عالمی یوم صحت 2026: کشمیر میں 6 برسوں کے دوران 50 ہزارکینسر کے معاملات

جنگ فیچر

ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 کے موقع پر جب دنیا بھر میں صحت، سائنسی شعور اور بروقت طبی مداخلت کی اہمیت اجاگر کی جا رہی ہے، جموں و کشمیر میں معاملات کے بڑھتے ہوئےمعاملاتایک تشویشناک حقیقت کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2024 کے دوران کشمیر میں 50551 معاملاتمعاملاترپورٹ ہوئے، جو اس خطے میں صحتِ عامہ کے نظام کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کشمیر میں معاملات کے مریضوں کی تعداد میں سال بہ سال اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں 2015 سے 2025 کے دوران 22130معاملاتدرج کیے گئے۔ ان میں پھیپھڑوں کا معاملات سب سے زیادہ عام رہا، جس کے 3272معاملاترپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد بریسٹ معاملات اور منہ کے معاملات کےمعاملات نمایاں رہے۔
ماہر ڈاکٹروں کے مطابق تمباکو نوشی، دوسرے کے دھوئیں کی زد، فضائی آلودگی، گھریلو دھواں اور پیشہ ورانہ خطرات پھیپھڑوں کے معاملات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں اکثر مریض مرض کے آخری مراحل میں اسپتال پہنچتے ہیں، جس کے باعث علاج پیچیدہ، مہنگا اور کم مؤثر ہو جاتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ بیماریوں سے نمٹنے کے لئے بروقت تشخیص، سائنسی آگاہی اور عوامی شمولیت ناگزیر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی اسکریننگ، دیہی علاقوں میں تشخیصی سہولیات، صحت سے متعلق شعور اور بروقت طبی رسائی کو مضبوط بنایا جائے تو معاملات کے بوجھ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تمباکو اور شراب سے پرہیز، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، آلودگی سے بچاؤ اور ایچ پی وی و ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن جیسے اقدامات معاملات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بیماری کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار صرف علاج نہیں، بلکہ احتیاط اور آگاہی ہے۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملات اسپتالوں، ماہر ڈاکٹروں، سستی علاج سہولیات، اسکریننگ پروگرامز اور آگاہی مہمات کو مزید مضبوط بنایا جائے، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں، جہاں تشخیص اور علاج تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 کے موقع پر جموں و کشمیر میں معاملات کے بڑھتے اعداد و شمار اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ صحت صرف اسپتالوں کا معاملہ نہیں، بلکہ پالیسی، آگاہی، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔

کشمیر میں جلد کینسر اسپتال قائم ہوگا

جنگ نیوز

جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر میں جلد ایک کینسر اسپتال قائم کیا جائے گا تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے کینسر کے مریضوں کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عیدگاہ سری نگر میں مجوزہ منصوبہ سیاسی مداخلت کے باعث تاخیر کا شکار ہوا، جس سے عوامی فلاح کے ایک اہم منصوبے کو نقصان پہنچا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

عالمی یوم صحت 2026: کشمیر میں 6 برسوں کے دوران 50 ہزارکینسر کے معاملات

جنگ فیچر

ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 کے موقع پر جب دنیا بھر میں صحت، سائنسی شعور اور بروقت طبی مداخلت کی اہمیت اجاگر کی جا رہی ہے، جموں و کشمیر میں معاملات کے بڑھتے ہوئےمعاملاتایک تشویشناک حقیقت کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے 2024 کے دوران کشمیر میں 50551 معاملاتمعاملاترپورٹ ہوئے، جو اس خطے میں صحتِ عامہ کے نظام کے لئے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کشمیر میں معاملات کے مریضوں کی تعداد میں سال بہ سال اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں 2015 سے 2025 کے دوران 22130معاملاتدرج کیے گئے۔ ان میں پھیپھڑوں کا معاملات سب سے زیادہ عام رہا، جس کے 3272معاملاترپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد بریسٹ معاملات اور منہ کے معاملات کےمعاملات نمایاں رہے۔
ماہر ڈاکٹروں کے مطابق تمباکو نوشی، دوسرے کے دھوئیں کی زد، فضائی آلودگی، گھریلو دھواں اور پیشہ ورانہ خطرات پھیپھڑوں کے معاملات کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں اکثر مریض مرض کے آخری مراحل میں اسپتال پہنچتے ہیں، جس کے باعث علاج پیچیدہ، مہنگا اور کم مؤثر ہو جاتا ہے۔
ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ بیماریوں سے نمٹنے کے لئے بروقت تشخیص، سائنسی آگاہی اور عوامی شمولیت ناگزیر ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی اسکریننگ، دیہی علاقوں میں تشخیصی سہولیات، صحت سے متعلق شعور اور بروقت طبی رسائی کو مضبوط بنایا جائے تو معاملات کے بوجھ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹروں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ تمباکو اور شراب سے پرہیز، متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، آلودگی سے بچاؤ اور ایچ پی وی و ہیپاٹائٹس بی ویکسینیشن جیسے اقدامات معاملات سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق بیماری کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار صرف علاج نہیں، بلکہ احتیاط اور آگاہی ہے۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملات اسپتالوں، ماہر ڈاکٹروں، سستی علاج سہولیات، اسکریننگ پروگرامز اور آگاہی مہمات کو مزید مضبوط بنایا جائے، خاص طور پر دیہی اور پسماندہ علاقوں میں، جہاں تشخیص اور علاج تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
ورلڈ ہیلتھ ڈے 2026 کے موقع پر جموں و کشمیر میں معاملات کے بڑھتے اعداد و شمار اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ صحت صرف اسپتالوں کا معاملہ نہیں، بلکہ پالیسی، آگاہی، احتیاط اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا بھی ہے۔

کشمیر میں جلد کینسر اسپتال قائم ہوگا

جنگ نیوز

جموں و کشمیر وقف بورڈ کی چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی نے اعلان کیا ہے کہ کشمیر میں جلد ایک کینسر اسپتال قائم کیا جائے گا تاکہ خطے میں بڑھتے ہوئے کینسر کے مریضوں کو بہتر اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ عیدگاہ سری نگر میں مجوزہ منصوبہ سیاسی مداخلت کے باعث تاخیر کا شکار ہوا، جس سے عوامی فلاح کے ایک اہم منصوبے کو نقصان پہنچا۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں