کشمیر کے دریا کب تک لاشیں اُگلتے رہیں گے؟

بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں جمعہ کو پیش آنے والا المناک حادثہ ایک بار پھر پوری وادی کو سوگوار کر گیا، جب تین نوجوان دریائے جہلم کے کنارے خیمے دھوتے ہوئے پانی کی تیز لہروں کی نذر ہوگئے۔ یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں، بلکہ کشمیر کی اجتماعی بے حسی، ناقص تیاری اور آبی شعور کی کمی کا ایک اور المناک باب ہے۔
کشمیر میں ہر سال دریا، جھیلیں اور نہریں انسانی جانیں نگلتی ہیں۔ کچھ حادثات چند دنوں تک خبروں کی زینت بنتے ہیں، جبکہ بے شمار اموات خاموشی سے پانی کے شور میں دفن ہو جاتی ہیں۔ کسی گھر کا چراغ بجھتا ہے، کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، کسی بہن کا بھائی واپس نہیں آتا، مگر چند رسمی بیانات اور امدادی کارروائیوں کے بعد سب کچھ معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔

16 اپریل 2024 کو سرینگر کے مضافاتی علاقے گاندبل میں پیش آنے والا کشتی حادثہ آج بھی کشمیری

حافظے پر ایک گہرے زخم کی طرح ثبت ہے۔ دریائے جہلم میں ایک مسافر کشتی کے الٹ جانے سے اسکولی بچوں سمیت نو افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ کئی گھنٹوں تک SDRF، NDRF اور بحریہ کی مشترکہ ریسکیو کارروائیاں جاری رہیں، مگر پانی اپنی بے رحم خاموشی کے ساتھ لاشیں واپس کرتا رہا۔ اس حادثے نے لمحاتی طور پر پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس کے بعد بدلا کیا؟

کشمیرجسے جھیلوں، ندیوں اور دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے، وہاں تیراکی کی بنیادی تعلیم تک موجود نہیں۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ یہاں نوجوان جدید کیفے، نمائشی ریسٹورنٹس اور غیر ضروری تفریحی رجحانات پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، مگر تیراکی کو نہ تعلیمی ترجیح حاصل ہے اور نہ سماجی اہمیت۔ اسکولوں میں سوئمنگ کی لازمی تربیت نہیں، دیہی علاقوں میں حفاظتی مراکز نہیں، اور بیشتر نوجوان پانی کے قریب رہنے کے باوجود تیراکی سے ناواقف ہیں۔

یہ محض کھیل یا تفریح کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سوال ہے۔ دنیا بھر میں آبی علاقوں کے نزدیک رہنے والی آبادیوں کے لیے تیراکی کو بنیادی مہارت تصور کیا جاتا ہے، جبکہ کشمیر میں یہ اب بھی ایک “غیر ضروری شوق” سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معمولی پھسلن، کشتی کا عدم توازن یا اچانک گہرے پانی میں جانے کا مطلب اکثر موت بن جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کشمیر اس وقت منشیات کی لعنت سے شدید متاثر ہے۔ نوجوان نسل ذہنی دباؤ، بے روزگاری اور سماجی خلا کے باعث تباہ کن نشے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ایسے میں کھیل، خصوصاً تیراکی، نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی استحکام اور مثبت مصروفیت کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر وادی میں جدید سوئمنگ مراکز، آبی تربیتی پروگرام اور مقامی سطح پر تیراکی کے مقابلے فروغ دیے جائیں تو یہ نہ صرف جانیں بچا سکتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ دریا کتنی جانیں لے چکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کشمیر کب تک اپنے نوجوانوں کی لاشیں پانی سے نکالتا رہے گا؟ کب تک ہر حادثے کے بعد چند دن کا ماتم اور پھر خاموشی چھائی رہے گی؟ اور کب اس سماج کو احساس ہوگا کہ پانی کے کنارے آباد قوموں کو پانی سے دوستی بھی سکھانی پڑتی ہے، ورنہ یہی پانی نسلوں کے خواب بہا لے جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

بادل پھٹنے سے متعدد مکانات زیرِ آب، سامان کو نقصان

  جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے...

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

تازہ ترین خبریں

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

بادل پھٹنے سے متعدد مکانات زیرِ آب، سامان کو نقصان

  جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے...

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

کمرشل ایل- پی- جی کی قیمتوں میں کمی

  نئی دہلی، 1 اگست: ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس جیسے اداروں...

کشمیر کے دریا کب تک لاشیں اُگلتے رہیں گے؟

بلال بشیر بٹ
جنگ نیوز ڈیسک

شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے حاجن علاقے میں جمعہ کو پیش آنے والا المناک حادثہ ایک بار پھر پوری وادی کو سوگوار کر گیا، جب تین نوجوان دریائے جہلم کے کنارے خیمے دھوتے ہوئے پانی کی تیز لہروں کی نذر ہوگئے۔ یہ کوئی پہلا حادثہ نہیں، بلکہ کشمیر کی اجتماعی بے حسی، ناقص تیاری اور آبی شعور کی کمی کا ایک اور المناک باب ہے۔
کشمیر میں ہر سال دریا، جھیلیں اور نہریں انسانی جانیں نگلتی ہیں۔ کچھ حادثات چند دنوں تک خبروں کی زینت بنتے ہیں، جبکہ بے شمار اموات خاموشی سے پانی کے شور میں دفن ہو جاتی ہیں۔ کسی گھر کا چراغ بجھتا ہے، کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، کسی بہن کا بھائی واپس نہیں آتا، مگر چند رسمی بیانات اور امدادی کارروائیوں کے بعد سب کچھ معمول کا حصہ بن جاتا ہے۔

16 اپریل 2024 کو سرینگر کے مضافاتی علاقے گاندبل میں پیش آنے والا کشتی حادثہ آج بھی کشمیری

حافظے پر ایک گہرے زخم کی طرح ثبت ہے۔ دریائے جہلم میں ایک مسافر کشتی کے الٹ جانے سے اسکولی بچوں سمیت نو افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے۔ کئی گھنٹوں تک SDRF، NDRF اور بحریہ کی مشترکہ ریسکیو کارروائیاں جاری رہیں، مگر پانی اپنی بے رحم خاموشی کے ساتھ لاشیں واپس کرتا رہا۔ اس حادثے نے لمحاتی طور پر پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا تھا، مگر سوال یہ ہے کہ اس کے بعد بدلا کیا؟

کشمیرجسے جھیلوں، ندیوں اور دریاؤں کی سرزمین کہا جاتا ہے، وہاں تیراکی کی بنیادی تعلیم تک موجود نہیں۔ یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ یہاں نوجوان جدید کیفے، نمائشی ریسٹورنٹس اور غیر ضروری تفریحی رجحانات پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، مگر تیراکی کو نہ تعلیمی ترجیح حاصل ہے اور نہ سماجی اہمیت۔ اسکولوں میں سوئمنگ کی لازمی تربیت نہیں، دیہی علاقوں میں حفاظتی مراکز نہیں، اور بیشتر نوجوان پانی کے قریب رہنے کے باوجود تیراکی سے ناواقف ہیں۔

یہ محض کھیل یا تفریح کا معاملہ نہیں، بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سوال ہے۔ دنیا بھر میں آبی علاقوں کے نزدیک رہنے والی آبادیوں کے لیے تیراکی کو بنیادی مہارت تصور کیا جاتا ہے، جبکہ کشمیر میں یہ اب بھی ایک “غیر ضروری شوق” سمجھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ معمولی پھسلن، کشتی کا عدم توازن یا اچانک گہرے پانی میں جانے کا مطلب اکثر موت بن جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کشمیر اس وقت منشیات کی لعنت سے شدید متاثر ہے۔ نوجوان نسل ذہنی دباؤ، بے روزگاری اور سماجی خلا کے باعث تباہ کن نشے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ ایسے میں کھیل، خصوصاً تیراکی، نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی استحکام اور مثبت مصروفیت کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگر وادی میں جدید سوئمنگ مراکز، آبی تربیتی پروگرام اور مقامی سطح پر تیراکی کے مقابلے فروغ دیے جائیں تو یہ نہ صرف جانیں بچا سکتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

اصل سوال اب یہ نہیں کہ دریا کتنی جانیں لے چکے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کشمیر کب تک اپنے نوجوانوں کی لاشیں پانی سے نکالتا رہے گا؟ کب تک ہر حادثے کے بعد چند دن کا ماتم اور پھر خاموشی چھائی رہے گی؟ اور کب اس سماج کو احساس ہوگا کہ پانی کے کنارے آباد قوموں کو پانی سے دوستی بھی سکھانی پڑتی ہے، ورنہ یہی پانی نسلوں کے خواب بہا لے جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں