کشمیر میں میرواعظین کی خدمات: روحانیت، تعلیم اور قیادت کی درخشاں داستان

سید سلیم گیلانی

میرواعظ کامنصب کسی شخصیت، ادارے یا سرکار کی مرہون منت نہیں بلکہ یہ میرواعظ خاندان کی اہلِ ریاست کے لئے صدیوں پر محیط دینی، علمی ، روحانی، سماجی، اور سیاسی رہنمائی کا نتیجہ ہے
کشمیر کی تاریخ، تہذیب اور روحانیت کا ایک درخشاں باب ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی منصب نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی روایت ہے جو صدیوں سے اہلِ کشمیر کی دینی، علمی اور سماجی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی آئی ہے۔ میرواعظ خاندان کی شناخت تقریباً سات صدیوں پر محیط ایک تابناک تاریخ سے جڑی ہوئی ہے، جس میں علم، دعوت، اصلاح اور عوامی خدمت کے بے شمار روشن پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔
کشمیر کی سرزمین جب روحانیت اور معرفت کے نور سے منور ہونا شروع ہوئی تو اس روشن سلسلے میں میرواعظ خاندان کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ روایت کے مطابق جب عظیم صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانی المعروف شاہِ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کشمیر تشریف لائے تو یہاں علم و ہدایت کے چراغ روشن ہوئے۔ انہی روحانی اور علمی روایات کے زیرِ سایہ میرواعظ خاندان کی دعوتی اور اصلاحی خدمات کا آغاز ہوا۔
اس سلسلے کی ابتدائی کڑی حضرت مولانا لسہ بابا صاحب سے ملتی ہے، جنہوں نے اپنی علمی بصیرت اور روحانی فیض سے عوام کے دلوں میں دین کی محبت اور معرفت کی شمع روشن کی۔ ان کے بعد میرواعظ عبداللہ شاہ، میرواعظ صدیق اللہ شاہ اور پھر میرواعظ رسول شاہ اول نے اس مشن کو آگے بڑھایا۔ ہر دور میں اس خاندان نے جامع مسجد، سرینگر کے محراب و منبر سے علم و حکمت کی ایسی صدائیں بلند کیں جو لوگوں کے دلوں کو روشنی اور سکون عطا کرتی رہیں۔
اس روشن سلسلے کی ایک عظیم اور درخشاں شخصیت میرواعظ مولانا رسول شاہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں وہ عظیم کارنامے انجام دیے جنہوں نے کشمیر کے سماجی اور فکری منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ اس وقت کا معاشرہ جہالت اور ناخواندگی کے اندھیروں میں گھرا ہوا تھا، مگر مولانا رسول شاہ نے علم کے چراغ روشن کر کے اس تاریکی کو روشنی میں بدلنے کی ایک بھرپور تحریک شروع کی۔ اسی بنا پر انہیں محبت و احترام سے “سر سیدِ کشمیر” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
تعلیم کے فروغ کے لیے انہوں نے تاریخی تعلیمی ادارہ اسلامیہ ہائی اسکول کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں کشمیر کی ایک ممتاز دانشگاہ کے طور پر ابھرا اور جہاں سے ہزاروں طلبہ نے علم کی روشنی حاصل کی۔ یہ ادارہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ اس عظیم علمی تحریک کی علامت ہے جس نے کشمیر کے فکری افق کو نئی وسعت عطا کی۔
بعد کے ادوار میں میرواعظ مولانا احمد اللہ صاحب اور میرواعظ مولانا عتیق اللہ شاہ صاحب نے بھی اسی علمی اور روحانی روایت کو پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان بزرگوں نے دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور سماجی اصلاح کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں اور عوام کے دلوں میں دین کی محبت اور اخوت کا جذبہ مضبوط کیا۔
پھر تاریخ کے اوراق پر ایک اور درخشاں نام ابھرتا ہے، مفسرِ قرآن اور مہاجرِ ملت میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ انہوں نے اہلِ کشمیر کو کشمیری زبان میں قرآن کریم کی تفسیر کا انمول تحفہ دیا۔ یہ صرف ایک علمی کارنامہ نہیں تھا بلکہ عوام کے دلوں تک قرآن کے پیغام کو پہنچانے کی ایک عظیم کوشش تھی۔ ان کی کوششوں سے دینی شعور کی ایک نئی بیداری پیدا ہوئی اور جہالت کے اندھیروں میں ایمان و یقین کے چراغ روشن ہوئے۔
اس عظیم مشن کو مزید جلا بخشنے کے لیے شہیدِ ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی اور حتیٰ کہ اپنے خون کی قربانی بھی پیش کی۔ ان کی شہادت نے اس تحریک کو ایک نئی معنویت عطا کی اور میرواعظ خاندان کی قربانیوں کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
آج یہی روشن روایت میرواعظ کشمیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی قیادت اور رہنمائی میں جاری ہے۔ وہ تاریخی جامع مسجد، سرینگر کے محراب و منبر سے وعظ و نصیحت، خطابت اور فکری رہنمائی کے ذریعے اہلِ کشمیر کے دلوں کو ایمان، اتحاد اور شعور کی روشنی سے منور کر رہے ہیں۔ ان کی خطابت میں تاریخ کی گہرائی، دین کی روشنی اور قوم کی اجتماعی امیدیں جھلکتی ہیں۔
اس طرح میرواعظ کا منصب محض ایک مذہبی عہدہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور زندہ روایت ہے جو صدیوں سے کشمیر کی روحانی، علمی اور سماجی زندگی کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ یہ منصب کسی فرد، ادارے یا جماعت کی عطا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت اور ایک تاریخی امانت ہے جو میرواعظین کے ذریعے قوم تک منتقل ہوتی رہی ہے۔
میرواعظ خاندان کی تاریخ قربانیوں، خدمات اور رہنمائی کی ایسی داستان ہے جس نے قومِ کشمیر کو علم، شعور اور دینی استقامت کی دولت عطا کی۔ یہ تحریک آج بھی جاری ہے اور امید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اس روشنی سے فیض یاب ہوتی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ میرواعظین کے درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو صحت، سلامتی اور درازیٔ عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح اہلِ کشمیر کی دینی، سماجی اور اخلاقی رہنمائی کا عظیم فریضہ انجام دیتے رہیں۔
مصنف سید سلیم گیلانی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور ملی اتحاد کونسل کے صدر ہیں ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

کشمیر میں میرواعظین کی خدمات: روحانیت، تعلیم اور قیادت کی درخشاں داستان

سید سلیم گیلانی

میرواعظ کامنصب کسی شخصیت، ادارے یا سرکار کی مرہون منت نہیں بلکہ یہ میرواعظ خاندان کی اہلِ ریاست کے لئے صدیوں پر محیط دینی، علمی ، روحانی، سماجی، اور سیاسی رہنمائی کا نتیجہ ہے
کشمیر کی تاریخ، تہذیب اور روحانیت کا ایک درخشاں باب ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی منصب نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی روایت ہے جو صدیوں سے اہلِ کشمیر کی دینی، علمی اور سماجی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتی آئی ہے۔ میرواعظ خاندان کی شناخت تقریباً سات صدیوں پر محیط ایک تابناک تاریخ سے جڑی ہوئی ہے، جس میں علم، دعوت، اصلاح اور عوامی خدمت کے بے شمار روشن پہلو نمایاں نظر آتے ہیں۔
کشمیر کی سرزمین جب روحانیت اور معرفت کے نور سے منور ہونا شروع ہوئی تو اس روشن سلسلے میں میرواعظ خاندان کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا۔ روایت کے مطابق جب عظیم صوفی بزرگ میر سید علی ہمدانی المعروف شاہِ ہمدان رحمۃ اللہ علیہ کشمیر تشریف لائے تو یہاں علم و ہدایت کے چراغ روشن ہوئے۔ انہی روحانی اور علمی روایات کے زیرِ سایہ میرواعظ خاندان کی دعوتی اور اصلاحی خدمات کا آغاز ہوا۔
اس سلسلے کی ابتدائی کڑی حضرت مولانا لسہ بابا صاحب سے ملتی ہے، جنہوں نے اپنی علمی بصیرت اور روحانی فیض سے عوام کے دلوں میں دین کی محبت اور معرفت کی شمع روشن کی۔ ان کے بعد میرواعظ عبداللہ شاہ، میرواعظ صدیق اللہ شاہ اور پھر میرواعظ رسول شاہ اول نے اس مشن کو آگے بڑھایا۔ ہر دور میں اس خاندان نے جامع مسجد، سرینگر کے محراب و منبر سے علم و حکمت کی ایسی صدائیں بلند کیں جو لوگوں کے دلوں کو روشنی اور سکون عطا کرتی رہیں۔
اس روشن سلسلے کی ایک عظیم اور درخشاں شخصیت میرواعظ مولانا رسول شاہ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی تھی۔ انہوں نے تعلیم کے میدان میں وہ عظیم کارنامے انجام دیے جنہوں نے کشمیر کے سماجی اور فکری منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔ اس وقت کا معاشرہ جہالت اور ناخواندگی کے اندھیروں میں گھرا ہوا تھا، مگر مولانا رسول شاہ نے علم کے چراغ روشن کر کے اس تاریکی کو روشنی میں بدلنے کی ایک بھرپور تحریک شروع کی۔ اسی بنا پر انہیں محبت و احترام سے “سر سیدِ کشمیر” کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
تعلیم کے فروغ کے لیے انہوں نے تاریخی تعلیمی ادارہ اسلامیہ ہائی اسکول کی بنیاد رکھی، جو بعد ازاں کشمیر کی ایک ممتاز دانشگاہ کے طور پر ابھرا اور جہاں سے ہزاروں طلبہ نے علم کی روشنی حاصل کی۔ یہ ادارہ صرف ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ اس عظیم علمی تحریک کی علامت ہے جس نے کشمیر کے فکری افق کو نئی وسعت عطا کی۔
بعد کے ادوار میں میرواعظ مولانا احمد اللہ صاحب اور میرواعظ مولانا عتیق اللہ شاہ صاحب نے بھی اسی علمی اور روحانی روایت کو پوری استقامت کے ساتھ آگے بڑھایا۔ ان بزرگوں نے دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور سماجی اصلاح کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں اور عوام کے دلوں میں دین کی محبت اور اخوت کا جذبہ مضبوط کیا۔
پھر تاریخ کے اوراق پر ایک اور درخشاں نام ابھرتا ہے، مفسرِ قرآن اور مہاجرِ ملت میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ انہوں نے اہلِ کشمیر کو کشمیری زبان میں قرآن کریم کی تفسیر کا انمول تحفہ دیا۔ یہ صرف ایک علمی کارنامہ نہیں تھا بلکہ عوام کے دلوں تک قرآن کے پیغام کو پہنچانے کی ایک عظیم کوشش تھی۔ ان کی کوششوں سے دینی شعور کی ایک نئی بیداری پیدا ہوئی اور جہالت کے اندھیروں میں ایمان و یقین کے چراغ روشن ہوئے۔
اس عظیم مشن کو مزید جلا بخشنے کے لیے شہیدِ ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی اور حتیٰ کہ اپنے خون کی قربانی بھی پیش کی۔ ان کی شہادت نے اس تحریک کو ایک نئی معنویت عطا کی اور میرواعظ خاندان کی قربانیوں کو تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔
آج یہی روشن روایت میرواعظ کشمیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی قیادت اور رہنمائی میں جاری ہے۔ وہ تاریخی جامع مسجد، سرینگر کے محراب و منبر سے وعظ و نصیحت، خطابت اور فکری رہنمائی کے ذریعے اہلِ کشمیر کے دلوں کو ایمان، اتحاد اور شعور کی روشنی سے منور کر رہے ہیں۔ ان کی خطابت میں تاریخ کی گہرائی، دین کی روشنی اور قوم کی اجتماعی امیدیں جھلکتی ہیں۔
اس طرح میرواعظ کا منصب محض ایک مذہبی عہدہ نہیں بلکہ ایک مسلسل اور زندہ روایت ہے جو صدیوں سے کشمیر کی روحانی، علمی اور سماجی زندگی کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ یہ منصب کسی فرد، ادارے یا جماعت کی عطا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت اور ایک تاریخی امانت ہے جو میرواعظین کے ذریعے قوم تک منتقل ہوتی رہی ہے۔
میرواعظ خاندان کی تاریخ قربانیوں، خدمات اور رہنمائی کی ایسی داستان ہے جس نے قومِ کشمیر کو علم، شعور اور دینی استقامت کی دولت عطا کی۔ یہ تحریک آج بھی جاری ہے اور امید کی جاتی ہے کہ آنے والی نسلیں بھی اس روشنی سے فیض یاب ہوتی رہیں گی۔
اللہ تعالیٰ میرواعظین کے درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کو صحت، سلامتی اور درازیٔ عمر عطا فرمائے تاکہ وہ اسی طرح اہلِ کشمیر کی دینی، سماجی اور اخلاقی رہنمائی کا عظیم فریضہ انجام دیتے رہیں۔
مصنف سید سلیم گیلانی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور ملی اتحاد کونسل کے صدر ہیں ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں