یہ اردو کے علمبردار!

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی اور حکمران جماعت کے سینئر لیڈر و وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کے درمیان حالیہ بیانوں نے ایک بار پھر اردو زبان کے مسئلے کو سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ جہاں وانی نے تحصیلدار امتحان سے اردو کو ہٹانے کے کسی بھی فیصلے کی سختی سے تردید کی ہے، وہیںپی ڈی پی سے وابستہ التجا مفتی کا یہ دعویٰ کہ اردو کو منظم طریقے سے پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اردو زبان کشمیر میں صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی اور انتظامی ورثہ بھی ہے۔تاہم زبانیں صرف جذباتی نعروں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ انہیں ادارہ جاتی سرپرستی، مسلسل استعمال اور عوامی سطح پر فروغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر میں اردو نے تاریخی طور پر مختلف لسانی گروہوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے اور حکومتی امور میں ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں اس کی حیثیت پر کوئی بھی خدشہ فطری طور پر تشویش کو جنم دیتا ہے۔
اس موقع پر ایک اہم اور قدرے تلخ خود احتسابی بھی ناگزیر ہے،خاص طور پر ان رہنماؤں کے لئے جو خود کو اردو کا سب سے بڑا محافظ قرار دینے پر نکل پڑے ہیں۔اگر ان رہنماؤں کے طرزِ عمل کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ پریس کانفرنس زیادہ تر انگریزی یا ملی جلی زبانوں میں ہوتی ہیں، اردو کا استعمال برائے نام ہوتا ہے۔ پریس ریلیز اور سوشل میڈیا پوسٹس میں بھی اردو شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ ان پلیٹ فارمز پر بھی، جہاں زبان کا انتخاب مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہوتا ہے، اردو کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا محض بیانات میں کسی زبان کی وکالت کرنا اور عملی طور پر اسے نظر انداز کرنا قابلِ قبول ہے؟اگر اردو کا حقیقی تحفظ مطلوب ہے تو اس کا آغاز انہی افراد سے ہونا چاہیے جو اس کے علمبردار بننے نکلے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو مثال قائم کرنی ہوگی،اردو میں بیانات جاری کریں، عوام سے اسی زبان میں رابطہ قائم کریں، اور اسے سرکاری و ڈیجیٹل میدان میں جگہ دیں۔ محض وقتی یا موقع پرستی پر مبنی آوازیں کسی زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔
"سستی سیاست”کی اصطلاح اگرچہ سخت معلوم ہوتی ہے، مگر یہ عوامی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔ آج کا باشعور معاشرہ کھوکھلے نعروں اور عملی اقدامات کے درمیان فرق بخوبی سمجھتا ہے۔ اگر واقعی اردو سے محبت ہے تو اسے صرف نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی طور پر اپنایا جائے۔جب تک دعوؤں اور عمل کے درمیان یہ خلیج برقرار رہے گی، تب تک ہر شور و غوغا محض سیاست کا ایک اور باب ہی سمجھا جائے گا، نہ کہ کسی زبان کے حقیقی دفاع کی کوشش۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

یہ اردو کے علمبردار!

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی صاحبزادی اور حکمران جماعت کے سینئر لیڈر و وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کے درمیان حالیہ بیانوں نے ایک بار پھر اردو زبان کے مسئلے کو سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ جہاں وانی نے تحصیلدار امتحان سے اردو کو ہٹانے کے کسی بھی فیصلے کی سختی سے تردید کی ہے، وہیںپی ڈی پی سے وابستہ التجا مفتی کا یہ دعویٰ کہ اردو کو منظم طریقے سے پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اردو زبان کشمیر میں صرف ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی اور انتظامی ورثہ بھی ہے۔تاہم زبانیں صرف جذباتی نعروں سے زندہ نہیں رہتیں بلکہ انہیں ادارہ جاتی سرپرستی، مسلسل استعمال اور عوامی سطح پر فروغ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر میں اردو نے تاریخی طور پر مختلف لسانی گروہوں کو جوڑنے کا کام کیا ہے اور حکومتی امور میں ایک پل کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں اس کی حیثیت پر کوئی بھی خدشہ فطری طور پر تشویش کو جنم دیتا ہے۔
اس موقع پر ایک اہم اور قدرے تلخ خود احتسابی بھی ناگزیر ہے،خاص طور پر ان رہنماؤں کے لئے جو خود کو اردو کا سب سے بڑا محافظ قرار دینے پر نکل پڑے ہیں۔اگر ان رہنماؤں کے طرزِ عمل کا بغور جائزہ لیا جائے تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ پریس کانفرنس زیادہ تر انگریزی یا ملی جلی زبانوں میں ہوتی ہیں، اردو کا استعمال برائے نام ہوتا ہے۔ پریس ریلیز اور سوشل میڈیا پوسٹس میں بھی اردو شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ ان پلیٹ فارمز پر بھی، جہاں زبان کا انتخاب مکمل طور پر ان کے اختیار میں ہوتا ہے، اردو کی موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا محض بیانات میں کسی زبان کی وکالت کرنا اور عملی طور پر اسے نظر انداز کرنا قابلِ قبول ہے؟اگر اردو کا حقیقی تحفظ مطلوب ہے تو اس کا آغاز انہی افراد سے ہونا چاہیے جو اس کے علمبردار بننے نکلے ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کو مثال قائم کرنی ہوگی،اردو میں بیانات جاری کریں، عوام سے اسی زبان میں رابطہ قائم کریں، اور اسے سرکاری و ڈیجیٹل میدان میں جگہ دیں۔ محض وقتی یا موقع پرستی پر مبنی آوازیں کسی زبان کو زندہ نہیں رکھ سکتیں۔
"سستی سیاست”کی اصطلاح اگرچہ سخت معلوم ہوتی ہے، مگر یہ عوامی بے چینی کی عکاسی کرتی ہے۔ آج کا باشعور معاشرہ کھوکھلے نعروں اور عملی اقدامات کے درمیان فرق بخوبی سمجھتا ہے۔ اگر واقعی اردو سے محبت ہے تو اسے صرف نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ عملی طور پر اپنایا جائے۔جب تک دعوؤں اور عمل کے درمیان یہ خلیج برقرار رہے گی، تب تک ہر شور و غوغا محض سیاست کا ایک اور باب ہی سمجھا جائے گا، نہ کہ کسی زبان کے حقیقی دفاع کی کوشش۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں