ماہِ رمضان میں صحافیوں کی ’’دعوتِ شیراز‘‘ کی یاد

 

جاوید جمال الدین

ملک میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں تقریبات منائی گئیں۔ یہ موقع جشن کے ساتھ احتساب اور یاد رفتگاں کا بھی ہے۔ جب ہم اردو اخبارات کی تاریخ اور قومی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ممبئی کی صحافتی روایت ’’دعوتِ شیراز‘‘ خاص طور پر توجہ کھینچتی ہے، جس کا اہتمام روزنامہ انقلاب کے بانی و مالک مرحوم عبدالحمید انصاری کیا کرتے تھے۔
یہ محض افطار پارٹی نہ تھی بلکہ سماجی شعور اور ایثار کی عملی مثال تھی، جس نے ممبئی کی صحافتی تاریخ میں مستقل مقام حاصل کیا۔ مرحوم انصاری ہر سال 27ویں رمضان کو ادارۂ انقلاب کے عملے، صحافیوں اور معززین کے اعزاز میں پرتکلف افطار کا اہتمام کرتے۔ اس میں اردو، انگریزی اور گجراتی اخبارات سے وابستہ افراد شریک ہوتے اور یوں یہ محفل بین اللسانی ہم آہنگی کی مثال بن جاتی۔
بزرگ صحافیوں کے مطابق اس افطار کا اہتمام اس قدر شاندار ہوتا کہ اسے ازراہ مزاح ’’دعوتِ سمرقند‘‘ کہا جانے لگا۔ انواع و اقسام کے پکوان اس تقریب کا حصہ ہوتے۔ مگر 1968 میں اسی روایت نے نیا رخ اختیار کیا۔
معروف صحافی جاوید جمال الدین نے اپنی تصنیف ’’عبدالحمید انصاری: انقلابی صحافی اور مجاہد آزادی‘‘ میں اس واقعے کی تفصیل بیان کی ہے۔ کتاب میں علیم اللہ خان کے حوالے سے 1968 کی اس افطار کا ذکر ہے جسے بعد میں ’’دعوتِ شیراز‘‘ کہا گیا۔
اُس سال جب مہمان دسترخوان پر پہنچے تو منظر مختلف تھا۔ قیمتی پکوانوں کے بجائے باجرے کی سادہ روٹیاں، دو چٹنیاں اور کھجوریں رکھی تھیں۔ ابتدا میں سب حیران ہوئے، مگر جب پس منظر واضح ہوا تو حیرت عقیدت میں بدل گئی۔
’’دعوتِ شیراز‘‘ کی اصطلاح کے پس منظر میں تہذیبی اشارہ تھا۔ شیراز کو علم اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ سمرقند شاہانہ ضیافتوں سے وابستہ ہے۔ انصاری نے اسی تمثیل کے ذریعے نمود و نمائش کے بجائے سادگی کو ترجیح دی۔
اصل سبب یہ تھا کہ اس سال مغربی بنگال میں قدرتی آفات کے باعث کئی خاندان مصیبت میں تھے۔ انصاری نے افطار پر خرچ ہونے والی رقم بچا کر اسے ’’انقلاب فنڈ‘‘ کے ذریعے مصیبت زدگان کے لیے وقف کر دیا۔ یوں ایک دن کی سادگی کئی گھروں کے لیے سہارا بنی۔
علیم اللہ خان کے مطابق جب مقصد بیان ہوا تو محفل کا رنگ بدل گیا۔ سادہ افطار میں جو خلوص اور مقصدیت تھی وہ کسی پرتکلف ضیافت میں ممکن نہ تھی۔ یوں یہ دعوت ایک درس بن گئی۔
انصاری نے کہا کہ اگر ہم اپنی ایک دن کی پرتکلف دعوت کو سادہ بنا دیں تو کتنے ضرورت مندوں کی مدد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اپنی عید کی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے کچھ قربانی دے سکتے ہیں۔ یہ سوال آج بھی اہم ہے۔
یہ سادگی دفتر تک محدود نہ رہی۔ گھر کے افراد اور مہمانوں نے بھی اسی افطار میں شرکت کی۔ مرحوم انصاری کے انتقال کے بعد ان کے فرزند خالد اے ایچ انصاری نے 1990 کی دہائی میں اس روایت کو برقرار رکھا۔ پیڈر روڈ کی رہائش گاہ پر افطار میں مختلف زبانوں کے صحافی شریک ہوتے رہے، تاہم بعد میں یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔
ممبئی کے دیگر اردو اخبارات میں بھی عملے کے لیے افطار کا اہتمام ہوتا رہا ہے، جو اداروں اور کارکنان کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ آج بھی بعض تنظیمیں صحافیوں کے لیے افطار منعقد کرتی ہیں جہاں موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔
’’دعوتِ شیراز‘‘ کا پیغام یہ ہے کہ صحافت خبر رسانی کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک صحافی کو معاشرے کے دکھ درد کا احساس ہونا چاہیے۔ انصاری نے عملی طور پر دکھایا کہ ایک اخباری ادارہ سماجی خدمت کا مرکز بن سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ روایات بدلتی ہیں مگر کچھ واقعات مثال بن جاتے ہیں۔ ’’دعوتِ شیراز‘‘ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عظمت سادگی اور ایثار میں ہے۔ رمضان کی وہ سادہ افطار ممبئی کی صحافتی تاریخ کا روشن باب ہے، جو آج بھی یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ کیا ہم نمود کے بجائے خدمت کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

ماہِ رمضان میں صحافیوں کی ’’دعوتِ شیراز‘‘ کی یاد

 

جاوید جمال الدین

ملک میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں تقریبات منائی گئیں۔ یہ موقع جشن کے ساتھ احتساب اور یاد رفتگاں کا بھی ہے۔ جب ہم اردو اخبارات کی تاریخ اور قومی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ممبئی کی صحافتی روایت ’’دعوتِ شیراز‘‘ خاص طور پر توجہ کھینچتی ہے، جس کا اہتمام روزنامہ انقلاب کے بانی و مالک مرحوم عبدالحمید انصاری کیا کرتے تھے۔
یہ محض افطار پارٹی نہ تھی بلکہ سماجی شعور اور ایثار کی عملی مثال تھی، جس نے ممبئی کی صحافتی تاریخ میں مستقل مقام حاصل کیا۔ مرحوم انصاری ہر سال 27ویں رمضان کو ادارۂ انقلاب کے عملے، صحافیوں اور معززین کے اعزاز میں پرتکلف افطار کا اہتمام کرتے۔ اس میں اردو، انگریزی اور گجراتی اخبارات سے وابستہ افراد شریک ہوتے اور یوں یہ محفل بین اللسانی ہم آہنگی کی مثال بن جاتی۔
بزرگ صحافیوں کے مطابق اس افطار کا اہتمام اس قدر شاندار ہوتا کہ اسے ازراہ مزاح ’’دعوتِ سمرقند‘‘ کہا جانے لگا۔ انواع و اقسام کے پکوان اس تقریب کا حصہ ہوتے۔ مگر 1968 میں اسی روایت نے نیا رخ اختیار کیا۔
معروف صحافی جاوید جمال الدین نے اپنی تصنیف ’’عبدالحمید انصاری: انقلابی صحافی اور مجاہد آزادی‘‘ میں اس واقعے کی تفصیل بیان کی ہے۔ کتاب میں علیم اللہ خان کے حوالے سے 1968 کی اس افطار کا ذکر ہے جسے بعد میں ’’دعوتِ شیراز‘‘ کہا گیا۔
اُس سال جب مہمان دسترخوان پر پہنچے تو منظر مختلف تھا۔ قیمتی پکوانوں کے بجائے باجرے کی سادہ روٹیاں، دو چٹنیاں اور کھجوریں رکھی تھیں۔ ابتدا میں سب حیران ہوئے، مگر جب پس منظر واضح ہوا تو حیرت عقیدت میں بدل گئی۔
’’دعوتِ شیراز‘‘ کی اصطلاح کے پس منظر میں تہذیبی اشارہ تھا۔ شیراز کو علم اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا ہے، جب کہ سمرقند شاہانہ ضیافتوں سے وابستہ ہے۔ انصاری نے اسی تمثیل کے ذریعے نمود و نمائش کے بجائے سادگی کو ترجیح دی۔
اصل سبب یہ تھا کہ اس سال مغربی بنگال میں قدرتی آفات کے باعث کئی خاندان مصیبت میں تھے۔ انصاری نے افطار پر خرچ ہونے والی رقم بچا کر اسے ’’انقلاب فنڈ‘‘ کے ذریعے مصیبت زدگان کے لیے وقف کر دیا۔ یوں ایک دن کی سادگی کئی گھروں کے لیے سہارا بنی۔
علیم اللہ خان کے مطابق جب مقصد بیان ہوا تو محفل کا رنگ بدل گیا۔ سادہ افطار میں جو خلوص اور مقصدیت تھی وہ کسی پرتکلف ضیافت میں ممکن نہ تھی۔ یوں یہ دعوت ایک درس بن گئی۔
انصاری نے کہا کہ اگر ہم اپنی ایک دن کی پرتکلف دعوت کو سادہ بنا دیں تو کتنے ضرورت مندوں کی مدد ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اپنی عید کی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے کچھ قربانی دے سکتے ہیں۔ یہ سوال آج بھی اہم ہے۔
یہ سادگی دفتر تک محدود نہ رہی۔ گھر کے افراد اور مہمانوں نے بھی اسی افطار میں شرکت کی۔ مرحوم انصاری کے انتقال کے بعد ان کے فرزند خالد اے ایچ انصاری نے 1990 کی دہائی میں اس روایت کو برقرار رکھا۔ پیڈر روڈ کی رہائش گاہ پر افطار میں مختلف زبانوں کے صحافی شریک ہوتے رہے، تاہم بعد میں یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔
ممبئی کے دیگر اردو اخبارات میں بھی عملے کے لیے افطار کا اہتمام ہوتا رہا ہے، جو اداروں اور کارکنان کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے۔ آج بھی بعض تنظیمیں صحافیوں کے لیے افطار منعقد کرتی ہیں جہاں موجودہ حالات پر تبادلہ خیال ہوتا ہے۔
’’دعوتِ شیراز‘‘ کا پیغام یہ ہے کہ صحافت خبر رسانی کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک صحافی کو معاشرے کے دکھ درد کا احساس ہونا چاہیے۔ انصاری نے عملی طور پر دکھایا کہ ایک اخباری ادارہ سماجی خدمت کا مرکز بن سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ روایات بدلتی ہیں مگر کچھ واقعات مثال بن جاتے ہیں۔ ’’دعوتِ شیراز‘‘ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عظمت سادگی اور ایثار میں ہے۔ رمضان کی وہ سادہ افطار ممبئی کی صحافتی تاریخ کا روشن باب ہے، جو آج بھی یہ سوچنے پر آمادہ کرتی ہے کہ کیا ہم نمود کے بجائے خدمت کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں