ہر جنگ امن کے لئے لڑی جاتی ہے

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر جنگ کے پس پردہ ایک ہی دعویٰ چھپا ہوتا ہے، اور وہ ہے "امن”۔ طاقتور اقوام ہوں یا کمزور ریاستیں، سب اپنی لڑائیوں کو کسی نہ کسی طرح امن کے حصول کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واقعی امن ہے، تو پھر تباہی، خونریزی اور نفرت کیوں جنم لیتی ہے؟
جنگ دراصل مسائل کا وقتی اور سخت حل پیش کرتی ہے، لیکن یہ دلوں میں ایسی دراڑیں چھوڑ جاتی ہے جو نسلوں تک بھر نہیں پاتیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور سماجی ڈھانچے کی بربادی وہ قیمت ہے جو کسی بھی جنگ کے بعد ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس، مذاکرات وہ راستہ ہیں جو اختلافات کو سمجھنے، حل کرنے اور دیرپا امن قائم کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
مذاکرات دراصل امن کی پہلی سیڑھی ہیں۔ جب دو فریق ہتھیار ڈال کر بات چیت کا راستہ اپناتے ہیں تو وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے حکمت میں پوشیدہ ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع آئے ہیں جہاں طویل جنگوں کے بعد بالآخر مذاکرات ہی نے امن کی راہ ہموار کی۔
آج کے دور میں، جب دنیا ایٹمی طاقتوں کے سائے میں کھڑی ہے، جنگ کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ حقیقی امن صرف جنگ جیتنے سے نہیں، بلکہ دل جیتنے سے حاصل ہوتا ہے۔ مذاکرات نہ صرف مسائل کو حل کرتے ہیں بلکہ اعتماد، برداشت اور ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
اگر ہر جنگ کا مقصد امن ہی ہے، تو کیوں نہ ہم اس مقصد کو بغیر جنگ کے ہی حاصل کرنے کی کوشش کریں؟ یہی وہ سوچ ہے جو ایک بہتر، محفوظ اور پرامن دنیا کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

ہر جنگ امن کے لئے لڑی جاتی ہے

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر جنگ کے پس پردہ ایک ہی دعویٰ چھپا ہوتا ہے، اور وہ ہے "امن”۔ طاقتور اقوام ہوں یا کمزور ریاستیں، سب اپنی لڑائیوں کو کسی نہ کسی طرح امن کے حصول کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد واقعی امن ہے، تو پھر تباہی، خونریزی اور نفرت کیوں جنم لیتی ہے؟
جنگ دراصل مسائل کا وقتی اور سخت حل پیش کرتی ہے، لیکن یہ دلوں میں ایسی دراڑیں چھوڑ جاتی ہے جو نسلوں تک بھر نہیں پاتیں۔ انسانی جانوں کا ضیاع، معیشت کی تباہی اور سماجی ڈھانچے کی بربادی وہ قیمت ہے جو کسی بھی جنگ کے بعد ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس کے برعکس، مذاکرات وہ راستہ ہیں جو اختلافات کو سمجھنے، حل کرنے اور دیرپا امن قائم کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
مذاکرات دراصل امن کی پہلی سیڑھی ہیں۔ جب دو فریق ہتھیار ڈال کر بات چیت کا راستہ اپناتے ہیں تو وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے حکمت میں پوشیدہ ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار مواقع آئے ہیں جہاں طویل جنگوں کے بعد بالآخر مذاکرات ہی نے امن کی راہ ہموار کی۔
آج کے دور میں، جب دنیا ایٹمی طاقتوں کے سائے میں کھڑی ہے، جنگ کا تصور پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایسے میں، دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ حقیقی امن صرف جنگ جیتنے سے نہیں، بلکہ دل جیتنے سے حاصل ہوتا ہے۔ مذاکرات نہ صرف مسائل کو حل کرتے ہیں بلکہ اعتماد، برداشت اور ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
اگر ہر جنگ کا مقصد امن ہی ہے، تو کیوں نہ ہم اس مقصد کو بغیر جنگ کے ہی حاصل کرنے کی کوشش کریں؟ یہی وہ سوچ ہے جو ایک بہتر، محفوظ اور پرامن دنیا کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں