سوپور میں ایک کمسن بچی کی آوارہ کتوں کے حملے میں ہلاکت ایک ایسا دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے پورے کشمیر کو غم اور غصے کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سنگین مسئلے کی واضح علامت ہے جسے برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہونا ہم سب کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک دیرینہ مسئلہ بن چکی ہے۔ گلی کوچوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں ان کا بے قابو گھومنا عام ہو گیا ہے، جس کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں اور خواتین کو لاحق ہوتا ہے، جو اکثر ان حملوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ سوپور کا حالیہ واقعہ اسی خطرے کی ایک بھیانک تصویر پیش کرتا ہے۔
اس سانحے کے بعد عوامی غم و غصہ بجا ہے۔ لوگ بار بار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے؟ کیا ہر بار کسی جان کے ضائع ہونے کے بعد ہی متعلقہ ادارے حرکت میں آئیں گے؟ انتظامیہ کی جانب سے وقتی اقدامات اور بیانات تو سامنے آتے ہیں، لیکن مسئلے کا مستقل حل اب تک دکھائی نہیں دیتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ آوارہ کتوں کی افزائش پر قابو پانے، ویکسینیشن، شیلٹر ہومز کے قیام اور شہری علاقوں سے ان کی منتقلی جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ناقص صفائی کے نظام آوارہ کتوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور صفائی کا خیال رکھیں تو اس مسئلے میں کسی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
سوپور کی اس معصوم بچی کی موت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ لاپرواہی کی قیمت کتنی بھیانک ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بیانات اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر عملی اور دیرپا حل کی جانب قدم اٹھایا جائے۔ اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل کسی اور گھر کا چراغ گل ہو سکتا ہے، اور یہ سانحہ ایک بار پھر دہرایا جا سکتا ہے۔
آوارہ کتوں کا بڑھتا ہوا خطرہ
آوارہ کتوں کا بڑھتا ہوا خطرہ
سوپور میں ایک کمسن بچی کی آوارہ کتوں کے حملے میں ہلاکت ایک ایسا دل دہلا دینے والا سانحہ ہے جس نے پورے کشمیر کو غم اور غصے کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سنگین مسئلے کی واضح علامت ہے جسے برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہونا ہم سب کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
وادی کشمیر میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ایک دیرینہ مسئلہ بن چکی ہے۔ گلی کوچوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں ان کا بے قابو گھومنا عام ہو گیا ہے، جس کے باعث شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرہ بچوں، بزرگوں اور خواتین کو لاحق ہوتا ہے، جو اکثر ان حملوں کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔ سوپور کا حالیہ واقعہ اسی خطرے کی ایک بھیانک تصویر پیش کرتا ہے۔
اس سانحے کے بعد عوامی غم و غصہ بجا ہے۔ لوگ بار بار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر کب تک ایسے واقعات ہوتے رہیں گے؟ کیا ہر بار کسی جان کے ضائع ہونے کے بعد ہی متعلقہ ادارے حرکت میں آئیں گے؟ انتظامیہ کی جانب سے وقتی اقدامات اور بیانات تو سامنے آتے ہیں، لیکن مسئلے کا مستقل حل اب تک دکھائی نہیں دیتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے۔ آوارہ کتوں کی افزائش پر قابو پانے، ویکسینیشن، شیلٹر ہومز کے قیام اور شہری علاقوں سے ان کی منتقلی جیسے اقدامات فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی ضروری ہے تاکہ لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مسئلہ صرف انتظامیہ کا نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ناقص صفائی کے نظام آوارہ کتوں کی افزائش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر شہری اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور صفائی کا خیال رکھیں تو اس مسئلے میں کسی حد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
سوپور کی اس معصوم بچی کی موت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ لاپرواہی کی قیمت کتنی بھیانک ہو سکتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بیانات اور وقتی اقدامات سے آگے بڑھ کر عملی اور دیرپا حل کی جانب قدم اٹھایا جائے۔ اگر آج بھی ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل کسی اور گھر کا چراغ گل ہو سکتا ہے، اور یہ سانحہ ایک بار پھر دہرایا جا سکتا ہے۔


