جنگ نیوز ڈیسک
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک ہسپتال پر مبینہ فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 400 افراد ہلاک اور تقریباً 250 زخمی ہو گئے ہیں۔ افغان حکام کے مطابق حملہ منگل کی رات تقریباً 9 بجے ایک منشیات بحالی مرکز پر کیا گیا، جس سے 2000 بستروں پر مشتمل ہسپتال کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان پر شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج نے صرف مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق کابل اور ننگرہار میں “تکنیکی معاونت کے مراکز اور اسلحہ ذخیرہ گاہوں” پر درستگی کے ساتھ حملے کیے گئے، اور کسی ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔
ادھر افغانستان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا کہ حملہ براہِ راست ہسپتال پر کیا گیا جہاں زیرِ علاج افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں جانی نقصان بھی ہوا ہے، جبکہ جنگ بندی کی کوششیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ صورتحال کو “کھلی جنگ” قرار دیا ہے، جس کے بعد خطے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔


