جنگ نیوز
نئی دہلی/ عام آدمی پارٹی (AAP) کو اس وقت بڑا سیاسی جھٹکا لگا جب راجیہ سبھا کے رکن راگھو چڈھا کی قیادت میں 7 ارکان پارلیمنٹ نے پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان کے ساتھ سندیپ پاٹھک، اشوک متل، ہربھجن سنگھ، سواتی مالیوال، وکرمجیت سنگھ سہنی اور راجندر گپتا بھی شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت سے راجیہ سبھا میں AAP کی طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چڈھا نے پارٹی پر بدعنوانی اور اصولوں سے انحراف کا الزام عائد کیا، جبکہ اروند کیجریوال نے اس اقدام کو سیاسی دھکا قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق دو تہائی اراکین کی شمولیت کے باعث اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت نااہلی کا اطلاق نہیں ہوگا۔
قابل ذکر ہے
اگر راگھو نے اکیلے عام آدمی پارٹی (AAP) چھوڑ دی ہوتی تو انہیں اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت راجیہ سبھا سے نااہلی کا سامنا کرنا پڑتا۔ عام طور پر کوئی رکن اپنی پارٹی وابستگی چھوڑنے یا پارٹی ہدایات (وہِپ) کی خلاف ورزی کرنے پر اپنی رکنیت کھو دیتا ہے۔
تاہم آئین کے دسویں شیڈول کے تحت یہ نااہلی اس صورت میں لاگو نہیں ہوتی جب کسی پارٹی کے کم از کم دو تہائی اراکین کسی دوسری پارٹی میں ضم ہونے پر متفق ہوں۔ AAP کے معاملے میں، اس کے 10 میں سے 7 راجیہ سبھا اراکین جو دو تہائی کی حد پوری کرتے ہیں اب پارٹی چھوڑ چکے ہیں۔


