موجودہ جنگ جیتنے کا ایران کے پاس آئینسٹاین کا نادر نسخہ؟

انجینئر محمود اقبال

امریکہ ،اسرائیل نے موجودہ جنگ کا آغاز28 فروری ،2026 کوایران کے میناب شہر کے ننّھی منّی بچّیوں کے اسکول پر میزائیلیںداغ کر ،165سے زیادہ معصوموں کو موت کی نیند سلاکر اور سیکڑوں کو زخمی کرکے کیا تھا۔ایران کی یہ پہلی اخلاقی جیت تھی۔آخری جیت کیسے ہوگی؟آگے آگے پڑھتے جائیں،بات ضرور سمجھ میں آجائے گی۔
بیسویں صدی کے نامور عبقری سائینسداںالبرٹ آئینسٹائن بذات خود ایٹم بم کے خالق نہیں تھے۔مگر،ان کا ایک اہم کردار ضرور تھا۔ لیکن ، ایٹم بم کے بارے میں ان کی رائے کافی پیچیدہ اور وقت کے ساتھ بدلتی بھی رہی ہے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ وہ ایک یہودی تھے،مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اعتدال پسند بھی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ فلسطینی اور یہودی قوم فلسطین میں شانہ بہ شانہ امن و سکون سے رہیں۔1939 میں،البرٹ آئینسٹائن نے امریکی صدر فرینکلین ڈی روز ویلٹ کو ایک خط لکھا تھا۔اس خط میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ نازی جرمنی ایٹم بم بنا سکتا ہے، اس لیے امریکہ کو بھی اس پر تحقیق کرنی چاہیے۔اسی خط نے بعد میں نام نہاد ’’مین ہٹن پراجکٹ‘‘ کی راہ ہموار کی تھی۔لیکن، آگے چل کر انہیں اپنے لکھے خط پر بہت پچھتاوا ہوا تھا۔جب 1945 میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ نے ایٹم بم گرائے تو آئنسٹائن بہت افسردہ ہوئے تھے اور پشیمانی او رافسوس کا اظہار کیا تھا کہ،’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جرمنی ایٹم بم نہیں بنا سکے گا، تو میں کبھی وہ خط نہ لکھتا۔‘‘اس کا مطلب ہے کہ آئینسٹائن اس بات پر افسوس ظاہر کر رہے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو ایٹم بم بنانے کی ترغیب دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ صرف خطرہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے، لیکن بعد میں جب اس کا استعمال ہوا تو انہیں اپنی اس حمایت اور حماقت پربہت پچھتاوا ہوا تھا۔ بعد میں وہ امن کے پیغامبر بن گئے تھے۔انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی سخت مخالفت شروع کردی تھی۔ انہوں نے عالمی امن اور ایٹمی اسلحے کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی تھی، اور دیگر سائنسدانوں کے ساتھ مل کر خبردار کیا تھا کہ ایٹمی جنگیں انسانیت کے لئے تباہ کن ثابت ہونگی ۔بابائے قوم گاندھی جی کی طرح وہ امن، عدم تشدد اور عالمی تعاون کے علمبردار بن گئے تھے۔
ایٹم بم اور جنگ کے بارے میں ،البرٹ آئینسٹائن کا ایک مشہور قول ہے۔’’مجھے نہیں معلوم تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی، لیکن چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔‘‘کیا یہ قول پر معنی نہیں ہے ؟جب ہم اور آپ ایران پر مسلّط کردہ امریکی اسرائیل جنگ کو گزشتہ 4,5 ہفتوں سے دیکھ رہے ہیں اور دم سادھے بیٹھے ہیں کہ اس کے بعد کیا؟کیا تیسری عالمی جنگ؟ مہلک ایٹمی و نیوکلئیر ہتھیاروں کے ساتھ؟اس قول میں وہ ایٹمی جنگ کی ہولناکی بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر تیسری جنگ ایٹمی ہتھیاروں سے ہوئی تو دنیا تباہ ہو جائے گی، اور انسان دوبارہ ابتدائی دور ،یعنی پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے گا۔دنیا میں امن و شانتی کے بارے میںوہ کہتے ہیں’’امن طاقت سے قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ سمجھ بوجھ سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ البرٹ آئنسٹائن یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ’جنگ‘ اور’ طاقت‘ سے وقتی کنٹرول تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر حقیقی اور پائیدار امن صرف سمجھ، برداشت اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔
مزید کہتے ہیں، جوجنگی جنونیوں کے لئے ایک سبق آموز نصیحت بھی ہے کہ ’’دنیا ایک خطرناک جگہ ہے، نہ کہ ان لوگوں کی وجہ سے جو برائی کرتے ہیں، بلکہ ان لوگوں کی وجہ سے جو برائی دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے؟‘‘کون برایٔ دیکھ رہا ہے اور کون خاموش ہے ؟جی، اقوامِ متحدہ خاموش ہے،ناٹو کے دیگر ممالک خاموش ہیں،روس خاموش ہے اور چین بھی خاموش ہے اور جنگ رکوانے کے لئے سوائے بیان بازی کے کویٔ سنجیدگی نہیں دکھارہا ہے اور اپنی اپنی جھولیاں بھرنے میں جْٹ گئے ہیں۔رْوس کی تو لاٹری ہی نکل آیٔ ہے تیل بیچ بیچ کر،جو یوکرین جنگ میں چل رہی جنگ سے اس کی معیشت کنارے پر آتی جارہی تھی۔یہ قول ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’برائی صرف برے لوگوں کی وجہ سے نہیں بڑھتی، بلکہ اس لیے بھی بڑھتی ہے کہ اچھے لوگ خاموش رہتے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے‘‘۔کتنا پر معنی ہے؟
’’انسانی ذہانت نے ایٹم بم تو بنا لیا ہے، مگر ابھی تک انسان کے دل کو بہتر نہیں بنا سکی۔‘‘البرٹ آئینسٹائن کا یہ ایک اور مشہور قول ہے کہ’ انسانی ذہانت‘ہنوز دلوں کو جوڑنے سے قاصر ہے۔آئنسٹائن اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان نے سائنسی ترقی تو کر لی ہے، مگر اخلاقی طور پر ابھی بھی کمزور ہے۔ یعنی ٹیکنالوجی ترقی تو کر گئی ہے، مگر انسانیت اور اخلاقیات پیچھے رہ گئی ہیں۔خلاصہ کے طور پرعبقری سائینسداں البرٹ آئینسٹائن نہ صرف بیسویں صدی کے ایک عظیم ترین ذہن تھے بلکہ اتنے ہی محسنِ انسانیت بھی تھے۔انکی فکر کے مطابق علم کے ساتھ اخلاق بھی ضروری ہے،طاقت سے زیادہ اہم انسانیت ہے اورجنگ نہیں، امن ہی انسان کی بقا کا راستہ ہے۔
البرٹ آئینسٹائن کے ذہن کو پڑھنے کے بعدایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہمارے ذہن میں ابھر رہا ہے کہ کیا ایران پر مسلّط کردہ جنگ تیسری عالمی جنگ کا رْخ اختیار کرے گی؟بالکل نہیں۔ٹی وی اسکرینس پر بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کی گفتگو سن کر ہم انگشت بدنداں ہیں کہ امریکہ نے کیا دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانہ پر لا کھڑا تو نہیں کردیا ہے؟ہاں، تیسری عالمی جنگ اس وقت چھڑ سکتی ہے جب کویٔ ملک امریکہ پر حملہ کی جرات و حماقت کرے گا۔یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ،ایران سے جنگ نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ اسے لڑنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ تم ہم سے اتنا لڑو ،چاہے بر سہا برس تک مگر ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا،مگر تم اس کے بعد پتھر کے زمانہ میںضرور چلے جاؤ گے۔ تھکا تھکا کر ماریں گے چاہے کتنے برس لگ جائیں۔ایٹمی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی تو دور کی بات،تم اس کے بعد لاٹھیوں اور پتھروں سے بھی لڑنے کے قابل نیں رہوگے۔ایران کے لئے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ وہ ’’ذہانت اور مصلحت‘‘سے کام لے۔
ہمارے اس تجزیہ کی پانچ وجوہات ہیں۔پہلے آئینسٹائین کے بقول ’’ذہانت‘‘،دوسرے صدرِ امریکہ کی ’’شخصیت‘‘، تیسری ’’معیشت‘‘، چوتھی ’’صیہونیت‘‘ اورپانچویںپہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ’’عبرت‘‘۔دنیا بھر کے تجزیہ نگار صدرِ امریکہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی بظاہر نظر آنے والی ’’شخصیت‘‘ کو لے کر طرح طرح کے تبصرہ کر رہے ہیں۔مگر،ہماری نظر میں وہ’’گھاگ‘‘انسان ہیں۔دراصل وہ،وہ نہیں جس کا وہ روز صبح شام دنیا کے سامنے ’’مظاہرہ‘‘ کرتے رہتے ہیں۔یہ انتہایٔ ذہین شخص ہے۔ ہاتھی کے دانت ہیں،دکھانے کے کچھ اور کھانے کے کچھ اور۔ عقاب کی طرح انکی نگاہیں ہم سے پانچ گنا تیز نظر آتی ہیں۔دنیا بھر کے ’’اعلیٰ ذہنوں‘‘کو امریکہ میں پناہ دو۔’’امریکہ فرسٹ‘‘، مطلب دنیا بھر کی ’’معیشت‘‘ کواپنی مٹّھی میں رکھو۔پانی اور تیل اپنے قبضہ میں رکھو۔چوتھی بڑی وجہ’’صیہونیت‘‘ہے۔اسرائیلی وزیرآعظم بنجامین نتین یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ بہت بڑی ’’ملی بھگت‘‘ہے کہ’’نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری‘‘ایران کو پتھر کے زمانہ میں ڈھکیلو ،اور حماس ،حزب اللہ اور ہوتیوں سے خود بخود پیچھا چْھٹ جائیگا ۔پانچواں ہمارا تجزیہ ہے کہ امریکہ،اسرائیل نہ سہی،ایران ہی سہی؟پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے ’’عبرت ‘‘ حاصل کرے؟بقول آئینسٹائن سمجھ بوجھ کے ساتھ، ذہانت،مصلحت اورانسانیت کے ساتھ؟ ممکنہ ایٹمی اور نیوکلئیر پروگرام سے مکمل نجات؟آئندہ چند گھنٹوں میں نہ سہی،چند دنوں میں سہی؟پر امن مقاصد کے لئے سہی، جتنا بھی یورینیم افزودہ کیا ہے اب تک اسے بین الاقوامی ایجنسی،’’آی اے آی اے‘‘کے حوالہ کردے اور کہے کہ آؤ ، اوراسے یہاں سے لے جاؤ۔اس کے بعد کسی بھی حملہ آور ملک کے پاس کویٔ بہانہ نہ بچے گا۔
جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں تو جنگ کو شروع ہوئے37 دن گزر چکے ہیں۔پوری دنیا ،سوچ بچار،حیران و پریشان اور گو مگو کی حالت میں ہے کہ آخر ایران اب تک دنیا کی اکلوتی سْپر پاور کے سامنے کیسے کھڑا ہے اورسْپر پاور کا ڈٹ کر کیسے مقابلہ کر پارہا ہے؟پوری دنیا تیل،گیس اور فرٹیلائیزرس کی کمی کا رونا رو رہی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کو کوس رہی ہے۔بہت سارے ملکوں کی معیشت پر اس جنگ کا گہرا اثر پڑا ہے۔اس مسلّط کردہ جنگ کو آخر ایران اپنی جیت میں کیسے بدلے؟بقیہ دنیا کو اپنے ساتھ کیسے لے اور کیسے اپنا ہم نوا کرے؟ اس کے لئے اسے دو کام کرنے ہونگے۔پہلے،اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے امریکہ اور اسرائیل کو للکارے کہ ہم نے یک طرفہ جنگ بندی کردی ہے اور اب باری تمہاری ہے۔ ایران کی یہ دوسری اخلاقی جیت ہوگی۔دوسرے، جو سب سے بڑا بہانہ ہے امریکہ اور اسرائیل کے پاس وہ ہے، صیہونی ریاست کی محفوظیت ،اس کی بقاء اور عرب ملکوں کی زمینوں کو کسی نہ کسی طورپر ہڑپنا اور اپنی سرحدوں کی توسیع کی چاہ اور فلسطینیوں کو انکے گھروں سے بے دخل کرنا۔اسی اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے دوبارہ اب کی بار پوری دنیا کو یاد دلائے اقوامِ متحدہ کی وہ قراردادیں جن میں فلسطینیوں کو بھی انکی زمینوں پر رہنے کا حق دیا گیا تھا اور اسرائیل کو1967 کی سرحدوں پر واپس جانے کی تاکید کی گئی تھی۔اس سے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ پڑیگا ،بلکہ پوری دنیا ایران کا ساتھ دے گی،پھر،نہ حماس،نہ حزب اللہ اور نہ ہی نام نہاد ’’ہوتی‘‘۔کسی کے پاس کویٔ بہانہ نہیں بچے گا۔دنیا میں ہر قوم کو مع یہودی ،امن و شانتی سے رہنے کا بنیادی حق ہے۔یہی،یہودی عبقر ی سائیسداں اور1921 کے فزکس کے نوبل انعام یافتہ البرٹ آئینسٹاین کا خواب بھی تھا۔انہوں نے1923 میں اِ س وقت کے اسرائیل اور اْس وقت کے فلسطین کا دورہ بھی کیا تھا اور قریب12 دن وہاں قیام بھی کیا تھا۔کیا ایرن، آئینسٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر پائیگا؟اگر، وہ ایسے کرے گا،ہمیں امید ہے کہ یقیناً کر ے گاتو اس کے بعد وہ پوری دنیا میں اور اس کے نقشہ پر بقول آئینسٹائن ’’انسانیت‘‘ کا علمبردار بن کر ابھرے گا۔اور، ۔اس جنگ کی جیت کے بعدایران مزید معاشی ،علمی اور ثقافتی سفر کی راہ پر چل پڑیگا،جو صدیوں سے اسکی شان رہی ہے ۔یہ اسکی تیسری اور حتمی جیت ہوگی۔اپنی یہودی قوم کے لئے یہی خواب البرٹ آئینسٹاین کا بھی تھا اور یہی خواب کویٔ ور نہ سہی، ایران کا بھی ہوناچاہئے۔ تیسری عالمی جنگ کا کوئی ملک سوچے بھی نا ، اور نہ ہی دلوں میں اندیشے و وسوسے رکھے۔آئنسٹائن کا ایک اور مشہور قول ہے’’زندگی سائیکل چلانے کی طرح ہے،توازن برقرار رکھنے کے لئے آپ کو چلتے رہنا چاہئے‘‘۔’’انسانیت‘‘ زندہ آباد۔البرٹ آئینسٹائن ’’زندہ آباد‘‘۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

موجودہ جنگ جیتنے کا ایران کے پاس آئینسٹاین کا نادر نسخہ؟

انجینئر محمود اقبال

امریکہ ،اسرائیل نے موجودہ جنگ کا آغاز28 فروری ،2026 کوایران کے میناب شہر کے ننّھی منّی بچّیوں کے اسکول پر میزائیلیںداغ کر ،165سے زیادہ معصوموں کو موت کی نیند سلاکر اور سیکڑوں کو زخمی کرکے کیا تھا۔ایران کی یہ پہلی اخلاقی جیت تھی۔آخری جیت کیسے ہوگی؟آگے آگے پڑھتے جائیں،بات ضرور سمجھ میں آجائے گی۔
بیسویں صدی کے نامور عبقری سائینسداںالبرٹ آئینسٹائن بذات خود ایٹم بم کے خالق نہیں تھے۔مگر،ان کا ایک اہم کردار ضرور تھا۔ لیکن ، ایٹم بم کے بارے میں ان کی رائے کافی پیچیدہ اور وقت کے ساتھ بدلتی بھی رہی ہے۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ وہ ایک یہودی تھے،مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اعتدال پسند بھی تھے۔وہ چاہتے تھے کہ فلسطینی اور یہودی قوم فلسطین میں شانہ بہ شانہ امن و سکون سے رہیں۔1939 میں،البرٹ آئینسٹائن نے امریکی صدر فرینکلین ڈی روز ویلٹ کو ایک خط لکھا تھا۔اس خط میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ نازی جرمنی ایٹم بم بنا سکتا ہے، اس لیے امریکہ کو بھی اس پر تحقیق کرنی چاہیے۔اسی خط نے بعد میں نام نہاد ’’مین ہٹن پراجکٹ‘‘ کی راہ ہموار کی تھی۔لیکن، آگے چل کر انہیں اپنے لکھے خط پر بہت پچھتاوا ہوا تھا۔جب 1945 میں جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکہ نے ایٹم بم گرائے تو آئنسٹائن بہت افسردہ ہوئے تھے اور پشیمانی او رافسوس کا اظہار کیا تھا کہ،’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جرمنی ایٹم بم نہیں بنا سکے گا، تو میں کبھی وہ خط نہ لکھتا۔‘‘اس کا مطلب ہے کہ آئینسٹائن اس بات پر افسوس ظاہر کر رہے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو ایٹم بم بنانے کی ترغیب دی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ یہ صرف خطرہ سے بچنے کے لیے ضروری ہے، لیکن بعد میں جب اس کا استعمال ہوا تو انہیں اپنی اس حمایت اور حماقت پربہت پچھتاوا ہوا تھا۔ بعد میں وہ امن کے پیغامبر بن گئے تھے۔انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی سخت مخالفت شروع کردی تھی۔ انہوں نے عالمی امن اور ایٹمی اسلحے کے خاتمے کے لیے آواز اٹھائی تھی، اور دیگر سائنسدانوں کے ساتھ مل کر خبردار کیا تھا کہ ایٹمی جنگیں انسانیت کے لئے تباہ کن ثابت ہونگی ۔بابائے قوم گاندھی جی کی طرح وہ امن، عدم تشدد اور عالمی تعاون کے علمبردار بن گئے تھے۔
ایٹم بم اور جنگ کے بارے میں ،البرٹ آئینسٹائن کا ایک مشہور قول ہے۔’’مجھے نہیں معلوم تیسری عالمی جنگ کن ہتھیاروں سے لڑی جائے گی، لیکن چوتھی عالمی جنگ لاٹھیوں اور پتھروں سے لڑی جائے گی۔‘‘کیا یہ قول پر معنی نہیں ہے ؟جب ہم اور آپ ایران پر مسلّط کردہ امریکی اسرائیل جنگ کو گزشتہ 4,5 ہفتوں سے دیکھ رہے ہیں اور دم سادھے بیٹھے ہیں کہ اس کے بعد کیا؟کیا تیسری عالمی جنگ؟ مہلک ایٹمی و نیوکلئیر ہتھیاروں کے ساتھ؟اس قول میں وہ ایٹمی جنگ کی ہولناکی بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر تیسری جنگ ایٹمی ہتھیاروں سے ہوئی تو دنیا تباہ ہو جائے گی، اور انسان دوبارہ ابتدائی دور ،یعنی پتھر کے زمانے میں پہنچ جائے گا۔دنیا میں امن و شانتی کے بارے میںوہ کہتے ہیں’’امن طاقت سے قائم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ سمجھ بوجھ سے حاصل ہوتا ہے۔‘‘ البرٹ آئنسٹائن یہاں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ’جنگ‘ اور’ طاقت‘ سے وقتی کنٹرول تو حاصل ہو سکتا ہے، مگر حقیقی اور پائیدار امن صرف سمجھ، برداشت اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔
مزید کہتے ہیں، جوجنگی جنونیوں کے لئے ایک سبق آموز نصیحت بھی ہے کہ ’’دنیا ایک خطرناک جگہ ہے، نہ کہ ان لوگوں کی وجہ سے جو برائی کرتے ہیں، بلکہ ان لوگوں کی وجہ سے جو برائی دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے؟‘‘کون برایٔ دیکھ رہا ہے اور کون خاموش ہے ؟جی، اقوامِ متحدہ خاموش ہے،ناٹو کے دیگر ممالک خاموش ہیں،روس خاموش ہے اور چین بھی خاموش ہے اور جنگ رکوانے کے لئے سوائے بیان بازی کے کویٔ سنجیدگی نہیں دکھارہا ہے اور اپنی اپنی جھولیاں بھرنے میں جْٹ گئے ہیں۔رْوس کی تو لاٹری ہی نکل آیٔ ہے تیل بیچ بیچ کر،جو یوکرین جنگ میں چل رہی جنگ سے اس کی معیشت کنارے پر آتی جارہی تھی۔یہ قول ہمیں ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’برائی صرف برے لوگوں کی وجہ سے نہیں بڑھتی، بلکہ اس لیے بھی بڑھتی ہے کہ اچھے لوگ خاموش رہتے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے‘‘۔کتنا پر معنی ہے؟
’’انسانی ذہانت نے ایٹم بم تو بنا لیا ہے، مگر ابھی تک انسان کے دل کو بہتر نہیں بنا سکی۔‘‘البرٹ آئینسٹائن کا یہ ایک اور مشہور قول ہے کہ’ انسانی ذہانت‘ہنوز دلوں کو جوڑنے سے قاصر ہے۔آئنسٹائن اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان نے سائنسی ترقی تو کر لی ہے، مگر اخلاقی طور پر ابھی بھی کمزور ہے۔ یعنی ٹیکنالوجی ترقی تو کر گئی ہے، مگر انسانیت اور اخلاقیات پیچھے رہ گئی ہیں۔خلاصہ کے طور پرعبقری سائینسداں البرٹ آئینسٹائن نہ صرف بیسویں صدی کے ایک عظیم ترین ذہن تھے بلکہ اتنے ہی محسنِ انسانیت بھی تھے۔انکی فکر کے مطابق علم کے ساتھ اخلاق بھی ضروری ہے،طاقت سے زیادہ اہم انسانیت ہے اورجنگ نہیں، امن ہی انسان کی بقا کا راستہ ہے۔
البرٹ آئینسٹائن کے ذہن کو پڑھنے کے بعدایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہمارے ذہن میں ابھر رہا ہے کہ کیا ایران پر مسلّط کردہ جنگ تیسری عالمی جنگ کا رْخ اختیار کرے گی؟بالکل نہیں۔ٹی وی اسکرینس پر بڑے بڑے تجزیہ نگاروں کی گفتگو سن کر ہم انگشت بدنداں ہیں کہ امریکہ نے کیا دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانہ پر لا کھڑا تو نہیں کردیا ہے؟ہاں، تیسری عالمی جنگ اس وقت چھڑ سکتی ہے جب کویٔ ملک امریکہ پر حملہ کی جرات و حماقت کرے گا۔یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ،ایران سے جنگ نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ اسے لڑنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ تم ہم سے اتنا لڑو ،چاہے بر سہا برس تک مگر ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا،مگر تم اس کے بعد پتھر کے زمانہ میںضرور چلے جاؤ گے۔ تھکا تھکا کر ماریں گے چاہے کتنے برس لگ جائیں۔ایٹمی ہتھیار بنانے اور استعمال کرنے کی تو دور کی بات،تم اس کے بعد لاٹھیوں اور پتھروں سے بھی لڑنے کے قابل نیں رہوگے۔ایران کے لئے یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ وہ ’’ذہانت اور مصلحت‘‘سے کام لے۔
ہمارے اس تجزیہ کی پانچ وجوہات ہیں۔پہلے آئینسٹائین کے بقول ’’ذہانت‘‘،دوسرے صدرِ امریکہ کی ’’شخصیت‘‘، تیسری ’’معیشت‘‘، چوتھی ’’صیہونیت‘‘ اورپانچویںپہلی اور دوسری عالمی جنگوں کی ’’عبرت‘‘۔دنیا بھر کے تجزیہ نگار صدرِ امریکہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کی بظاہر نظر آنے والی ’’شخصیت‘‘ کو لے کر طرح طرح کے تبصرہ کر رہے ہیں۔مگر،ہماری نظر میں وہ’’گھاگ‘‘انسان ہیں۔دراصل وہ،وہ نہیں جس کا وہ روز صبح شام دنیا کے سامنے ’’مظاہرہ‘‘ کرتے رہتے ہیں۔یہ انتہایٔ ذہین شخص ہے۔ ہاتھی کے دانت ہیں،دکھانے کے کچھ اور کھانے کے کچھ اور۔ عقاب کی طرح انکی نگاہیں ہم سے پانچ گنا تیز نظر آتی ہیں۔دنیا بھر کے ’’اعلیٰ ذہنوں‘‘کو امریکہ میں پناہ دو۔’’امریکہ فرسٹ‘‘، مطلب دنیا بھر کی ’’معیشت‘‘ کواپنی مٹّھی میں رکھو۔پانی اور تیل اپنے قبضہ میں رکھو۔چوتھی بڑی وجہ’’صیہونیت‘‘ہے۔اسرائیلی وزیرآعظم بنجامین نتین یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ بہت بڑی ’’ملی بھگت‘‘ہے کہ’’نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری‘‘ایران کو پتھر کے زمانہ میں ڈھکیلو ،اور حماس ،حزب اللہ اور ہوتیوں سے خود بخود پیچھا چْھٹ جائیگا ۔پانچواں ہمارا تجزیہ ہے کہ امریکہ،اسرائیل نہ سہی،ایران ہی سہی؟پہلی اور دوسری عالمی جنگوں سے ’’عبرت ‘‘ حاصل کرے؟بقول آئینسٹائن سمجھ بوجھ کے ساتھ، ذہانت،مصلحت اورانسانیت کے ساتھ؟ ممکنہ ایٹمی اور نیوکلئیر پروگرام سے مکمل نجات؟آئندہ چند گھنٹوں میں نہ سہی،چند دنوں میں سہی؟پر امن مقاصد کے لئے سہی، جتنا بھی یورینیم افزودہ کیا ہے اب تک اسے بین الاقوامی ایجنسی،’’آی اے آی اے‘‘کے حوالہ کردے اور کہے کہ آؤ ، اوراسے یہاں سے لے جاؤ۔اس کے بعد کسی بھی حملہ آور ملک کے پاس کویٔ بہانہ نہ بچے گا۔
جب ہم یہ سطور لکھ رہے ہیں تو جنگ کو شروع ہوئے37 دن گزر چکے ہیں۔پوری دنیا ،سوچ بچار،حیران و پریشان اور گو مگو کی حالت میں ہے کہ آخر ایران اب تک دنیا کی اکلوتی سْپر پاور کے سامنے کیسے کھڑا ہے اورسْپر پاور کا ڈٹ کر کیسے مقابلہ کر پارہا ہے؟پوری دنیا تیل،گیس اور فرٹیلائیزرس کی کمی کا رونا رو رہی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کو کوس رہی ہے۔بہت سارے ملکوں کی معیشت پر اس جنگ کا گہرا اثر پڑا ہے۔اس مسلّط کردہ جنگ کو آخر ایران اپنی جیت میں کیسے بدلے؟بقیہ دنیا کو اپنے ساتھ کیسے لے اور کیسے اپنا ہم نوا کرے؟ اس کے لئے اسے دو کام کرنے ہونگے۔پہلے،اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے امریکہ اور اسرائیل کو للکارے کہ ہم نے یک طرفہ جنگ بندی کردی ہے اور اب باری تمہاری ہے۔ ایران کی یہ دوسری اخلاقی جیت ہوگی۔دوسرے، جو سب سے بڑا بہانہ ہے امریکہ اور اسرائیل کے پاس وہ ہے، صیہونی ریاست کی محفوظیت ،اس کی بقاء اور عرب ملکوں کی زمینوں کو کسی نہ کسی طورپر ہڑپنا اور اپنی سرحدوں کی توسیع کی چاہ اور فلسطینیوں کو انکے گھروں سے بے دخل کرنا۔اسی اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے دوبارہ اب کی بار پوری دنیا کو یاد دلائے اقوامِ متحدہ کی وہ قراردادیں جن میں فلسطینیوں کو بھی انکی زمینوں پر رہنے کا حق دیا گیا تھا اور اسرائیل کو1967 کی سرحدوں پر واپس جانے کی تاکید کی گئی تھی۔اس سے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل پر دباؤ پڑیگا ،بلکہ پوری دنیا ایران کا ساتھ دے گی،پھر،نہ حماس،نہ حزب اللہ اور نہ ہی نام نہاد ’’ہوتی‘‘۔کسی کے پاس کویٔ بہانہ نہیں بچے گا۔دنیا میں ہر قوم کو مع یہودی ،امن و شانتی سے رہنے کا بنیادی حق ہے۔یہی،یہودی عبقر ی سائیسداں اور1921 کے فزکس کے نوبل انعام یافتہ البرٹ آئینسٹاین کا خواب بھی تھا۔انہوں نے1923 میں اِ س وقت کے اسرائیل اور اْس وقت کے فلسطین کا دورہ بھی کیا تھا اور قریب12 دن وہاں قیام بھی کیا تھا۔کیا ایرن، آئینسٹائن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر پائیگا؟اگر، وہ ایسے کرے گا،ہمیں امید ہے کہ یقیناً کر ے گاتو اس کے بعد وہ پوری دنیا میں اور اس کے نقشہ پر بقول آئینسٹائن ’’انسانیت‘‘ کا علمبردار بن کر ابھرے گا۔اور، ۔اس جنگ کی جیت کے بعدایران مزید معاشی ،علمی اور ثقافتی سفر کی راہ پر چل پڑیگا،جو صدیوں سے اسکی شان رہی ہے ۔یہ اسکی تیسری اور حتمی جیت ہوگی۔اپنی یہودی قوم کے لئے یہی خواب البرٹ آئینسٹاین کا بھی تھا اور یہی خواب کویٔ ور نہ سہی، ایران کا بھی ہوناچاہئے۔ تیسری عالمی جنگ کا کوئی ملک سوچے بھی نا ، اور نہ ہی دلوں میں اندیشے و وسوسے رکھے۔آئنسٹائن کا ایک اور مشہور قول ہے’’زندگی سائیکل چلانے کی طرح ہے،توازن برقرار رکھنے کے لئے آپ کو چلتے رہنا چاہئے‘‘۔’’انسانیت‘‘ زندہ آباد۔البرٹ آئینسٹائن ’’زندہ آباد‘‘۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں