عالمی یومِ صحافت (۳/مئی ) کے موقع پر روزنامہ سرینگر جنگ کی جانب سے اہلِ قلم، شعرا، ادبا اور صحافیوں سے طلب کی گئی مختصر آرا کو غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ وادیٔ کشمیر اور اس سے باہر کی ممتاز علمی و ادبی شخصیات نے اخبار کی معیاری صحافتی خدمات، فکری رہنمائی اور اردو زبان کے فروغ میں اس کے کردار کو نہایت خلوص اور وقار کے ساتھ سراہا۔
موصولہ تاثرات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزاد، ذمہ دار اور باوقار صحافت جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے اور سرینگر جنگ نے ہمیشہ حق گوئی، دیانت داری اور غیر جانبداری کو اپنی پہچان بنایا ہے۔
معزز ادبا ،شعرا اور صحافیوں نے اس امر کو بھی سراہا کہ اخبار نے نئے اور تجربہ کار اہلِ قلم دونوں کو یکساں مواقع فراہم کرکے ادبی روایت کو تقویت دی ہے۔ یہ آرا نہ صرف ادارے کے لئے اعزاز ہیں بلکہ صحافت کے اعلیٰ اصولوں کی پاسداری کے عزم کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
جموں کشمیر میں اردو صحافت کا آغاز 1924 عیسوی سے ہوا پہلا اردو ہفت روزہ (رنبیر) لالہ ملک راج صراف کی ادارت میں جاری ہوا ۔(ویتستا )1932ء پریم ناتھ بزاز نے جاری کیا پھر اخبارات کا طویل سلسلہ شروع ہوا ۔آزادی کے بعد کئی نئے اخبارات ہفتہ وار شائع ہوتے رہے جن میں اکثر اخبارات نے آہستہ آہستہ روزناموں کی شکل۔اختیار کی اور آج تک اپنے سفر پر رواں دواں ہیں۔ موجودہ دور میں اگر معیاری اخبارات کا ذکر کریں تو روزنامہ جنگ سرینگر تقریباً پچھلے تیس سالوں سے اپنے سفر میں رواں دواں ہے اس اخبار کے بانی اگر چہ طارق محی الدین رہے ہیں تاہم اس کے مالک و مدیر اعلی نوجوان صحافی جناب بلال بشیر بٹ اس کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں اردو زبان و ادب مذہبی مسائل معاشرے سے جڑے پیچیدہ مسائل اجاگر کرنے میں مضمون نگار کی عزت افزائی کرکے اخبار کی شان بڑھانے میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔ہم نے اگر چہ روزنامہ جنگ سرینگر کے مالک و مدیر اعلی جناب بشیر بٹ صاحب سے اپنی حیات مستعار زندگی میں چند لمحے گزارے ہیں صرف خیر و عافیت پوچھنے میں ہی گزارے ۔ہم نے اس نوجوان صحافی کو مدبر ،ملنسار، سخن شناس پایا ہم اس کے دلکش لہجے سے کافی متاثر ہوئے ہیں ہمیشہ لبوں پر تبسم لئے پیش آتے ہیں چہرے پر کبھی غرور تکبر کے آثار نہیں دکھے ۔اکثر اخبارات کے مالکان و مدیراں سے ہمارا سامنا ہوا ہے معاشرے سے جڑے مسائل پر بات چیت ہوئی کوئی فرد اپنا اصلی نام ظاہر نہ کرنے پر معاشرے میں مستعاری اسم گرامی سے اپنی پہچان بنانے پر مضر ہو تو کئی مالکان غلامی داغ لئے چپ سادھ بیٹھے ہیں اس کے برعکس جنگ سرینگر روزنامہ کے مالک و مدیر اعلی سب سے نڈر ہیں۔مسائل غور سے سنتے ہیں جو ہمیشہ حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں تو بلا جھجک اخبار میں شائع کرکے ابھارتے بھی ہیں اور قلمکار کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں یہی حقیقت میں صحیح صحافت ہے۔
پر
وفیسر رفیع الدین ناصر
قومی اعزاز یافتہ معلماورنگ آباد، مہاراشٹر
آداب و تسلیمات!
امید ہے کہ آپ خیریت و عافیت سے ہوں گے۔
آج کے اس مصروف ترین دور میں صبح کی اولین ساعتوں میں سوشل میڈیا کے توسط سے آپ کا موقر اخبار روزنامہ سرینگر جنگ سب سے پہلے مطالعہ کے لئے دستیاب ہو جاتا ہے، اور یہی ہمارے روزمرہ معمولات کے آغاز کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کا مطالعہ دل کو فرحت اور ذہن کو تازگی بخشتا ہے۔
آپ جس ذمہ داری، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اردو صحافت کا حق ادا کر رہے ہیں، وہ لائقِ تحسین ہے۔ روزنامہ سرینگر جنگ میں خبروں کا انتخاب نہایت معیاری اور متوازن ہوتا ہے۔ خبروں کی ترتیب و تنظیم اور پیشکش انتہائی دلکش اور مؤثر انداز میں کی جاتی ہے، جو قاری کو اپنی جانب متوجہ رکھتی ہے۔
اندرونی صفحات پر شائع ہونے والے مضامین نہایت معیاری اور معلوماتی ہوتے ہیں۔ آپ کے اداریے خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جو نہ صرف حالاتِ حاضرہ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں بلکہ اردو قارئین کو اہم اور ضروری معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کتابوں پر تبصرے اور مختلف موضوعات پر منتخب مضامین اخبار کے وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔
آپ جس سلیقے اور حسنِ ترتیب کے ساتھ ان تمام مواد کو پیش کرتے ہیں، وہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ اس بہترین صحافتی کاوش پر جتنی بھی مبارکباد پیش کی جائے کم ہے۔
ہم دعاگو ہیں کہ آپ کی یہ مسلسل محنت، استقامت اور کامیاب جدوجہد یونہی جاری رہے اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ نیز آپ سے صحت مند اور مثبت انداز میں مزید خدمات لیتا رہے۔ (آمین)
راجندر پریمیؔ
نئی دلی
میں اخبار سرینگر جنگ کے ساتھ کئی سالوں سے وابستہ رہا ہوں۔ میں نے اس اخبار کی بے باکی کو کافی پسند کیا اور اسی وجہ سے میں اس کے ساتھ جڑا رہا۔ میں نے اپنے کچھ مضامین اس اخبار کے ذریعے سے قارئین تک لے جانے کی کوشش کی۔ روزنامہ سرینگر جنگ سیکولر روایات کی تقویت، مذہبی رواداری، یگانیت، برادری، اخوت کو بھی بڑھاوا دینے میں پیش پیش ہے۔ اس کے لئے میں اخبار کے ایڈیٹر بلال بشیر بٹ صاحب کو دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ عالمی یوم صحافت کے موقع پر بھی آپ سب کو مبارک باد۔ خدا کرے زورِ قلم اور زیادہ۔
سید آصف رضا
بڈگام ، کشمیر
صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے۔ یہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور رائے عامہ کو تشکیل دینے میں موثر کردار نبھاتی ہے۔ اس تناظر میں، روزنامہ "سری نگر جنگ” نے کئی دشواریوں کے باوجود صحافتی ذمہ داریوں کو جس خوبی سے نبھایا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنا ہو یا سیاسی معاملات پر گہرے تجزیے پیش کرنا، قاری کو جناب بلال بشیر بٹ صاحب کی نمایاں صلاحیتوں کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس اخبار نے نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے اپنے صفحات نہ صرف کھلے رکھے بلکہ نوکِ قلم بھی سنوارے۔ آج صحافت کے عالمی دن کے موقع پر، ہم روزنامہ سری نگر جنگ کی پوری ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس اخبار کو دن دوگنی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین!
بشیر اطہرؔ
کشمیر
وادئ کشمیر میں جب بھی اردو صحافت کا ذکر چھڑتا ہے تو ایک نام دل و دماغ میں نمایاں طور پر ابھرتا ہے”روزنامہ سرینگر جنگ”یہ محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک مؤثر آواز ہے، ایسی آواز جو دور دراز علاقوں تک اپنی بازگشت پہنچا رہی ہے اور قارئین کے دلوں میں جگہ بنا رہی ہے۔مختصر عرصے میں اس روزنامہ نے جس طرح اپنی شناخت قائم کی ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ آج یہ وادی کے معتبر اور باوقار اخبارات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے اس کےمدیر اعلیٰ، سرپرست بلال بشیر بٹ صاحب کی شب و روز محنت، خلوص اور اردو زبان سے بے پناہ محبت کارفرما ہے۔
بلال بشیر بٹ صاحب نہ صرف ایک بہترین منتظم ہیں بلکہ ایک درد دل رکھنے والے، ملنسار اور ادب دوست انسان بھی ہیں۔ اردو زبان و ادب سے ان کی گہری وابستگی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ ہر قلمکار، چاہے نوآموز ہو یا تجربہ کار، کو یکساں عزت اور مواقع فراہم کرتے ہیں۔آپ خود بھی ایک باوقار اور پُر اعظم قلمکار اور صحافی ہیں
.ان کے زیرِ سایہ روزنامہ سرینگر جنگ ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں نئے لکھنے والوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملتا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس اخبار کی ایک نمایاں خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں کسی قسم کی تفریق نہیں پائی جاتی۔ نہ کوئی چھوٹا ہے نہ بڑا، بلکہ سب ایک خاندان کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ یہی خاندانی فضا اس اخبار کو دیگر اداروں سے ممتاز اور منفرد بناتی ہے۔اس روزنامہ میں متعدد ادیبوں، مفکروں اور قلمکاروں کی معیاری تحریریں اور فیچرز شائع ہو چکے ہیں، جو نہ صرف قارئین کے ذوق کو جِلا بخشتے ہیں بلکہ ان کی فکری تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے مضامین میں موجود سنجیدگی، فکری گہرائی اور ادبی حسن اسے ایک خاص مقام عطا کرتے ہیں.آخر میں دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ روزنامہ سرینگر جنگ اسی طرح ترقی کی منازل طے کرتا رہے، اور اردو زبان و ادب کی خدمت میں مزید سنگِ میل قائم کرے۔اللہ کرے یہ اخبار دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے اور ہمیشہ حق و صداقت کی آواز بلند کرتا رہے.
بشیر اؔطہرؔ
قیصر محمود عراقی کمرہٹی ، کولکاتا
محترم ایڈیٹر صاحب
اس پرُ آشوب اور انقلابی دور میں جب کہ شجر ِ اردو کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ، ایسے میں سری نگر کشمیر سے شائع ہو نے والا روز نامہ سرینگر جنگ ایک ریفارمر کی حیثیت سے اپنا کارنامہ انجام دے رہا ہے ۔ جو یقینا مدیر اعلیٰ بلال بشیر بٹ اور ان کی پوری ٹیم کی محنت اور کاوش کا نتیجہ ہے ۔ میری طرف سے روزنامہ جنگ کے مدیر اعلیٰ اور تمام قلم کاروں کو جن کی کاوشوں سے یہ خوبصورت اخبار روزانہ منظر عام پر آتا ہے بہت بہت مبارک باد۔
فاضل شفیع بٹاکنگام، انت ناگ
روزنامہ سرینگر جنگ اردو صحافت کی ایک زندہ مثال ہے۔ سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے اس جدید دور میں، جہاں خودساختہ صحافی سرکس کے جوکروں کی مانند عوام کو اپنے مضحکہ خیز تماشوں سے محظوظ کرنے میں مصروف ہیں، وہیں روزنامہ سرینگر جنگ اپنے صحافتی فرائض نہایت دیانت داری اور سنجیدگی سے انجام دے رہا ہے۔
اردو زبان و ادب کے فروغ کے لئے جس خلوص اور لگن کے ساتھ اخبار کے مدیرِ اعلیٰ، جناب بلال بشیر بٹ صاحب، شب و روز محنت میں مصروف ہیں، وہ یقیناً لائقِ صد تحسین اور قابلِ مبارک باد ہے۔
ڈاکٹر محمد واسع ظفر پروفیسر اینڈ ڈین، فیکلٹی آف ایجوکیشن
پٹنہ یونیورسٹی، پٹنہ
روزنامہ سرینگر جنگ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ ملک عزیز ہندوستان کے اردو صحافتی منظرنامے کا ایک معتبر نام ہے، جو گزشتہ تین دہائیوں سے مقامی، ملکی اور بین الاقوامی خبروں کے ساتھ سماجی، ثقافتی، سیاسی، تعلیمی، اور ادبی موضوعات کو نمایاں کرتا رہا ہے۔اس نے ریاست کے عوامی مسائل کو منظر عام پر لانے، عوام کے ملی، سماجی اور سیاسی شعور کو بیدار کرنے، کشمیری تہذیب و شناخت کے تحفظ، اردوصحافت کے فروغ، اور نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ عالمی یوم صحافت کے موقع پر احقر اس کے مدیر اعلیٰ اور تمام عملے کو ان کی بیش بہا خدمات کے لئے دل کی عمیق گہرائیوں سے نیک خواہشات اور مبارکباد پیش کرتا ہے ۔
رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ، کشمیر
ہر سال 3 مئی کو عالمی یومِ صحافت منایا جاتا ہے۔ وادیٔ کشمیر سے شائع ہونے والے اردو روزناموں میں جنہوں نے اردو صحافت کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، ان میں روزنامہ "سرینگر جنگ” سرِفہرست ہے۔
یہ روزنامہ روزانہ کی بنیاد پر مستند خبروں، معیاری ادبی مواد، تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے متعلق مضامین اپنے قارئین تک پہنچا کر اُن کی داد و تحسین حاصل کرتا ہے۔ بدلتے حالات کے ساتھ اس نے خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
جناب بلال بشیر بٹ صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والا یہ اردو روزنامہ نہ صرف قارئین کے دل جیت رہا ہے بلکہ معیاری صحافت اور بے باک انداز کو برقرار رکھتے ہوئے مسلسل اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اللہ کرے یہ روزنامہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرے، کیونکہ اردو زبان و ادب کی جو خدمت یہ انجام دے رہا ہے وہ سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔
وانی عرفات
ترال پلوامہ کشمیر
روزنامہ سرینگر جنگ محض ایک اخبار نہیں بلکہ وادی کشمیر کی فکری بیداری، ادبی وقار اور ذمہ دار صحافت کی ایک جیتی جاگتی علامت ہے جو خبر کو محض اطلاع تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے شعور، بصیرت اور آگہی کا باوقار وسیلہ بناتا ہے۔ اس کے صفحات پر شائع ہونے والی مستند اور بروقت خبریں قاری کو حالات حاضرہ سے باخبر رکھتی ہیں، جبکہ اس کے عمیق و بصیرت افروز مضامین، متوازن اور مدلل تبصرے، دل میں اتر جانے والی غزلیں اور اعلیٰ ادبی نگارشات ذہن و دل کو ایک ہمہ جہت تازگی اور فکری بالیدگی عطا کرتی ہیں۔
یہ ادارہ نہ صرف عوامی مسائل کو جرأت، دیانت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اجاگر کرتا ہے بلکہ اپنی شائستہ، مہذب اور فکرانگیز تحریروں کے ذریعے قاری کے شعور کو جلا بخشتا، اس کے فکری زاویوں کو وسعت دیتا اور اسے محض قاری نہیں بلکہ ایک باشعور اور باخبر فرد بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ادبی و صحافتی منظرنامے میں اس کی خدمات ایک روشن اور مستحکم روایت کی حیثیت اختیار کر چکی ہے جو مسلسل علم، احساس اور سچائی کی روشنی پھیلا رہی ہیں۔ عالمی یومِ صحافت کے موقع پر اس باوقار ادارے کی غیر جانب دار، دیانت دار اور عوام دوست صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہی دعا ہے کہ روزنامہ سرینگر جنگ ہمیشہ حق، صداقت اور اعتماد کی آواز بن کر معاشرے کی رہنمائی کرتا رہے۔
معراج زرگر
کشمیر
یوم صحافت پہ یوں تو دل بہت کچھ لکھنے کو چاہ رہا ہے اور وہ بھی ایسا کہ بس دل کی بھڑاس نکل جائے۔ مگر پہلے ہی سے "لسانی تذبذب” اور اس سے پیدا شدہ صورت حال سے ایک محبِ اردو ہونے کے ناطے اآزردہ ہوں اور مزید کوئی آزردگی مول لینا نہیں چاہتا۔ خیر جانے دیں
کافی وقت سے اخبارات اور رسائل میں چھپ رہے مواد سے انتہائی ذہنی کوفت ہو رہی ہے اور مدیران کے اپنے کام کی نسبت بے رغبتی اور تساہل سے بھی رنجیدگی کا عالم ہے۔ خبروں اور اخبارات میں دیگرادبی اور غیر ادبی مواد کی صحت کے متعلق جی چاہتا ہے کہ اخبارات کو پڑھنا بند کیا جائے، مگر کہیں کہیں اُمید کی کرنیں اۤنکھوں کو روشن کر ہی دیتی ہیں۔
اسی اُمید کے روشندان سے پھوٹنے والی ایک کرن روزنامہ سری نگرجنگ کے مدیر اعلی جناب بلال بشیر بٹ صاحب ہیں۔ اب بھی بلال صاحب ایسے صحافت سے جڑے کارکنان ہیں جو اے-اۤئی کے زمانے میں موصول شدہ اخباری مواد کی خوب چھان پھٹک کرکے ایک معیار کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ روزنامہ سری نگر جنگ سے میری نسبت قلیل ہی رہی ہے لیکن اپنے کچھ جاننے والوں کے تاثرات اور شاذ و نادر خود بھی روزنامے کے صفحے پلٹنے سے اس کے معیار اور بلال صاحب کی صحافت کے ساتھ سنجیدہ وابستگی کا اندازہ ہو ہی جاتا ہے۔
میری دعا ہے کہ روزنامہ ایک اچھے معیار و مرتبے کے ساتھ ترقی کرتا رہے اور صحافت اور ادب کی خدمت میں پیش پیش رہے۔
ڈاکٹر جہاں گیر حسن
نئی دلی
روزنامہ جنگ سری نگر اپنی غیر جانبدارانہ صحافت، معیاری اردو اور عوامی مسائل کی ترجمانی کے باعث جموں و کشمیر کا ایک معتبر ستون ہے۔ اخبار نے کٹھن حالات میں بھی فکری رہنمائی اور تعلیمی خدمات کا تسلسل برقرار رکھا، تاہم اسے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔
خورشید ریشی
کپواڑہ ، کشمیر
روزنامہ سرینگر جنگ صحافت کی دنیا کا معتبر نام ہے جو عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ ماضی، حال اور مستقبل کے ساتھ ساتھ ہماری تاریخ، ثقافت اور ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے عوامی مسائل، صحت، اخلاقیات اور کھیل کود کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
مسعود محبوب خان
(ممبئی)
بلال بشیر بٹ
مدیرِ اعلیٰ
روزنامہ سرینگر جنگ
السلامُ علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ!
امید ہے کہ آپ مزاجِ گرامی کے ساتھ بخیر و عافیت ہوں گے اور رضائے الٰہی کے حصول میں مصروفِ عمل ہوں گے۔
3 مئی 2026ء کو عالمی یومِ صحافت کے اس باوقار موقع پر روزنامہ سرینگر جنگ کے بارے میں اظہارِ خیال میرے لئے باعثِ سعادت ہے۔ یہ اخبار محض خبروں کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری و تہذیبی پلیٹ فارم کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے نہ صرف قلم کاروں کو شناخت بخشی بلکہ ان کے افکار کو دور دراز علاقوں تک پہنچانے کا موثر وسیلہ بھی فراہم کیا۔
راقم الحروف کے مضامین کو اپنی زینت بنا کر روزنامہ سرینگر جنگ نے جس حسنِ اعتماد اور حوصلہ افزائی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ لائقِ صد تحسین ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں جہاں صحافت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، وہاں اس اخبار نے سنجیدہ، متوازن اور مقصدی صحافت کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔
میری دعا ہے کہ یہ ادارہ حق و صداقت کی ترجمانی کرتے ہوئے ملت کی رہنمائی کا فریضہ اسی دیانت اور وقار کے ساتھ انجام دیتا رہے۔جزاکم اللّٰہ خیراً کثیراً
اختر جمال عثمانی
بارہ بنکی
روزنامہ سری نگر جنگ ایک معیاری اور دلچسپ اخبار ہے جو سیاسی، ادبی اور سماجی موضوعات کو متوازن انداز میں پیش کرتا ہے، اداریہ حالاتِ حاضرہ کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔
واجد اختر صدیقی
گلبرگہ، کرناٹک
روزنامہ سری نگر جنگ ایک معتبر اور باوقار اخبار ہے جو سچائی، دیانت داری اور غیرجانبداری کے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے عوامی مسائل کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے اور معیاری صحافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
رشید پروینمحترم بلال صاحب،
روزنامہ سرینگر جنگ اس اعتماد کو اپنی سب سے بڑی قوت سمجھتے ہوئے آئندہ بھی قارئین کی فکری رہنمائی اور اردو زبان و ادب کی خدمت کے لئے پُرعزم ہے۔


