بڑھتے یورولوجیکل امراض: ڈاکٹر روہت دادھوال نے کشمیر میں دی اہم طبی رہنمائی

رمیز مخدومی
سری نگر جنگ

سرینگر: ملک کے معروف یورولوجسٹ ڈاکٹر روہت دادھوال نے کہا ہے کہ بدلتے طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ، کم جسمانی سرگرمی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے پروسٹیٹ اور گردے کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً شمالی ہند اور ہمالیائی خطوں میں یہ مسائل زیادہ نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
روزنامہ سری نگر جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر روہت دادھوال، سینئر کنسلٹنٹ، شعبۂ یورولوجی، اینڈرولوجی اور روبوٹک سرجری، فورٹس موہالی نے کہا کہ پروسٹیٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق پہلے قدرتی غذا، سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کیے جاتے تھے، مگر اب فاسٹ فوڈ اور کیمیکل سے بھرپور خوراک نے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید طبی سہولیات اور ٹیسٹوں جیسے پی ایس اے اور الٹراساؤنڈ کی دستیابی کی وجہ سے اب پروسٹیٹ بیماریوں کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں زیادہ اور بروقت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اکثر لوگوں کو بیماری کی اصل وجہ معلوم ہی نہیں ہو پاتی تھی، جبکہ اب ٹیکنالوجی کی مدد سے بیماری جلد پکڑی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر دادھوال کے مطابق پروسٹیٹ کی بیماریاں عموماً زیادہ عمر میں سامنے آتی ہیں اور چونکہ انسانی زندگی کی متوقع عمر میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے عمر رسیدگی سے جڑی بیماریوں کے معاملات بھی بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے گردے کی پتھری کے بڑھتے رجحان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ کے دامن میں واقع علاقوں، جن میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور دیگر شمالی خطے شامل ہیں، میں گردے کی پتھری کے مریضوں کی تعداد زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سرد موسم، کم پانی پینا، زیادہ نمک اور نان ویج غذا کا استعمال، نیز جسمانی سرگرمیوں میں کمی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے پانی میں آکسلیٹ کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گردے میں پتھری بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان اور گجرات جیسے گرم علاقوں میں شدید گرمی اور ڈی ہائیڈریشن اس مسئلے کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔
ماہر یورولوجسٹ نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں، نمک اور پراسیسڈ غذا کا استعمال کم کریں، جبکہ سبزیوں اور قدرتی خوراک کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق ہفتے میں کم از کم چار گھنٹے سخت جسمانی سرگرمی، کھیل کود، جم یا سوئمنگ صحت مند زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
گفتگو کے دوران ڈاکٹر روہت دادھوال نے “ریزیوم واٹر ویپر تھراپی” کو پروسٹیٹ کے غیر سرطانی بڑھاؤ کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جدید طریقہ علاج میں نہ کٹ لگانے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ مختصر دورانیے کا طریقہ علاج ہے جس میں مریض چند گھنٹوں کے اندر گھر واپس جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے مفید ہے جو دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوں، خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہوں یا جن کے لیے اینستھیزیا کا خطرہ زیادہ ہو۔ ان کے مطابق یہ طریقہ علاج جنسی صحت کو متاثر کیے بغیر پروسٹیٹ کی علامات میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر دادھوال نے کہا کہ اچھی یورولوجیکل صحت کے لیے متوازن غذا، زیادہ پانی، باقاعدہ ورزش اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ فاسٹ فوڈ، پراسیسڈ گوشت، زیادہ نمک اور میٹھے کے استعمال سے گریز کریں اور قدرتی غذا کو ترجیح دیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

بڑھتے یورولوجیکل امراض: ڈاکٹر روہت دادھوال نے کشمیر میں دی اہم طبی رہنمائی

رمیز مخدومی
سری نگر جنگ

سرینگر: ملک کے معروف یورولوجسٹ ڈاکٹر روہت دادھوال نے کہا ہے کہ بدلتے طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ، کم جسمانی سرگرمی اور غیر متوازن خوراک کی وجہ سے پروسٹیٹ اور گردے کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً شمالی ہند اور ہمالیائی خطوں میں یہ مسائل زیادہ نمایاں ہوتے جا رہے ہیں۔
روزنامہ سری نگر جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر روہت دادھوال، سینئر کنسلٹنٹ، شعبۂ یورولوجی، اینڈرولوجی اور روبوٹک سرجری، فورٹس موہالی نے کہا کہ پروسٹیٹ کینسر کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ ان کے مطابق پہلے قدرتی غذا، سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کیے جاتے تھے، مگر اب فاسٹ فوڈ اور کیمیکل سے بھرپور خوراک نے انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جدید طبی سہولیات اور ٹیسٹوں جیسے پی ایس اے اور الٹراساؤنڈ کی دستیابی کی وجہ سے اب پروسٹیٹ بیماریوں کی تشخیص پہلے کے مقابلے میں زیادہ اور بروقت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں اکثر لوگوں کو بیماری کی اصل وجہ معلوم ہی نہیں ہو پاتی تھی، جبکہ اب ٹیکنالوجی کی مدد سے بیماری جلد پکڑی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر دادھوال کے مطابق پروسٹیٹ کی بیماریاں عموماً زیادہ عمر میں سامنے آتی ہیں اور چونکہ انسانی زندگی کی متوقع عمر میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے عمر رسیدگی سے جڑی بیماریوں کے معاملات بھی بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے گردے کی پتھری کے بڑھتے رجحان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیہ کے دامن میں واقع علاقوں، جن میں جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور دیگر شمالی خطے شامل ہیں، میں گردے کی پتھری کے مریضوں کی تعداد زیادہ دیکھی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق سرد موسم، کم پانی پینا، زیادہ نمک اور نان ویج غذا کا استعمال، نیز جسمانی سرگرمیوں میں کمی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان علاقوں کے پانی میں آکسلیٹ کی مقدار نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے گردے میں پتھری بننے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح راجستھان اور گجرات جیسے گرم علاقوں میں شدید گرمی اور ڈی ہائیڈریشن اس مسئلے کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔
ماہر یورولوجسٹ نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ روزانہ مناسب مقدار میں پانی پئیں، نمک اور پراسیسڈ غذا کا استعمال کم کریں، جبکہ سبزیوں اور قدرتی خوراک کو اپنی روزمرہ غذا کا حصہ بنائیں۔ ان کے مطابق ہفتے میں کم از کم چار گھنٹے سخت جسمانی سرگرمی، کھیل کود، جم یا سوئمنگ صحت مند زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
گفتگو کے دوران ڈاکٹر روہت دادھوال نے “ریزیوم واٹر ویپر تھراپی” کو پروسٹیٹ کے غیر سرطانی بڑھاؤ کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس جدید طریقہ علاج میں نہ کٹ لگانے کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ مختصر دورانیے کا طریقہ علاج ہے جس میں مریض چند گھنٹوں کے اندر گھر واپس جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ خاص طور پر ان مریضوں کے لیے مفید ہے جو دل کی بیماریوں میں مبتلا ہوں، خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہوں یا جن کے لیے اینستھیزیا کا خطرہ زیادہ ہو۔ ان کے مطابق یہ طریقہ علاج جنسی صحت کو متاثر کیے بغیر پروسٹیٹ کی علامات میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر دادھوال نے کہا کہ اچھی یورولوجیکل صحت کے لیے متوازن غذا، زیادہ پانی، باقاعدہ ورزش اور وقتاً فوقتاً طبی معائنہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ فاسٹ فوڈ، پراسیسڈ گوشت، زیادہ نمک اور میٹھے کے استعمال سے گریز کریں اور قدرتی غذا کو ترجیح دیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں