وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یہ اعلان کہ رواں برس تیس ہزار سے زائد سرکاری آسامیوں کو پُر کیا جائے گا، بلاشبہ جموں کشمیر کے نوجوانوں کے لئے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خالی اسامیوں کو مقررہ مدت میں پُر کیا جائے گا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی ایسے اعلانات کیے گئے، مگر ان کے نتائج عوامی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔ اس پس منظر میں نوجوان طبقہ پُرامید ضرور ہے، لیکن اس امید کے ساتھ ایک محتاط انتظار بھی جڑا ہوا ہے۔
جموں و کشمیر میں بے روزگاری اس وقت سنگین سماجی اور معاشی مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان برسوں سے امتحانات، انٹرویوز اور بھرتی عمل کی غیر یقینی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر واقعی تیس ہزار سے زائد اسامیوں کو شفاف اور بروقت طریقے سے پُر کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف روزگار کے بحران کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے بلکہ حکومت پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو برسوں سے مستقل تقرری، مالی تحفظ اور باعزت روزگار کے مطالبے کے ساتھ منتظر ہے۔ اگر نئی بھرتیوں کے ساتھ ان کے مسائل کا منصفانہ اور دیرپا حل بھی نکالا جاتا ہے تو یہ حکومت کی سنجیدگی کا عملی ثبوت ہوگا۔
ایک اور اہم پہلو وہ افواہیں ہیں جو ہر بڑے بھرتی عمل کے ساتھ گردش کرنے لگتی ہیں کہ نوکریاں مخصوص سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں یا ضلعی صدور کےلئے مختص کی جائیں گی۔ ایسی قیاس آرائیاں نوجوانوں میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں۔ ان شکوک و شبہات کا واحد علاج ایک ایسا نظام ہے جو مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور عوامی نگرانی کے لیے کھلا ہو۔ واضح ٹائم لائن، انتخابی معیار کی پیشگی وضاحت اور نتائج کی بروقت اشاعت جیسے اقدامات اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگرعمر عبداللہ حکومت اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ قدم بے روزگاری کے مسئلے میں حقیقی کمی اور نوجوان نسل کے اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ اعلان بھی ماضی کے وعدوں کی فہرست میں شامل ہو کر رہ جائے گا۔
نوکریوں کا اعلان بہرحال امید کی کرن
نوکریوں کا اعلان بہرحال امید کی کرن
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے یہ اعلان کہ رواں برس تیس ہزار سے زائد سرکاری آسامیوں کو پُر کیا جائے گا، بلاشبہ جموں کشمیر کے نوجوانوں کے لئے امید کی ایک نئی کرن ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خالی اسامیوں کو مقررہ مدت میں پُر کیا جائے گا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی میں بھی ایسے اعلانات کیے گئے، مگر ان کے نتائج عوامی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔ اس پس منظر میں نوجوان طبقہ پُرامید ضرور ہے، لیکن اس امید کے ساتھ ایک محتاط انتظار بھی جڑا ہوا ہے۔
جموں و کشمیر میں بے روزگاری اس وقت سنگین سماجی اور معاشی مسائل میں شمار ہوتی ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان برسوں سے امتحانات، انٹرویوز اور بھرتی عمل کی غیر یقینی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں اگر واقعی تیس ہزار سے زائد اسامیوں کو شفاف اور بروقت طریقے سے پُر کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف روزگار کے بحران کو کسی حد تک کم کر سکتا ہے بلکہ حکومت پر عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کرے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پر یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو برسوں سے مستقل تقرری، مالی تحفظ اور باعزت روزگار کے مطالبے کے ساتھ منتظر ہے۔ اگر نئی بھرتیوں کے ساتھ ان کے مسائل کا منصفانہ اور دیرپا حل بھی نکالا جاتا ہے تو یہ حکومت کی سنجیدگی کا عملی ثبوت ہوگا۔
ایک اور اہم پہلو وہ افواہیں ہیں جو ہر بڑے بھرتی عمل کے ساتھ گردش کرنے لگتی ہیں کہ نوکریاں مخصوص سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں یا ضلعی صدور کےلئے مختص کی جائیں گی۔ ایسی قیاس آرائیاں نوجوانوں میں بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں۔ ان شکوک و شبہات کا واحد علاج ایک ایسا نظام ہے جو مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور عوامی نگرانی کے لیے کھلا ہو۔ واضح ٹائم لائن، انتخابی معیار کی پیشگی وضاحت اور نتائج کی بروقت اشاعت جیسے اقدامات اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اگرعمر عبداللہ حکومت اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ قدم بے روزگاری کے مسئلے میں حقیقی کمی اور نوجوان نسل کے اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر یہ اعلان بھی ماضی کے وعدوں کی فہرست میں شامل ہو کر رہ جائے گا۔


