سہیل خان
وزیراعظم کا حالیہ دورۂ اسرائیل بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ ایک تسلسل کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ کسی بنیادی انحراف کی۔ وقت کے ساتھ بھارت کا علاقائی نقطۂ نظر ضرور ارتقا پذیر ہوا ہے، مگر اس کے بنیادی اصول بدستور برقرار ہیں: توازن، اسٹریٹجک خودمختاری، اور قومی مفاد کی بنیاد پر فعال سفارت کاری۔
اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات کوئی نئی بات نہیں
بھارت نے 1992 میں اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد سے دفاع، زراعت، آبی وسائل کے انتظام اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مسلسل فروغ پاتا رہا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے بھارت کا ایک اہم دفاعی شراکت دار رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک انسداد دہشت گردی میں بھی قریبی تعاون رکھتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں جو تبدیلی آئی ہے وہ تعلقات کی بنیاد میں نہیں بلکہ ان کی نمایاں حیثیت میں ہے۔ اعلیٰ سطحی دورے اور کھلے عام اعترافات نے ان روابط کو زیادہ واضح کیا ہے، حالانکہ یہ شراکت داری دہائیوں سے مختلف حکومتوں کے ادوار میں پروان چڑھتی رہی ہے۔
اسرائیل سے روابط کا مطلب فلسطین سے دستبرداری نہیں
کچھ ناقدین یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات بھارت کی فلسطین سے روایتی حمایت میں کمی کی علامت ہیں، مگر یہ نتیجہ درست نہیں۔ بھارت بدستور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور فلسطینی قیادت کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھتا ہے۔ عالمی فورمز پر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت اس کی مستقل پالیسی کا حصہ رہی ہے۔
موجودہ حکمت عملی اسرائیل اور فلسطین کو الگ الگ سفارتی دائروں میں دیکھتی ہے۔ ایک کے ساتھ روابط کو دوسرے سے دوری کے طور پر نہیں لیا جاتا۔ یہی متوازن رویہ بھارت کو اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی حقوق کے حوالے سے اپنی دیرینہ پوزیشن برقرار رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اسٹریٹجک اور عملی محرکات
بھارت کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات محض نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ عملی ضروریات کے تحت استوار ہیں:
٭ دفاعی تعاون نے بھارت کی سلامتی کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ہے۔
٭ ٹیکنالوجی شراکت داری زراعت، پانی کے تحفظ اور جدت کے شعبوں میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
٭ انسداد دہشت گردی میں تعاون مشترکہ سیکیورٹی خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ فیصلے خالصتاً قومی مفاد پر مبنی ہیں، نہ کہ کسی نظریاتی وابستگی پر۔
مغربی ایشیا میں وسیع تر حکمت عملی
بھارت مغربی ایشیا میں ایک متوازن اور کثیر جہتی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ وہ خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ خلیجی خطہ بھارت کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ ہے اور یہاں بڑی بھارتی تارکین وطن آبادی بھی موجود ہے۔
یہ کثیر جہتی سفارت کاری واضح کرتی ہے کہ بھارت کسی ایک ملک کے ساتھ مکمل وابستگی کے بجائے پورے خطے میں اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت وہ مختلف شراکت داریوں کو بیک وقت فروغ دیتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ خطے کا ماحول بھی بدل چکا ہے۔ کئی عرب ممالک اب اسرائیل کے ساتھ کھلے روابط استوار کر چکے ہیں، جس سے ماضی کی سفارتی حساسیت میں کمی آئی ہے اور بھارت کے لیے اپنی متوازن پالیسی کو جاری رکھنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔
بڑھتے اعتماد کے ساتھ تسلسل
وزیراعظم کا اسرائیل کا دورہ دراصل ایک ایسے تعلق پر اعتماد کا اظہار ہے جو وقت کے ساتھ مضبوط اور پختہ ہو چکا ہے۔ یہ کسی اچانک تبدیلی یا روایتی پالیسی سے انحراف کی نشاندہی نہیں کرتا، بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت ایک پیچیدہ خطے میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے پراعتماد انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔
مختصراً، یہ دورہ پالیسی کے تسلسل کی علامت ہے۔ ایک ایسی حقیقت پسندانہ اور متوازن حکمت عملی، جو قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے سفارتی توازن کو برقرار رکھتی ہے۔
اضافی تجزیہ: بدلتی عالمی سیاست اور بھارت کا کردار
آج کی کثیر قطبی دنیا میں بھارت کی خارجہ پالیسی زیادہ خودمختار اور لچکدار ہوتی جا رہی ہے۔ مغربی ایشیا میں اس کا کردار محض ایک شراکت دار تک محدود نہیں بلکہ ایک توازن قائم رکھنے والے فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔ توانائی کی ضروریات، سلامتی کے خدشات، اور اقتصادی مفادات بھارت کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ خطے کے تمام اہم ممالک کے ساتھ بیک وقت تعلقات کو فروغ دے۔
مزید برآں، ٹیکنالوجی اور دفاع کے شعبوں میں اسرائیل کے ساتھ تعاون بھارت کی داخلی ترقی اور سلامتی کے اہداف سے جڑا ہوا ہے، جبکہ خلیجی ممالک کے ساتھ روابط اس کی معیشت اور توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو بھارت کی پالیسی کسی ایک بلاک یا اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے ایک متوازن، خودمختار اور مفاداتی حکمت عملی کی نمائندگی کرتی ہے، جو مستقبل میں بھی اس کے عالمی کردار کو مضبوط بنانے میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔


