ایران سے مذاکرات یا بڑے زمینی حملے کی تیاری

 

 

اختر جمال عثمانی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں پیش کیے گئے پندرہ نکاتی مبینہ امن منصوبے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے پیش کی گئی پانچ شرائط نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ معاملہ محض دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی گیس کے ڈپو اور پیٹرہل پمپوں پر لمبی قطاریں اس با ت کا ثبوت ہیں ۔ سب سے پہلے امریکی منصوبے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے سامنے جو پندرہ شرائط رکھیں ہیں ان میں ایران کے جوہری پروگرام کو سختی سے کنٹرول کرنا، میزائل پروگرام کو ختم کرنا، خطے میں موجود اس کے اتحادی گروہوں جیسے حزب اللہ اور حماس کی حمایت ترک کرنا، اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بین الاقوامی کنٹرول میں دینا شامل تھا۔ اس کے علاوہ ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا بھی ان شرائط کا حصہ ہے۔در حقیقت یہ شرائط کسی بھی خودمختار ریاست کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ کوئی بھی آزاد ملک اپنی دفاعی صلاحیت کو اس حد تک ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مکمل طور پر دوسروں کے رحم و کرم پر آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے ان شرائط کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ یہ شرائط دراصل امن کے بجائے اس کی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔اس کے برعکس ایران نے اپنی جانب سے پانچ شرائط پیش کیں، جو نسبتاً مختصر، واضح اور کسی حد تک منطقی معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی شرط یہ تھی کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کی پالیسی کو فوراً ختم کیا جائے۔ دوسری شرط میں مستقبل میں ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت مانگی گئی ہے۔ تیسری شرط میں جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ تمام محاذوں پر کشیدگی اور تصادم کا خاتمہ کیا جائے۔ جبکہ پانچویں اور سب سے متنازع شرط آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ہے۔ان میں سے پہلی چار شرائط کو دنیا کے کئی ممالک معقول قرار دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے اور استحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لیکن پانچویں شرط اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے مطابق نہیں ہے ۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس پر کسی ایک ملک کا مکمل کنٹرول تسلیم کر لیا جائے تو عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں بنیامین نیتن یاہو کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اسرائیل شروع سے ایران کے خلاف سخت موقف رکھتا آیا ہے اور وہ ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اس جنگ کو جاری رکھنے کے حق میں نظر آتا ہے، جبکہ امریکہ کے اندر خود اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ اہم افراد جنگ کے حق میں تھے، جبکہ کچھ اس کے خلاف۔امریکہ کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات کے پیش نظر ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر وہ جنگ کو طول دیتے ہیں تو عوامی حمایت مزید کم ہو سکتی ہے، اور اگر بغیر کسی بڑی کامیابی کے جنگ ختم کرتے ہیں تو ان پر کمزوری کا الزام لگ سکتا ہے۔ اس دوہری مشکل نے ان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس جنگ کے معاشی اثرات بھی بہت سنگین ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خود امریکہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس جنگ کو جلداز جلد ختم کرنے کی کوششیں جا ری ہیں۔
اس پوری صورتحال میں ایک اہم پہلو سفارت کاری کا بھی ہے۔ ترکی، پاکستان اور مصر جیسے ممالک اس تنازع میں ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ممالک دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کسی ممکنہ حل کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آتی، لیکن یہ کوششیں مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہنری کسنجر جو ایک زمانے میں امریکی وزیر خارجہ تھے ، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہے، مگر اس کا دوست ہونا بھی کم خطرناک نہیں۔ موجودہ صورتحال اس قول کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں صرف بیانات اور سفارتی کوششیں ہی نہیں بلکہ زمینی حقائق بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ بظاہر ایک طرف مذاکرات اور امن کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن دوسری طرف خطے میں فوجی نقل و حرکت اور حکمت عملی کے اشارے ایک بڑے تصادم کی تیاری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج دنیا بھر کے مبصرین اور دفاعی ماہرین غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ مذاکرات واقعی امن کے لئے ہیں یا کسی بڑے حملے سے پہلے وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی۔امریکہ کی طرف سے ایران کو دی گئی پندرہ شرائط پہلے ہی سخت اور یکطرفہ سمجھی جا رہی تھیں، جنہیں ایران نے مسترد کر دیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اپنی پانچ شرائط پیش کیں جو نسبتاً مختصر اور واضح تھیں۔ لیکن زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ مذاکرات کی یہ پوری مشق محض ایک پردہ بھی ہو سکتی ہے، جس کے پیچھے اصل تیاری کسی بڑے فوجی اقدام کی ہو رہی ہے۔حالیہ اطلاعات اور تجزیوں کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی، خاص طور پر اسرائیل، ایران کے ایک انتہائی اہم اور حساس مقام یعنی جزیرہ? خارگ (Kharg Island) کو ہدف بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں سے ایران کا تقریباً اسی فیصد تیل برآمد ہوتا ہے۔ اگر اس جزیرے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یا اس پر قبضہ کر لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ایران کی معیشت کو شدید دھچکا دینا ہوگا۔اسی تناظر میں یہ خیال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی فوجی طاقت کو خطے میں مکمل طور پر جمع کر سکے۔ ماضی میں بھی امریکہ پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ سفارت کاری کو اپنی فوجی حکمت عملی کا حصہ بناتا ہے۔ اس لئے موجودہ صورتحال میں شکوک و شبہات کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اس صورتحال سے غافل نہیں ہے۔ ایرانی قیادت اور فوجی ادارے اس ممکنہ خطرے کو محسوس کر رہے ہیں اور اپنی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایران کے اندر عوامی سطح پر بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے، اور یہ تاثر عام ہے کہ اگر براہِ راست زمینی جنگ ہوئی تو ایران بھرپور مزاحمت کرے گا۔ کچھ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران میں زمینی مداخلت کی تو یہ اس کے لئے ایک اور‘‘ویتنام’’ثابت ہو سکتی ہے، جہاں ایک طاقتور فوج کو غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
امریکہ کے ممکنہ منصوبوں میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا اس کی ناکہ بندی، لارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا، ابو موسیٰ اور دیگر جزائر پر قبضہ، ایرانی تیل بردار جہازوں کو روکنا، اور ایران کی جوہری تنصیبات پر بڑے فضائی حملے شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم پہلو ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، جو ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے اتحادی ممالک سے تعاون حاصل کیا ہے۔ مثال کے طور پر روس کے ساتھ دفاعی تعاون کی باتیں سامنے آئی ہیں، جس میں جدید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان خبروں کی مکمل تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی تیاریوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ کئی حلقے اس بات کے حق میں ہیں کہ جنگ سے گریز کیا جائے کیونکہ اس کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب بات زمینی جنگ کی ہو تو اس کے سیاسی اور انسانی نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا آسان حل نہیں ہوتی۔ جنگ کا آغاز کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اسے ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ایران کی مزاحمت اور اس کی ثابت قدمی نے دنیا کے کئی دفاعی ماہرین کو حیران کیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی فوجی طاقت کہیں زیادہ ہے، لیکن ایران نے جس طرح مسلسل مقابلہ کیا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا نتیجہ صرف طاقت کے بل پر طے نہیں ہوتا بلکہ حوصلہ، حکمت عملی اور عوامی حمایت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی امید ہے، تو دوسری طرف جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق ہوش مندی سے کام لیں اور ایسے فیصلے کریں جو نہ صرف ان کے اپنے مفاد میں ہوں بلکہ پوری دنیا کے لئے امن اور استحکام کا باعث بنیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تنازع ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

ایران سے مذاکرات یا بڑے زمینی حملے کی تیاری

 

 

اختر جمال عثمانی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں پیش کیے گئے پندرہ نکاتی مبینہ امن منصوبے اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے پیش کی گئی پانچ شرائط نے عالمی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ معاملہ محض دو ممالک کے درمیان تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں بھی گیس کے ڈپو اور پیٹرہل پمپوں پر لمبی قطاریں اس با ت کا ثبوت ہیں ۔ سب سے پہلے امریکی منصوبے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے سامنے جو پندرہ شرائط رکھیں ہیں ان میں ایران کے جوہری پروگرام کو سختی سے کنٹرول کرنا، میزائل پروگرام کو ختم کرنا، خطے میں موجود اس کے اتحادی گروہوں جیسے حزب اللہ اور حماس کی حمایت ترک کرنا، اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بین الاقوامی کنٹرول میں دینا شامل تھا۔ اس کے علاوہ ایران کے فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا بھی ان شرائط کا حصہ ہے۔در حقیقت یہ شرائط کسی بھی خودمختار ریاست کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ کوئی بھی آزاد ملک اپنی دفاعی صلاحیت کو اس حد تک ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہو سکتا کہ وہ مکمل طور پر دوسروں کے رحم و کرم پر آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے ان شرائط کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ یہ شرائط دراصل امن کے بجائے اس کی خودمختاری کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔اس کے برعکس ایران نے اپنی جانب سے پانچ شرائط پیش کیں، جو نسبتاً مختصر، واضح اور کسی حد تک منطقی معلوم ہوتی ہیں۔ پہلی شرط یہ تھی کہ ایران کے خلاف جاری جنگ اور اس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا کر قتل کرنے کی پالیسی کو فوراً ختم کیا جائے۔ دوسری شرط میں مستقبل میں ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت مانگی گئی ہے۔ تیسری شرط میں جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی بھرپائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چوتھی شرط یہ ہے کہ تمام محاذوں پر کشیدگی اور تصادم کا خاتمہ کیا جائے۔ جبکہ پانچویں اور سب سے متنازع شرط آبنائے ہرمز پر ایران کے مکمل اختیار کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی ہے۔ان میں سے پہلی چار شرائط کو دنیا کے کئی ممالک معقول قرار دے سکتے ہیں، کیونکہ یہ بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے اور استحکام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ لیکن پانچویں شرط اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے مطابق نہیں ہے ۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اگر اس پر کسی ایک ملک کا مکمل کنٹرول تسلیم کر لیا جائے تو عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اس تمام صورتحال میں بنیامین نیتن یاہو کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ اسرائیل شروع سے ایران کے خلاف سخت موقف رکھتا آیا ہے اور وہ ایران کو ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اس جنگ کو جاری رکھنے کے حق میں نظر آتا ہے، جبکہ امریکہ کے اندر خود اس حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے کچھ اہم افراد جنگ کے حق میں تھے، جبکہ کچھ اس کے خلاف۔امریکہ کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس فیصلے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات کے پیش نظر ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اگر وہ جنگ کو طول دیتے ہیں تو عوامی حمایت مزید کم ہو سکتی ہے، اور اگر بغیر کسی بڑی کامیابی کے جنگ ختم کرتے ہیں تو ان پر کمزوری کا الزام لگ سکتا ہے۔ اس دوہری مشکل نے ان کی پوزیشن کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس جنگ کے معاشی اثرات بھی بہت سنگین ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ خود امریکہ بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس جنگ کو جلداز جلد ختم کرنے کی کوششیں جا ری ہیں۔
اس پوری صورتحال میں ایک اہم پہلو سفارت کاری کا بھی ہے۔ ترکی، پاکستان اور مصر جیسے ممالک اس تنازع میں ثالثی کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ممالک دونوں فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کسی ممکنہ حل کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کوئی واضح پیش رفت نظر نہیں آتی، لیکن یہ کوششیں مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہنری کسنجر جو ایک زمانے میں امریکی وزیر خارجہ تھے ، امریکہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا دشمن ہونا خطرناک ہے، مگر اس کا دوست ہونا بھی کم خطرناک نہیں۔ موجودہ صورتحال اس قول کی ایک جھلک پیش کرتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں صرف بیانات اور سفارتی کوششیں ہی نہیں بلکہ زمینی حقائق بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ بظاہر ایک طرف مذاکرات اور امن کی باتیں ہو رہی ہیں، لیکن دوسری طرف خطے میں فوجی نقل و حرکت اور حکمت عملی کے اشارے ایک بڑے تصادم کی تیاری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر آج دنیا بھر کے مبصرین اور دفاعی ماہرین غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ مذاکرات واقعی امن کے لئے ہیں یا کسی بڑے حملے سے پہلے وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی۔امریکہ کی طرف سے ایران کو دی گئی پندرہ شرائط پہلے ہی سخت اور یکطرفہ سمجھی جا رہی تھیں، جنہیں ایران نے مسترد کر دیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اپنی پانچ شرائط پیش کیں جو نسبتاً مختصر اور واضح تھیں۔ لیکن زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ مذاکرات کی یہ پوری مشق محض ایک پردہ بھی ہو سکتی ہے، جس کے پیچھے اصل تیاری کسی بڑے فوجی اقدام کی ہو رہی ہے۔حالیہ اطلاعات اور تجزیوں کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادی، خاص طور پر اسرائیل، ایران کے ایک انتہائی اہم اور حساس مقام یعنی جزیرہ? خارگ (Kharg Island) کو ہدف بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہاں سے ایران کا تقریباً اسی فیصد تیل برآمد ہوتا ہے۔ اگر اس جزیرے کو نقصان پہنچایا جاتا ہے یا اس پر قبضہ کر لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ایران کی معیشت کو شدید دھچکا دینا ہوگا۔اسی تناظر میں یہ خیال بھی زور پکڑ رہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کر رہا ہے تاکہ وہ اپنی فوجی طاقت کو خطے میں مکمل طور پر جمع کر سکے۔ ماضی میں بھی امریکہ پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ سفارت کاری کو اپنی فوجی حکمت عملی کا حصہ بناتا ہے۔ اس لئے موجودہ صورتحال میں شکوک و شبہات کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے۔
دوسری جانب ایران بھی اس صورتحال سے غافل نہیں ہے۔ ایرانی قیادت اور فوجی ادارے اس ممکنہ خطرے کو محسوس کر رہے ہیں اور اپنی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ایران کے اندر عوامی سطح پر بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید غصہ پایا جاتا ہے، اور یہ تاثر عام ہے کہ اگر براہِ راست زمینی جنگ ہوئی تو ایران بھرپور مزاحمت کرے گا۔ کچھ ماہرین یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران میں زمینی مداخلت کی تو یہ اس کے لئے ایک اور‘‘ویتنام’’ثابت ہو سکتی ہے، جہاں ایک طاقتور فوج کو غیر متوقع مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
امریکہ کے ممکنہ منصوبوں میں خارگ جزیرے پر قبضہ یا اس کی ناکہ بندی، لارک جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا، ابو موسیٰ اور دیگر جزائر پر قبضہ، ایرانی تیل بردار جہازوں کو روکنا، اور ایران کی جوہری تنصیبات پر بڑے فضائی حملے شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم پہلو ایران کے افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، جو ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔اسی دوران یہ خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے اتحادی ممالک سے تعاون حاصل کیا ہے۔ مثال کے طور پر روس کے ساتھ دفاعی تعاون کی باتیں سامنے آئی ہیں، جس میں جدید فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ ان خبروں کی مکمل تصدیق مشکل ہے، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی تیاریوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے نہیں ہے۔ کئی حلقے اس بات کے حق میں ہیں کہ جنگ سے گریز کیا جائے کیونکہ اس کے نتائج غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب بات زمینی جنگ کی ہو تو اس کے سیاسی اور انسانی نقصانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا آسان حل نہیں ہوتی۔ جنگ کا آغاز کرنا آسان ہوتا ہے، لیکن اسے ختم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ایران کی مزاحمت اور اس کی ثابت قدمی نے دنیا کے کئی دفاعی ماہرین کو حیران کیا ہے۔ اگرچہ امریکہ کی فوجی طاقت کہیں زیادہ ہے، لیکن ایران نے جس طرح مسلسل مقابلہ کیا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا نتیجہ صرف طاقت کے بل پر طے نہیں ہوتا بلکہ حوصلہ، حکمت عملی اور عوامی حمایت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی نازک ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی امید ہے، تو دوسری طرف جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام فریق ہوش مندی سے کام لیں اور ایسے فیصلے کریں جو نہ صرف ان کے اپنے مفاد میں ہوں بلکہ پوری دنیا کے لئے امن اور استحکام کا باعث بنیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ تنازع ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں