مودی کا دورۂ اسرائیل: تسلسل، اعتماد اور تزویراتی توازن

 

سہیل خان

وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 25 تا 26 فروری 2026 کو اسرائیل کا دو روزہ سرکاری دورہ، 2017 کے تاریخی دورے کے بعد ان کا دوسرا دورہ ہے، جو ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بھارت کی وابستگی کسی وقتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل کا مظہر ہے۔ یہ دورہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اپنی مغربی ایشیائی پالیسی میں توازن، خودمختاری اور قومی مفادات کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں کبھی بھی سخت نظریاتی حدود کی پابند نہیں رہی۔ اس نے ہمیشہ تزویراتی خودمختاری اور عملی قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کیے ہیں۔ دہائیوں سے نئی دہلی نے اسرائیل، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت مہارت سے متوازن رکھا ہے، جہاں توانائی کے تحفظ، تجارت، دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اشتراکِ عمل کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس پیچیدہ خطے میں کامیابی کے لیے لچکدار حکمتِ عملی ناگزیر رہی ہے، نہ کہ کسی ایک بلاک کے ساتھ مکمل وابستگی۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کی بنیاد 1992 میں رکھی گئی جب ایک کانگریس حکومت نے مکمل سفارتی روابط قائم کیے۔ اس کے بعد دفاعی اور تکنیکی تعاون مسلسل ترقی کرتا رہا ہے۔ اسرائیل بھارت کا ایک اہم دفاعی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ زراعت، آبی نظم و نسق، سائبر سیکیورٹی اور اختراعات کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان تعلقات کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دو طرفہ روابط سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔
حالیہ برسوں میں جو تبدیلی آئی وہ پالیسی کی سمت میں نہیں بلکہ اس کی نمایاں حیثیت میں تھی۔ وزیرِ اعظم مودی کے دور میں بھارت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فلسطینی مسئلے سے الگ انداز میں دیکھنا شروع کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو اپنی الگ تزویراتی اہمیت کے تحت فروغ دیا جائے، بغیر اس کے کہ اسے صرف فلسطین کے تناظر میں محدود کیا جائے۔ اس کے باوجود بھارت نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت اور فلسطینی قیادت کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھے ہیں، جو اس کے متوازن مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
موجودہ دورہ اس ارتقائی عمل کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، مثلاً غزہ کے بعد کی کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات، اور بدلتے ہوئے جغرافیائی اتحاد، یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کی مضبوطی کو اجاگر کرتا ہے۔ مودی کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب، وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقاتیں، اور دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس، رابطہ کاری اور تعلیم جیسے شعبوں میں بات چیت، اس شراکت داری کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
علامتی پہلو بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں پرتپاک استقبال اور ثقافتی خیر سگالی کے مظاہر اس بات کی علامت ہیں کہ یہ تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں۔ اب یہ رشتہ صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ جدت، سائنسی تحقیق، تعلیمی تبادلوں اور عوامی روابط تک پھیل چکا ہے۔
اگرچہ بعض ناقدین اس دورے کے وقت پر سوال اٹھا سکتے ہیں، خاص طور پر اسرائیل کی حالیہ پالیسیوں کے عالمی جائزے کے تناظر میں، لیکن بھارت کی متوازن سفارت کاری اس کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت خلیجی ممالک سے اپنے روابط کو نظرانداز کر رہا ہے۔ درحقیقت متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھارت کے اقتصادی اور تزویراتی تعلقات بدستور مستحکم ہیں۔ توانائی کی فراہمی، تجارت اور مغربی ایشیا میں بھارتی تارکینِ وطن کی موجودگی بھارت کی علاقائی پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔
یہ کثیر جہتی حکمتِ عملی طویل عرصے سے بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی کا خاصہ رہی ہے: تمام اہم فریقین کے ساتھ تعلقات رکھنا، کسی ایک بلاک تک محدود نہ ہونا، اور بدلتے ہوئے حالات میں قومی مفادات کا تحفظ کرنا۔ مودی کا یہ دورہ کسی بڑی تبدیلی کی علامت نہیں بلکہ ایک تدریجی اور عملی پیش رفت کا تسلسل ہے، جو حقیقت پسندی اور کھلے سفارتی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں عالمی اتحاد تیزی سے بدل رہے ہیں اور علاقائی عدم استحکام بڑھ رہا ہے، تسلسل بذاتِ خود ایک طاقت ہے۔ بھارت کا پیغام واضح ہے: شراکت داریاں وقت کے ساتھ گہری ہو سکتی ہیں، مگر توازن، خودمختاری اور قومی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی اس کی اصل بنیاد رہے گی۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات مستقبل میں کئی نئے شعبوں میں وسعت اختیار کر سکتے ہیں:
٭ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت: دونوں ممالک AI، ڈیٹا سیکیورٹی اور فِن ٹیک میں مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔
٭ دفاعی خود کفالت: “میک اِن انڈیا” کے تحت اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
٭ زراعت میں انقلاب: اسرائیلی ڈرِپ اریگیشن اور اسمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجی بھارت کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
٭ آبی بحران کا حل: پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے اسرائیلی واٹر مینجمنٹ ماڈل بھارت کے کئی علاقوں میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
٭ تعلیم اور تحقیق: جامعات کے درمیان اشتراک، طلبہ کے تبادلے اور مشترکہ ریسرچ پروگرام نئی نسل کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔
آخرکار، بھارت کی حکمتِ عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید سفارت کاری میں “یا تو یہ یا وہ” کا تصور کمزور ہو چکا ہے۔ آج کی دنیا میں کامیاب ممالک وہ ہیں جو بیک وقت مختلف قوتوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، اور بھارت اسی راستے پر گامزن ہے۔
ززز

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

مودی کا دورۂ اسرائیل: تسلسل، اعتماد اور تزویراتی توازن

 

سہیل خان

وزیرِ اعظم نریندر مودی کا 25 تا 26 فروری 2026 کو اسرائیل کا دو روزہ سرکاری دورہ، 2017 کے تاریخی دورے کے بعد ان کا دوسرا دورہ ہے، جو ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بھارت کی وابستگی کسی وقتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ پالیسی کے تسلسل کا مظہر ہے۔ یہ دورہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت اپنی مغربی ایشیائی پالیسی میں توازن، خودمختاری اور قومی مفادات کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔
بھارت کی خارجہ پالیسی خطے میں کبھی بھی سخت نظریاتی حدود کی پابند نہیں رہی۔ اس نے ہمیشہ تزویراتی خودمختاری اور عملی قومی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کیے ہیں۔ دہائیوں سے نئی دہلی نے اسرائیل، عرب ممالک اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہایت مہارت سے متوازن رکھا ہے، جہاں توانائی کے تحفظ، تجارت، دفاعی تعاون، انسدادِ دہشت گردی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اشتراکِ عمل کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس پیچیدہ خطے میں کامیابی کے لیے لچکدار حکمتِ عملی ناگزیر رہی ہے، نہ کہ کسی ایک بلاک کے ساتھ مکمل وابستگی۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کی بنیاد 1992 میں رکھی گئی جب ایک کانگریس حکومت نے مکمل سفارتی روابط قائم کیے۔ اس کے بعد دفاعی اور تکنیکی تعاون مسلسل ترقی کرتا رہا ہے۔ اسرائیل بھارت کا ایک اہم دفاعی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ زراعت، آبی نظم و نسق، سائبر سیکیورٹی اور اختراعات کے شعبوں میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان تعلقات کی خاص بات یہ ہے کہ یہ دو طرفہ روابط سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہو کر مسلسل مضبوط ہوئے ہیں۔
حالیہ برسوں میں جو تبدیلی آئی وہ پالیسی کی سمت میں نہیں بلکہ اس کی نمایاں حیثیت میں تھی۔ وزیرِ اعظم مودی کے دور میں بھارت نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو فلسطینی مسئلے سے الگ انداز میں دیکھنا شروع کیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو اپنی الگ تزویراتی اہمیت کے تحت فروغ دیا جائے، بغیر اس کے کہ اسے صرف فلسطین کے تناظر میں محدود کیا جائے۔ اس کے باوجود بھارت نے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت اور فلسطینی قیادت کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھے ہیں، جو اس کے متوازن مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
موجودہ دورہ اس ارتقائی عمل کو مزید تقویت دیتا ہے۔ ایسے وقت میں جب خطہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، مثلاً غزہ کے بعد کی کشیدگی، امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات، اور بدلتے ہوئے جغرافیائی اتحاد، یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کی مضبوطی کو اجاگر کرتا ہے۔ مودی کا اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب، وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقاتیں، اور دفاعی تعاون، مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس، رابطہ کاری اور تعلیم جیسے شعبوں میں بات چیت، اس شراکت داری کی وسعت کو ظاہر کرتی ہیں۔
علامتی پہلو بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں پرتپاک استقبال اور ثقافتی خیر سگالی کے مظاہر اس بات کی علامت ہیں کہ یہ تعلقات باہمی احترام اور اعتماد پر مبنی ہیں۔ اب یہ رشتہ صرف دفاعی معاملات تک محدود نہیں رہا بلکہ جدت، سائنسی تحقیق، تعلیمی تبادلوں اور عوامی روابط تک پھیل چکا ہے۔
اگرچہ بعض ناقدین اس دورے کے وقت پر سوال اٹھا سکتے ہیں، خاص طور پر اسرائیل کی حالیہ پالیسیوں کے عالمی جائزے کے تناظر میں، لیکن بھارت کی متوازن سفارت کاری اس کے اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت خلیجی ممالک سے اپنے روابط کو نظرانداز کر رہا ہے۔ درحقیقت متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھارت کے اقتصادی اور تزویراتی تعلقات بدستور مستحکم ہیں۔ توانائی کی فراہمی، تجارت اور مغربی ایشیا میں بھارتی تارکینِ وطن کی موجودگی بھارت کی علاقائی پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔
یہ کثیر جہتی حکمتِ عملی طویل عرصے سے بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی کا خاصہ رہی ہے: تمام اہم فریقین کے ساتھ تعلقات رکھنا، کسی ایک بلاک تک محدود نہ ہونا، اور بدلتے ہوئے حالات میں قومی مفادات کا تحفظ کرنا۔ مودی کا یہ دورہ کسی بڑی تبدیلی کی علامت نہیں بلکہ ایک تدریجی اور عملی پیش رفت کا تسلسل ہے، جو حقیقت پسندی اور کھلے سفارتی رویے کو ظاہر کرتا ہے۔
آج کے دور میں، جہاں عالمی اتحاد تیزی سے بدل رہے ہیں اور علاقائی عدم استحکام بڑھ رہا ہے، تسلسل بذاتِ خود ایک طاقت ہے۔ بھارت کا پیغام واضح ہے: شراکت داریاں وقت کے ساتھ گہری ہو سکتی ہیں، مگر توازن، خودمختاری اور قومی مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی اس کی اصل بنیاد رہے گی۔
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات مستقبل میں کئی نئے شعبوں میں وسعت اختیار کر سکتے ہیں:
٭ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت: دونوں ممالک AI، ڈیٹا سیکیورٹی اور فِن ٹیک میں مشترکہ منصوبے شروع کر سکتے ہیں۔
٭ دفاعی خود کفالت: “میک اِن انڈیا” کے تحت اسرائیلی ٹیکنالوجی کی مدد سے مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
٭ زراعت میں انقلاب: اسرائیلی ڈرِپ اریگیشن اور اسمارٹ فارمنگ ٹیکنالوجی بھارت کی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے۔
٭ آبی بحران کا حل: پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے اسرائیلی واٹر مینجمنٹ ماڈل بھارت کے کئی علاقوں میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
٭ تعلیم اور تحقیق: جامعات کے درمیان اشتراک، طلبہ کے تبادلے اور مشترکہ ریسرچ پروگرام نئی نسل کو عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔
آخرکار، بھارت کی حکمتِ عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید سفارت کاری میں “یا تو یہ یا وہ” کا تصور کمزور ہو چکا ہے۔ آج کی دنیا میں کامیاب ممالک وہ ہیں جو بیک وقت مختلف قوتوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھ کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، اور بھارت اسی راستے پر گامزن ہے۔
ززز

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں