ایران پر مسلط کردہ اس جنگ نے نہ صرف ایک ملک کی قیادت کو تقریباً مفلوج کر دیا ہے بلکہ عام انسان کی زندگی کو بھی کربناک انجام سے دوچار کر دیا ہے۔ معصوم شہری، عورتیں، بچے اور بزرگ اس آگ میں جل رہے ہیں جسےامریکہ کی طاقت اور مفاد کی سیاست نے بھڑکایا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہےجس میں بڑے حد تک نقصان کے باوجود ایران کامیابی کے جھنڈے لہرارہا ہے۔
افسوس کہ ایک طرف ایران کے عوام اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا رہے ہیں اور دوسری طرف کچھ حلقے اس سانحے کو تفریح بنا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر تباہی کو سنسنی کے طور پر پیش کرنا ہماری مردہ ہوتی انسانیت کی علامت ہے، جو ظلم کو معمول بنا دیتا ہے۔ کشمیر میں بھی کچھ خودساختہ تجزیہ کار، علم کے بغیر، غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر نہ صرف غلط معلومات پھیلا رہے ہیں بلکہ برادریوں کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔
یہ وقت جذباتی نعروں یا سطحی تجزیوں کا نہیں بلکہ سنجیدہ فہم، ذمہ دارانہ رویے اور انسانی ہمدردی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ہر وہ آواز جو جنگ کو جواز فراہم کرتی ہے یا اسے ہلکے انداز میں لیتی ہے، دراصل انسانیت کے خلاف ایک خاموش جرم کی شریک بن جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سچائی، تحقیق اور شعور کو اپنا ہتھیار بنائیں، نہ کہ افواہوں اور تعصبات کو ہوا دیں۔ ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا تقاضا صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمارے رویوں اور بیانیے میں بھی جھلکنا چاہیے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا، جہاں انسان کی جان، عزت اور امن سب سے مقدم ہوں۔آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم اب بھی انسان ہیں یا محض تماشائی بن چکے ہیں۔


