
ڈاکٹر جی ایم پٹیل
خولہ بنت الازوار ‘ جو نہ صرف اپنی کوششوں میں بہادر اور فاتح تھیں بلکہ خلافت راشدین میں سے ایک عظیم ،بہادر لڑاکا ،سب سے عظیم ،مشہور اور طاقتور بنو سعد قبیلے کے سرداروں کی ایک کی بیٹی ،اورخلافت راشدین کی فوج کی ایک مسلم جنگجو خاتون تھیں۔ آپ نے لیونٹ ( مشرقی بحیر روم کے ساحلی ممالک) کی مسلمانوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا، اور اپنے بھائی ’ضرار‘ کے ساتھ مل کر لڑیں۔ آپ تاریخ کی عظیم ترین خواتین فوجیوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔ جنہیں ’فتوح الشام ‘ کی جنگوں میں ان کی شجاعت، گھڑ سواری اور تلوار بازی کی مہارت کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ نے یرموک اور دمشق کے معرکوں میں نمایاں حصہ لیا اور دشمن کے خلاف خواتین کے دستے کی قیادت بھی کی۔جنگی مہارت: آپ نے اپنے بھائی ضرار بن الازور سے تلوار بازی اور فن سپہ گری سیکھیں اور میدانِ جنگ میں دشمن کے چھکے چھڑا دیے۔عین الوردہ/دمشق کا معرکہ: جب ان کے بھائی کو رومیوں نے قید کر لیا، تو خولہ نے مردانہ بھیس بدل کر بعض روایات کے مطابق خالد بن ولید کے بھیس میں رومی فوج پر حملہ کیا اور اپنے بھائی کو آزاد کرانے کے لیے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
’ جنگِ یرموک ‘‘( (636 میں انہوں نے بازنطینی فوج کے خلاف خواتین کے دستے کی سر براہی کی اور زخمیوں کی مرہم پٹی کے ساتھ ساتھ ہتھیار اٹھا کر دشمن کا مقابلہ بھی کیا۔ ایک بار قید ہونے کے باوجود دیگر قیدی خواتین کے ساتھ مل کر رومی محافظوں کو ہلاک کیا اور آزادی حاصل کی۔خولہ بنت ازوار کا نام تاریخ کے اوراق آج بھی سنہری حرفوں میں محفوظ ہے ۔علاوہ از ایں ’’ فتوح الشاشم ‘کی سلسلہ وار جنگوں میں حصہ لیا، زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا، فوجیوں کو پانی پلانا اور بوقت ضرورت مسلح ہو کر دشمن فوجوں کا مقابلہ کرنا آپ کے شجاعت اور بہادری کی ناقابل انکار دلیل ہے۔خولہ کاذکر ملک شام کی فتوحات میں نمایاں طور پر ملتا ہے۔
خولہ غالباً ساتویں صدی میں پیدا ہوئیں اور آپ کے والد الازوار بنو اسعد قبیلے کے بڑے سردار تھے۔ خندق کی جنگ کے بعد خولہ کا بھائی اضرار مسلمان ہو گیا۔ اس کا خاندان بھی ابتدائی اسلام قبول کرنے والوں میں سے ایک تھا۔ دھیر ایک انتہائی ماہر جنگجو تھا اور اس نے خولہ کو وہ سب کچھ سکھایا تھا جو وہ لڑنے کے بارے میں جانتا تھا، نیزہ، تلوار کی لڑائی اور مارشل آرٹس سیکھنا۔
خولہ بنت الازوار ساتویں صدی میں مکہ میں پیدا ہوئیں، جو اب سعودی عرب کا حصہ ہے، بنی سعد قبیلے میں ہے۔ ان کا خاندان مکہ میں اسلام قبول کرنے والے پہلے خاندانوں میں سے ایک تھا۔ اپنی بعد کی زندگی میں، وہ تاریخ کے سب سے مشہور جنگجوؤں میں سے ایک بن گئیں۔
ایک جنگجو کے طور پر آپ کی مہارت کا مظاہرہ پہلی با ر ’’ سنیتا العقاب ‘‘کی جنگ میں اس کے بھائی ضرار کی قیادت میں فوج میں ہوا تھا۔ اس کا بھائی جنگ میں زخمی ہو گیا تھا لیکن اس نے، اپنی بکتر پوش میں ناقابل شناخت، اکیلے ہی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بازنطینی فوجیوں کو دوڑایا۔ خولہ نے مسلم فوج کے ساتھ 634 میں جنگ اجنادین ‘ میں بھی شرکت کیں، جہاں اس نے بطور طبیب ‘ کام کیا، زخمی فوجیوں کو طبی امداد فراہم کی۔ آپ کے بھائی ضرار کے زخمی ہونے کے بعد، اس نے اپنی زرّہ بکیر ، ہتھیار اور سبز شال لے لی اور مسلمان فوجیوں پر حملہ کرنے والے بازنطینی سپاہیوں سے لڑتے ہوئے جنگ میں شامل ہو گئیں۔ چونکہ اس نے سبز شال اوڑھ رکھی تھی، دوسرے سپاہی اسے خالد سمجھتے تھے، جو فوج کی قیادت کر رہا تھا۔ جب وہ پہنچے تو سپاہیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور خولہ کی شناخت بہادر سپاہی کے طور پر ہوئی۔ اپنی بہادری اور لگن کے نتیجے میں، وہ اسلامی اور عسکری تاریخ کی سب سے مشہور خواتین میں سے ایک بن گئیں ۔
634ء میں شام پر مسلمانوں کی فتح نے رومی سلطنت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ اسلام کے سب سے بڑے فوجی رہنما خالد بن ولید کی ہمیشہ چوکنا نظر کے تحت، مسلم فوج نے قلعہ بند شہر کا محاصرہ کر لیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بے باک خولہ بنت الازوار نے اپنی پہچان بنائی۔ اگرچہ اس کے بچپن اور پرورش کے بارے میں بہت کم معلوم ہے، لیکن جو بات کافی حد تک واضح ہے وہ یہ ہے کہ آپ کے والد ’ الزوار ‘ نے حضرت ضرار بن الازورکے ایک مشہور بہادر صحابی، عرب کے ’’ شیر دل ‘‘ جنگجو، اور راشدین خلافت کے دور میں شام اور دیگر فتوحات میں پنے کلیدی کردار ادا کرنے والے سپہ سالار کو اپنی دختر خولہ بنت الازوار کو تلوار بازی اور زمینی جنگ کے فن میں مہارت حاصل کروانے میں بے حد محنت کی ۔ بعد میں،خولہ ، ایک نرس بن گئیں اور ایک فرنٹ لائن جنگجو کے طور پر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کام اپنا فرض انجام دیتی رہیں ۔ شام کی اس جنگ میں خولہ بنت الازوار کی بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا گیا کیونکہ یہاں آپ نے اپنی گھڑ سواری اور نیزہ پر مہارت کا مظاہرہ کیا۔
باز نطینی فوج کی چدید جھڑپوں میں ضرار کو زخمی کیا اور قیدی بنالیا اور اس نقصان نے مسلمانوں کے حوصلے کو بری طرح پست کر دیا ۔ تاہم، خولہ کے حوصلے بلند رہے کیونکہ انہوں نے اپنے بھائی کو بچانے کی بے چین کوشش کی۔ مسلمان ان دنوں کی لڑائی سے تھکے ہوئے تھے جس میں کوئی فتح نظر نہیں آتی تھی لیکن آپ بڑی مطمئن اور پُر امید تھیں ۔ ملک شام کی فتوحات کی مسلسل جنگوں میں سے ایک کا ذکر کچھ اس طرح ہے کہ، مسلم فوج اپنے سپہ سالار اعلیٰ خالد ابن ولید کے حکم کے انتظار میں صف بستہ کھڑی تھی، روم کی فوج کی صفوں کا طول و العرض جتھا کسی ٹھاٹھیں مارتا ہوا بپھرے ہوئے سمندر کا نظارہ پیش کر رہی تھی، زمین و آسمان کی ہر شء پر گویا سکوت طاری تھا کہ نہ جانے مٹھی بھر مسلمانوں کا انجام آخر کیا ہوگا ؟کہ یکا یک کسی سمت سے ایک نقاب پوش عمدہ سیاہ زر بکتر میں گھوڑے پر سوار تیز و تند طوفان کی طرح نمودار ہوا ا اور رومی فوج کی پہلی صف میں قیامت برپا ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی رومی فوجیوں کی گردنیں اس کے تن سے جدا ہو گئیں، خالد بن ولید نے سوچا کہ یہ ضرور ضرار ابن ازور ہیں لیکن پھر سوچا کہ وہ تو اصول و ضوابط کے پابند ہیں ان سے اس غیر اصولی فعل کی توقع نہیں کی جا سکتی، ادھر ضرار ابن ازوار کا خیال تھا کہ یہ’ سیف اللہ خالد ابن ولید ‘کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، جتنا ذہن تھا اتنی ہی سوچ۔ ادھر لوگ سوچ رہے تھے اور ادھر اس شہ سوار نے اپنے گھوڑے کو واپس موڑ کر دوسرا حملہ کیا لوگوں نے ایسی شجاعت دیکھی تو جوش و خروش میں’ اللہ اکبر ‘ کے ایسے فلک شگاف نعرے لگائے جس کی گونج سے زمین و آسمان کا سکوت ہی نہیں ٹوٹا بلکہ اس کی گردش تیز ترین ہو گئی اور جب تیسرا حملہ کرنے کے لیے وہ شہ سوار پلٹا تو مسلمانوں کے جوش و غضب کو روکنا مشکل ہو گیا۔ فورا َ خالد ابن ولید نے عام حملے کا حکم دے دیا رومی جن کو شاید سانپ سونگھ گیا تھا اس حملے کی تاب نہ لا کر جلد ہی میدان چھوڑ گئے، خالد ابن ولید نے جنگ کے بعد اس شہ سوار کو بلایا تب یہ راز کھلا کہ وہ بہادر شہ سوار ضرار بن ازوار ‘‘ کی بہن ’’ خولہ بنت ازور ‘‘ ہیں۔ اس کے بھی کئی موقع پر اس مجاہدہ نے کارہائے نمایاں انجام دیے جس میں سے ایک جنگ یرموک بھی ہے۔
یرموک کی جنگ بازنطینی سلطنت اورخلافت راشدہ کی مسلم افواج کے درمیان ایک بڑی جنگ تھی۔ یہ جنگ کئی جھڑپوں پر مشتمل تھی جو’ عمر بن خطاب ‘ کی خلافت کے دور میں636ء 5 رجب 15 ہجری کو واقع ہوئی۔ چھ دن تک جاری رہی اور یرموک دریا کے قریب لڑی گئی، جو آج کے دور میں شام-اردن اوراسرائیل کی سرحدوں کے ساتھ، بحیرہ طبریہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی اور’ بلاد الشام‘ خلافت راشدہ کا حصہ بن گیا۔ جس کے بعد تقریباً سات صدیوں پر محیط شام میں رومی حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا۔ یرموک کی جنگ کو عسکری تاریخ کی سب سے فیصلہ کن جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ کرنے کے بعد ابتدائی مسلم فتوحات کی پہلی عظیم لہر کی علامت سمجھی جاتی ہے، جس نے اُس وقت کے عیسائی/رومی لیونت میں اسلام کی تیز رفتار پیش قدمی کی راہ ہموار کی۔
خولہ کی جنگی مہارت کی عمر نے تعریف کی۔ سعودی عرب میں کئی سڑکوں اور اسکولوں کا نام ان کے نام پر رکھا گیا ہے۔ بہت سے عرب شہروں میں خولہ بنت خولہ کا انتقال طاعون سے 639 AD میں ہوا، ممکنہ طور پر 629-636 AD کے درمیان راشدین کی فوج میں اس کی خدمات کے فوراً بعد واقع ہواتھا۔
تدفین عام طور پر اردن کے علاقے میں تصور کی جاتی ہے۔آپ کی میراث کو جدید دور میں عزت دی جاتی ہے ۔
خولہ الزوار ایک نمایاں، تاریخی شخصیت بنی ہوئی ہیں جن کی میراث ابتدائی اسلامی تاریخ میں ایک بہادر خاتون سربراہ فوجی کے طور پر منائی جاتی ہے۔سعودی عرب میں کئی سڑکیں اور اسکول خولہ الزوار کے لیے وقف ہیں اور ’اردن‘ نے خولہ الزوار کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا ہے۔ عراقی فوج کی تمام خواتین یونٹ ان کے نام سے منسوب ہے۔الازوار کے نام سے اسکول اور ادارے ہیں۔ خولہ کے اعزاز میں ایک عراقی تمام خواتین فوجی یونٹ کو "خولہ بنت الازور یونٹ” کا نام دیا گیا۔ متحدہ عرب امارات میں خواتین کے لیے پہلا ملٹری کالج، خولہ بنت الازور ٹریننگ کالج بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔
ززز


