سبقت (ایک حقیقت): انشائیہ

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

سبقت کے لغوی معنی ہیں: (کسی کے آگے نکل جانا، پیش قدمی، ترجیح، فوقیت، برتری، بڑائی، شرف)۔ اسی طرح سبقت لے جانے کے بھی اکثر مطلب ہیں، مثلاً غالب آ جانا، بلکہ یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
فرض کریں کہ کسی آدمی کو اپنی جائے پناہ، یعنی مکان کی مرمت مجبوراً کرنی پڑے تو اس کا ہمسایہ اس کے لئے کورٹ جا کر مرمت بند کروانے کے احکام لا کر اس کا کام رکوا سکتا ہے، یا پھر اپنے مکان کی جان بوجھ کر بے کار میں منزل پر منزل تعمیر کر کے اپنے ہمسایہ کا صحن سورج کی روشنی سے محروم رکھتا ہے۔ اسی طرح اگر ہمسایہ کو گاڑی خریدنے کی ضرورت ہو تو مقابل ہمسایہ پیچھے رہنے والا نہیں ہوتا۔
خیر، یہ دنیاوی مسائل ہیں جو روز بروز لاعلاج ہوتے جا رہے ہیں۔ آئیے، آج ہم اصلی سبقت لے جانے کے معنی جاننے کی ایک ناکام کوشش کرتے ہیں۔
قرآن اور صحیح احادیث کے مطابق، اصل میں سبقت لے جانے والے آخری امت کے وہ خوش نصیب لوگ ہوں گے جو حشر کے روز حضرت نوح علیہ السلام کی امت کے خلاف بارگاہِ الٰہی میں گواہی دے کر نوح علیہ السلام کی تبلیغ کی تصدیق کریں گے، اور اسی گواہی پر اللہ تعالیٰ کی مہر ثبت ہو جائے گی۔ ہاں، صحیح احادیث اور قرآن کے مطالعے سے اخذ کر کے سب کے گوش گزار کرنا بہتر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار کسی صحابی سے قرآن کی تلاوت کرنے کی فرمائش کی۔ صحابی رضی اللہ عنہ سورہ النساء کی تلاوت کر رہے تھے، جب آیت 41 پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس کرو۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو چشمانِ مبارک آنسوؤں سے تر ہو چکی تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اس وقت کیسی حالت ہوگی جب ہم ہر امت اور ان کی طرف بھیجے گئے رسولوں کو کھڑا کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔)
ترجمہ۔۔۔ اکثر مفکروں نے اس آیت پر تدبر کر کے قرآن اور متعدد صحیح احادیث کی روشنی میں اس کی یوں وضاحت کی ہے کہ حشر کے روز ایک ایک امت بلائی جائے گی اور ان کی طرف بھیجے گئے رسولوں کو بھی بلایا جائے گا، پھر سوال و جواب ہوں گے۔
سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی امت کو لایا جائے گا۔ نوح علیہ السلام سے پوچھا جائے گا: (کیا تم نے اللہ کا پیغام اپنی امت تک پہنچایا؟) نوح علیہ السلام اقرار کریں گے، پھر ان کی امت سے کہا جائے گا کہ تم نے نوح علیہ السلام کا انکار کیوں کیا؟
نوح علیہ السلام کی امت کہے گی کہ نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام ہم تک نہیں پہنچایا، بلکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ امت کے اس انکار پر نوح علیہ السلام لاجواب ہو جائیں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی طلب کی جائے گی، اور وہ التجا کریں گے: (بارِ الٰہا! میری امت میں تبلیغ کی تصدیق امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کرے گی۔)
اسی طرح ہر امت اور ان کی طرف بھیجے گئے رسولوں کو کھڑا کیا جائے گا، سوال و جواب ہوں گے، اور ہر امت اپنے اپنے رسولوں کی منکر ہوگی۔ پھر تمام رسول بارگاہِ الٰہی میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کی درخواست کریں گے۔
اس کے بعد امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا جائے گا۔ وہ تمام انبیاء و رسولوں کے حق میں گواہی دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا جائے گا اور پوچھا جائے گا:
(یا نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کی امت اس لائق ہے کہ ہم اس کی گواہی قبول کریں؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے:
(بارِ الٰہا! میری امت اس قابل ہے۔)
اور پھر امت کی گواہی قبول کی جائے گی۔
اور یہی وہ سبقت ہے کہ حشر کے روز امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بلند ترین ہوگا، اور سب لوگ اپنے لئے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی فضیلت کی تمنا کریں گے۔
اب اگر ہم اپنے آج کے کردار کا جائزہ لیں تو ہم اس بلند ترین مقام سے کوسوں دور ہیں۔ ہم پستی میں گر چکے ہیں۔ ہم شادی بیاہ میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کے درپے ہیں۔ وازہ وان میں ایک سو قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں۔ مہر کو بالائے طاق رکھ کر جہیز میں کروڑوں کا خرچ کیا جاتا ہے۔
ایسے بھی گھر ہیں جن کی بیٹیاں نکاح کو ترستی ہیں، اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حسد ہماری نس نس میں سرایت کر چکا ہے۔ نیک کام کی شروعات پر امتناعی احکامات لا کر قدغن لگانے میں ہمارا کوئی ہمسر نہیں۔
کیونکہ ہم امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ہمارا مقام اتنا بلند ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے پر سبقت لینے میں اپنا اطمینان کھو بیٹھے ہیں، پھر بھی ہم خود کو امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

سبقت (ایک حقیقت): انشائیہ

 

ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی

سبقت کے لغوی معنی ہیں: (کسی کے آگے نکل جانا، پیش قدمی، ترجیح، فوقیت، برتری، بڑائی، شرف)۔ اسی طرح سبقت لے جانے کے بھی اکثر مطلب ہیں، مثلاً غالب آ جانا، بلکہ یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
فرض کریں کہ کسی آدمی کو اپنی جائے پناہ، یعنی مکان کی مرمت مجبوراً کرنی پڑے تو اس کا ہمسایہ اس کے لئے کورٹ جا کر مرمت بند کروانے کے احکام لا کر اس کا کام رکوا سکتا ہے، یا پھر اپنے مکان کی جان بوجھ کر بے کار میں منزل پر منزل تعمیر کر کے اپنے ہمسایہ کا صحن سورج کی روشنی سے محروم رکھتا ہے۔ اسی طرح اگر ہمسایہ کو گاڑی خریدنے کی ضرورت ہو تو مقابل ہمسایہ پیچھے رہنے والا نہیں ہوتا۔
خیر، یہ دنیاوی مسائل ہیں جو روز بروز لاعلاج ہوتے جا رہے ہیں۔ آئیے، آج ہم اصلی سبقت لے جانے کے معنی جاننے کی ایک ناکام کوشش کرتے ہیں۔
قرآن اور صحیح احادیث کے مطابق، اصل میں سبقت لے جانے والے آخری امت کے وہ خوش نصیب لوگ ہوں گے جو حشر کے روز حضرت نوح علیہ السلام کی امت کے خلاف بارگاہِ الٰہی میں گواہی دے کر نوح علیہ السلام کی تبلیغ کی تصدیق کریں گے، اور اسی گواہی پر اللہ تعالیٰ کی مہر ثبت ہو جائے گی۔ ہاں، صحیح احادیث اور قرآن کے مطالعے سے اخذ کر کے سب کے گوش گزار کرنا بہتر ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار کسی صحابی سے قرآن کی تلاوت کرنے کی فرمائش کی۔ صحابی رضی اللہ عنہ سورہ النساء کی تلاوت کر رہے تھے، جب آیت 41 پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس کرو۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے سر اٹھا کر دیکھا تو چشمانِ مبارک آنسوؤں سے تر ہو چکی تھیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اس وقت کیسی حالت ہوگی جب ہم ہر امت اور ان کی طرف بھیجے گئے رسولوں کو کھڑا کریں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو لائیں گے اور آپ کو ان پر گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔)
ترجمہ۔۔۔ اکثر مفکروں نے اس آیت پر تدبر کر کے قرآن اور متعدد صحیح احادیث کی روشنی میں اس کی یوں وضاحت کی ہے کہ حشر کے روز ایک ایک امت بلائی جائے گی اور ان کی طرف بھیجے گئے رسولوں کو بھی بلایا جائے گا، پھر سوال و جواب ہوں گے۔
سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام اور ان کی امت کو لایا جائے گا۔ نوح علیہ السلام سے پوچھا جائے گا: (کیا تم نے اللہ کا پیغام اپنی امت تک پہنچایا؟) نوح علیہ السلام اقرار کریں گے، پھر ان کی امت سے کہا جائے گا کہ تم نے نوح علیہ السلام کا انکار کیوں کیا؟
نوح علیہ السلام کی امت کہے گی کہ نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام ہم تک نہیں پہنچایا، بلکہ وہ اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ امت کے اس انکار پر نوح علیہ السلام لاجواب ہو جائیں گے۔ پھر نوح علیہ السلام کے حق میں گواہی طلب کی جائے گی، اور وہ التجا کریں گے: (بارِ الٰہا! میری امت میں تبلیغ کی تصدیق امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کرے گی۔)
اسی طرح ہر امت اور ان کی طرف بھیجے گئے رسولوں کو کھڑا کیا جائے گا، سوال و جواب ہوں گے، اور ہر امت اپنے اپنے رسولوں کی منکر ہوگی۔ پھر تمام رسول بارگاہِ الٰہی میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی گواہی کی درخواست کریں گے۔
اس کے بعد امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا جائے گا۔ وہ تمام انبیاء و رسولوں کے حق میں گواہی دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا جائے گا اور پوچھا جائے گا:
(یا نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم! کیا آپ کی امت اس لائق ہے کہ ہم اس کی گواہی قبول کریں؟)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرض کریں گے:
(بارِ الٰہا! میری امت اس قابل ہے۔)
اور پھر امت کی گواہی قبول کی جائے گی۔
اور یہی وہ سبقت ہے کہ حشر کے روز امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بلند ترین ہوگا، اور سب لوگ اپنے لئے امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی فضیلت کی تمنا کریں گے۔
اب اگر ہم اپنے آج کے کردار کا جائزہ لیں تو ہم اس بلند ترین مقام سے کوسوں دور ہیں۔ ہم پستی میں گر چکے ہیں۔ ہم شادی بیاہ میں ایک دوسرے پر سبقت لینے کے درپے ہیں۔ وازہ وان میں ایک سو قسم کے پکوان پکائے جاتے ہیں۔ مہر کو بالائے طاق رکھ کر جہیز میں کروڑوں کا خرچ کیا جاتا ہے۔
ایسے بھی گھر ہیں جن کی بیٹیاں نکاح کو ترستی ہیں، اور ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حسد ہماری نس نس میں سرایت کر چکا ہے۔ نیک کام کی شروعات پر امتناعی احکامات لا کر قدغن لگانے میں ہمارا کوئی ہمسر نہیں۔
کیونکہ ہم امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور ہمارا مقام اتنا بلند ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے پر سبقت لینے میں اپنا اطمینان کھو بیٹھے ہیں، پھر بھی ہم خود کو امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں