منسٹر تامل ناڈو کی طرح اپنے عوام کے حق میں آزادانہ فیصلے کر سکے‘‘۔
پانچ سال گزرنے تک عوام کی ساری مشکلیں خود بھی حل ہو جاتی ہیں کیونکہ مصائب اور مشکلات کے ڈھیروں پر رونے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ یہی کچھ عمر کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ وہ خود بے دست و پا ہیں اور ان کی اپوزیشن لگتا ہے کہ کسی خاص لمحے کی منتظر ہے، ورنہ وینٹی لیٹر کے بیانات دینے کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔ کیا معلوم کچھ ممبران واقعی کچھ دوسرے آشیانوں میں بسیرا کرنے کے لئے پَر تول رہے ہوں، کیونکہ سیاسی میدانوں میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہے تو بقولِ سنیل شرما، اس جہاز کو ڈوبنے سے کوئی بچا نہیں سکتا، یعنی یہ سارے جلوے ہی آخری آخری قرار دیے جا سکتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

جموں و کشمیر کی سیاست میں ہلچل اور عمر سرکار

رشید پروین
ؔ سوپور، کشمیر

جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بی جے پی کے سینئر لیڈر شری سنیل شرما نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ این سی وینٹی لیٹر پر ہے، اور وینٹی لیٹر پر ہونے کی وجہ این سی کی اندرونی بیماری قرار دی ہے۔ بظاہر این سی کے اندرونِ خانہ کوئی غیر معمولی بات اور حالات نظر نہیں آتے، لیکن سنیل شرما جی نے یہ بھی کہا تھا کہ کابینہ میں معمولی توسیع بھی اس پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گی۔ اب بدھ کے روز بھی انہوں نے ایک معنی خیز بیان دے کر سیاسی فضاؤں میں ہلچل پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے اور اسے کوئی ڈوبنے سے نہیں بچا سکتا۔ ان کا یقین ہے کہ این سی کے ممبران دل بدلی کے لئے بیتاب ہیں، اور یہ کہ ’’میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ سرکار اپنی مدت پوری نہیں کر سکتی بلکہ اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘
قائدِ حزبِ اختلاف کا یہ دعویٰ سیاسی نشانہ بازی بھی ہو سکتا ہے، اور سرکار کے ختم ہونے یا عوامی اعتماد سے محروم ہونے کی سیاسی پھلجھڑی بھی ہو سکتی ہے۔ یہ کوئی انوکھی اور نئی بات نہیں، لیکن اس بات کا جائزہ بھی ضروری بنتا ہے کہ این سی، جو عوام کے بھاری مینڈیٹ سے اقتدار میں آئی ہے، وہ کیا کر رہی ہے؟ اور یہ کہ کیا واقعی یہ حکومت وینٹی لیٹر پر ہے؟ اور وینٹی لیٹر پر ہونے کا مطلب بالکل واضح ہوتا ہے کہ بیمار موت و حیات کی کشمکش سے جھوجھ رہا ہوتا ہے۔ یا دوسری نوعیت یہ کہ کیا این سی میں بھی اندرونی طور پر کوئی توڑ پھوڑ جاری ہے، جس کی طرف یہ اشارہ ہو سکتا ہے؟ یا وینٹی لیٹر ہی کو ڈسکنیکٹ کرنے کے مشورے ہو چکے ہیں؟ اور اگر ہو چکا ہے تو کیسے اور کس طرح یہ بساط لپیٹ دی جائے گی؟ کیونکہ بہرحال اس بیان کا منشا یہی بتانا ہے، اور جب سیاست داں کوئی ایسی بات کرتے ہیں تو سمجھنا چاہیے کہ ’’ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ‘‘۔
مرکز میں موجودہ سرکار کے اقتدار میں آنے سے اب تک ماضی گواہ ہے کہ بہت ساری ریاستی سرکاریں ان مراحل سے گزر چکی ہیں اور توڑ پھوڑ کا شکار ہو کر اپنا اقتدار گنوا چکی ہیں۔ کیا یہ بات بھی کسی ایسے ہی مرحلے کی مظہر اور عکاس ہے؟
این سی پچھلے انتخابات میں اقتدار میں آنے کے بعد اور یہ پد سنبھالنے کے اب تک کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دے سکی ہے، یا یوں کہ عوام کی توقعات کے مطابق کام نہیں کر پائی ہے۔ ان میں سب سے بڑی یہ بات کہ مینی فیسٹو میں کیے گئے وعدے پسِ پشت ڈالے جا چکے ہیں۔ ۲۰۰ واٹ بجلی فری، سٹیٹ ہڈ کی واپسی اور کئی خواب، جو مینی فیسٹو کے کاغذی پیرہن میں موجود تھے۔ یہ این سی کی امتیازی شان ہے کہ وہ کبھی اپنے عوام سے متعلق اپنے وعدوں کو وفا نہیں کرتی۔
عمر سرکار کا مختصر سا تجزیہ بھی کیا جائے تو کوئی غیر متوقع نتائج ابھر کر سامنے نہیں آتے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ اب اپوزیشن سے متعلق ان کا لہجہ بھی کچھ تلخ سا ہو چکا ہے۔ وجوہات کیا ہیں؟ اس کے سوا کہ اپوزیشن سرکار کو ہر معاملے میں موردِ الزام ٹھہراتی ہے اور ہر قدم پر انہیں ناکام اور نامراد سمجھ کر ڈھول پیٹتی رہتی ہے کہ وہ پرفارم نہیں کر پا رہے۔ لیکن حق یہ ہے کہ عمر سرکار اختیارات کے لحاظ سے پابہ زنجیر بھی ہے۔ عمر عبداللہ خود اپنی کارکردگی سے مطمئن نہیں، یہ ان کی زبان اور باڈی لینگویج سے ظاہر ہوتا ہے، اور اسی لئے وہ کئی بار واشگاف الفاظ میں کہتے سنائی دیے ہیں کہ ’’عوام نے انہیں پانچ سال کا مینڈیٹ دیا، کوئی پانچ دن یا پانچ مہینوں کا نہیں۔‘‘ ظاہر ہے کہ وہ کہنا چاہتے ہیں کہ عوام اور اپوزیشن کو پانچ سال تک انتظار کرنا چاہیے اور صبر و سکون کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ وہ پانچ سال کے دوران عوام کے ساتھ کیے ہوئے کتنے وعدے پورے کرتے ہیں، اور آسمان کی وسعتوں سے کیسے کیسے ستارے توڑ کر لاتے ہیں۔
کچھ خوشنما اور دلفریب وعدے تحریری طور پر ان کے مینی فیسٹو میں درج ہیں، جنہیں پہلے ہی حالات کے تناظر میں سنجیدہ شخصیات نے احمقوں کی دنیا آباد کرنے پر محمول کیا تھا۔ یہ دوسری بحث ہوگی کہ عوام نے انہیں جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے، کیا وہ اس مینی فیسٹو کو پڑھ کر یا سمجھ کر دیا تھا؟ اس میں رائے کا اختلاف ہو سکتا ہے۔
بہرحال، پہلے یہ کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ۵ جنوری ۲۰۰۹ کو عمر عبداللہ صاحب چیف منسٹر جموں و کشمیر کی حیثیت سے تاریخ میں جگہ پا چکے ہیں، اور اب دوسری بار اکتوبر ۲۰۲۴ میں پھر ایک بار بڑی مدت کے بعد باوقار اور بہتر عوامی سپورٹ کے ساتھ پھر اس پد پر براجمان ہوئے ہیں۔ عمر عبداللہ نے انتخابات سے پہلے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اب نئے سیاسی حالات میں چیف منسٹر ایک چپراسی سے زیادہ کی حیثیت کا حامل نہیں ہوگا، جس کے بغل میں فائلیں ہوں گی اور جو ایل جی کے دروازے پر کھڑا انتظار کرتا ہوا نظر آئے گا، اور میں اس طرح کا چیف منسٹر بننا پسند نہیں کروں گا۔‘‘ لیکن پھر الیکشن بھی لڑا اور چیف منسٹر بھی ہوئے، اور ظاہر ہے کہ انہیں اپنی اوقات اور بساط کا پہلے ہی سے صحیح اندازہ تھا۔ لیکن یہ خاندان کبھی اپنی سیاسی دکان بند کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، اس کے باوجود کہ اب ان کے پاس بیچنے کو ’’خواب و خیال‘‘ کے سوا کچھ بچا نہیں ہے۔
ان نئے حالات کا پہلا صفحہ اُس وقت کھلا جب جموں و کشمیر کی تعطیلات کا نیا کلینڈر برائے سال ۲۰۲۵ اجرا ہوا، اور اس میں ان دو تعطیلات کا کوئی تذکرہ نہیں تھا جن کی سفارش عمر سرکار نے کی تھی۔ آپ کو شاید یاد ہوگا کہ ۲۰۱۹ تک کے کلینڈر میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے یومِ پیدائش اور ۱۳ جولائی ۱۹۳۱ کے شہدائے کشمیر کی یاد میں تعطیلات ہوا کرتی تھیں، اور ان ایام کو سرکاری اور غیر سرکاری دونوں سطحوں پر مختلف انداز میں منا کر ان ایام کی یاد تازہ کی جاتی تھی۔ یہ بھی شاید یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ ان دو چھٹیوں کو منسوخ کر کے ۲۳ ستمبر کو مہاراجہ ہری سنگھ سے منسوب کر کے چھٹی کا دن قرار دیا گیا تھا، جو آج بھی حالیہ کلینڈر میں موجود ہے۔ جس پر وادی میں بظاہر کوئی شور شرابہ نہیں ہوا تھا، اور خود این سی نے بھی اس عمل پر کوئی بہت بڑا محاذ کھڑا نہیں کیا تھا۔
پہلے ہی قدم پر مرکز یا گورنر کے فیصلے سے عمر سرکار پر ان کی اوقات اور حیثیت واضح کر دی گئی تھی۔ عمر سرکار، یعنی عوامی سرکار اور عوام کے ووٹوں سے منتخب سرکار کی جائز اور آئینی سفارشوں اور مطالبوں پر نہ صرف غور ہونا چاہیے تھا بلکہ انہیں منظوری دینے میں کسی طرح کے خدشات اور تحفظات کا اظہار نہیں ہونا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ قدم قدم پر عمر سرکار بے بس نظر آتی ہے، جس کا اظہار بار بار عمر عبداللہ کرتے رہے ہیں۔ ان کا نقطۂ نگاہ یہی ہے کہ ریاستی درجہ نہ ہونے کی صورت میں ان کے اختیارات بہت ہی کم رہ جاتے ہیں، بلکہ کئی بار انہوں نے کہا ’’ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر نے حلف لے کر سب سے پہلے سٹیٹ ہڈ کی قرارداد پاس کی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس قرارداد کا مقدر کیا ہونا ہے؟ اس کا جواب بھی کوئی غیر متوقع نہیں تھا، جب امیت شاہ نے اپنے بیانات میں اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی سٹیٹ ہڈ کے بارے میں یہی کہا کہ ’’ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔‘‘ اب اس بیان کی کیا تشریح کی جا سکتی ہے؟ کہ وہ مناسب وقت کیا اور کیسا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سرکار ریاستی درجے کی بحالی کا کریڈٹ کسی اور کو کیوں دے گی؟ شاید وہ مناسب وقت تب پیدا ہوگا جب زمین بھی بی جے پی کی ہوگی، سرکار بھی انہی کی ہوگی اور سیاسی ماحول بھی انہی کا ہوگا۔ اس خیال کا اظہار خود عمر نے بھی اپنے ایک حالیہ بیان میں کیا ہے۔
یہ بات اس لئے بھی قرینِ قیاس لگتی ہے کہ الیکشن سے پہلے ریاستی درجے کی بحالی کا زبردست چرچا تھا، لیکن بی جے پی سرکار نہیں بنا سکی کیونکہ کشمیری عوام نے بی جے پی کے خلاف این سی کو ووٹ کیا۔ اس لئے نہیں کہ این سی نے ماضی میں کشمیری عوام سے وفا کی ہے یا ان کے ساتھ کیے ہوئے وعدے نبھائے ہیں یا ریاست جموں و کشمیر کے مفادات کی رکھوالی اور پاسبانی کی ہے۔
کشمیری عوام نے بھرپور طریقے پر انتخابات میں حصہ لے کر یہ بات صاف کی ہے کہ وہ کوئی دہشت گرد یا وطن دشمن نہیں بلکہ وہ اپنے دائرے میں امن کے متلاشی بھی ہیں اور اپنے حقوق کی پاسداری کا مطالبہ جمہوری انداز میں کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے سیاسی افق پر گہری اور کالی گھٹائیں ۱۹۴۷ سے منڈلا رہی ہیں، اور ان مہیب گھٹاؤں کے خالق بھی ہمارے یہی سیاست کار ہیں۔
عمر کے اپنے مشاہدات، جو پچھلے مہینوں سے اسے حاصل ہوئے ہیں، بڑے کرب ناک اور مایوس کن ہیں۔ عوام نے ان سے بہت ساری توقعات خوش فہمی کی وجہ سے وابستہ کی تھیں، جس کا احساس اب عوام کو ہو رہا ہے۔ یقینی طور پر عمر کو اس بات کا شدید احساس ہوگا کہ کشمیری عوام نے شاید آخری بار این سی پر بھروسہ کیا ہے، اور یہ کشمیری عوام کی ایک مجبوری بھی تھی۔ بلکہ وہ سمجھتے تھے کہ کسی ایک پارٹی کو ہی مینڈیٹ دے کر شاید وہ مرکز سے کچھ پانے کے قابل ہو سکیں، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
ہم اور آپ چیف منسٹر کی بے بسی، بیکسی اور لاچاری کے عالم کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں، اور یہ انہیں پہلے ہی سے اندازہ تھا کہ مرکز اسے پہلے ہی زنجیروں میں پابند کر چکی ہے، اور دوڑنے کی بات تو دور، ان بھاری زنجیروں کے ساتھ قدم اٹھانے کے بھی قابل نہیں ہوں گے۔ پھر بھی عوام کو صحراؤں میں سراب دکھانا اور بے پایوں کی گدی پر براجمان رہنا شاید ہر سیاسی پارٹی کی ضرورت اور خواہش رہتی ہے۔ ہمارے سیاسی قائد کبھی اس گھٹیا جذبے اور دائرے سے باہر نہیں آئے، نہ ’’وجے چیف منسٹر تامل ناڈو کی طرح اپنے عوام کے حق میں آزادانہ فیصلے کر سکے‘‘۔
پانچ سال گزرنے تک عوام کی ساری مشکلیں خود بھی حل ہو جاتی ہیں کیونکہ مصائب اور مشکلات کے ڈھیروں پر رونے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ یہی کچھ عمر کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ وہ خود بے دست و پا ہیں اور ان کی اپوزیشن لگتا ہے کہ کسی خاص لمحے کی منتظر ہے، ورنہ وینٹی لیٹر کے بیانات دینے کی کوئی تُک ہی نہیں بنتی۔ کیا معلوم کچھ ممبران واقعی کچھ دوسرے آشیانوں میں بسیرا کرنے کے لئے پَر تول رہے ہوں، کیونکہ سیاسی میدانوں میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہے تو بقولِ سنیل شرما، اس جہاز کو ڈوبنے سے کوئی بچا نہیں سکتا، یعنی یہ سارے جلوے ہی آخری آخری قرار دیے جا سکتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں