
عبدالرشید خان
چھانہ پورہ، سرینگر
قدرت نے انسان کو اس کائنات میں لانے سے پہلے ہی اس کے لیے لا تعداد خزانے وافر مقدار میں مختص کیے تھے، لیکن اس عجیب زاد انسان نے ان تمام خزانوں اور وسائل کا اس قدر بے تحاشا استعمال کیا کہ اب ایک طرف ان کے ختم ہونے کا ڈر ہے اور دوسری طرف اردگرد کے ماحول کے آلودہ ہونے کا خدشہ۔ اب جبکہ اس کا خود دم گھٹنے لگا اور اپنی دماغی قوت پر سے بھروسا اٹھ گیا، وہ مصنوعی ذہانت کا سہارا لے کر نت نئے طریقوں سے اپنے لیے وسائل اور سہولیات ڈھونڈنے لگا، کبھی سولر بلب اور گاڑیاں، اور اب بیٹری آٹو۔
ویسے تو اس خلائی دور میں بیٹری آٹو کے بارے میں بات کرنا گویا حماقت ہے، لیکن کیا کیا جائے، اس نے آدمی کا جینا حرام کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ بناوٹ کے لحاظ سے اس قدر چھوٹا اور انوکھا ہے کہ آدمی کی ناک کے سوراخ سے گزر کر آگے نکل جائے، لیکن چلنے کے لیے بڑی کشادہ اور لمبی چوڑی سڑکیں چاہیے، اور وہ بھی خالی خالی، یعنی ان پر کوئی دوسرا نہ چل رہا ہو۔
کہا جاتا ہے کہ یہ بیٹری آٹو ماحولیاتی دوست یعنی Eco-friendly ہے اور اس کے شر سے ہر جاندار محفوظ رہ سکتا ہے، لیکن صاحب! یہ کہنے کی باتیں ہیں۔ یقین نہ آئے تو اس لاچار مسافر سے پوچھو جو غلطی سے ایک بار اس میں سوار ہوتا ہے۔ اسٹارٹ ہونے سے پہلے اس کے تمام کل پرزوں سے ایسی بھیانک آوازیں نکل آتی ہیں کہ لگتا ہے جیسے میدانِ جنگ میں کوئی بھاری جنگی بیڑا اترنے جا رہا ہو۔ راہ چلتے لوگوں کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور ساتھ ہی high blood pressure بھی بڑھ جاتا ہے۔
جس قدر یہ بیٹری آٹو چلانے والے ڈرائیور حضرات جوشیلے ہوتے ہیں، اس سے زیادہ ان کی رفتار سست ہوتی ہے۔ آدمی کو بیٹھے بیٹھے نیند آنے لگتی ہے۔ ان حضرات کا آٹو چلانے پر کم اور ہارن کے بٹن پر زیادہ دھیان رہتا ہے۔ ہر آنے جانے والے پر ہارن بجاتے رہتے ہیں، اور وہ بھی اس قدر تیز آواز میں کہ اندر بیٹھے مسافروں کے کان پھٹنے لگتے ہیں۔
آدمی اپنے خیالات میں مست، گراں بازاری کا رونا روتا ہوا اور اس بیچ بیٹری آٹو کی ہارن، اللہ بچائے! جب ڈرائیور صاحب کو ہارن بجانے سے بھی من نہیں بھرتا تو قہر آلود نگاہوں سے گھورتے ہوئے راہ چلتے لوگوں کو صلواتیں سنانے لگتے ہیں۔ سڑک پر چلنے والے سبھی لوگ گویا ہیچ ہیں۔
دیکھا جائے تو اس بیٹری آٹو کا سفر بڑا دلچسپ ہوتا ہے۔ سڑک چاہے کتنی ہموار کیوں نہ ہو، یہ بیٹری آٹو ہر حال میں ہچکولے کھاتا رہتا ہے۔ آدمی کو لگتا ہے کہ وہ کسی پرانی ناؤ میں طوفانی لہروں کے بیچ پھنس گیا ہو، کبھی اوپر، کبھی نیچے، کبھی دائیں اور کبھی بائیں۔ مسافروں کے سر اکثر ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔
جس جگہ آدمی سوار ہوتے وقت بیٹھا تھا، مجال ہے کہ اترتے وقت اسی جگہ پر ملے! یا تو کسی دوسرے مسافر کی گود میں، یا پھر باہر سڑک پر تڑپتا ہوا۔ لیکن ڈرائیور کو لگتا ہے کہ وہ آٹو اڑا رہا ہے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ جس قدر وہ زور لگاتا ہے، اسی قدر یہ آٹو دمہ کے مریض کی طرح کھانستے ہوئے رینگتا رہتا ہے۔
جب سے یہ آٹو سڑکوں پر نمودار ہوئے ہیں، ہسپتالوں میں رش بڑھ گیا ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ ان میں سفر کرنے والوں کے لیے سیٹ بیلٹ کے بجائے رسی سے بندھے رہنا ضروری قرار دے تاکہ دباؤ کم ہو۔
اگرچہ بیٹری آٹو کا کرایہ کم ہے، مگر اس میں ڈرائیور کی بدتمیزی اور گالی گلوچ بہت زیادہ سننے کو ملتی ہے۔ آدمی کو لگتا ہے کہ وہ آٹو میں نہیں بلکہ کسی گدھے پر سوار ہو کر رسوا ہو رہا ہو۔ اس آٹو کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ اچانک سڑک کے بیچ بند ہو جاتا ہے اور آگے بڑھنے کا نام نہیں لیتا، اور کبھی کبھار الٹ بھی جاتا ہے۔
آدمی کا حلیہ بگڑ جاتا ہے اور اس پر راہگیروں کا مذاق اڑانا، آدمی کو شرم سے پانی پانی کر دیتا ہے۔ عام طور پر سفر کے دوران مسافروں کے بیچ رشتے بنتے ہیں، مگر ان بیٹری آٹو میں آدمی ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کر سکتا۔ ہر کسی کو اپنی جان کی فکر لاحق رہتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس آٹو سے اترتے ہی ہر کوئی منہ چھپائے بھاگنے میں اپنی خیریت سمجھتا ہے۔ کوئی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔
کیا ہی بہتر ہوتا اگر ہماری سرکار بیٹری آٹو کے بجائے گھوڑا گاڑیوں کو دوبارہ سڑکوں پر چلنے کی اجازت دیتی، تاکہ لوگ وقت پر اپنی منزل تک پہنچتے اور یہ شور شرابہ ختم ہو جاتا۔


