سری نگر میں ہفتہ کے روز درجۂ حرارت21ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو فروری کے مہینے میں اب تک کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت ہے۔ اس سے قبل 24 فروری 2016 کو6.20 ڈگری سیلسیس کا ریکارڈ قائم ہوا تھا، مگر اس سال وہ حد بھی پار ہو گئی۔ بظاہر یہ محض ایک موسمی خبر معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی علامت ہے۔
فروری کبھی کشمیر میں برف باری، یخ بستہ ہواؤں اور سفید مناظر کا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ وقت ہوتا تھا جب وادی برف کی چادر اوڑھے فطرت کی خاموشی میں ڈوبی رہتی تھی۔ دریاؤں کا بہاؤ سست ہوتا، پہاڑ برف سے ڈھکے ہوتے اور لوگ سخت سردی کے لئے ذہنی طور پر تیار رہتے۔ مگر اب وہی فروری گرمی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا بدلتے ہوئے موسموں کی سنگین دستک؟
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقے اس غیر معمولی گرمی کو خوشگوار موسم قرار دے رہے ہیں۔ دھوپ کو لطف اندوزی کا موقع سمجھا جا رہا ہے، سیر و تفریح کو آسانی سے جوڑا جا رہا ہے اور اسے سردی سے نجات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ خوشگوار نہیں بلکہ خطرناک موسم ہے۔ یہ موسمیاتی توازن کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا اشارہ ہے۔
درجۂ حرارت میں اس طرح کا اضافہ محض ایک دن کا واقعہ نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات طویل المدت ہوتے ہیں۔ برف باری میں کمی کا مطلب ہے کہ گلیشیئروں کو مناسب مقدار میں برف نہیں ملے گی۔ اس کا براہ راست اثر گرمیوں میں پانی کی دستیابی پر پڑے گا۔ زراعت، باغبانی اور پینے کے پانی کے ذخائر سب متاثر ہوں گے۔ کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ انہی قدرتی وسائل پر منحصر ہے۔ اگر برف کم پڑے گی تو دریاؤں کا بہاؤ متاثر ہوگا اور بجلی کی پیداوار تک پر اثر پڑ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظری بحث نہیں رہی۔ یہ ہمارے سامنے ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ دنیا بھر میں درجۂ حرارت میں اضافہ، بے وقت بارشیں، غیر معمولی خشک سالی اور سیلاب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سری نگر کا فروری میں 21 ڈگری تک پہنچ جانا اسی عالمی رجحان کا مقامی اظہار ہے۔
حکومتوں کے لئے یہ لمحہ فکر ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دینا، شجرکاری مہمات کو سنجیدگی سے لینا، کاربن اخراج میں کمی لانا اور قابل تجدید توانائی کی طرف سنجیدہ پیش قدمی کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ صرف تقریبات اور بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
خوشگوار موسم یا خطرے کی گھنٹی؟
خوشگوار موسم یا خطرے کی گھنٹی؟
سری نگر میں ہفتہ کے روز درجۂ حرارت21ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو فروری کے مہینے میں اب تک کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت ہے۔ اس سے قبل 24 فروری 2016 کو6.20 ڈگری سیلسیس کا ریکارڈ قائم ہوا تھا، مگر اس سال وہ حد بھی پار ہو گئی۔ بظاہر یہ محض ایک موسمی خبر معلوم ہوتی ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی علامت ہے۔
فروری کبھی کشمیر میں برف باری، یخ بستہ ہواؤں اور سفید مناظر کا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ وہ وقت ہوتا تھا جب وادی برف کی چادر اوڑھے فطرت کی خاموشی میں ڈوبی رہتی تھی۔ دریاؤں کا بہاؤ سست ہوتا، پہاڑ برف سے ڈھکے ہوتے اور لوگ سخت سردی کے لئے ذہنی طور پر تیار رہتے۔ مگر اب وہی فروری گرمی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے یا بدلتے ہوئے موسموں کی سنگین دستک؟
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقے اس غیر معمولی گرمی کو خوشگوار موسم قرار دے رہے ہیں۔ دھوپ کو لطف اندوزی کا موقع سمجھا جا رہا ہے، سیر و تفریح کو آسانی سے جوڑا جا رہا ہے اور اسے سردی سے نجات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ خوشگوار نہیں بلکہ خطرناک موسم ہے۔ یہ موسمیاتی توازن کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا اشارہ ہے۔
درجۂ حرارت میں اس طرح کا اضافہ محض ایک دن کا واقعہ نہیں ہوتا۔ اس کے اثرات طویل المدت ہوتے ہیں۔ برف باری میں کمی کا مطلب ہے کہ گلیشیئروں کو مناسب مقدار میں برف نہیں ملے گی۔ اس کا براہ راست اثر گرمیوں میں پانی کی دستیابی پر پڑے گا۔ زراعت، باغبانی اور پینے کے پانی کے ذخائر سب متاثر ہوں گے۔ کشمیر کی معیشت کا ایک بڑا حصہ انہی قدرتی وسائل پر منحصر ہے۔ اگر برف کم پڑے گی تو دریاؤں کا بہاؤ متاثر ہوگا اور بجلی کی پیداوار تک پر اثر پڑ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی نظری بحث نہیں رہی۔ یہ ہمارے سامنے ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔ دنیا بھر میں درجۂ حرارت میں اضافہ، بے وقت بارشیں، غیر معمولی خشک سالی اور سیلاب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سری نگر کا فروری میں 21 ڈگری تک پہنچ جانا اسی عالمی رجحان کا مقامی اظہار ہے۔
حکومتوں کے لئے یہ لمحہ فکر ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دینا، شجرکاری مہمات کو سنجیدگی سے لینا، کاربن اخراج میں کمی لانا اور قابل تجدید توانائی کی طرف سنجیدہ پیش قدمی کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ صرف تقریبات اور بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔


