اسلام آباد میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان اہم مذاکرات کسی معاہدے یا سمجھوتے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے بعد ایک بار پھر خطے میں کشیدگی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ان مذاکرات سے عالمی سطح پر امن و استحکام کی امیدیں وابستہ تھیں، تاہم ان کی ناکامی نے توانائی کی قیمتوں اور فراہمی پر بھی منفی اثرات کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑے پیمانے پر رعایتیں دینے کا دباؤ تھا، مگر ایران اپنے مؤقف پر قائم رہا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق ایران نے امریکی شرائط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوئے۔
دوسری جانب ایران کے ترجمان نے تسلیم کیا کہ بعض امور پر پیش رفت ہوئی، لیکن چند اہم نکات پر اختلافات برقرار رہے، جو معاہدے میں رکاوٹ بنے۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لئے خود مختار حکمت عملی جاری رکھے گا۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق ہے، جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔ ایران ایک جامع معاہدہ چاہتا ہے جو مستقل طور پر جنگ کے خطرے کو ختم کرے، جبکہ امریکہ محدود نوعیت کے معاہدے پر زور دے رہا ہے، جس میں آبنائے ہرمز کی سلامتی اور دیگر چند امور شامل ہیں۔
مذاکرات کی ناکامی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ سفارتی راستے اگرچہ اب بھی کھلے ہیں، مگر باہمی اعتماد کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اگر جلد کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور امن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔


