تمل ناڈو کی سیاست میں اس بار ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی جب سی جوزف وجے اور ان کی جماعت تملگا ویٹری کڑگم نے مختصر مگر مؤثر سیاسی حکمت عملی کے ذریعے اقتدار حاصل کر لیا۔ اکثریت سے چند نشستیں کم ہونے کے باوجود ٹی وی کے نے کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، ودوتھلئی چرُتھائیگل کچی اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت حاصل کر کے حکومت سازی ممکن بنا لی۔ یہ اتحاد سیاسی طور پر حیران کن ضرور تھا، لیکن نظریاتی اعتبار سے غیر فطری نہیں، کیونکہ ٹی وی کے ابتدا ہی سے خود کو ان جماعتوں کے قریب ظاہر کرتی رہی ہے۔
اس دوران بعض حلقوں کی جانب سے ایسی متبادل حکومت کی تجویز بھی سامنے آئی جسے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم اور دراوڑ منیترا کڑگم کی بیرونی حمایت حاصل ہو، مگر یہ عمل جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ سبکدوش وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی اس سیاسی تجربے سے فاصلہ اختیار کیا۔ دوسری جانب گورنر راجندر آرلیکر کی جانب سے حکومت سازی سے قبل تحریری حمایت طلب کرنا آئینی روایت کے برخلاف محسوس ہوا، کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں اکثریت کا فیصلہ ایوان کے اندر ہونا چاہیے۔
کانگریس نے بھی سیاسی موقع شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی وی کے کی حمایت کر دی، حالانکہ اس کا پرانا اتحاد ڈی ایم کے کے ساتھ تھا۔ بائیں بازو اور وی سی کے نے استحکام کے نام پر نئی حکومت کی حمایت تو کی، لیکن فرقہ پرست سیاست کے خلاف اپنے مؤقف کو بھی برقرار رکھا۔
کئی دہائیوں بعد تمل ناڈو میں معلق اسمبلی وجود میں آئی، جس نے سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی اور آئینی ذمہ داری دونوں کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اب نئی حکومت کے لئے اصل چیلنج اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ تمل ناڈو کی ترقی، صنعتی پیش رفت اور سماجی انصاف کے اس ماڈل کو مزید مضبوط بنانا ہے جس نے ریاست کو ہندوستان کی نمایاں معیشتوں میں شامل کیا۔
تمل ناڈو میں نئی سیاسی کروٹ
تمل ناڈو میں نئی سیاسی کروٹ
تمل ناڈو کی سیاست میں اس بار ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی جب سی جوزف وجے اور ان کی جماعت تملگا ویٹری کڑگم نے مختصر مگر مؤثر سیاسی حکمت عملی کے ذریعے اقتدار حاصل کر لیا۔ اکثریت سے چند نشستیں کم ہونے کے باوجود ٹی وی کے نے کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، ودوتھلئی چرُتھائیگل کچی اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت حاصل کر کے حکومت سازی ممکن بنا لی۔ یہ اتحاد سیاسی طور پر حیران کن ضرور تھا، لیکن نظریاتی اعتبار سے غیر فطری نہیں، کیونکہ ٹی وی کے ابتدا ہی سے خود کو ان جماعتوں کے قریب ظاہر کرتی رہی ہے۔
اس دوران بعض حلقوں کی جانب سے ایسی متبادل حکومت کی تجویز بھی سامنے آئی جسے آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کڑگم اور دراوڑ منیترا کڑگم کی بیرونی حمایت حاصل ہو، مگر یہ عمل جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ سبکدوش وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے بھی اس سیاسی تجربے سے فاصلہ اختیار کیا۔ دوسری جانب گورنر راجندر آرلیکر کی جانب سے حکومت سازی سے قبل تحریری حمایت طلب کرنا آئینی روایت کے برخلاف محسوس ہوا، کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں اکثریت کا فیصلہ ایوان کے اندر ہونا چاہیے۔
کانگریس نے بھی سیاسی موقع شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی وی کے کی حمایت کر دی، حالانکہ اس کا پرانا اتحاد ڈی ایم کے کے ساتھ تھا۔ بائیں بازو اور وی سی کے نے استحکام کے نام پر نئی حکومت کی حمایت تو کی، لیکن فرقہ پرست سیاست کے خلاف اپنے مؤقف کو بھی برقرار رکھا۔
کئی دہائیوں بعد تمل ناڈو میں معلق اسمبلی وجود میں آئی، جس نے سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی اور آئینی ذمہ داری دونوں کو آزمائش میں ڈال دیا۔ اب نئی حکومت کے لئے اصل چیلنج اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ تمل ناڈو کی ترقی، صنعتی پیش رفت اور سماجی انصاف کے اس ماڈل کو مزید مضبوط بنانا ہے جس نے ریاست کو ہندوستان کی نمایاں معیشتوں میں شامل کیا۔


