مسکراہٹ پر ٹکٹ

خورشید ریشی
شاٹھ گنڈ پائین ماور

 

کشمیر کی وادی میں بہار کی آمد کے ساتھ ہی باغات اور پارکوں میں رونقیں لوٹ آتی ہیں۔ رنگ برنگے پھول، ٹھنڈی ہوا اور فضا میں گھلی خوشبو ہر آنے والے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر انہی باغات کے دروازوں پر لگے ٹکٹ کاؤنٹر بعض لوگوں کے لئے خوشی کے دروازے بند بھی کر دیتے ہیں۔
گزشتہ اتوار کا دن تھا۔ ایک غریب باپ اپنے دو بچوں کے ساتھ شہر کے ایک معروف باغ کے باہر کھڑا تھا۔ اندر سے بچوں کی ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں اور پھولوں کی قطاریں جیسے انہیں اپنی طرف بلا رہی تھیں۔
بچے ضد کرنے لگے۔
“ابو! ہمیں بھی اندر جانا ہے۔ ہمارے اسکول کے دوست بھی آئے ہیں۔ پلیز ٹکٹ لے لیجیے۔”
باپ نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ چند سکے اس کی ہتھیلی میں آئے، مگر وہ اس خوشی کی قیمت ادا کرنے کے لئے کافی نہ تھے۔ اس نے بچوں کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“بیٹا، ٹکٹ تو ہوائی جہاز میں سفر کرنے کے لئے ہوتی ہے… ٹرین یا بس میں سفر کرنے کے لئے بھی ٹکٹ چاہیے… ہسپتال میں علاج کے لئے بھی پرچی لینی پڑتی ہے… اور سینما میں فلم دیکھنے کے لئے بھی ٹکٹ ضروری ہوتی ہے۔”
وہ لمحہ بھر رکا، پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولا:
“مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس قدرتی باغ میں سیر کرنے کے لئے بھی ٹکٹ کیوں؟ یہ تو وہ جگہ ہے جہاں بچے فطرت کے قریب آتے ہیں، خوشی حاصل کرتے ہیں اور کچھ سیکھتے ہیں۔”
اسی دوران کچھ اسکول کے طلبہ اپنے اساتذہ کے ساتھ باغ کے اندر داخل ہو رہے تھے۔ ان کے چہروں پر خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر باپ کی آواز میں بے بسی جھلکنے لگی۔
“آج مہنگائی نے غریب والدین کو پہلے ہی پریشان کر رکھا ہے۔ گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو ایکسکرشن کے لئے بھی ٹکٹ دینا پڑے تو غریب والدین اپنے بچوں کی خواہشیں کیسے پوری کریں گے؟”
بچے اب خاموش تھے۔ شاید وہ باپ کی مجبوری سمجھنے لگے تھے۔ باپ کی آنکھوں میں نمی تھی اور دل میں ایک درد بھری فریاد۔
وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوا:
“میری حکومت سے ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ اسکولوں کے معصوم طلبہ و طالبات کو پارکوں اور باغوں میں داخلے کے لئے ٹکٹ سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ یہ بچے ہماری قوم کا مستقبل ہیں۔ اگر ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر بھی قیمت لگ جائے تو ان کے خواب کیسے پروان چڑھیں گے؟”
باغ کے دروازے کے باہر کھڑا وہ باپ کچھ دیر تک اندر کھیلتے بچوں کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنے بچوں کا ہاتھ تھاما اور آہستہ آہستہ واپس چل پڑا۔ مگر اس کے دل میں ایک امید باقی تھی کہ شاید کسی دن یہ مسکراہٹیں سب کے لئے مفت ہو جائیں گی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

مسکراہٹ پر ٹکٹ

خورشید ریشی
شاٹھ گنڈ پائین ماور

 

کشمیر کی وادی میں بہار کی آمد کے ساتھ ہی باغات اور پارکوں میں رونقیں لوٹ آتی ہیں۔ رنگ برنگے پھول، ٹھنڈی ہوا اور فضا میں گھلی خوشبو ہر آنے والے کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ مگر انہی باغات کے دروازوں پر لگے ٹکٹ کاؤنٹر بعض لوگوں کے لئے خوشی کے دروازے بند بھی کر دیتے ہیں۔
گزشتہ اتوار کا دن تھا۔ ایک غریب باپ اپنے دو بچوں کے ساتھ شہر کے ایک معروف باغ کے باہر کھڑا تھا۔ اندر سے بچوں کی ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں اور پھولوں کی قطاریں جیسے انہیں اپنی طرف بلا رہی تھیں۔
بچے ضد کرنے لگے۔
“ابو! ہمیں بھی اندر جانا ہے۔ ہمارے اسکول کے دوست بھی آئے ہیں۔ پلیز ٹکٹ لے لیجیے۔”
باپ نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ چند سکے اس کی ہتھیلی میں آئے، مگر وہ اس خوشی کی قیمت ادا کرنے کے لئے کافی نہ تھے۔ اس نے بچوں کی طرف دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“بیٹا، ٹکٹ تو ہوائی جہاز میں سفر کرنے کے لئے ہوتی ہے… ٹرین یا بس میں سفر کرنے کے لئے بھی ٹکٹ چاہیے… ہسپتال میں علاج کے لئے بھی پرچی لینی پڑتی ہے… اور سینما میں فلم دیکھنے کے لئے بھی ٹکٹ ضروری ہوتی ہے۔”
وہ لمحہ بھر رکا، پھر گہری سانس لیتے ہوئے بولا:
“مگر مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس قدرتی باغ میں سیر کرنے کے لئے بھی ٹکٹ کیوں؟ یہ تو وہ جگہ ہے جہاں بچے فطرت کے قریب آتے ہیں، خوشی حاصل کرتے ہیں اور کچھ سیکھتے ہیں۔”
اسی دوران کچھ اسکول کے طلبہ اپنے اساتذہ کے ساتھ باغ کے اندر داخل ہو رہے تھے۔ ان کے چہروں پر خوشی صاف نظر آ رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر باپ کی آواز میں بے بسی جھلکنے لگی۔
“آج مہنگائی نے غریب والدین کو پہلے ہی پریشان کر رکھا ہے۔ گھر کا خرچ چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ کو ایکسکرشن کے لئے بھی ٹکٹ دینا پڑے تو غریب والدین اپنے بچوں کی خواہشیں کیسے پوری کریں گے؟”
بچے اب خاموش تھے۔ شاید وہ باپ کی مجبوری سمجھنے لگے تھے۔ باپ کی آنکھوں میں نمی تھی اور دل میں ایک درد بھری فریاد۔
وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے گویا ہوا:
“میری حکومت سے ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ اسکولوں کے معصوم طلبہ و طالبات کو پارکوں اور باغوں میں داخلے کے لئے ٹکٹ سے مستثنیٰ رکھا جائے۔ یہ بچے ہماری قوم کا مستقبل ہیں۔ اگر ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر بھی قیمت لگ جائے تو ان کے خواب کیسے پروان چڑھیں گے؟”
باغ کے دروازے کے باہر کھڑا وہ باپ کچھ دیر تک اندر کھیلتے بچوں کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنے بچوں کا ہاتھ تھاما اور آہستہ آہستہ واپس چل پڑا۔ مگر اس کے دل میں ایک امید باقی تھی کہ شاید کسی دن یہ مسکراہٹیں سب کے لئے مفت ہو جائیں گی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں