بزرگوں کو نظرانداز نہ کریں

شبیر احمد میر

عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ عمر کے اس حصے میں انہیں معاشی سے زیادہ جذباتی، طبی، اخلاقی سپورٹ اور محبت کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بوڑھا ہونے پر کل آپ کی اولاد آپ کے تابعدار رہے اور آپ کو بھرپور توجہ دے، تو آج آپ کو اپنے بوڑھے والدین کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہمارا مذہب ہم سے کہتا ہے کہ ہمیں والدین کی خدمت ہر حال میں کرنی چاہیے۔ اولاد کا فرض ہے کہ ان کی social activities میں ان کی مدد کریں۔
٭ ان کے غسل کرنے، کھانے پینے، چلنے، دوائی کھلانے اور ٹوائلٹ جانے میں ان کی مدد کریں۔
٭ ان کی ورزش کرنے کے لیے ان کی مدد کریں۔
٭ بلڈ پریشر اور شوگر چیک کرتے رہیں اور میڈیکل اپائنٹمنٹ کا خیال رکھیں۔
٭ ثقافتی و مذہبی عادات کا خیال رکھیں۔
٭ ان کو بھرپور محبت دیں اور انہیں تنہائی کا احساس نہ ہونے دیں۔
٭ مختلف باتوں میں ان سے مشورہ لیں اور گھر کے ہر کام میں ان کو شریک کریں۔
٭ اپنے بچوں کو بھی اس بات کی تربیت دیں کہ وہ اپنے دادا، دادی، نانا، نانی کی خدمت کریں۔
٭ خاندان کے دوسرے افراد سے ان کو ملوائیں اور ان کے گھر لے جائیں۔
٭ گھریلو تقریبات میں ان سے مشورہ لیں۔
٭ عبادت کے لیے ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھیں۔
٭ سردیوں میں وضو کے لیے گرم پانی کا انتظام کریں۔
٭ کہیں آنے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی آسانی و دستیابی کا خیال رکھیں۔
٭ بازاروں میں اگر وہ چل پھر نہ سکیں تو وہیل چیئر پر ان کو لے کر جائیں۔
٭ ڈاکٹر سے مستقل چیک اپ کروائیں۔
٭ ان کی بیماری کے متعلق پرہیزی کھانوں پر توجہ دیں۔
٭ صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
٭ اگر وہ مطالعہ کے شوقین ہیں تو ان کو اخبار، رسائل اور کتابیں ضرور مہیا کریں۔
٭ ان کے غصے کا برا نہ مانیں اور نہ ہی ان پر غصے کا اظہار کریں۔
٭ ان سے بحث نہ کریں۔
ان باتوں پر عمل کر کے آپ نہ صرف اپنے بوڑھے والدین یا رشتہ داروں کا دل خوش کر سکتے ہیں بلکہ دین و دنیا کی بھلائی بھی پا سکتے ہیں۔
یہ پڑھتے ہی اس کے تن من کی ساری کھڑکیاں اور دروازے بجنے لگے۔ اسے لگا جیسے اس نے کسی ایک ہدایت پر بھی عمل نہیں کیا۔ اس کے ہاتھوں سے اخبار چھوٹ کر گر پڑا، جس پر یہ ساری ہدایات لکھی گئی تھیں۔ اس پر جیسے بجلی آ گری۔ اس اخبار کی ایک ایک ہدایت نے اس کے بدن کا سارا خون نچوڑ لیا۔ وہ کسی پتھر کے مجسمے کی طرح بے حس و حرکت ہو گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کا سارا منظر گھوم گیا۔ وہ سب کچھ دیکھتے تھے مگر چپ رہتے تھے۔ ان کا بجھا بجھا سا چہرہ، پیلی پیلی بے نور آنکھیں، خشک ہونٹ اور ہاتھوں کی انگلیاں جو ہر وقت کانپتی رہتی تھیں۔ دن کو وہ سوتے ہی نہیں تھے، لیکن رات کو بھی انہیں بہت کم نیند آتی تھی اور لوگوں سے بہت کم بات کرتے تھے۔ اکثر اوقات چھت کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے، جیسے موت کی آہٹ سن رہے ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان کے اندر جینے کی خواہش دب سی گئی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بیماری کے حوالے کر دیا ہو۔
اف میرے خدا! اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ یہ کیا ہو گیا؟ رشتے ناتے، بے پناہ خوشیاں جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر محبت کی مہک لیے پروان چڑھ رہی تھیں اور کسی چمکیلی صبح کی طرح نکھرتی جا رہی تھیں، جیسے وہ سب کچھ ایک خواب ہی تھا۔ وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا اور دل کے زخم میں ٹھیس اٹھنے لگی۔ جیسے اب یہ گھر نہیں بلکہ ایک قبرستان ہے، اس گھر میں سب مر چکے ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک بھونچال سا آ گیا، جیسے ساری دنیا تاریک ہو گئی ہو اور وہ ڈول رہا ہو، کانپ رہا ہو۔ یہ دنیا، یہ لوگ، یہ ماحول سب گندے ہیں۔ مجھے نفرت ہو گئی ہے سب سے۔ ہر طرف ہوس ہی ہوس ہے۔ ہر کوئی نفس کا ستایا ہوا پھر رہا ہے۔ ہماری اس خود غرضانہ سوچ نے ہی تو ہمارے خون میں poison بھر دیا ہے۔ ہم بذات خود اس تمام کیے دھرے کے قصوروار ہیں، جس کی سزا ہماری نسل کو عذاب کی صورت میں مل کر رہے گی۔
میری شریک حیات میرے قریب آ گئی۔ میں نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا تاکہ وہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکے۔ دوسرے لمحے اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے چہرے کا رخ اپنی طرف کر لیا۔ میں نے دیکھا، میری بیوی کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی اور آنکھوں میں جیسے سوچ کے بھنور نمودار ہو گئے، اور اس نے کہا: تمہاری بے چینی میں سمجھ سکتی ہوں۔ ایک بار میری آنکھوں میں دیکھو، ان دھڑکنوں کو سنو، پھر کہو، کیا میں غلط تھی؟ کیا میں نے آپ کے والدین کی خدمت نہیں کی؟ اس اخبار کے مطابق کیا کسی ایک ہدایت کو میں نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا؟ اپنی اس الجھن سے باہر نکل آؤ۔ میں جانتی ہوں اور سمجھ سکتی ہوں اس مدہم سرگوشی کو بھی جو تمہارے دل میں کہیں دبی ہوئی ہے اور جس کو تم اب تک نہیں کہہ سکے۔ میری آنکھوں میں دیکھو! کیا مجھے اب بھی لفظوں کی ضرورت ہے تمہیں سمجھانے کے لیے؟ وہ میری آنکھوں میں یک ٹک دیکھنے لگا۔ عجیب کھویا کھویا سا انداز تھا۔ میں نے پیار بھرے لہجے میں کہا:
اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو اور باقی سب فراموش کر دو۔ بھول جاؤ یہ جو اخبار میں لکھی ہوئی ہدایات ہیں، یہ آپ کو صرف کتابوں میں ہی پڑھنے کو ملیں گی۔ یہ ساری باتیں صرف کہنے اور سننے کے لیے ہوتی ہیں، جو بہت ہی خوبصورت اور اچھی لگتی ہیں۔ ان پر عمل کرنا پڑ جائے تو جان عذاب میں آ جاتی ہے، گلے میں پھندا پڑ جاتا ہے۔ انسان چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ جاتا ہے۔ امیدیں ختم ہو جاتی ہیں، حاصل پھر بھی کچھ نہیں ہوتا، الٹا اپنے دل کی لاش اٹھانا پڑتی ہے، اور اپنے دل کی لاش اپنے کندھوں پر اٹھانا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک ماں باپ جو اپنی اولاد کو نہ صرف پیار دیتے ہیں بلکہ مان اور اعتبار بھی دیتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ بڑھاپے میں وہ ان کی حفاظت کریں گے۔ ہر اولاد چاہتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے لیے دنیا بھر کی نعمتیں اور خزانوں کے ڈھیر لگا دے۔ اس میں شک نہیں، یہ رشتے کسی زمانے میں بہت عظیم ہوا کرتے تھے، لیکن آج ہم جس دور اور جس ماحول میں جی رہے ہیں، یہ وہ خوابوں کی زندگی نہیں اور نہ ہی اسے خوابوں خیالوں کی باتیں کرتے ہوئے گزارا جا سکتا ہے۔ ہمیں آج حقیقت میں جینا پڑتا ہے اور حقیقت میں جینے کے لیے حقیقت کو قبول کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ جتنا شور ہم دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم کتنے مضبوط اور بہادر ہیں، اس سے کہیں زیادہ خاموشی سے ہم ریت کی بھری دیوار کی طرح اندر سے ڈھے جاتے ہیں، اور اس سکوت بھری خاموشی میں ہم خود سے بچھڑے، زندگی کی شاخ سے ٹوٹے ہر رشتے کی قبر پر برسوں یادوں کے کتنے ہی دیے جلاتے ہیں، مگر پھر بھی ہمارے اندر کی مفلسی اور اندھیرا ختم نہیں ہوتا۔ ساری زندگی تو اس ایک غم میں گزار دی، لاحاصل کی دھوپ میں۔ ہم مسکراہٹیں بکھیر کر بھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ اندر سے ہم مر چکے ہیں۔ ہم دنیا کے تابوت میں رکھ دیے گئے ہیں اور تابوت کے خانوں میں کیلیں ٹھونک دی گئی ہیں۔ تم نے محسوس بھی کیا، جب ضرورتیں بڑھتی ہیں تو محبتوں کی شدت میں بھی کمی آ جاتی ہے؟ ایک عورت سے پیار کرنا اور بچے پیدا کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن ازدواجی زندگی کے دوسرے مرحلے میں بچے اور سلسلہ وار زندگی کی ضرورتیں انسان کی کمر توڑ دیتی ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال، ان کی فیس، کتابیں، کپڑے۔ اب نل میں بھی پانی کم آتا ہے، رات کو سونے کے لیے جگہ بھی کم پڑتی ہے، اور تنخواہ تو اس قدر کم ہوتی ہے کہ مہینے میں صرف پندرہ دن چلتی ہے۔ باقی پندرہ دن وہ سودخور دکاندار چلاتا ہے، وہ بھی کیسی کیسی گالیاں بکتا ہے۔ دوائیاں اس قدر مہنگی ہیں کہ پوری تنخواہ دے کر صرف ایک ہفتے کی دوا نصیب ہوگی۔ ڈاکٹر کو فیس نہیں ملے گی تو وہ تمہاری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گا۔ یہ ٹوٹے پھوٹے دروازے، پھٹے پرانے پردے، در و دیوار سے جو غربت اور فقیری ٹپک رہی ہے، کسی کو ہمارے گھر کے اندر آنے نہیں دیں گے۔ رشتہ لانا تو کجا، کوئی بچیوں کو دیکھنے تک نہیں آئے گا۔
اپنا دم سنبھالتے ہوئے پھر کہا:
ایک گھر کرنے کی خواہش میں عورت کو ضبط کے کیسے کیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک چھت کے لیے عورت کیا کیا نہیں سہتی۔ سیاہ روشنائی سے لکھی گئی تقدیر کو سنہری روشنائی میں بدلنے میں ایک عورت کی ساری عمر گزر جاتی ہے۔ اتنا درد، اتنی تکلیف اٹھا کر بچے کو دنیا میں لاتی ہے، اور اس کے بدلے مرد کی توجہ، اس کا مہربان لمس، ہمدردی کے چند بول۔ عورت کو مان، یقینی تحفظ کے حصار میں وہ کیا کیا نہیں سہتی۔ جب اسے سانس لینا بھی دوبھر لگنے لگے تو اس کی خواہشات، آرزوؤں اور ارمانوں کے مقبرے پر کھڑے ہو کر اس کے سینے پر ایک کامیاب عورت کا تمغہ لگا دیتے ہیں۔ اکثر ہوتا ہے نا زندگی میں ایسا بھی، انسان دہاڑیں مار مار کر رو رہا ہوتا ہے اور آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ نہیں بہتا۔ بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ اور حواؑ کو زندگی کا آغاز کرنے کے لیے ساری دنیا دے دی تھی، اور ہماری زندگی…؟ آج کل ہماری زندگی مکمل طور پر ہماری ملکیت نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس قیامت کے دور میں رشتے، دوستیاں اور جذبات وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح اوجھل ہو کر ہر نشان یوں مٹا دیتے ہیں کہ پھر وہ یادیں جو ان رشتوں، دوستوں اور جذبات سے وابستہ ہوتی ہیں، یاد کرنے پر بھی یاد نہیں آتیں۔ اس مہنگائی کے دور میں ایک انسان کی اوقات اتنی نہیں جتنی وہ سمجھ بیٹھا ہے۔ بیوی آپ کے گھر کی رونق، آپ کے بچے دل کی ٹھنڈک اور گھر کی مالکن ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بچوں کے معاملے میں ماؤں کے احساسات زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔ انہیں بچوں کی ہلکی پریشانی کی بھی خبر ہو جاتی ہے۔ اس معاملے میں جسم اور روح دونوں کو ڈھانپ کر رکھنا ہی بھلائی ہے، ورنہ لوگ اپنی اپنی طلب کے حساب سے اپنی خواہشوں کا سلسلہ آپ کے کندھوں پر ڈالتے جائیں گے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا، جس سے اس گھر کے ہر فرد کی زندگی میں زہر، نفرتیں اور تلخیاں گھل جائیں گی، جس سے ہر ایک کی روح بھی زخمی ہوتی جائے گی۔ پیار بھرا گھر بار بار بسایا نہیں جاتا، یہ پرندوں کے آشیانے کی طرح ہوتا ہے۔
اپنی آنکھیں کھولو اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لو۔ گھر سے ایک بہت بڑی ٹینشن رخصت ہو جائے تو آدمی ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے موت جیسی نعمت عطا کی ہے۔ لہٰذا اس واقعے کو بھیانک خواب سمجھ کر بھلا دو۔ اتنا غصہ ٹھیک نہیں، خون جلتا ہے اور اگر جسم کا خون جل جائے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ بس دو چار دن، پھر ایک شاندار جشن، پھر ساری کہانی ختم۔ یہ تمہارا جیسا حال تب ہی ہوتا ہے جب کوئی گھناونا گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں وہ بھی انسان ہیں جو نہ جانے کیا کیا گناہ کرتے پھر رہے ہیں، مگر انہیں اپنے کیے پر کوئی دکھ، کوئی شرم نہیں۔ آخر میں بس اتنا ضرور کہوں گی، زندگی میں جب بھی کوئی مشکل ضبط لگے، اپنے ضمیر کی ضرور سنو۔ ضمیر ہمیشہ انسان کو صحیح فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے، اور اللہ کے سوا کبھی کسی سے امید مت لگانا۔ انسانوں، رشتہ داروں یا اپنی ہی اولاد سے لگائی جانے والی امیدیں اکثر ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ اونچے خواب دیکھنے والو، تو بندے کو اپنی ایڑیاں بھی اوپر اٹھانی پڑتی ہیں، اور بندہ زیادہ دیر پنجوں کے بل کھڑا نہیں ہو سکتا، اسے واپس اپنی جگہ پر ٹکنا پڑتا ہے۔ کسی کو آدھا مارنا ہو تو اس کا اعتبار توڑ دو، اور اگر پورا مارنا ہو تو اس پر سے اپنا اعتبار ہمیشہ کے لیے ختم کر دو۔
یہ کہہ کر اس کی آنکھوں سے پانی کا ایک قطرہ ٹپکا اور پھر وہ پتلی سی لکیر کی صورت اس کے گال پر تیرتا ہوا ٹھوڑی پہ جا رکا۔ اگلی لکیر اس قطرے تک پہنچی تو وہ لڑھک کر اس کی گود میں جا گرا، اور بھی قطاریں بندھ گئیں۔
دونوں نے چاند سے نظریں ہٹا کر بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا، اور دل کی گہرائیوں سے محسوس ہونے والی سچی خوشی نے رنگ ہی رنگ بھر دیے، جس کے رنگ اس کے چہرے پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ مجھے معاف کر دو، میں تمہارے اندر چھپی خوبصورتی دیکھ نہیں پایا۔ بدصورتی اور خوبصورتی کے بیچ معمولی سے فرق کو نہیں سمجھ پایا۔ سب سے بڑی خوبصورتی کردار کی ہوتی ہے، جو ہمیشہ ساتھ رہتی ہے، اور مجھے فخر ہے کہ میری بیوی، میری ہمسفر، میری شریک حیات و شریک وفات دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہے۔ آج کل کے اس دور میں دنیاوی آلائشوں سے پاک، ہم تمہیں سلام کرتے ہیں۔ اس دفعہ اس کی بیوی نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا کیونکہ اس نے اپنی ہتھیلی سے اپنی آنکھوں کو رگڑا اور چہرے پر آنسوؤں کی دھاریں صاف کیں۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

بزرگوں کو نظرانداز نہ کریں

شبیر احمد میر

عمر رسیدہ افراد کی دیکھ بھال ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ عمر کے اس حصے میں انہیں معاشی سے زیادہ جذباتی، طبی، اخلاقی سپورٹ اور محبت کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بوڑھا ہونے پر کل آپ کی اولاد آپ کے تابعدار رہے اور آپ کو بھرپور توجہ دے، تو آج آپ کو اپنے بوڑھے والدین کا خیال رکھنا ہوگا۔ ہمارا مذہب ہم سے کہتا ہے کہ ہمیں والدین کی خدمت ہر حال میں کرنی چاہیے۔ اولاد کا فرض ہے کہ ان کی social activities میں ان کی مدد کریں۔
٭ ان کے غسل کرنے، کھانے پینے، چلنے، دوائی کھلانے اور ٹوائلٹ جانے میں ان کی مدد کریں۔
٭ ان کی ورزش کرنے کے لیے ان کی مدد کریں۔
٭ بلڈ پریشر اور شوگر چیک کرتے رہیں اور میڈیکل اپائنٹمنٹ کا خیال رکھیں۔
٭ ثقافتی و مذہبی عادات کا خیال رکھیں۔
٭ ان کو بھرپور محبت دیں اور انہیں تنہائی کا احساس نہ ہونے دیں۔
٭ مختلف باتوں میں ان سے مشورہ لیں اور گھر کے ہر کام میں ان کو شریک کریں۔
٭ اپنے بچوں کو بھی اس بات کی تربیت دیں کہ وہ اپنے دادا، دادی، نانا، نانی کی خدمت کریں۔
٭ خاندان کے دوسرے افراد سے ان کو ملوائیں اور ان کے گھر لے جائیں۔
٭ گھریلو تقریبات میں ان سے مشورہ لیں۔
٭ عبادت کے لیے ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھیں۔
٭ سردیوں میں وضو کے لیے گرم پانی کا انتظام کریں۔
٭ کہیں آنے جانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی آسانی و دستیابی کا خیال رکھیں۔
٭ بازاروں میں اگر وہ چل پھر نہ سکیں تو وہیل چیئر پر ان کو لے کر جائیں۔
٭ ڈاکٹر سے مستقل چیک اپ کروائیں۔
٭ ان کی بیماری کے متعلق پرہیزی کھانوں پر توجہ دیں۔
٭ صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
٭ اگر وہ مطالعہ کے شوقین ہیں تو ان کو اخبار، رسائل اور کتابیں ضرور مہیا کریں۔
٭ ان کے غصے کا برا نہ مانیں اور نہ ہی ان پر غصے کا اظہار کریں۔
٭ ان سے بحث نہ کریں۔
ان باتوں پر عمل کر کے آپ نہ صرف اپنے بوڑھے والدین یا رشتہ داروں کا دل خوش کر سکتے ہیں بلکہ دین و دنیا کی بھلائی بھی پا سکتے ہیں۔
یہ پڑھتے ہی اس کے تن من کی ساری کھڑکیاں اور دروازے بجنے لگے۔ اسے لگا جیسے اس نے کسی ایک ہدایت پر بھی عمل نہیں کیا۔ اس کے ہاتھوں سے اخبار چھوٹ کر گر پڑا، جس پر یہ ساری ہدایات لکھی گئی تھیں۔ اس پر جیسے بجلی آ گری۔ اس اخبار کی ایک ایک ہدایت نے اس کے بدن کا سارا خون نچوڑ لیا۔ وہ کسی پتھر کے مجسمے کی طرح بے حس و حرکت ہو گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے والدین کا سارا منظر گھوم گیا۔ وہ سب کچھ دیکھتے تھے مگر چپ رہتے تھے۔ ان کا بجھا بجھا سا چہرہ، پیلی پیلی بے نور آنکھیں، خشک ہونٹ اور ہاتھوں کی انگلیاں جو ہر وقت کانپتی رہتی تھیں۔ دن کو وہ سوتے ہی نہیں تھے، لیکن رات کو بھی انہیں بہت کم نیند آتی تھی اور لوگوں سے بہت کم بات کرتے تھے۔ اکثر اوقات چھت کی طرف ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے، جیسے موت کی آہٹ سن رہے ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ان کے اندر جینے کی خواہش دب سی گئی ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بیماری کے حوالے کر دیا ہو۔
اف میرے خدا! اس نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا۔ یہ کیا ہو گیا؟ رشتے ناتے، بے پناہ خوشیاں جو اس گھر کی چار دیواری کے اندر محبت کی مہک لیے پروان چڑھ رہی تھیں اور کسی چمکیلی صبح کی طرح نکھرتی جا رہی تھیں، جیسے وہ سب کچھ ایک خواب ہی تھا۔ وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایا اور دل کے زخم میں ٹھیس اٹھنے لگی۔ جیسے اب یہ گھر نہیں بلکہ ایک قبرستان ہے، اس گھر میں سب مر چکے ہیں۔ اس کے ذہن میں ایک بھونچال سا آ گیا، جیسے ساری دنیا تاریک ہو گئی ہو اور وہ ڈول رہا ہو، کانپ رہا ہو۔ یہ دنیا، یہ لوگ، یہ ماحول سب گندے ہیں۔ مجھے نفرت ہو گئی ہے سب سے۔ ہر طرف ہوس ہی ہوس ہے۔ ہر کوئی نفس کا ستایا ہوا پھر رہا ہے۔ ہماری اس خود غرضانہ سوچ نے ہی تو ہمارے خون میں poison بھر دیا ہے۔ ہم بذات خود اس تمام کیے دھرے کے قصوروار ہیں، جس کی سزا ہماری نسل کو عذاب کی صورت میں مل کر رہے گی۔
میری شریک حیات میرے قریب آ گئی۔ میں نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا تاکہ وہ میرا چہرہ نہ دیکھ سکے۔ دوسرے لمحے اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے چہرے کا رخ اپنی طرف کر لیا۔ میں نے دیکھا، میری بیوی کے چہرے پر گہری سنجیدگی چھا گئی اور آنکھوں میں جیسے سوچ کے بھنور نمودار ہو گئے، اور اس نے کہا: تمہاری بے چینی میں سمجھ سکتی ہوں۔ ایک بار میری آنکھوں میں دیکھو، ان دھڑکنوں کو سنو، پھر کہو، کیا میں غلط تھی؟ کیا میں نے آپ کے والدین کی خدمت نہیں کی؟ اس اخبار کے مطابق کیا کسی ایک ہدایت کو میں نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا؟ اپنی اس الجھن سے باہر نکل آؤ۔ میں جانتی ہوں اور سمجھ سکتی ہوں اس مدہم سرگوشی کو بھی جو تمہارے دل میں کہیں دبی ہوئی ہے اور جس کو تم اب تک نہیں کہہ سکے۔ میری آنکھوں میں دیکھو! کیا مجھے اب بھی لفظوں کی ضرورت ہے تمہیں سمجھانے کے لیے؟ وہ میری آنکھوں میں یک ٹک دیکھنے لگا۔ عجیب کھویا کھویا سا انداز تھا۔ میں نے پیار بھرے لہجے میں کہا:
اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دو اور باقی سب فراموش کر دو۔ بھول جاؤ یہ جو اخبار میں لکھی ہوئی ہدایات ہیں، یہ آپ کو صرف کتابوں میں ہی پڑھنے کو ملیں گی۔ یہ ساری باتیں صرف کہنے اور سننے کے لیے ہوتی ہیں، جو بہت ہی خوبصورت اور اچھی لگتی ہیں۔ ان پر عمل کرنا پڑ جائے تو جان عذاب میں آ جاتی ہے، گلے میں پھندا پڑ جاتا ہے۔ انسان چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ جاتا ہے۔ امیدیں ختم ہو جاتی ہیں، حاصل پھر بھی کچھ نہیں ہوتا، الٹا اپنے دل کی لاش اٹھانا پڑتی ہے، اور اپنے دل کی لاش اپنے کندھوں پر اٹھانا کوئی آسان کام نہیں۔ ایک ماں باپ جو اپنی اولاد کو نہ صرف پیار دیتے ہیں بلکہ مان اور اعتبار بھی دیتے ہیں، اس یقین کے ساتھ کہ بڑھاپے میں وہ ان کی حفاظت کریں گے۔ ہر اولاد چاہتی ہے کہ وہ اپنے والدین کے لیے دنیا بھر کی نعمتیں اور خزانوں کے ڈھیر لگا دے۔ اس میں شک نہیں، یہ رشتے کسی زمانے میں بہت عظیم ہوا کرتے تھے، لیکن آج ہم جس دور اور جس ماحول میں جی رہے ہیں، یہ وہ خوابوں کی زندگی نہیں اور نہ ہی اسے خوابوں خیالوں کی باتیں کرتے ہوئے گزارا جا سکتا ہے۔ ہمیں آج حقیقت میں جینا پڑتا ہے اور حقیقت میں جینے کے لیے حقیقت کو قبول کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ جتنا شور ہم دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کرتے ہیں کہ ہم کتنے مضبوط اور بہادر ہیں، اس سے کہیں زیادہ خاموشی سے ہم ریت کی بھری دیوار کی طرح اندر سے ڈھے جاتے ہیں، اور اس سکوت بھری خاموشی میں ہم خود سے بچھڑے، زندگی کی شاخ سے ٹوٹے ہر رشتے کی قبر پر برسوں یادوں کے کتنے ہی دیے جلاتے ہیں، مگر پھر بھی ہمارے اندر کی مفلسی اور اندھیرا ختم نہیں ہوتا۔ ساری زندگی تو اس ایک غم میں گزار دی، لاحاصل کی دھوپ میں۔ ہم مسکراہٹیں بکھیر کر بھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ اندر سے ہم مر چکے ہیں۔ ہم دنیا کے تابوت میں رکھ دیے گئے ہیں اور تابوت کے خانوں میں کیلیں ٹھونک دی گئی ہیں۔ تم نے محسوس بھی کیا، جب ضرورتیں بڑھتی ہیں تو محبتوں کی شدت میں بھی کمی آ جاتی ہے؟ ایک عورت سے پیار کرنا اور بچے پیدا کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن ازدواجی زندگی کے دوسرے مرحلے میں بچے اور سلسلہ وار زندگی کی ضرورتیں انسان کی کمر توڑ دیتی ہیں۔ بچوں کی دیکھ بھال، ان کی فیس، کتابیں، کپڑے۔ اب نل میں بھی پانی کم آتا ہے، رات کو سونے کے لیے جگہ بھی کم پڑتی ہے، اور تنخواہ تو اس قدر کم ہوتی ہے کہ مہینے میں صرف پندرہ دن چلتی ہے۔ باقی پندرہ دن وہ سودخور دکاندار چلاتا ہے، وہ بھی کیسی کیسی گالیاں بکتا ہے۔ دوائیاں اس قدر مہنگی ہیں کہ پوری تنخواہ دے کر صرف ایک ہفتے کی دوا نصیب ہوگی۔ ڈاکٹر کو فیس نہیں ملے گی تو وہ تمہاری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کرے گا۔ یہ ٹوٹے پھوٹے دروازے، پھٹے پرانے پردے، در و دیوار سے جو غربت اور فقیری ٹپک رہی ہے، کسی کو ہمارے گھر کے اندر آنے نہیں دیں گے۔ رشتہ لانا تو کجا، کوئی بچیوں کو دیکھنے تک نہیں آئے گا۔
اپنا دم سنبھالتے ہوئے پھر کہا:
ایک گھر کرنے کی خواہش میں عورت کو ضبط کے کیسے کیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک چھت کے لیے عورت کیا کیا نہیں سہتی۔ سیاہ روشنائی سے لکھی گئی تقدیر کو سنہری روشنائی میں بدلنے میں ایک عورت کی ساری عمر گزر جاتی ہے۔ اتنا درد، اتنی تکلیف اٹھا کر بچے کو دنیا میں لاتی ہے، اور اس کے بدلے مرد کی توجہ، اس کا مہربان لمس، ہمدردی کے چند بول۔ عورت کو مان، یقینی تحفظ کے حصار میں وہ کیا کیا نہیں سہتی۔ جب اسے سانس لینا بھی دوبھر لگنے لگے تو اس کی خواہشات، آرزوؤں اور ارمانوں کے مقبرے پر کھڑے ہو کر اس کے سینے پر ایک کامیاب عورت کا تمغہ لگا دیتے ہیں۔ اکثر ہوتا ہے نا زندگی میں ایسا بھی، انسان دہاڑیں مار مار کر رو رہا ہوتا ہے اور آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ نہیں بہتا۔ بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ اور حواؑ کو زندگی کا آغاز کرنے کے لیے ساری دنیا دے دی تھی، اور ہماری زندگی…؟ آج کل ہماری زندگی مکمل طور پر ہماری ملکیت نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ اس قیامت کے دور میں رشتے، دوستیاں اور جذبات وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح اوجھل ہو کر ہر نشان یوں مٹا دیتے ہیں کہ پھر وہ یادیں جو ان رشتوں، دوستوں اور جذبات سے وابستہ ہوتی ہیں، یاد کرنے پر بھی یاد نہیں آتیں۔ اس مہنگائی کے دور میں ایک انسان کی اوقات اتنی نہیں جتنی وہ سمجھ بیٹھا ہے۔ بیوی آپ کے گھر کی رونق، آپ کے بچے دل کی ٹھنڈک اور گھر کی مالکن ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بچوں کے معاملے میں ماؤں کے احساسات زیادہ تیز ہو جاتے ہیں۔ انہیں بچوں کی ہلکی پریشانی کی بھی خبر ہو جاتی ہے۔ اس معاملے میں جسم اور روح دونوں کو ڈھانپ کر رکھنا ہی بھلائی ہے، ورنہ لوگ اپنی اپنی طلب کے حساب سے اپنی خواہشوں کا سلسلہ آپ کے کندھوں پر ڈالتے جائیں گے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا، جس سے اس گھر کے ہر فرد کی زندگی میں زہر، نفرتیں اور تلخیاں گھل جائیں گی، جس سے ہر ایک کی روح بھی زخمی ہوتی جائے گی۔ پیار بھرا گھر بار بار بسایا نہیں جاتا، یہ پرندوں کے آشیانے کی طرح ہوتا ہے۔
اپنی آنکھیں کھولو اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لو۔ گھر سے ایک بہت بڑی ٹینشن رخصت ہو جائے تو آدمی ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔ اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے موت جیسی نعمت عطا کی ہے۔ لہٰذا اس واقعے کو بھیانک خواب سمجھ کر بھلا دو۔ اتنا غصہ ٹھیک نہیں، خون جلتا ہے اور اگر جسم کا خون جل جائے تو انسان کہیں کا نہیں رہتا۔ بس دو چار دن، پھر ایک شاندار جشن، پھر ساری کہانی ختم۔ یہ تمہارا جیسا حال تب ہی ہوتا ہے جب کوئی گھناونا گناہ سرزد ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں وہ بھی انسان ہیں جو نہ جانے کیا کیا گناہ کرتے پھر رہے ہیں، مگر انہیں اپنے کیے پر کوئی دکھ، کوئی شرم نہیں۔ آخر میں بس اتنا ضرور کہوں گی، زندگی میں جب بھی کوئی مشکل ضبط لگے، اپنے ضمیر کی ضرور سنو۔ ضمیر ہمیشہ انسان کو صحیح فیصلہ کرنے میں مدد دیتا ہے، اور اللہ کے سوا کبھی کسی سے امید مت لگانا۔ انسانوں، رشتہ داروں یا اپنی ہی اولاد سے لگائی جانے والی امیدیں اکثر ٹوٹ جایا کرتی ہیں۔ اونچے خواب دیکھنے والو، تو بندے کو اپنی ایڑیاں بھی اوپر اٹھانی پڑتی ہیں، اور بندہ زیادہ دیر پنجوں کے بل کھڑا نہیں ہو سکتا، اسے واپس اپنی جگہ پر ٹکنا پڑتا ہے۔ کسی کو آدھا مارنا ہو تو اس کا اعتبار توڑ دو، اور اگر پورا مارنا ہو تو اس پر سے اپنا اعتبار ہمیشہ کے لیے ختم کر دو۔
یہ کہہ کر اس کی آنکھوں سے پانی کا ایک قطرہ ٹپکا اور پھر وہ پتلی سی لکیر کی صورت اس کے گال پر تیرتا ہوا ٹھوڑی پہ جا رکا۔ اگلی لکیر اس قطرے تک پہنچی تو وہ لڑھک کر اس کی گود میں جا گرا، اور بھی قطاریں بندھ گئیں۔
دونوں نے چاند سے نظریں ہٹا کر بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا، اور دل کی گہرائیوں سے محسوس ہونے والی سچی خوشی نے رنگ ہی رنگ بھر دیے، جس کے رنگ اس کے چہرے پر واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ مجھے معاف کر دو، میں تمہارے اندر چھپی خوبصورتی دیکھ نہیں پایا۔ بدصورتی اور خوبصورتی کے بیچ معمولی سے فرق کو نہیں سمجھ پایا۔ سب سے بڑی خوبصورتی کردار کی ہوتی ہے، جو ہمیشہ ساتھ رہتی ہے، اور مجھے فخر ہے کہ میری بیوی، میری ہمسفر، میری شریک حیات و شریک وفات دنیا کی سب سے خوبصورت عورت ہے۔ آج کل کے اس دور میں دنیاوی آلائشوں سے پاک، ہم تمہیں سلام کرتے ہیں۔ اس دفعہ اس کی بیوی نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا کیونکہ اس نے اپنی ہتھیلی سے اپنی آنکھوں کو رگڑا اور چہرے پر آنسوؤں کی دھاریں صاف کیں۔
اس مضمون سے متعلق اپنی رائے
mir.imran.in@gmail.com پر ارسال کی جا سکتی ہے۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں