بڑھتی گرمی کَٹتے جنگل : کنکریٹ کے اُگتے جنگل

اختر جمال عثمانی

بڑھتی گرمی، آلودگی اور کٹتے جنگلات نے انسانی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ترقی کے نام پر ہر طرف کنکریٹ کے جنگل تیزی سے اگتے جا رہے ہیں اس کے نتیجے میں موسم تیزی سے بدل رہے ہیں، گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے، بارشیں بے وقت ہو رہی ہیں، کہیں خشک سالی ہے اور کہیں سیلاب آ رہے ہیں۔ ان سب مسائل میں سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ دنیا کے بہت سے ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، لیکن جنوبی ایشیا خاص طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ہندوستان کے کئی شہروں میں گرمی کا پارہ 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ دہلی، لکھنؤ، کانپور، پریاگ راج، راجستھان، گجرات اور دوسرے علاقوں میں لوگ سخت گرمی سے پریشان ہیں۔ ان حالات میں زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جاتی ہے سڑکیں گرم ہو جاتی ہیں، پانی کم ہو جاتا ہے، بجلی کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر گرمی اتنی زیادہ کیوں بڑھ رہی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم درختوں کی کٹائی، آلودگی اور بے ہنگم ترقی شامل ہیں۔درخت بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہ ہمیں سایہ دیتے ہیں، ہوا کو صاف کرتے ہیں، زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں اور بارشوں کے نظام کو بہتر بناتے ہیں۔ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ جب کسی جگہ درخت زیادہ ہوتے ہیں تو وہاں موسم خوشگوار رہتا ہے۔ لیکن آج شہروں میں سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے اور نئی کالونیاں بنانے کے لئے بڑی تعداد میں سیکڑوں سال پرانے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ہرے بھرے میدان ختم کئے جا رہی ہیں ۔ اس سے گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔جب درخت کم ہوتے ہیں تو سورج کی دھوپ سیدھی زمین پر پڑتی ہے، مٹی خشک ہو جاتی ہے اور ہوا گرم ہونے لگتی ہے۔ پہلے جو جگہیں باغات اور کھیتوں سے بھری ہوتی تھیں، اب وہاں سیمنٹ اور لوہے کی عمارتیں نظر آتی ہیں، باغوں اور کھیتوں کی جگہ پلازہ دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں گرمی پہلے کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
گرمی بڑھنے کی دوسری بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیس، اینٹ بھٹوں کا دھواں، کوئلہ جلانے والے بجلی گھر اور کچرے کو جلانا فضا کو خراب کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے ایسی گیسیں خارج ہوتی ہیں جو زمین کے ارد گرد گرمی کو روک لیتی ہیں۔ اس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔شہروں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دیہات سے لوگ روزگار کے لئے شہروں میں آتے ہیں۔ نئی نئی کالونیاں بنتی ہیں، سڑکیں چوڑی کی جاتی ہیں، بازار بڑھتے ہیں اور ہر طرف کنکریٹ کا استعمال بڑھتا ہے۔ سیمنٹ، اینٹ اور تارکول دن بھر گرمی جذب کرتے ہیں اور رات کو چھوڑتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑے شہروں میں رات کے وقت بھی گرمی کم نہیں ہوتی۔گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آج ہر گھر میں موٹر سائیکل یا کار موجود ہے۔ سڑکوں پر لاکھوں گاڑیاں چلتی ہیں جو پٹرول اور ڈیزل جلاتی ہیں۔ اس سے دھواں نکلتا ہے، آلودگی بڑھتی ہے اور گرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر عوامی ٹرانسپورٹ بہتر اور قابلِ اعتماد ہو تو لوگ ذاتی گاڑیاں کم استعمال کریں گے اور آلودگی بھی کم ہو گی۔
شدید گرمی انسانی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ گرمی کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ سر درد، چکر آنا، کمزوری، تھکن اور بے ہوشی جیسی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ہیٹ اسٹروک جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ بچے، بوڑھے، بیمار افراد اور دھوپ میں کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ شدید گرمی سے دل اور سانس کے مریضوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ دمہ کے مریضوں کو سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ زیادہ گرمی سے بلڈ پریشر بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ دھوپ میں کام کرنے والے لوگوں جیسے مزدور ، کسان ، رکشے والے اور تعمیراتی کام کرنے والے براہ تاست گرمی کی زد میں ہوتے ہیں ۔گرمی بڑھنے سے پانی کی کمی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ندیوں، تالابوں اور جھیلوں کا پانی تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے چلی جاتی ہے۔ بورنگ خشک ہونے لگتی ہیں۔ دیہات میں لوگ دور سے پانی لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شہروں میں پانی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔زراعت بھی شدید گرمی سے متاثر ہوتی ہے۔ زیادہ گرمی سے گندم، چاول، سبزیاں اور پھل خراب ہو سکتے ہیں۔ فصلیں وقت سے پہلے پک جاتی ہیں یا سوکھ جاتی ہیں۔ اس سے کسان کو نقصان ہوتا ہے۔ جب پیداوار کم ہوتی ہے تو بازار میں چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کا اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔گرمی بڑھنے سے بجلی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ لوگ پنکھے، کولر اور اے سی زیادہ چلاتے ہیں۔ اس سے بجلی کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ نتیجے میں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور بجلی کا نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جب موسم خشک اور گرم ہو تو ذرا سی چنگاری بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ادھر کئی شہروں میں جھگی جھوپڑی کی بستیوں آتشزدگی کے بڑے واقعات ہوئے ہیں جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جنگلاتی آگ سے ہزاروں درخت جل جاتے ہیں، جانور مر جاتے ہیں اور دھواں فضا میں پھیل جاتا ہے۔ اس سے ماحول مزید خراب ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا حل موجود ہے، لیکن اس کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں۔ ہر شہر، ہر گاؤں، ہر اسکول، ہر سڑک کنارے درخت لگائے جائیں۔ صرف پودے لگا دینا کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ پرانے درختوں کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ایک بڑا درخت کئی سال میں تیار ہوتا ہے۔صاف توانائی کا استعمال بڑھانا چاہیے۔ سورج کی روشنی سے بجلی بنانا، ہوا سے توانائی حاصل کرنا اور ماحول دوست ذرائع اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کوئلہ اور تیل کم جلائیں گے تو آلودگی بھی کم ہو گی۔عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا چاہیے۔ بسوں ، میٹرو اور الیکٹرک گاڑیو ں کا قابلِ اعتماد نظام قائم ہو تاکہ لوگ ذاتی گاڑیاں کم استعمال کریں۔ اس سے ٹریفک بھی کم ہو گا اور ماحول بھی بہتر ہو گا۔گھروں اور عمارتوں کی تعمیر میں بھی کچھ باتوں کا خیال رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ایسے گھر بنائے جائیں جن میں ہوا اور روشنی کا اچھا انتظام ہو۔ پیڑ پودے لکانے کی جگہ ہو۔ سفید رنگ کے پینٹ استعمال کیے جائیں جو گرمی کم جذب کریں۔بارش کے پانی کو محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر بارش کا پانی جمع کیا جائے تو پانی کی کمی کم ہو سکتی ہے۔ گھروں اور عمارتوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ کا نظام ہونا چاہیے۔کچرے کو جلانے کے بجائے صحیح طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔ پلاسٹک کا استعمال کم کیا جائے۔ ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جائے تاکہ ماحول صاف رہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماحول کی حفاظت کے لئے سخت قوانین بنائے اور ان پر عمل کرائے۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی روکی جائے، صنعتوں پر نگرانی ہو، شہروں میں سبز علاقے بڑھائے جائیں اور صاف ستھری ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جائے۔عوام بھی زمہ داری محسوس کریں ۔ ہر شخص اگر سال میں چند درخت لگا دے، پانی بچائے، بجلی ضائع نہ کرے، گاڑی کم استعمال کرے اور صفائی کا خیال رکھے تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ ہر مذہب میں درخت لگانا نیکی ہے، پانی ضائع کرنا منع ہے اور زمین کو سنوارنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس لئے ماحول کی حفاظت صرف دنیاوی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں پانی کی کمی، خراب ہوا، شدید گرمی اور بیماریوں سے بھرپور دنیا ملے گی۔ اس لئے ہمیں ابھی سے توجہ دینی ہوگی۔ترقی ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایسی ترقی جو ماحول کو تباہ نہ کرے۔ اگر ہم درخت بچائیں، آلودگی کم کریں، پانی محفوظ کریں اور قدرت سے محبت کریں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ورنہ بڑھتی گرمی، آلودگی اور کٹتے درخت انسانیت کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ گرمی کتنی بڑھ گئی ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

بڑھتی گرمی کَٹتے جنگل : کنکریٹ کے اُگتے جنگل

اختر جمال عثمانی

بڑھتی گرمی، آلودگی اور کٹتے جنگلات نے انسانی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ترقی کے نام پر ہر طرف کنکریٹ کے جنگل تیزی سے اگتے جا رہے ہیں اس کے نتیجے میں موسم تیزی سے بدل رہے ہیں، گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے، بارشیں بے وقت ہو رہی ہیں، کہیں خشک سالی ہے اور کہیں سیلاب آ رہے ہیں۔ ان سب مسائل میں سب سے زیادہ خطرناک مسئلہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت ہے۔ دنیا کے بہت سے ملک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، لیکن جنوبی ایشیا خاص طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں گرمی کی شدت زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ہندوستان کے کئی شہروں میں گرمی کا پارہ 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا ہے۔ دہلی، لکھنؤ، کانپور، پریاگ راج، راجستھان، گجرات اور دوسرے علاقوں میں لوگ سخت گرمی سے پریشان ہیں۔ ان حالات میں زندگی مشکل سے مشکل تر ہو جاتی ہے سڑکیں گرم ہو جاتی ہیں، پانی کم ہو جاتا ہے، بجلی کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کی صحت متاثر ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر گرمی اتنی زیادہ کیوں بڑھ رہی ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں سب سے اہم درختوں کی کٹائی، آلودگی اور بے ہنگم ترقی شامل ہیں۔درخت بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہ ہمیں سایہ دیتے ہیں، ہوا کو صاف کرتے ہیں، زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں اور بارشوں کے نظام کو بہتر بناتے ہیں۔ درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن خارج کرتے ہیں۔ جب کسی جگہ درخت زیادہ ہوتے ہیں تو وہاں موسم خوشگوار رہتا ہے۔ لیکن آج شہروں میں سڑکیں بنانے، عمارتیں کھڑی کرنے اور نئی کالونیاں بنانے کے لئے بڑی تعداد میں سیکڑوں سال پرانے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ ہرے بھرے میدان ختم کئے جا رہی ہیں ۔ اس سے گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔جب درخت کم ہوتے ہیں تو سورج کی دھوپ سیدھی زمین پر پڑتی ہے، مٹی خشک ہو جاتی ہے اور ہوا گرم ہونے لگتی ہے۔ پہلے جو جگہیں باغات اور کھیتوں سے بھری ہوتی تھیں، اب وہاں سیمنٹ اور لوہے کی عمارتیں نظر آتی ہیں، باغوں اور کھیتوں کی جگہ پلازہ دکھائی دے رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں گرمی پہلے کے مقابلے میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
گرمی بڑھنے کی دوسری بڑی وجہ فضائی آلودگی ہے۔ فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں، گاڑیوں سے خارج ہونے والی گیس، اینٹ بھٹوں کا دھواں، کوئلہ جلانے والے بجلی گھر اور کچرے کو جلانا فضا کو خراب کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں سے ایسی گیسیں خارج ہوتی ہیں جو زمین کے ارد گرد گرمی کو روک لیتی ہیں۔ اس سے زمین کا درجہ حرارت بڑھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔شہروں کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دیہات سے لوگ روزگار کے لئے شہروں میں آتے ہیں۔ نئی نئی کالونیاں بنتی ہیں، سڑکیں چوڑی کی جاتی ہیں، بازار بڑھتے ہیں اور ہر طرف کنکریٹ کا استعمال بڑھتا ہے۔ سیمنٹ، اینٹ اور تارکول دن بھر گرمی جذب کرتے ہیں اور رات کو چھوڑتے رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے بڑے شہروں میں رات کے وقت بھی گرمی کم نہیں ہوتی۔گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ آج ہر گھر میں موٹر سائیکل یا کار موجود ہے۔ سڑکوں پر لاکھوں گاڑیاں چلتی ہیں جو پٹرول اور ڈیزل جلاتی ہیں۔ اس سے دھواں نکلتا ہے، آلودگی بڑھتی ہے اور گرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر عوامی ٹرانسپورٹ بہتر اور قابلِ اعتماد ہو تو لوگ ذاتی گاڑیاں کم استعمال کریں گے اور آلودگی بھی کم ہو گی۔
شدید گرمی انسانی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ گرمی کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔ سر درد، چکر آنا، کمزوری، تھکن اور بے ہوشی جیسی حالت پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ہیٹ اسٹروک جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ بچے، بوڑھے، بیمار افراد اور دھوپ میں کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ شدید گرمی سے دل اور سانس کے مریضوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ دمہ کے مریضوں کو سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔ زیادہ گرمی سے بلڈ پریشر بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ دھوپ میں کام کرنے والے لوگوں جیسے مزدور ، کسان ، رکشے والے اور تعمیراتی کام کرنے والے براہ تاست گرمی کی زد میں ہوتے ہیں ۔گرمی بڑھنے سے پانی کی کمی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ندیوں، تالابوں اور جھیلوں کا پانی تیزی سے کم ہونے لگتا ہے۔ زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے نیچے چلی جاتی ہے۔ بورنگ خشک ہونے لگتی ہیں۔ دیہات میں لوگ دور سے پانی لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شہروں میں پانی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے۔زراعت بھی شدید گرمی سے متاثر ہوتی ہے۔ زیادہ گرمی سے گندم، چاول، سبزیاں اور پھل خراب ہو سکتے ہیں۔ فصلیں وقت سے پہلے پک جاتی ہیں یا سوکھ جاتی ہیں۔ اس سے کسان کو نقصان ہوتا ہے۔ جب پیداوار کم ہوتی ہے تو بازار میں چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کا اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔گرمی بڑھنے سے بجلی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے۔ لوگ پنکھے، کولر اور اے سی زیادہ چلاتے ہیں۔ اس سے بجلی کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ نتیجے میں لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور بجلی کا نظام دباؤ میں آ جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جب موسم خشک اور گرم ہو تو ذرا سی چنگاری بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ادھر کئی شہروں میں جھگی جھوپڑی کی بستیوں آتشزدگی کے بڑے واقعات ہوئے ہیں جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جنگلاتی آگ سے ہزاروں درخت جل جاتے ہیں، جانور مر جاتے ہیں اور دھواں فضا میں پھیل جاتا ہے۔ اس سے ماحول مزید خراب ہوتا ہے۔ اس مسئلے کا حل موجود ہے، لیکن اس کے لئے سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہئیں۔ ہر شہر، ہر گاؤں، ہر اسکول، ہر سڑک کنارے درخت لگائے جائیں۔ صرف پودے لگا دینا کافی نہیں بلکہ ان کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ پرانے درختوں کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ ایک بڑا درخت کئی سال میں تیار ہوتا ہے۔صاف توانائی کا استعمال بڑھانا چاہیے۔ سورج کی روشنی سے بجلی بنانا، ہوا سے توانائی حاصل کرنا اور ماحول دوست ذرائع اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر ہم کوئلہ اور تیل کم جلائیں گے تو آلودگی بھی کم ہو گی۔عوامی ٹرانسپورٹ کو بہتر بنانا چاہیے۔ بسوں ، میٹرو اور الیکٹرک گاڑیو ں کا قابلِ اعتماد نظام قائم ہو تاکہ لوگ ذاتی گاڑیاں کم استعمال کریں۔ اس سے ٹریفک بھی کم ہو گا اور ماحول بھی بہتر ہو گا۔گھروں اور عمارتوں کی تعمیر میں بھی کچھ باتوں کا خیال رکھے جانے کی ضرورت ہے۔ ایسے گھر بنائے جائیں جن میں ہوا اور روشنی کا اچھا انتظام ہو۔ پیڑ پودے لکانے کی جگہ ہو۔ سفید رنگ کے پینٹ استعمال کیے جائیں جو گرمی کم جذب کریں۔بارش کے پانی کو محفوظ کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر بارش کا پانی جمع کیا جائے تو پانی کی کمی کم ہو سکتی ہے۔ گھروں اور عمارتوں میں رین واٹر ہارویسٹنگ کا نظام ہونا چاہیے۔کچرے کو جلانے کے بجائے صحیح طریقے سے ٹھکانے لگایا جائے۔ پلاسٹک کا استعمال کم کیا جائے۔ ری سائیکلنگ کو فروغ دیا جائے تاکہ ماحول صاف رہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ماحول کی حفاظت کے لئے سخت قوانین بنائے اور ان پر عمل کرائے۔ غیر قانونی درختوں کی کٹائی روکی جائے، صنعتوں پر نگرانی ہو، شہروں میں سبز علاقے بڑھائے جائیں اور صاف ستھری ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جائے۔عوام بھی زمہ داری محسوس کریں ۔ ہر شخص اگر سال میں چند درخت لگا دے، پانی بچائے، بجلی ضائع نہ کرے، گاڑی کم استعمال کرے اور صفائی کا خیال رکھے تو بہت فرق پڑ سکتا ہے۔ ہر مذہب میں درخت لگانا نیکی ہے، پانی ضائع کرنا منع ہے اور زمین کو سنوارنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس لئے ماحول کی حفاظت صرف دنیاوی نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔اگر ہم نے آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں پانی کی کمی، خراب ہوا، شدید گرمی اور بیماریوں سے بھرپور دنیا ملے گی۔ اس لئے ہمیں ابھی سے توجہ دینی ہوگی۔ترقی ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایسی ترقی جو ماحول کو تباہ نہ کرے۔ اگر ہم درخت بچائیں، آلودگی کم کریں، پانی محفوظ کریں اور قدرت سے محبت کریں تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ورنہ بڑھتی گرمی، آلودگی اور کٹتے درخت انسانیت کے لئے بہت بڑا خطرہ بن جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ گرمی کتنی بڑھ گئی ہے، سوال یہ ہے کہ ہم کب جاگیں گے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں